Thursday, 30 November 2017

دونوں جہانوں کی کامیا بی


تحر یر۔ عبدالجبار خان دریشک
یہ بات طے ہے کہ اس کائنات کی وجہ تخلیق صرف اور صرف محبوب رب کائنات رحمت اللعالمین ، خاتم الانبیاء، سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کا ظہور بابرکت تھا۔ بعض روایت ہیں اللہ پاک نے سب سے پہلے بلا واسطہ طور پر اپنے حبیب ﷺ کا نور پیدا فرمایا اور اس نور کو خلق عالم کا واسطہ قرار دیا۔ یہ بھی مروی ہے کہ رب ذوالجلال نے عالم اروح میں سرکار دوعالم رحمتہ اللعالمین ﷺ کی روح انور کو اعزاز نبوت سے سرفراز فرمایا۔ ترمذی شریف میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم علیہ السلام کی روح نے جسم سے تعلق نہ پکڑا تھا ۔ بعدازں اسی عالم میں رب کائنات نے دیگر انبیائے کرام کی روحوں سے نبوت محمدی ﷺ کا عہد لیا۔ بحوالہ کتاب تاریخ الانبیاء
         آپ ﷺ دونوں جہانوں کے لیے رحمت بن کر آئے آپﷺ کی ولات باسعادت سے پہلے دنیا جہالت کے اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ آپ ﷺ کے نور سے پوری دنیا میں روشنی پھیل گئی۔ آپ ﷺ  رہتی دنیا تک اور تاقیامت پیدا ہونے والے انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ ہمارے لیے ہدایت ہے ہم دنیا اور آخرت کی فلاح چاہتے ہیں تو اپنی زندگی آپ ﷺ کی بتائے طریقے پر گزارنی ہوگی۔ جس کا آپ ﷺ عملی طور نمونہ پیش کیا۔ آج کے دور میں ہم پریشانی کا شکار ہیں۔ ناکامی سے دو چار ہیں معاشرتی بدامنی نے انسانیت سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ آج کے دور میں پوری دنیا کے مسلمان دن بدن مسائل فرقہ پرستی دہشت گردی کا کیوں شکار ہو رہیں؟ کبھی ہم نے اس بات پر غور کیا ہے۔  ہم اپنی زندگی کے معولات کو اپنے سامنے رکھیں اور اپنی ذات کا احتساب کریں تو کیا ہم آج کے دور میں آپ ﷺ کی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں۔ اور یہ سب آپﷺ تعلیمات اور ہدایت سے دوری کا نتیجہ ہے کہ ہم تباہی کی طرف جا رہے ہیں
        آپ ﷺ نے ہمیں بھائی چارے اور اخوات کا درس دیا لیکن یہ کیا آج ہم بھائی بھائی نہیں رہے فرقے اور جماعتوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ ہماری آنے والی نسلوں کو سازش کے تحت آپ ﷺ کی تعلیمات سے دور کیا جا رہا ہے آج کے دور میں ہم اپنے تعلیمی نصاب کو اٹھا کر دیکھیں لیں تو پہلی جماعت سے لے کر میٹرک تک کتنے اسباق سیرت النبی ﷺ کے کورس میں شامل کیے گئے ہیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے جو شامل ہیں ان کو دن بدن کم کیا جارہا ہے ۔ آنے والی نسلوں کو دین اسلام سے دور کرنے کی یہ  یہود و نصار کی عیاری ہے۔ ہمارے بچے جب آپ ﷺ کی ذات اقدس اور سیرت نبی ﷺ کے بارے میں نہیں پڑھیں گے تو وہ دین اسلام سے دور ہوں گے۔ پھر ہمارے اندر نہ اتفاقی بھی ہوگی دہشت گردی بھی ہوئی اور ہماری فرقوں جماعتوں میں تقسیم بھی ہوگی ۔ ہمیں اپنی زندگی کو بہتر خوشحال اور پرامن بنانا ہے تو آپ ﷺ کی تعلمات پر عمل کرنا ہوگا۔ آپ ﷺ نے کامیاب زندگی گزارنے کے آسان اور قیمتی نسخے ہمیں بتائے بلکہ خود عملی طور پر پیش کر کے دیکھا جن پر عمل کر کے ہم دنیا و آخرت کی کامیاب پا سکتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا.  اے لوگوں مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں 1. بولو تو سچ 2. وعدہ کرو تو اسے پورہ کرو 3. تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اسے ادا کرو 4. خود کو بدکاری سے محفوظ رکھو 5. غیر محرموں سے اپنی نگاہ کی حفاظت کرو 6. اپنے ہاتھ سے کسی کو ایذاد نہ پہنچاؤ. حضرت بلال بن حارث ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی  ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آدمی اپنے منہ سے کوئی کلمہ خیر نکال دتیا ہے اسے اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ اس نے کوئی اچھا کام کیا ہے لیکن وہ ایک کلمہ خیر میدان حشر میں اللہ تعالی کی رضا مندی کا سبب بن جاتا ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عقبہ بن عامر ؓ نے حضور پاک ﷺ سے دریافت فرمایا ۔ یا رسول اللہ ﷺ مجھے یہ تو بتلائیے کہ نجات کا راستہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اپنی زبان کو قابوں میں رکھو ، اپنے گناہوں کو یاد کر کے اللہ کے خوف سے رویا کرو ۔ ایک مرتبہ ایک بدو  آپ ﷺ  کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اس بدو نے آپ ﷺ  سے کچھ  سوالات کیے  جن کے  نبی کریم ﷺ کے جوابات کچھ یوں دیے اس سوال تھا 1۔ میں امیر (غنی) بننا چاھتا ہوں؟ آپ ﷺ نےفرمایا قناعت اختیار کرو،امیر ہو جاؤ گے.2۔ میں سب سے بڑا عالم بننا چاھتا ہوں؟ آپ ﷺ نےفرمایا تقوی اختیار کرو عالم بن جاؤ گے. 3۔ عزت والا بننا چاھتا ہوں؟ آپ ﷺ نےفرمایا مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا بند کر دو باعزت بن جاؤ گے. 4۔اچھا آدمی بننا چاھتا ہوں؟ آپ ﷺ نےفرمایا لوگوں کو نفع پھنچاؤ. 5۔عادل بننا چاھتا ہوں؟ آپ ﷺ نےفرمایا جسے اپنے لیے اچھا سمجھتے ہو وہی دوسروں کے لیے پسند کرو. 6۔ طاقتور بننا چاھتا ہوں؟ آپ ﷺ نےفرمایا اللہ پر توکل بھروسہ کرو. 7۔اللہ کے دربار میں خاص درجہ حاصل کرنا چاھتا ہوں؟ آپ ﷺ نےفرمایا کثرت سے اللہ کا ذکر کرو. 8۔ رزق کی کُشادگی چاھتا ہوں؟ آپ ﷺ نےفرمایا ہمیشہ باوضو رھو. 9۔ دعاؤں کی قبولیت چاھتا ہوں؟ آپ ﷺ نےفرمایا حرام نہ کھاؤ. 10۔ ایمان کی تکمیل چاھتا ہوں؟ آپ ﷺ نےفرمایا اخلاق اچھے کر لو. 11: قیامت کے روز اللہ سے گُناہوں سے پاک ہو کر ملنا چاھتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا جنابت کے بعد فوراً غُسل کیا کرو. 12۔گُناہوں میں کمی چاھتا ہوں؟ آپ ﷺ نےفرمایا
کثرت سے استغفار کرو. 13۔قیامت کے روز نور میں اُٹھنا چاھتا ہوں؟ آپ ﷺ نےفرمایا ظلم کرنا چھوڑ دو.  14۔ میں چاھتا ہوں کے اللہ مجھ پر رحم کرے؟
آپ ﷺ نےفرمایا اللہ کے بندوں پر رحم کرو. 15۔میں چاھتا ہوں کے اللہ میری پردہ پوشی کرے؟ آپ ﷺ نےفرمایا لوگوں کی پردہ پوشی کرو. 16۔ رُسوائی سے بچنا چاھتا ہوں ؟ آپ ﷺ نےفرمایا زنا سے بچو. 17۔ میں چاھتا ہوں کہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہِ وسلم کا محبوب بن جاؤں؟ آپ ﷺ نےفرمایا
جو اللہ اور اُس کے رسول کو محبوب ہو اُسے اپنا محبوب بنا لو. 18 اللہ کا فرمانبردار بننا چاھتا ہوں؟
آپ ﷺ نےفرمایا فرائض کا اہتمام کرو.19۔احسان کرنے والا بننا چاھتا ہوں؟ آپ ﷺ نےفرمایا اللہ کی اس طرح بندگی کرو جیسے تُم اسے دیکھ رہے ھو. یا جیسے وہ تمھیں دیکھ رہا ہے. 20۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہِ وسلم کیا چیز گُناہوں سے معافی دلائے گی؟
آپ ﷺ نےفرمایا آنسو، عاجزى اور بیماری. 21۔ کیا چیز دوزح کی آگ کو ٹھنڈا کریگی؟ آپ ﷺ نےفرمایا دنیا کی مصیبتوں پر صبر. 22۔ اللہ کے غصہ کو کیا چیز ٹھنڈا کریگی؟ آپ ﷺ نےفرمایا چپکے چپکے صدقہ اور صلہ رحمی. 23۔ سب سے بڑی برائی کیا ہے؟ آپ ﷺ نےفرمایا برے اخلاق اور بخل. 24. سب سے بڑی اچھائی کیا ہے؟ آپ ﷺ نےفرمایا اچھے اخلاق، تواضع اور صبر. 25۔ اللہ کے غصہ سے بچنا چاھتا ہوں؟ آپ ﷺ نےفرمایا لوگوں پر غصہ کرنا چھوڑ دو۔
         یقین جانیے ہم ان باتوں پر عمل کر دنیا وآخرت کی کامیابی پا سکتے ہیں۔ یہ ساری نصحتیں ہماری روز مرہ زندگی سے تعلق رکھتی ہیں ان پر عمل کرنے کے لیے کسی سانئس کے فارموے کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے بس اپنی زندگی میں تبدیلی لائیں۔ آپ ﷺ کی تعلیمات پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی درس دیں۔ ایسے ہی معاشرہ خوبصورت اور پرامن بن سکتا ہے۔ اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق عطاء فرمائے۔ امین

کالم نگار عبدالجبار خان دریشک ایم ایس ماس کمیونیکیشن ایل ایل بی تحصیل و ضلع راجن پور ,

Monday, 27 November 2017

بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے

تحریر.. عبدالجبار خان دریشک
ہونے والے واقعات جس میں فوجی
پولیس آفسروں اور سیکورٹی فورسز پر حملے جبکہ تربت کے علاقے سے ملنے والی بیس افراد کی لاشیں جو بچارے غریب مزدور روز گار کی تلاش میں یورپ جانے کے خوب آنکھوں میں سجا کر گھر سے نکلے تھے۔ ان کی آنکھوں کے خوب تو پورے نہ سکے لیکن ان کی راہ تکتی آنکھوں کو نہ تھامنے والا  طوفان دے گئے ہیں۔ صوبہ بلوچستان عرصہ دارز سے دھشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ ان تازہ واقعات سے کچھ ماہ قبل کوئٹہ میں ایک ڈی آئی جی کو شہید کر دیا گیا تھا۔ بلوچستان میں دھشت گردی کی تازہ لہر بلوچستان میں سی پیک کے منصوبوں کی تکمیل دشمن کو ہضم نہیں ہو رہی دشمن برسوں سے اس کوشش میں رہا ہے کہ وہ بلوچستان کے حالات کو خراب کرتا رہے تاکہ بلوچستان کی ترقی میں روکاوٹ ڈال کر وہاں کی عوام کی محرومیوں میں آضافہ کیا جائے اور ایک سازش کے تحت وہاں کی عوام کو محرومیوں کا احساس پیدا کر کے ان کو بغاوت پر اکسایا جائے ۔ بھارت اور عالمی طاقتوں کو بلوچستان کی ترقی سے خوف ہے کہ پاکستان سی پیک کے منصوبے سے ترقی کی منازل بڑی تیزی سے طے کرتے ہوئے دنیا میں مضبوط معیشت بن کر سامنے آجائے گا ۔ بلوچستان میں گودار پورٹ کے لیے سی پیک کا مغربی روٹ  بلوچستان کی عوام میں خوشحالی لائے گا یہ تو ابھی منصوبے کی ابتداء ہے اس کے کئی ثمرات بلوچستان کی عوام کو ملنے ہیں۔ عالمی طاقتیں اس بات کو باخوبی جانتی ہیں کہ بلوچستان کی دھرتی قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے۔ اگر وہاں امن قائم ہو گیا تو پاکستان معدنیات سے مستفید ہو گا۔   جس کی وجہ سے دشمنوں کی نیندیں حرام ہیں۔
          افغانستان میں امریکہ جو کچھ عرصہ تک وہاں سے نکلنے کی کوشش میں تھا ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے تک امریکا کا ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا تھا سوچنے کی بات ہے امریکا کا اچانک فیصلہ کہ افغانستان میں مزید دستے بھجنا چاہتا ہے۔ اتنے عرصے تک خاموش رہنے والے افغانستان میں دوبارہ کیوں رہنا چاہتے ہیں۔ امریکا افغانستان میں بیٹھ کر چین کا راستہ روکنا چاہتا ہے اور سی پیک سے خطے میں آنے والی اقتصادی تبدیلی امریکا بھارت  پر بھی ناگوار گزر رہی ہے سی پیک کے خلاف سازش میں بھارت سب آگے ہے کلبوشن کی گرفتاری سے ساری سازش بے نقاب ہوچکی ہے۔ جو تسلیم کر چکا ہے کہ وہ پاکستان اور سی پیک منصوبے کے خلاف دھشت گردی کا  نیٹ ورک چلارہا تھا بھارت بلوچستان میں آج سے نہیں کئی برسوں سے سازش کرتا چلا آ رہا ہے جس کا واضح ثبوت بھارت کے سرکاری ریڈیو " آل انڈیا ریڈیو " پر 1974 سے بلوچی سروس شروع کی گئی بلوچی زبان میں پروگرام نشر کرنا کا مقصد پراپیگنڈہ  کر کے بلوچستان کے لوگوں کو پاکستان کے خلاف اکسایا جائے جبکہ گزشتہ برس سے بھارت نے پلوچی زبان میں ویب سائٹ اور موبائل ایپ بھی لانچ کیا ہے بھارت جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے تخریب کاری کرنا چاہتا ہے لیکن بلوچستان کی عوام ان سب پراپیگنڈہ کو بھارت کے منہ پر مار چکے ہیں یہ ہی بھارتی سازش کی حصہ ہے کہ بلوچ عوام کو پاکستانی میڈیا سے دور رکھ جائے ان تک معلومات اور اصل حقائق تک ان کی رسائی نہ ہو جس کے نتیجے میں کچھ عرصہ سے بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں اخبارات کی ترسیل شر پسندوں سے ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے بند ہے اور پریس کلب کو تالے لگے ہوئے ہیں صحافیوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں اور اب تک کئی صحافی قتل کیے جا چکے ہیں۔ بات صاف ظاہر ہے جب مقامی میڈیا نہیں ہوگا تو لوگ معلومات کی غرض سے کوئی نہ کوئی میڈیم ضرور استعمال کریں گے ۔ اس لئے بھارت بلوچی زبان میں ریڈیو سروس اور بلوچی ایپ کا استعمال معلومات اور انٹرٹینمنٹ کے لیے ہو رہا ہے بلوچی ویب کے حوالے سے گزشتہ سال دفتر خارجہ نے بیان جاری کیا تھا بھارت ایسا کشمیر کے مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لئے کر رہا ہے
       اگر حکومت چاہے تو ریڈیو سروس کی فرنکونیسی کو بلاک کر کے ٹیکنیکل طریقہ سے اس میں شور ڈال سکتی ہے جبکہ ویب اور ایپ کو بھی بلاک کیا جا سکتا ہے اور  بھارتی پراپبگنڈہ کے جواب دینے کے لیے حکومت کی سرپرستی میں بلوچستان میں ایف ایم ریڈیو چینل شروع کر کیے
      بھارت ہی غیر ملک بیٹھے چند علحیدگی پسندوں کی سپورٹ کر رہا ہے۔ جنیوا اور لندن میں اشتہاری مہیم کے لیے ان لوگوں کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے ۔ اتنی مہنگی تشہر کے لیے صاف ظاہر پیسہ ملک دشمن ایجنسوں نے دیا ہے جن میں سر فہرست " را " ہے۔ گزشتہ دو تین سالوں کے اندر جنیوا میں ہونے والے چند چند افراد کے احتجاج میں سے اکثریت پناہ گزینوں کی تھی جن کا تعلق عراق شام اور دیگر ایسے علاقوں سے تھا جن کو باقاعدہ دیہاڑی پر لایا گیا تھا کرائے کے احتجاج نہ تو بلوچی زبان سمجھتے تھے اور نہ ہی اردو بلکہ یہ کیسے بلوچ لوگ تھے جو عربی زبان میں بات کرتے تھے صاف ظاہر ان کو کرائے پر لایا گیا تھا۔
  بھارت مسئلہ کشمیر سے عالمی توجہ ہٹانے کے لئے بلوچستان کا سہارا لے رہا ہے ۔ بھارت ہی مغربی سرحد پر افغانستان کے ساتھ مل کر حالات کشیدہ کر رہا ہے۔ بھارت کو موت اس لیے آ رہی ہے کہ پاکستان میں سی پیک سے تبدیلی آئے گی چین کو رہداری ملنے سے دنیا کی منڈیوں میں بھارتی مال کی جگہ چینی مال آ جائے گا ۔ بھارت کے پاس پہلے ہی خریدار کم اور منڈیاں ہیں ۔ افغانستان اور ایران کی منڈی بھی راہداری منصوبے کی وجہ سے جانے والی ہے ۔ بنگلہ دیش اور سری لنکا اس کے ہاتھ سے پہلے جا چکے ہیں وہاں بھی چینی مال نے جگہ لے لی ہے۔ بھارت کو کہیں سے تجارت کے لیے راستہ ہی نہیں مل رہا۔ بھارت جنگی جنون اور پاکستان سے میں اپنی عوام کی فلاح بہبود بھول گیا ہے اس کی اپنی عوام 70 فیصد سے زیادہ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اتنی تعداد میں لوگ ٹوئلیٹ سے محروم ہیں بچے بھوک سے مر رہے ہیں کئی ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں زور پکڑ چکی ہیں لیکن مودی احمق کو کون بتائے کہ بلوچستان کے خوب تو در کنارہ اس کے بارے سوچنا بھی بھول جائے کیونکہ بلوچستان کے غیور اور غیرت مند بلوچ پاکستانی ہیں اور محب وطن ہیں
     یہاں تذکرہ انسانی سمگلنگ کا کرنا چاہوں گا چال باز اور پیسے کے لالچی لوگ مصوم پاکستانی کو روشن مستقبل کے جھوٹے خواب دیکھا کر ورغلا لیتے ہیں ان سمگلروں میں دہشت گرد اور جرائم پیشہ لوگ شامل ہو چکے ہیں وہ ان مصوم لوگوں کو لے جا کر اغوا کاروں کے ہاتھوں فروخت کر دیتے ہیں اور ان ہی لوگوں کے سامان میں منشیات بھی رکھ دیتے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے نکل گئے تو ان کو کروڑوں کا فائدہ ہو گا اگر پکڑے جائیں گے تو یہ لوگ ، گولی کا نشانہ بھی یہی بنیں گے۔ تربت واقعہ کی مکمل تحقیق ہونی چاہیے ان سمگلروں نے ضرور ان افراد کو دھشت گردوں کے ہاتھوں فروخت کیا ہوگا۔ دھشت گردوں کا ان افراد کو مارنے کا مقصد لسانی اور قومیت کی بیناد پر پھوٹ ڈالنا ہے کہ پنجابی اور بلوچ کا جھگڑا شروع ہو جائے اور ہمارے بھولے فیس بک اور سوشل میڈیا کے دانش ور لوگ اس پر بار بار تبصرہ کررہے ہیں کہ وہ مصوم پنجابی تھے ان کا تعلق پنجاب سے تھا بھائی یہ کیوں نہیں کہتے وہ پاکستانی تھے اور یہ حملہ پاکستان پر ہوا ہے۔ ہمیں متحد ہو کر بھارت کی ہر سازش کو ناکام بنانا ہوگا۔ پاکستان کے کسی بھی علاقے کے باشندے کو نقصان پہنچے تو وہ اس علاقے ذات پات اور کسی خاص زبان کا نقصان نہیں بلکہ یہ پوری قوم کا اور پاکستان کا نقصان ہے

Thursday, 23 November 2017

فیدل کاسترو ایک عظیم انقلابی لیڈر

تحریر :عبدالجبار خان دریشک 
 قوم کو جرت مند طاقتواربنانے اور متحدہ کر نے میں قومی لیڈر کا بہت بڑا کردار شامل ہوتا ہے جب لیڈر کسی ظالم طاقتوار کے سامنے ڈٹ جائے تو پھر قوم چاہے جتنی ہی کمز ور کیوں نا ہو اس کے حوصلوں کو ایک توانائی مل جا تی ہے اور جب قوم کے لیڈر اپنے مفاد کی خاطر قومی مفادات کا جنازہ نکالتے ہیں اور اپنے عہدے کو بچانے کے لئے کسی طاقتوار کے سامنے سرجھکا کر ان ہاں میں ہاں ملاتے ہیں تو قوم میں مایوسی جنم لیتی ہے اور وہ ملک و قوم کی تباہی کا سبب بنتا ہے لیکن ایسا لیڈر جو بہادر ہو دشمن کی سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کر نے وا لا ہو اور قوم کے ساتھ مخلص ہو اپنے ذاتی مفاد کو پس پشت ڈال کر سب سے پہلے اپنی قوم کے با رے میں سوچتا ہو تو قوم بھی ہر وقت اس کے ساتھ کھڑی ہو تی ہے چاہے جیسے بھی حالات ہوں ایسے ہی ایک اعظیم لیڈر جو امریکاکو ناکوں چنے چبواتا رہا جس کا ملک دنیا کے نقشے پر ایک چھوٹا سا ملک کیوبا ہے اسی ملک کا بہادرانقلابی لیڈر فیدل کا ستروجس کا انتقال گزشتہ برس 25نومبر 2016 کو 90 سال کی عمر میں طو یل علالت کے بعد ہوا 
    فیدل کاسترو انقلابیوں کے اس قبیلے کے آخری چشم و چراغ تھا جنہوں نے بیسویں صدی میں کمیونزم کا علم اٹھا کر سرمایا دارانہ نظام کو چیلنج کیا۔ فیدل کاسترو اس سلسلے کی آخری کڑی تھے تاہم انہوں نے کیوبا میں کمیونسٹ انقلاب کو اب تک کامیابی سے سنبھالے رکھا- ان کی موت سے نظریاتی جدوجہد کے ایک عہد کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔ کیوبا امریکا سے 90کلو میٹر سمندری دوری کے راستے پرواقعہ ہے جس کی کل آبا دی سوا کروڑ زیادہ ہے فیدل کاسترو کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے وہ طویل عرصے تک دنیا کے کسی ملک سربراہ رہے ہیں کاسترو ایک امیر گھرانے میں پیدا ہوا‘ زندگی کی ہر قسم کی آسائش اس کو میسر تھی پر ملک کی حالت بہت ابتر تھی۔ جب کیوبا کو سپین سے اٹھارویں صدی میں آزادی ملی تھی لیکن کیوبا کو آزادی کے بعد کوئی ایسی قیادت نہ مل سکی جو عوام اور ملک کے حالات میں سدھر لے آئے۔ فیدل کاسترو جب جوان ہو ا تو وہی خراب صورت حال ہر طرف بھوک افلاس بدامنی عدم مساوات جرائم منشیات یہ سب کچھ عام تھا جس کی وجہ سے کیوبا کی عوام ایک المناک زندگی بسر کر رہی تھی کاسترو نے قوم کو بچانے کی ٹھا ن لی اور ایک انقلابی گروہ تشکیل دیااور ایک قریبی علاقے کے پہاڑوں میں بڑے پیما نے پر منصوبہ بندی کر بتیسا حکومت کا تختہ الٹ دیا بتیسا کی حکومت ایک امریکا نواز حکومت تھی جب کاسترو اپنی جدو جہد میں کامیا بی پر ہوانا میں داخل ہوا تو دس لاکھ لوگ سڑکوں پر اس کی جھلک دیکھنے کے لئے انتظار میں کھڑے تھے جب کاسترو نے وہاں خطاب شروع کیا تو اس پہلے فاختہ چھوڑی گئیں تو ایک فاختہ کاسترو کے کندھے پر آن بیٹھی جو ایک یاد گا لمحہ تھا ۔انقلاب کے بعد امریکانے کیوبا پر تجارتی پا بندیاں لگا دیں۔ کاسترو نے اس کے جواب میں سوویت یونین سے ہمدردیاں حاصل کرنا شروع کر دیں اس پر امریکاکو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ ایک کمزور اور چھوٹا سا ملک جو اس کی بجائے اس کے بڑے دشمن پر انحصار کر رہا ہے جس پر امر یکانے کیوبا کو سردجنگ کا میدان بنا دیا امریکا نے 1961 کو کاسترو کو اقتدار سے ہٹانے کی سر جوڑ کوشش کی جس کی خاطر غیر فوجی دستوں کو امریکہ میں تربیت بھی فراہم کر تا رہا لیکن کاسترو نے اسازش کو مکمل طور پر نا کا م بنا دیا اور اس کے فوجیوں نے ان باغیوں کو بڑی تعدا د میں ہلاک کیا ۔
    1962 میں امر یکا نے اس بات کا پتہ لگا لیا کہ سوویت یونین (روس) کے میزائل کیوبا میں خفیہ طور پر نصب ہو چکے ہیں جس کے جواب میں امر یکا نے ترکی میں اپنے میزائل نصب کر کے سوویت یو نین (روس) کو جواب دیا سوویت یو نین (روس) نے کیوبا پر پیسے کی بارش جاری رکھی وہاں پر بڑی سرمایہ کاری کے ذریعے زراعت کو ترقی دی چینی بنا نے کے کارخانے لگا ئے اور کارخانوں کی پیداوار کو خود خرید کر کیوبا کے معاشی حا لا ت کو بہتر کیا کاسترو نے سوویت یو نین پر انحصار کے ساتھ اپنے تعلقات دوسرے ممالک کے ساتھ مضبوط کیے اور اپنے اتحادی بنائے 1980میں جب عالمی منظر نام تبدیل ہوتا ہے اور سوویت یونین پاش پا ش ہوتی ہے تو جس پر امریکا اور روس میں ایک خفیہ معاہدہ طے پایا جاتا ہے جس کے مطابق امر یکانے ترکی سے اور روس نے کیوبا سے اپنے اپنے میزائل ہٹا لیے اور روس نے کیوبا سے معاشی ہاتھ پیچھے کھنچ لیا جس کی وجہ سے کیوبا کی عوام کی حالات بھوک کی زندگی میں دوبارہ داخل ہوگئی۔ اکثریت عوام نے کیوبا سے ہجرت شروع کردی اور امریکا کی ریاست فلورایڈا میں جا نے لگے کاسترو نے ان بحرانو ں کا مقابلہ جواں مردی سے کیا عوام کی بہتری کے منصوبے بنا ئے جس میں خاص طور پر صحت اور تعلیم کے نمایاں کام تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کاسترو نے ایک مرتبہ پھر کیوبا کو مضبوط کر لیا۔
     فیدل کاسترو امریکہ کے دشمنوں کی فہر ست میں اول نمبر پر تھا۔ امر یکا نے کاسترو کو 634 مرتبہ مارنے کی کوشش کی کافیدل کاسترو سنگار پینے کا شوقین تھا اس کے سنگار میں زہر شامل کیا گیالیکن وہ وہاں سے بچ گیا ۔سوئمنگ پول میں کرنٹ چھوڑا گیا اس کی محبوبہ کو مارنے کا ٹاسک دیا گیا لیکن وہ امر یکا کی ہر سا ز سے بچنے میں کا میا ب رہا امریکی سابق سفارتکار کے مطابق امریکا کی حکومت فیدل کاسترو کی حکومت کے خاتمے کے لئے ایسے پاگل رہی جیسے کوئی بھیڑیا پورے چاند کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ کاسترو بہت بہادر تھا۔ ایک مر تبہ فید ل کا سترو سے کسی نے سوال کیا آپ بلٹ پروف جیکٹ کیوں نہیں پہنتے ؟ تو کاسترو نے جواب دیا میں نے اخلاقی جیکٹ پہن رکھی ہے امریکاجیسا سپر پاور اکیلے فیدل کاسترو کونہ مار سکا اور نہ ہی کاسترو کے اقتدار کا تختہ الٹ سکا فیدل کاسترو کو اقتدار سے معزول کرنے کے خواب میں امریکا کے اپنے دس صدور اس عرصہ کے دوران تبدیل ہو گئے جن میں ڈیوڈ ڈی ‘ کینڈی‘بی جوبانس‘ رچیڑڈ ایم نیکسی ‘آرفورڈ‘جمی کاٹر‘رونالنڈریگن‘بش اول‘ کلنٹن ‘بش جو ئینر جبکہ آخر میں ابامہ بھی ۔فیدل کاسترو نے ہمیشہ امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال مقابلہ کیا تو ساتھ ہی عوام کو ہرممکن سہولت فراہم کرتے رہے وہاں کی عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولت مفت حاصل ہیں اس سے بڑی مثال اور کیا ہو گی وہ کبھی بھی علاج کے لیے ملک سے باہر نہیں گئے۔ 
   کیوبا میں عام کام بھی بجلی کی توا نا ئی کے ذریعے کیے جا تے ہیں حتیٰ کہ گھر وں میں کھانا بھی بجلی کے ذریعے پکا یا جا تا ہے اور خاص طور پر اس گھر میں بجلی کے سہولت کے علاوہ گیس کا سلنڈر حکومت کی طر ف سے فراہم کیا جا تا ہے جس گھر میں اگر شوگر کا کوئی مریض ہو۔تاکہ کسی بھی وجہ سے بجلی کی فر اہم معطل ہو تو شوگر کے مریض کے لئے فوری طور پر کھانا پکایا جا سکے اگر گیس کا سلنڈر ختم ہو جائے تو دوبارہ بھر وا کر دینا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے جس کے لئے حکو مت ایک پیسہ بھی نہیں لیتی ہے یہ سہولت گورنمنٹ کی طر ف سے مفت فر اہم کی جا تی ہے فید ل کاسترو میں انسانیت کا جذبہ بہت بلند تھا جب پا کستا ن میں زلزلہ آیا تو کیو با کی حکو مت نے پا کستا ن میں 2700افراد پر مشتمل ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ایک بڑی ٹیم روانہ کی اور تقربیاً 2008 میں پاکستان کے ایک ہزار طلبا ءکو کیوبا میں بغیر کسی فیس واخراجات پر میڈیکل کر ڈگری ایم بی بی ایس کروایا ۔فیدل کاسترو نے مرنے سے پہلے ہدایت کی کہ میری کوئی یاد گار نہ بنائی جائے۔ اس کے علاوہ کیوبا کی پارلیمنٹ نے ایک ایسا بل پاس کیا ہے جس کے مطابق کسی بھی شاہرا یا عمارت کو ان کے نام سے 
منسوب نہیں کیا جائے گا ان کا نام تشہر میں بھی استعمال نہیں کیا جائے گا۔یہ ہوتے ہیں لیڈ ر جو ہمیشہ اپنی عوام کے دلوں میں زندہ رہے ہیں 

کالم نگار عبدالجبار خان دریشک ایم ایس ماس کمیونیکیشن ایل ایل بی تحصیل و ضلع راجن پور

انتباہ..تحریر کاپی کرنا خلاف قانون ہے..

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...