دنیا بھر سے خوش نصیب مسلمان مناسک حج کی ادائیگی سعودی عرب میں موجود ہیں جہاں دنیا بھر سے 20 لاکھ مسلمان حج کا فریضہ ادا کریں گے جن میں سے 1 لاکھ 84 ہزار پاکستانی خوش نصیب پاکستانی بھی شامل ہیں۔
سعودی حکومت میں رواں سال حج کے انتظامات کو بہت اعلی طریقے سے انجام دے رہی ہے ، عازمین حج تو جدید سہولیات دے کر ان کو کسی بھی مشکل اور پریشانی سے بچایا جارہا ہے
عازمین حج کل منیٰ پہنچے تھے جہاں آج عازمین 9 ذوالحج کو میدان عرفات میں حج کا اہم فریضہ وقوف عرفہ ادا کر چکے ہیں حجاج نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج سنا جو مسجد نبوی کے امام شیخ حسن بن عبدالعزیز آل شیخ نے پڑھا جس کے بعد نماز ظہر و عصر ایک ساتھ ادا کی۔
میں یہاں تمام حجاج کرام کو حج کی مبارک پیش کرتا ہوں اور دعاکرتا ہوں ان کا یہ سفر خیریت سے طے ہو ، اب اپنے قارئین کو سعودی عرب کی طرف سے کیے گئے انتظامات سے آگاہ کرتا ہوں، سعودی حکومت نے اس مرتبہ بہت ساری نئی سروسز حجاج کرام کے لیے پیش کی ہیں۔ جن میں خاص کر موبائل ایپ کے ذریعہ کسی جگہ کی نشاندہی اور تلاش شامل ہے جبکہ دوسری منفرد سروس کیپسول بیڈ روم پہلی مرتبہ سعودی حکومت نے حجاج کے لیے پیش کیے ہیں۔ ان کو سلیپنگ کیپسول بھی کہا جاتا ہے ایسے کیپسول سب سے پہلے جاپان میں متعارف کروائے گئے تھے۔ سعودی عرب میں یہ خدمت ھدیہ الحجاج نامی فلاحی تنظیم اور سعودی حکومت مل کر جاپان سے 60 سیلپنگ کیسپول منگوائے ہیں۔ جن میں حجاج میں سے کوئی جاکر کچھ دیر کے لیے ان میں مفت سستا یعنی آرام کر سکتا ہے۔ اپنی جسمانی درجہ حرارت کو کنٹرول کر سکتا ہے ، ان میں اے سی میٹریس اور موبائل چارج کرنے کی سہولت دستیاب ہے۔
یہ کیپسول 3 مربع میٹرپر مشتمل ایک کمرے ہیں سلیپنگ کیپسول کی اندرونی گنجائش 2.64مربع میٹر اور اونچائی 1.2 میٹر ہے۔ ان سلیپنگ کیپسول کو شیشے، پلاسٹک اور فائبر سے تیار ہوتے ہیں ہر کیپسول بستر بھی بچھا ہوا ہے جس کے ساتھ ایک تکیہ بھی موجود ہے۔ ان سلیپنگ کیپسول کے ساتھ ٹوائلٹ، ہاتھ منہ دھونے اور نہانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ ان سلیپنگ کیپسول کو جاپان سے درآمد کیا گیا ہے جن پر ایک لاکھ یورو سے زاید کے اخراجات آئے ہیں۔
سعودی عرب کی حکومت اور نجی ادارے مل کر سب اللہ کے مہمانوں کی آرام راحت اور مناسک حج کی ادائی میں ان کی معاونت میں مصروف ہیں۔ ایک فلاحی تنظیم ’ھدیۃ الحاج‘ نے حجاج کرام کے لیے ایک نئی سہولت متعارف کرائی ہے۔ تنظیم کی طرف سے حجاج اور معتمرین کے لیے 18 سے24 ’سلیپنگ کیپسول‘ موبائل کمرے تیار کرائے ہیں۔ حجاج کرام مناسک حج کی ادائی کے دوران انہیں مختصر وقت میں سستانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق ’ھدیۃ الحاج‘ کی طرف سے متعارف کرائے گئے’سلیپنگ کیپسول‘ کو ’ہوٹل گفٹ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تنظیم کا موسمی دفتر مشاعر مقدسہ میں ہے جو حجاج اور معتمرین کو دیگر کئی سروسز بھی فراہم کرتی ہے۔ تنظیم کی سرپرستی وزارت لیبر وسماجی بہود کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ بن احمد آل طاوی کرتے ہیں۔ ’سلیپنگ کیپسول‘ عازمین حج کے لیے حج کے موقع پر یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد سہولت ہے۔
’ہوٹل گفٹ‘تین مربع میٹرپر مشتمل چھوٹے چھوٹے موبائل کمرے ہیں جنہیں ایک سے دوسرے مقام پر با آسانی لے جایا جاسکتا ہے۔ شیشے، پلاسٹک اور فائبر سے تیار کردہ ان کمروں کو ’مقناطیسی چابی‘ کی مدد سے کھولا اور بند کیا جاسکتا ہے۔ ان میں ایک بستر بچھا ہوتا ہے جس کے ساتھ ایک تکیہ بھی ہے، جب کہ سلیپنگ کیپسول کی اندرونی گنجائش 2.64مربع میٹر اور اونچائی 1.2 میٹر ہے۔
حجاج کرام اس میں آرام کرنے کے ساتھ کئی دوسرے اہم امور بھی انجام دے سکتے ہیں۔ اس میں موبائل فون چارج کرنے، سورج کی گرمی سے بچنے، اپنی مرضی کے مطابق درجہ حرارت سیٹ کرنے اور پسند کی روشنی کا اہتمام کرنے کی سہولت ہے۔
ان سلیپنگ کیپسول کو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ یا ایک دوسرے کے اوپر بھی رکھا جاسکتا ہے۔ اس میں چڑھنے کے لیے سیڑھی موجود ہے جو بالائی سلیپنگ روم تک پہنچا سکتی ہے۔ ان کمروں میں ٹوائلٹ، ہاتھ منہ دھونے اور نہانے کی سہولت بھی موجود ہے۔
تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل منصور العامر نے بتایا کہ عالمی سطح پر اس طرح کے موبائل سلیپنگ روم جاپان میں تیار کیے جاتے ہیں۔ بعض دوسرے ملکوں کے شہروں میں بھی یہ سہولت موجود ہے۔ ’ھدیۃ الحاج‘ کی طرف سے پہلی بار حجاج کرام کے لیے یہ سہولت حاصل کی گئی ہے تاکہ بہت زیادہ رش کے اوقات میں عازمین کو کچھ دیر آرام کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا حجاج کرام کو یہ سہولت مکمل طورپر مفت میں فراہم کی جاتی ہے، تاہم جاپان سے اس کی درآمد پر ایک لاکھ یورو سے زاید کے اخراجات آئے ہیں۔
العامر کا کہنا تھا کہ فی الوقت روزانہ 60 حجاج کرام ان سلیپنگ رومز سے استفادہ کرسکتے ہیں مگر ان کمروں کی تعداد بڑھانے کے نتیجے میں ان سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔
پانچ روز کے دوران مقامات مقدسہ میں پینے کے پانی کے 4.3 کروڑ سے زیادہ چھوٹے کینز، جوُس، دودھ اور لسّی کے 3.5 کروڑ سے زیادہ کینز، 1.3 کروڑ روٹیاں اور تیار کھانے کے 40 لاکھ پیک داخل ہوئے
ودی وزارت صحت نے عرفات کے مختلف حصوں میں چار ہسپتال تیار کیے ہیں جن کی گنجائش 600 بستروں پر مشتمل ہے۔ ان کے علاوہ 46 طبّی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ گُردوں کے مرض میں مبتلا افراد کے لیے ڈائیلیسز کی 49 مشینیں تقسیم کی گئی ہیں۔
عرفات میں 150 طبّی ٹیمیں، 33 ایمرجنسی مراکز اور 26 سے زیادہ کیئر پوائنٹس صحت سے متعلق خدمات کے لیے تیار ہیں۔ اس سلسلے میں 355 اہل کاروں کو مختص کیا گیا ہے۔ ان میں 19 ڈاکٹر، 9 اسپیشلسٹ، 100 رضاکار اور 11 نگرانوں کے علاوہ تکنیکی اور انتظامی عملہ شامل ہے۔
عرفات آنے والے تمام راستوں اور اندرونی سڑکوں پر ٹریفک پولیس اور سکیورٹی اہل کاروں کے یونٹس پھیل چکے ہیں تا کہ حجاج کرام کی نقل و حرکت اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
صفحہ اول
»
مشرق وسطی
آخری اشاعت: پیر 8 ذوالحجہ 1439هـ - 20 اگست 2018م KSA 09:54 - GMT 06:54
حج کا رکن اعظم ادا کرنے کے لیے اللہ کے مہمان آج عرفات میں
پیر 8 ذوالحجہ 1439هـ - 20 اگست 2018م
شیئر کریں
مختصر لنک
http://ara.tv/6e25z
العربیہ ڈاٹ نیٹ
عازمین حج اتوار کا دن مِنی میں گزارنے کے بعد آج پیر کے روز حج کا رکن اعظم ادا کرنے کے لیے عرفات پہنچ رہے ہیں۔
رواں برس بھی متعلقہ ادارے حج سیزن کے دوران سکیورٹی، صحت اور انتظامی امور سے متعلق خدمات انجام دینے میں شب و روز مصروفِ عمل ہیں تا کہ حجاج کرام مکمل امن ، سکون اور سلامتی کے ساتھ سہولت سے اپنے مناسک ادا کر سکیں۔
سعودی وزارت صحت نے عرفات کے مختلف حصوں میں چار ہسپتال تیار کیے ہیں جن کی گنجائش 600 بستروں پر مشتمل ہے۔ ان کے علاوہ 46 طبّی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ گُردوں کے مرض میں مبتلا افراد کے لیے ڈائیلیسز کی 49 مشینیں تقسیم کی گئی ہیں۔
عرفات میں 150 طبّی ٹیمیں، 33 ایمرجنسی مراکز اور 26 سے زیادہ کیئر پوائنٹس صحت سے متعلق خدمات کے لیے تیار ہیں۔ اس سلسلے میں 355 اہل کاروں کو مختص کیا گیا ہے۔ ان میں 19 ڈاکٹر، 9 اسپیشلسٹ، 100 رضاکار اور 11 نگرانوں کے علاوہ تکنیکی اور انتظامی عملہ شامل ہے۔
عرفات آنے والے تمام راستوں اور اندرونی سڑکوں پر ٹریفک پولیس اور سکیورٹی اہل کاروں کے یونٹس پھیل چکے ہیں تا کہ حجاج کرام کی نقل و حرکت اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر سعودی اسکاؤٹس کے نوجوان بھی بڑی تعداد میں رضاکارانہ طور پر مقامات مقدسہ میں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سعودی شہری دفاع کی فورس عرفات میں لاکھوں حجاج کرام کے بیچ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح چاق و چوبند اور تیار ہے۔ اس دوران شہری دفاع ٹیمیں عرفات میں صورت حال کو نظر میں رکھنے کے واسطے گشت میں مصروف ہیں۔ اس کے علاوہ فائر بریگیڈ کے عملے کے پاس باریک بینی سے تیار کیے گئے عرفات کے نقشے ہیں تا کہ کسی بھی مقام پر آگ لگنے کی صورت میں فوری امدادی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
اس موقع پر بجلی کی مسلسل فراہمی کے لیے 1500 سے زیادہ انجینئرز اور انتظامی تکنیک کاروں کی ٹیمیں ہمہ وقت مستعد ہیں۔
مکہ مکرمہ اور مقاماتِ مقدّسہ میں حجاج کرام کے لیے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نیشنل واٹر کمپنی نے مجموعی طور پر 20 لاکھ کیوبک فٹ کے ذخیرے کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
گزشتہ پانچ روز کے دوران سعودی وزارت تجارت و سرمایہ کاری کی نگرانی میں مقامات مقدسہ میں پینے کے پانی کے 4.3 کروڑ سے زیادہ چھوٹے کینز، جوُس، دودھ اور دہی کے 3.5 کروڑ سے زیادہ کینز، 1.3 کروڑ روٹیاں اور خوراک کے 40 لاکھ پارسلز داخل ہوئے۔
اسلامی امور اور دعوت و ارشاد کی سعودی وزارت نے "مہمانانِ خادم حرمین" پروگرام کے تحت 5400 سے زیادہ مرد اور خواتین حجاج کی میزبانی کے لیے انتظامات مکمل کر لیے۔ خادم حرمین کے خرچ پر آنے والے ان حجاج کا تعلق دنیا کے 94 سے زیادہ ممالک سے ہے۔
رواں برس حج سیزن میں سعودی وزارت ثقافت و اطلاعات دنیا بھر سے آئے ہوئے 270 سے زیادہ میڈیا پرسنز کی میزبانی کر رہی ہے۔ فریضہ حج کی کوریج کے سلسلے میں ان شخصیات کا تعلق 120 سے زیادہ ذرائع ابلاغ سے ہے۔
لعربیہ ڈاٹ نیٹ
سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور و دعوت ارشاد نے حج کے ایام میں حجاج کرام کی دینی رہ نمائی کے لیے 128 علماء ومبغلین کو مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان سے رہ نمائی کے حصول کے لیے مفت ٹیلیفون ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے۔ سعودی عرب کے اندر عازمین حج ’ہیلپ لائن‘8002451000 پر چوبیس گھنٹے کسی بھی دینی معاملے پر مستند علماء سے رہ نمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ عازمین حج کی رہ نمائی کے لیے 81 علماء کو مکہ معظمہ اور 47 کو مدینہ منورہ میں متعین کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق وزارت مذہبی امور کی طرف سے مفت ہیلپ لائن اور علماء کی خدمات کی فراہمی کا مقصد ضیوف الرحمان کو حج کے موقع پر ان کی اپنی زبان میں ہرممکن رہ نمائی بہم پہنچانا ہے۔
ہیلپ لائن میں مجموعی طورپر 59 فون لائنیں مختص کی گئی ہیں۔ مکہ معظمہ میں 24، مدینہ منورہ میں علماء سے رابطے اور استفسارات کے لیے 6، منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں 29 فون لائنیں مختص کی گئی ہیں۔ علماء سے رابطے کے لیے سات رکنی انتظامی اور تکنیکی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو حجاج کرام کی طرف سے رابطے کے لیے ان کی مدد کرے گی۔