Saturday, 27 April 2019

شیطان گرفتار شیاطین آزاد

تحریر عبدالجبار دریشک

ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہیں جو ہمیشہ ہی  آزاد رہتے ہیں جن کا  روپ ہی کچھ ایسا ہوتا ہے  کہ ان کے چکر میں بچارہ شیطان بھی آجاتا ہے توانسان کیا ہے کبھی کبھی تو شیطان کے آنسو نکل پڑتے ہیں جب اسے اس کے کچھ ہم جولی شیاطین کنکر مار رہے ہوتے ہیں وہ اس لیے روتا ہے کہ وہ کاش سیطان نہ ہوتا شیاطین ہوتا کہ یہ شیاطین کیسے ہیں خدا کو راضی کرنے آئے ہیں جس رکن کے بارے حکم ہے جو قوت رکھتا ہو وہ یہاں آئے لیکن جب عوام کے دیے گئے ٹیکس غریب سے رشوت لے کر ، دوسروں کا حق کھا کر رکن پورا کیا جائے اور پھر شیطان کو کنکر ماری جائے تو پھر وہ بچارہ شیاطین  نہ کہے تو اور کیا کہے

 یہ صرف ایک رکن کی بات نہیں بلکہ ایسے بہت سارے اعمال اور افعال ہیں جو ثواب کی نیت سے کیے جائیں جن میں نیت کو کھوٹ بھی موجود ہو چاہے وہ ایصال ثواب ہو یا مرنے والے کسی کی قبر کو غذاب اور قہر سے بچانے کے رش جمع کر کے فریاد کی محفل ہو

 جب حق کسی ایک کا قوم کا یا ملک کا کھا کر ثواپ  کے ٹرک کے ٹرک  پہنچانے کا کوئی فائدہ نہیں  بظاہر نظر سارے ٹرک ثواب کے ہیں لیکن اس میں دوسروں کا حق کھایا گیا یہی ٹرک جب فرشتوں کے ٹول پلازہ سے گزرتے ہیں تو ان سے ثواب اتار کر گناہ واپس بھیج دیے جاتے ہوں گے تب بھی شیطان کو شیاطین کی قسمت پر رشک آتا ہو گا

بات رمضان المبارک ی ہو رہی ہے تو ماہ رمضان میں ثواب اجر کی برسات ہوتی ہے لیکن کچھ شیاطین تب بھی ثواب سے پچنے کے لیے چھتری لے کر پھر رہے ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے روزہ داروں کو لوٹنا ہوتا ہے ناجائز منافع خوری کرنی ہوتی ہے اس لیے اجر ثواب کی بارش سے بچنا ان کے لیے ضروری ہوتا ہے

زیر نظر تصویر سڈنی کے شہر کی ہے جہاں ایک سٹور میں ماہ رمضان کی آمد کی تیاریاں نظر آ رہی ہیں جہاں پر ڈسکاونٹ آفر دی جا رہی ہے ہمارے ہاں ماہ رمضان میں ذخیرہ اندوزی ناجائز منافع خوری کر کے روزہ داروں کو لوٹا جاتا ہے  ان بے دین لوگوں کے ملک میں شیطان تو ہیں لیکن شیاطین نہیں ہمارے ہاں شیطان قید بھی ہو جائے شیاطین آزاد رہتے ہیں چاہے کوئی مہینہ ہو ،یہ شیاطین یا تو گرفتار نہیں ہوتے یا پھر ضمانت پر رہائی لے لیتے ہیں
https://urdu.arynews.tv/blogs/archives/219257

Monday, 20 August 2018

دنیا بھر سے خوش نصیب مسلمان مناسک حج کی ادائیگی سعودی عرب میں موجود ہیں جہاں دنیا بھر سے 20 لاکھ مسلمان حج کا فریضہ ادا کریں گے جن میں سے 1 لاکھ 84 ہزار پاکستانی خوش نصیب پاکستانی بھی شامل ہیں۔

سعودی حکومت میں رواں سال حج کے انتظامات کو بہت اعلی طریقے سے انجام دے رہی ہے ، عازمین حج تو جدید سہولیات دے کر ان کو کسی بھی مشکل اور پریشانی سے بچایا جارہا ہے

عازمین حج کل منیٰ پہنچے تھے جہاں آج عازمین 9 ذوالحج  کو میدان عرفات میں حج کا اہم فریضہ وقوف عرفہ ادا کر چکے ہیں حجاج نے مسجد نمرہ میں خطبہ حج سنا جو مسجد نبوی کے امام شیخ حسن بن عبدالعزیز آل شیخ نے پڑھا جس کے بعد نماز ظہر و عصر ایک ساتھ ادا کی۔

میں یہاں تمام حجاج کرام کو حج کی مبارک پیش کرتا ہوں اور دعاکرتا ہوں ان کا یہ سفر خیریت سے طے ہو ، اب اپنے قارئین کو سعودی عرب کی طرف سے کیے گئے انتظامات سے آگاہ کرتا ہوں، سعودی حکومت نے اس مرتبہ بہت ساری نئی سروسز حجاج کرام کے لیے پیش کی ہیں۔ جن میں خاص کر موبائل ایپ کے ذریعہ کسی جگہ کی نشاندہی اور تلاش شامل ہے جبکہ دوسری منفرد سروس کیپسول بیڈ روم پہلی مرتبہ سعودی حکومت نے حجاج کے لیے پیش کیے ہیں۔ ان کو سلیپنگ کیپسول بھی کہا جاتا ہے ایسے کیپسول سب سے پہلے جاپان میں متعارف کروائے گئے تھے۔ سعودی عرب میں یہ خدمت ھدیہ الحجاج نامی فلاحی تنظیم اور سعودی حکومت مل کر جاپان سے 60 سیلپنگ کیسپول منگوائے ہیں۔ جن میں حجاج میں سے کوئی جاکر کچھ دیر کے لیے ان میں مفت سستا یعنی آرام کر سکتا ہے۔ اپنی جسمانی درجہ حرارت کو کنٹرول کر سکتا ہے ، ان میں اے سی میٹریس اور موبائل چارج کرنے کی سہولت دستیاب ہے۔

یہ کیپسول 3 مربع میٹرپر مشتمل ایک کمرے ہیں سلیپنگ کیپسول کی اندرونی گنجائش 2.64مربع میٹر اور اونچائی 1.2 میٹر ہے۔ ان سلیپنگ کیپسول کو شیشے، پلاسٹک اور فائبر سے تیار ہوتے ہیں ہر کیپسول بستر بھی بچھا ہوا ہے جس کے ساتھ ایک تکیہ بھی موجود ہے۔ ان سلیپنگ کیپسول کے ساتھ ٹوائلٹ، ہاتھ منہ دھونے اور نہانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ ان سلیپنگ  کیپسول کو جاپان سے درآمد کیا گیا ہے جن پر ایک لاکھ یورو سے زاید کے اخراجات آئے ہیں۔

سعودی عرب کی حکومت اور نجی ادارے مل کر سب اللہ کے مہمانوں کی آرام راحت اور مناسک حج کی ادائی میں ان کی معاونت میں مصروف ہیں۔ ایک فلاحی تنظیم ’ھدیۃ الحاج‘ نے حجاج کرام کے لیے ایک نئی سہولت متعارف کرائی ہے۔ تنظیم کی طرف سے حجاج اور معتمرین کے لیے 18 سے24 ’سلیپنگ کیپسول‘ موبائل کمرے تیار کرائے ہیں۔ حجاج کرام مناسک حج کی ادائی کے دوران انہیں مختصر وقت میں سستانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق ’ھدیۃ الحاج‘ کی طرف سے متعارف کرائے گئے’سلیپنگ کیپسول‘ کو ’ہوٹل گفٹ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تنظیم کا موسمی دفتر مشاعر مقدسہ میں ہے جو حجاج اور معتمرین کو دیگر کئی سروسز بھی فراہم کرتی ہے۔ تنظیم کی سرپرستی وزارت لیبر وسماجی بہود کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ بن احمد آل طاوی کرتے ہیں۔ ’سلیپنگ کیپسول‘ عازمین حج کے لیے حج کے موقع پر یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد سہولت ہے۔

’ہوٹل گفٹ‘تین مربع میٹرپر مشتمل چھوٹے چھوٹے موبائل کمرے ہیں جنہیں ایک سے دوسرے مقام پر با آسانی لے جایا جاسکتا ہے۔ شیشے، پلاسٹک اور فائبر سے تیار کردہ ان کمروں کو ’مقناطیسی چابی‘ کی مدد سے کھولا اور بند کیا جاسکتا ہے۔ ان میں ایک بستر بچھا ہوتا ہے جس کے ساتھ ایک تکیہ بھی ہے، جب کہ سلیپنگ کیپسول کی اندرونی گنجائش 2.64مربع میٹر اور اونچائی 1.2 میٹر ہے۔
حجاج کرام اس میں آرام کرنے کے ساتھ کئی دوسرے اہم امور بھی انجام دے سکتے ہیں۔ اس میں موبائل فون چارج کرنے، سورج کی گرمی سے بچنے، اپنی مرضی کے مطابق درجہ حرارت سیٹ کرنے اور پسند کی روشنی کا اہتمام کرنے کی سہولت ہے۔

ان سلیپنگ کیپسول کو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ یا ایک دوسرے کے اوپر بھی رکھا جاسکتا ہے۔ اس میں چڑھنے کے لیے سیڑھی موجود ہے جو بالائی سلیپنگ روم تک پہنچا سکتی ہے۔ ان کمروں میں ٹوائلٹ، ہاتھ منہ دھونے اور نہانے کی سہولت بھی موجود ہے۔
تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل منصور العامر نے بتایا کہ عالمی سطح پر اس طرح کے موبائل سلیپنگ روم جاپان میں تیار کیے جاتے ہیں۔ بعض دوسرے ملکوں کے شہروں میں بھی یہ سہولت موجود ہے۔ ’ھدیۃ الحاج‘ کی طرف سے پہلی بار حجاج کرام کے لیے یہ سہولت حاصل کی گئی ہے تاکہ بہت زیادہ رش کے اوقات میں عازمین کو کچھ دیر آرام کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا حجاج کرام کو یہ سہولت مکمل طورپر مفت میں فراہم کی جاتی ہے، تاہم جاپان سے اس کی درآمد پر ایک لاکھ یورو سے زاید کے اخراجات آئے ہیں۔
العامر کا کہنا تھا کہ فی الوقت روزانہ 60 حجاج کرام ان سلیپنگ رومز سے استفادہ کرسکتے ہیں مگر ان کمروں کی تعداد بڑھانے کے نتیجے میں ان سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

پانچ روز کے دوران مقامات مقدسہ میں پینے کے پانی کے 4.3 کروڑ سے زیادہ چھوٹے کینز، جوُس، دودھ اور لسّی کے 3.5 کروڑ سے زیادہ کینز، 1.3 کروڑ روٹیاں اور تیار کھانے کے 40 لاکھ پیک داخل ہوئے

ودی وزارت صحت نے عرفات کے مختلف حصوں میں چار ہسپتال تیار کیے ہیں جن کی گنجائش 600 بستروں پر مشتمل ہے۔ ان کے علاوہ 46 طبّی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ گُردوں کے مرض میں مبتلا افراد کے لیے ڈائیلیسز کی 49 مشینیں تقسیم کی گئی ہیں۔
عرفات میں 150 طبّی ٹیمیں، 33 ایمرجنسی مراکز اور 26 سے زیادہ کیئر پوائنٹس صحت سے متعلق خدمات کے لیے تیار ہیں۔ اس سلسلے میں 355 اہل کاروں کو مختص کیا گیا ہے۔ ان میں 19 ڈاکٹر، 9 اسپیشلسٹ، 100 رضاکار اور 11 نگرانوں کے علاوہ تکنیکی اور انتظامی عملہ شامل ہے۔
عرفات آنے والے تمام راستوں اور اندرونی سڑکوں پر ٹریفک پولیس اور سکیورٹی اہل کاروں کے یونٹس پھیل چکے ہیں تا کہ حجاج کرام کی نقل و حرکت اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

صفحہ اول
»
مشرق وسطی
آخری اشاعت: پیر 8 ذوالحجہ 1439هـ - 20 اگست 2018م KSA 09:54 - GMT 06:54
حج کا رکن اعظم ادا کرنے کے لیے اللہ کے مہمان آج عرفات میں
پیر 8 ذوالحجہ 1439هـ - 20 اگست 2018م

شیئر کریں

مختصر لنک
http://ara.tv/6e25z
العربیہ ڈاٹ نیٹ
عازمین حج اتوار کا دن مِنی میں گزارنے کے بعد آج پیر کے روز حج کا رکن اعظم ادا کرنے کے لیے عرفات پہنچ رہے ہیں۔
رواں برس بھی متعلقہ ادارے حج سیزن کے دوران سکیورٹی، صحت اور انتظامی امور سے متعلق خدمات انجام دینے میں شب و روز مصروفِ عمل ہیں تا کہ حجاج کرام مکمل امن ، سکون اور سلامتی کے ساتھ سہولت سے اپنے مناسک ادا کر سکیں۔
سعودی وزارت صحت نے عرفات کے مختلف حصوں میں چار ہسپتال تیار کیے ہیں جن کی گنجائش 600 بستروں پر مشتمل ہے۔ ان کے علاوہ 46 طبّی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ گُردوں کے مرض میں مبتلا افراد کے لیے ڈائیلیسز کی 49 مشینیں تقسیم کی گئی ہیں۔
عرفات میں 150 طبّی ٹیمیں، 33 ایمرجنسی مراکز اور 26 سے زیادہ کیئر پوائنٹس صحت سے متعلق خدمات کے لیے تیار ہیں۔ اس سلسلے میں 355 اہل کاروں کو مختص کیا گیا ہے۔ ان میں 19 ڈاکٹر، 9 اسپیشلسٹ، 100 رضاکار اور 11 نگرانوں کے علاوہ تکنیکی اور انتظامی عملہ شامل ہے۔
عرفات آنے والے تمام راستوں اور اندرونی سڑکوں پر ٹریفک پولیس اور سکیورٹی اہل کاروں کے یونٹس پھیل چکے ہیں تا کہ حجاج کرام کی نقل و حرکت اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس موقع پر سعودی اسکاؤٹس کے نوجوان بھی بڑی تعداد میں رضاکارانہ طور پر مقامات مقدسہ میں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سعودی شہری دفاع کی فورس عرفات میں لاکھوں حجاج کرام کے بیچ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح چاق و چوبند اور تیار ہے۔ اس دوران شہری دفاع ٹیمیں عرفات میں صورت حال کو نظر میں رکھنے کے واسطے گشت میں مصروف ہیں۔ اس کے علاوہ فائر بریگیڈ کے عملے کے پاس باریک بینی سے تیار کیے گئے عرفات کے نقشے ہیں تا کہ کسی بھی مقام پر آگ لگنے کی صورت میں فوری امدادی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

اس موقع پر بجلی کی مسلسل فراہمی کے لیے 1500 سے زیادہ انجینئرز اور انتظامی تکنیک کاروں کی ٹیمیں ہمہ وقت مستعد ہیں۔
مکہ مکرمہ اور مقاماتِ مقدّسہ میں حجاج کرام کے لیے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نیشنل واٹر کمپنی نے مجموعی طور پر 20 لاکھ کیوبک فٹ کے ذخیرے کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہے۔

گزشتہ پانچ روز کے دوران سعودی وزارت تجارت و سرمایہ کاری کی نگرانی میں مقامات مقدسہ میں پینے کے پانی کے 4.3 کروڑ سے زیادہ چھوٹے کینز، جوُس، دودھ اور دہی کے 3.5 کروڑ سے زیادہ کینز، 1.3 کروڑ روٹیاں اور خوراک کے 40 لاکھ پارسلز داخل ہوئے۔

اسلامی امور اور دعوت و ارشاد کی سعودی وزارت نے "مہمانانِ خادم حرمین" پروگرام کے تحت 5400 سے زیادہ مرد اور خواتین حجاج کی میزبانی کے لیے انتظامات مکمل کر لیے۔ خادم حرمین کے خرچ پر آنے والے ان حجاج کا تعلق دنیا کے 94 سے زیادہ ممالک سے ہے۔

رواں برس حج سیزن میں سعودی وزارت ثقافت و اطلاعات دنیا بھر سے آئے ہوئے 270 سے زیادہ میڈیا پرسنز کی میزبانی کر رہی ہے۔ فریضہ حج کی کوریج کے سلسلے میں ان شخصیات کا تعلق 120 سے زیادہ ذرائع ابلاغ سے ہے۔

لعربیہ ڈاٹ نیٹ
سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور و دعوت ارشاد نے حج کے ایام میں حجاج کرام کی دینی رہ نمائی کے لیے 128 علماء ومبغلین کو مقرر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان سے رہ نمائی کے حصول کے لیے مفت ٹیلیفون ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے۔ سعودی عرب کے اندر عازمین حج ’ہیلپ لائن‘8002451000 پر چوبیس گھنٹے کسی بھی دینی معاملے پر مستند علماء سے رہ نمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ عازمین حج کی رہ نمائی کے لیے 81 علماء کو مکہ معظمہ اور 47 کو مدینہ منورہ میں متعین کیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق وزارت مذہبی امور کی طرف سے مفت ہیلپ لائن اور علماء کی خدمات کی فراہمی کا مقصد ضیوف الرحمان کو حج کے موقع پر ان کی اپنی زبان میں ہرممکن رہ نمائی بہم پہنچانا ہے۔
ہیلپ لائن میں مجموعی طورپر 59 فون لائنیں مختص کی گئی ہیں۔ مکہ معظمہ میں 24، مدینہ منورہ میں علماء سے رابطے اور استفسارات کے لیے 6، منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں 29 فون لائنیں مختص کی گئی ہیں۔ علماء سے رابطے کے لیے سات رکنی انتظامی اور تکنیکی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو حجاج کرام کی طرف سے رابطے کے لیے ان کی مدد کرے گی۔

Monday, 16 July 2018

او آئی سی کا ہنگامی اجلاس

فلسطین تازہ صورت حال پر  او آئی سی کا ہنگامی اجلاس

تحریر عبدالجبار خان دریشک

ماہ رمضان کے بابرکت مہینے کے شروع ہونے سے قبل 14 مئی کو فلسطینی مسلمانوں پر ظالم کے پہاڑ ڈھائے گئے، مصوم فلسطینی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ، 14 مئی کو جب پروشیلم میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کی جارہی تھی تو اس منتقلی کے خلاف فلسطینی مسلمان غزہ کے کنارے ہرازروں کی تعداد میں پر امن احتجاج کر رہے تھے ، جن پر اسرائیلی فوج نے بے تحاشہ فائرنگ کی اور ڈروان کے ذریعے آنسو گیس کے گولے فائر کیے ، اسرائیل کی اس بربریت کے نتیجے میں 60 فلسطینی شہید ہوئے جن میں سے اکثریت کم عمر بچوں کی تھی جن میں سے کئی ایک شیرخوار بھی شامل تھے جو اپنی ماؤں کے ساتھ اس پر امن احتجاج میں شریک تھے۔ اس ظلم پر  اقوام عالم کی خاموشی کے علاوہ ٹرمپ کی بھی منافقت اپنی جگہ قائم ہے ٹرمپ کے فیصلے کی وجہ سے مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے امریکی حکومت نے اپنا سفارت خانہ تل ایب سے یروشیلم منتقل کرنے کا فیصلہ 1995 میں کرلیا تھا لیکن اس پر کسی بھی امریکی صدر نے عمل درآمد نہ کروایا ، لیکن ٹرمپ نے آتے ہی اس سفارت خانے کی منتقلی کا اعلان کردیا تھا جس پر اب 14 مئی کو عمل درآمد بھی ہوچکا ہے جوکہ اقوام متحدہ  کی قراردادوں اور سلامتی کونسل کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ تو دوسری طرف ٹرمپ ماہ رمضان کی آمد پر مسلمانوں کو پیغام میں نیک تمنائیوں کا اظہار کر رہا ہے، جو ٹرمپ کی دوغلی اور منافقت پر مبنی پالیسی ہے 

  امریکی سفارت خانے کو یروشیلم منتقل کرنے  کے ردعمل میں ترکی نے  سخت موقف کا اظہار کیا ، اور صدر رجب طیب ایردوآن نے اسرائیل سے اپنے سفارت کار واپس بلا لیے اور اسرائیل کے سفارت کاروں کو ترکی سے چلے جانے کے احکامات جاری کردیا ، غزہ میں اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں ساٹھ سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان ٹوئٹر پر سخت الزامات اور الفاظ کا تبادلہ جاری رہا ۔  ترک صدر ایردوآن نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ اسرائیل نے جو کچھ کیا ہے، وہ نسل کُشی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ترک صدر کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا، ایردوآن حماس کے ایک بڑے حامی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دہشت گردی اور قتل و غارت میں مہارت رکھتے ہیں۔رجب ایردوآن غزہ کے حوالے سے اسرائیلی پالیسیوں  کے بڑے ناقدین میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اس تازہ صورت حال پر اسلامی تعاون کی تنظیم یعنی او آئی سی کا  ہنگامی اجلاس بلایا ،  جس میں دنیا کو غزہ کے حوالے سے ایک طاقتور پیغام دینا  تھا ۔

ماہ رمضان کے پہلے جمعہ کے دن او آئی سی کا ہنگامی اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں طلب کیا گیا اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے اجلاس میں مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارلحکومت تسلیم کرتے ہوئے دنیا کے دیگر ممالک پر بھی ایسا ہی کرنے کے لیے زور دیا ہے ۔ اس تنظیم نے یروشلم کے حوالے سے امریکی فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔  ستاون مسلمان ممالک کی اس تنظیم کے اجلاس میں میزبان ترکی کے علاوہ پچاس ممالک کے مندوب شریک ہوئے۔ بائیس ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ تنظیم کے ہنگامی اجلاس کے اختتام پر 23 نکات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔

پاکستان سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے خصوصی طور پر شرکت کی اور اپنے جاری کردہ بیان میں ان کا کہنا تھا کہ آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کرتے ہیں، فلسطینیوں کے لیے مل کر اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ہوگی جب کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم کی آزادانہ اورشفاف تحقیقات کرائی جائے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی اور اسرائیلی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کی،وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اختلافات بھلا کر او سی کے فورم سے مضبوط موقف دینا ہوگا اور فلسطینیوں کے لیے مل کر اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ہوگی جب کہ سلامتی کونسل فلسطین کے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے  او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں خطاب کرتے کہا کہ فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے جاری رہنے سے عالم اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے امریکہ کی نئی حکومت بھی عالمی امن و صلح اور بین الاقوامی قوانین کے لئے بہت بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت فلسطین میں جنگی و بھیانک جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے انسانی عزت اور کرامت کو پامال کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ ، اسلامی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرکے اسرائیل کو خطے میں مضبوط اور طاقتور بنانا چاہتا ہے لیکن اسلامی ممالک  باہمی اتحاد کے ذریعہ اسرائیل کا بھر پور مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور مسلم ممالک آپسی اتحاد اور یکجہتی کے ذریعہ اسرائیل کی سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ امریکہ اسرائیل کو گرین سگنل دے کر فلسطینیوں کے مصائب ومشکلات میں اضافہ کررہا ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کو عالمی امن خاص طور سے علاقے کی سلامتی کے لئے سنجیدہ خطرہ قراردیتے ہوئے کہا کہ ایران نے بارہا علاقے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی تجاویزدی ہیں اور یہ تجاویز اسلامی ملکوں کے اقدامات میں سر فہرست قرارپانی چاہئیے۔ صدر حسن روحانی نے اسلامی ممالک سےمطالبہ کیا کہ وہ  اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرکےاس کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کریں۔ اور اسرائیل کی بے جا حمایت کرنے کے سلسلے میں امریکہ کے خلاف بھی عملی اقدام عمل میں لائیں۔

اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ کی اکثر شقوں میں فلسطینیوں کی ہر فورم پر مکمل حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یروشلم کے معاملے کے حل کے لیے کوئی قدم نہ اٹھایا تو رکن ممالک اس معاملے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لے کر جائیں گے۔

جبکہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں شرکت تو نہ کی لیکن مصر نے غزہ کے ساتھ رفح نامی سرحدی گزرگاہ کو رمضان کے مہینے کے پیش نظر  دوبارہ کھول دیا ہے تاکہ اس اسلامی مہینے کے دوران غزہ کے پٹی کے عوام کی روزمرہ تکالیف میں کمی کی جا سکے اور انہیں مناسب مقدار میں خوراک بھی مہیا ہو سکے۔ مصر اپنی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے غزہ پٹی اور اسرائیل دونوں کا ہمسایہ بھی ہے اور 1979ء میں مصر نے اسرائیل کے ساتھ ایک باقاعدہ امن معاہدہ بھی طے کر چکا ہے جس کے پیش نظر مصر نے اپنی سرحد بند رکھی ہوتی ہے

عالمی سطح پر او آئی سی کے ہنگامی اجلاس کو مسئلہ فلسطین کے لیے اہم سمجھا جارہا ہے، او آئی سی اسلامی دنیا کو پیش آنے والے مسا ئل پر زیادہ فعال تو نظر نہیں آتی تاہم فلسطین کی حالیہ صورت حال پر کم از کم تمام رکن ممالک میں سے اکثر نے کھل کر اظہار خیال کیا  تاہم یروشلم کے معاملے پر اس تنظیم کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ وہ یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اپنے فیصلے پر دنیا کے مزید کتنے ممالک کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔

فلسطین کی موجودہ صورت حال پر سعودی عرب نے کھل کر مذمت بھی کی تھی جبکہ عرب لیگ کا اجلاس بلانے کا بھی کہا تھا لیکن او آئی سی کے اجلاس میں سعودی عرب کا شرکت نہ کرنا عجیب محسوس ہوتا ہے جبکہ کچھ عرصہ قبل ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان نے اسرائیل کے حوالے  متنازعہ بیان بھی دے چکے ہیں ساتھ ہی سعودی عرب نے بھارت اور اسرائیل کے درمیان براہ راست پروازوں کے لیے  اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی بھی اجازت دے چکا ہے اور اسی طرح او آئی سی کے اجلاس میں فلسطین کے پڑوسی اسلامی ملک مصر کے سربراہ نے بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی ، اس کی وجہ بھی اسرائیل اور مصر کے درمیان 1979ء کا امن معاہدہ ہو سکتا ہے ان دونوں اہم ممالک  کی عدم حاضری کے سبب اس تنظیم میں شامل ممالک کے آپس میں تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بجلی بحران کا خاتمہ اندرونی احتساب سے ممکن ہے

تحریر عبدالجبار خان دریشک

زندگی کا پہیہ اب تو بجلی کے کرنٹ سے ہی چلتا ہے بجلی کا کرنٹ بند ہوتے ہی ایسے لگتا ہے بس سانس رک گئی ہے نہ قدم آگے جا سکتے ہیں نہ پیچھے کو مڑ سکتے ہیں۔ بس ادھر بجلی کی تاروں میں کرنٹ دوڑا نہیں تو جسم میں ایسے محسوس ہوتا ہے یہ کرنٹ تاروں کی بجائے خون کی نالیوں میں گردش کررہا ہے، اس کے آتے ہی جان میں جان آجاتی ہے پھر لگتا کہ اب ہم زندہ ہیں۔ لیکن کیا کریں یہ جان اب دن میں کئی مرتبہ نکالی جاتی اور کئی کئی گھنٹے بجلی کی روح جسم سے جدا رہتی ہے۔ حکمرانوں کے وعدے بس فیس بک والی گرل فرینڈ جیسے ہوتے ہیں، جو کبھی سچ نہیں بولتی ، اور حکمران بھی بس امیدوں ، اور تسلیوں پر ٹرغاتے رہتے ہیں۔  ملک میں سخت سردی ہو یا سخت گرمی لوڈشیڈنگ کا کوئی موسم نہیں ، اب کے سال گرمیاں اپنی عروج جا چکی ہیں ، گرمی میں جہاں ہر انسان کا برا حال ہے وہیں اس بجلی کے بحران کا کوئی مستقل حل نہیں نکالا گیا ، موجود حکومت نے آتے ہی بجلی کے بحران کے خاتمے کے اعلان ، وعدے ، قسیمیں ، اور تسلیاں دے عوام کو صبر کا روزا رکھوا دیا اب اقتدار کا سورج غروب ہونے والا ہے لیکن بجلی کا روزا طویل ہو چکا ہے جس کے افطار کا وقت دور دور تک دکھائی نہیں دیتا ، 2018 کو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا سال کہا گیا تھا لیکن 2018 بھی آگیا نہیں آئی تو بجلی پوری ۔

گزشتہ دونوں کراچی میں کے الیکٹرک کے خلاف شدید احتجاج ہوتا رہا، کراچی میں لوڈشیڈنگ کے ستائے لوگ سٹرکوں پر نکل آئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی کا دورہ کیا کے الیکٹرک کو بجلی کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی ، وہاں انہوں نے ایک بیان دیا جہاں لوڈشیڈنگ زیادہ  وہاں ہے جہاں بجلی چوری زیادہ ہے، ان کے کہنے کا مقصد ہے بجلی چوری جہاں زیادہ ہوگی وہاں بجلی بھی کم دی جائے گی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بجلی چوری کو عام آدمی نے تو نہیں روکنا اسے ادارے نے کنٹرول کرنا ہے، اس میں محکمہ کے اہلکاروں کی نااہلی یا ملی بھگت شامل ہو تو قصور وار عوام تو نہیں ، اور یہ کتنی بے بسی والی بات ہے کہ چور پکڑنے کی بجائے بجلی کی فراہمی کو معطل رکھا جائے۔ آپ نے بجلی چوری کرنے پر بھاری جرمانے سخت سزائیں تو بنا دی ، لیکن بجلی چوری کی روک تھام اور چور پکڑنے کے لیے کیا نظام تیار کیا ہے، جب 24 گھنٹے میں سے 8 سے 12 گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے ، اور اس حساب سے مہینے بھر میں 18  دن بجلی رہتی ہے لیکن دوسری طرف محکہ صارف سے مہینے بھر کے فیکسڈ چارجز وصول کرتا ہے پھر تو عوام بھی کہے دے جتنی بجلی اتنے پیسے ، اب ہر ماہ بجلی پر سرچارج ، فیکسڈ لائین چارجز، پی ٹی وی فیس ، سب وصول کیا جاتا ہے حتی کہ ایک دن لیٹ بل جمع کروایا جائے اس پر جرمانہ بھی پورا وصول کیا جاتا ہے ، جب کہ یہی جرمانہ ترقی یافتہ ممالک میں جمع کر کے تمام صارفین کو رعایت دینے کی مد میں ان بلوں میں جمع کر دی جاتی ہے جو تمام صارفین میں برابر تقسیم کردی جاتی ہے

بجلی چوری کی روک تھام میں نااہلی محکہ کے ان لوگوں کی ہے جو اصلی بجلی چوروں پر ہاتھ ڈالنے کی بجائے بچارے عام غریب آدمی پر چوری کی ایف آئی آر درج کرواتے ہیں۔ واپڈ کے گریڈ اسٹیشن سے نکلنے  والی لائین کے ساتھ سمارٹ میٹر نصب ہوتا ہے جس میں سے گزارنے والی بجلی کی ریڈنگ ہوتی ہے اور اسی بنیاد محکمہ کو حساب دینا ہوتا ہے لائین لاسسز کی مد میں بھی مخصوص ماہانہ کوٹہ مختص ہوتا ہے، شیڈول سے ہٹ کر لوڈشیڈنگ میں محکمہ کے اہلکاروں نے اپنے یونٹ پورے کرنے کے لیے خود ساختہ بحران پیدا کرتے ہیں ہر گریڈ سے باہر جاتی لائین پر کچھ فاصلے پر جا کر ایک بریکر لگا دیا جاتا اور یہ لوگ اسی جگہ سے سپلائی معطل کر دیتے ہیں اور اسی طرح گریڈ میں لگے سمارٹ میٹرکو پتہ نہیں چلتا آگے بجلی بند ہے یا چل رہی ہے اور ایسا کرنے والے اہلکار سمارٹ میٹر سے زیادہ سمارٹ ہیں ۔ یہ اہلکار اپنے یونٹ بچانے کے لیے عوام کو لوڈشیدنگ کے عذاب میں مبتلا کرتے ہیں

اب یہ ایسا کیوں کرتے ہیں جس کی بنیادی وجہ چوری ہے آج کل سختی زیادہ ہوجانے کی وجہ سے عام آدمی بجلی چوری نہیں کر سکتا ، بجلی چوری ہمیشہ بااثر افراد کرتے ہیں یا پھر محکمہ کی کالی بھیڑیں چوری  جرم میں حصہ ہوتی ہیں ، محکمہ کے ایسے کرپٹ لوگ باقاعدہ بجلی چوروں سے منتھلیاں وصول کرتے ہیں پہلے یہ لوگ میڑ ریڈنگ میں کرپشن کر کے عام آدمی پر چوری شدہ یونیٹوں کا عذاب ڈالتے تھے پر جب سے تصویر والی ریڈنگ شروع ہوئی ہوئی ان کی حرام کی کمائی بند ہوئی تو یہ لوگ فیک میٹرز لگا کر چوری کروانے لگے۔

اب مال پانی بنانے کے یہ کرپٹ عناصر غریب اور عام آدمی پر ایف آئی آر درج کروا ریے ہیں یہ ایف آئی آر کسی جگہ بقیہ جات کی وصولی میں تو کسی جگہ کار سرکار میں مداخلت ، یہ لوگوں کو ڈرانے دھماکنے غرض سے جھوٹی ایف آئی آر دوج کروا ان سے اچھا خاصہ مال بٹورتے ہیں ۔ کچھ دن قبل ملتان کے ایک لائین سپریڈنٹ کے بارے خبر شائع ہوئی کہ اس وہ کروڑوں کی جائیداد کا مالک ہے جس نے یہ جائیداد کرپشن کر کے بنائی ہے ، یہ تو صرف ملتان کے ایک اہلکار کی خبر ہے جنوبی پنجاب میں تقریباً اکثریت ہی اس جیسے کروڑوں کی جائیداد رکھنے والے بجلی محکمہ کے اہلکار موجود ہیں ، جنوبی پنجاب کے تقریباً تمام اضلاع میں عرصہ دارز سے تعینات اہلکار بڑی مقدار میں بحلی چوری کروا کر کرڑوں کما رہے ہیں، جبکہ غیر قانونی کمرشل کنکشن لگا کر مختلف جگہوں پر فیکٹریاں اور آٹا چکیاں لگائی ہوئی ہیں جن میں سے کہیں حصہ داری ہے یا کہیں منتھلی ،ڈیرہ غازی ڈویژن میں چلنے والی آٹا چکیوں میں سے 80 فیصد کے مالک یہی واپڈ اہکار ہیں اور کچھ ایسی ہی صورت حال راجن پور میں بھی یہاں بھی ایک ایک اہلکار 5 سے زیادہ آٹا چکیوں کے چھپے ہوئے حصہ دار ہیں

ملک میں بجلی بحران کے سے کہا جاتا ہے کہ طلب اور رسد کبھی برابر ہے تو کبھی تھوڑا سا فرق ہے جو چند دن میں پورا ہو جائے گی، ملک میں بجلی پوری ہے اور موجودہ  پیداوار کو پورا کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے محکمہ کے اندر موجود کالی بھٹروں کا احتساب کرنا ضروری ہے ، لائین سپریڈینٹ سے لے ایک ڈویژن میں بیٹھے چیف انجیئنر تک کا احتساب کیا جائے ،  ایک ہی جگہ عرصہ دراز سے تعینات اہلکار جو محکمہ کو اپنی جاگیر سمجھتے دراصل محکمہ کی نیک نامی خراب کرنے والے بھی یہی لوگ ہیں ، ان سب کے  کی جائیدادوں  نیب کے ذریعے چھان بین کروائی جائے تو ان میں اکثریت کروڑ پتی نکلے گی۔ اور ان سے جواب طلب کیاجائے کہ اتنی دولت کیسے کما لی ذرائع آمدن بتائیں ۔ یہ لوگ چند سالوں اتنے امیر کیسے ہوگئے اور سب سے پہلے احتساب کا عمل جنوبی پنجاب کے اضلاع میں سے راجن پور اور ڈیرہ غازی خان سے شروع کیا جائے اور وفاقی وزیر پانی وبجلی کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے اور پتہ چلے کہ چراغ تلے کتنا اندھیر ہے

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...