Monday, 16 July 2018

او آئی سی کا ہنگامی اجلاس

فلسطین تازہ صورت حال پر  او آئی سی کا ہنگامی اجلاس

تحریر عبدالجبار خان دریشک

ماہ رمضان کے بابرکت مہینے کے شروع ہونے سے قبل 14 مئی کو فلسطینی مسلمانوں پر ظالم کے پہاڑ ڈھائے گئے، مصوم فلسطینی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ، 14 مئی کو جب پروشیلم میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی کی جارہی تھی تو اس منتقلی کے خلاف فلسطینی مسلمان غزہ کے کنارے ہرازروں کی تعداد میں پر امن احتجاج کر رہے تھے ، جن پر اسرائیلی فوج نے بے تحاشہ فائرنگ کی اور ڈروان کے ذریعے آنسو گیس کے گولے فائر کیے ، اسرائیل کی اس بربریت کے نتیجے میں 60 فلسطینی شہید ہوئے جن میں سے اکثریت کم عمر بچوں کی تھی جن میں سے کئی ایک شیرخوار بھی شامل تھے جو اپنی ماؤں کے ساتھ اس پر امن احتجاج میں شریک تھے۔ اس ظلم پر  اقوام عالم کی خاموشی کے علاوہ ٹرمپ کی بھی منافقت اپنی جگہ قائم ہے ٹرمپ کے فیصلے کی وجہ سے مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے امریکی حکومت نے اپنا سفارت خانہ تل ایب سے یروشیلم منتقل کرنے کا فیصلہ 1995 میں کرلیا تھا لیکن اس پر کسی بھی امریکی صدر نے عمل درآمد نہ کروایا ، لیکن ٹرمپ نے آتے ہی اس سفارت خانے کی منتقلی کا اعلان کردیا تھا جس پر اب 14 مئی کو عمل درآمد بھی ہوچکا ہے جوکہ اقوام متحدہ  کی قراردادوں اور سلامتی کونسل کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ تو دوسری طرف ٹرمپ ماہ رمضان کی آمد پر مسلمانوں کو پیغام میں نیک تمنائیوں کا اظہار کر رہا ہے، جو ٹرمپ کی دوغلی اور منافقت پر مبنی پالیسی ہے 

  امریکی سفارت خانے کو یروشیلم منتقل کرنے  کے ردعمل میں ترکی نے  سخت موقف کا اظہار کیا ، اور صدر رجب طیب ایردوآن نے اسرائیل سے اپنے سفارت کار واپس بلا لیے اور اسرائیل کے سفارت کاروں کو ترکی سے چلے جانے کے احکامات جاری کردیا ، غزہ میں اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں ساٹھ سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان ٹوئٹر پر سخت الزامات اور الفاظ کا تبادلہ جاری رہا ۔  ترک صدر ایردوآن نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ اسرائیل نے جو کچھ کیا ہے، وہ نسل کُشی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ترک صدر کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا، ایردوآن حماس کے ایک بڑے حامی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دہشت گردی اور قتل و غارت میں مہارت رکھتے ہیں۔رجب ایردوآن غزہ کے حوالے سے اسرائیلی پالیسیوں  کے بڑے ناقدین میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اس تازہ صورت حال پر اسلامی تعاون کی تنظیم یعنی او آئی سی کا  ہنگامی اجلاس بلایا ،  جس میں دنیا کو غزہ کے حوالے سے ایک طاقتور پیغام دینا  تھا ۔

ماہ رمضان کے پہلے جمعہ کے دن او آئی سی کا ہنگامی اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں طلب کیا گیا اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے اجلاس میں مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارلحکومت تسلیم کرتے ہوئے دنیا کے دیگر ممالک پر بھی ایسا ہی کرنے کے لیے زور دیا ہے ۔ اس تنظیم نے یروشلم کے حوالے سے امریکی فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔  ستاون مسلمان ممالک کی اس تنظیم کے اجلاس میں میزبان ترکی کے علاوہ پچاس ممالک کے مندوب شریک ہوئے۔ بائیس ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ تنظیم کے ہنگامی اجلاس کے اختتام پر 23 نکات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔

پاکستان سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے خصوصی طور پر شرکت کی اور اپنے جاری کردہ بیان میں ان کا کہنا تھا کہ آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کرتے ہیں، فلسطینیوں کے لیے مل کر اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ہوگی جب کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم کی آزادانہ اورشفاف تحقیقات کرائی جائے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی اور اسرائیلی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کی،وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اختلافات بھلا کر او سی کے فورم سے مضبوط موقف دینا ہوگا اور فلسطینیوں کے لیے مل کر اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ہوگی جب کہ سلامتی کونسل فلسطین کے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے  او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں خطاب کرتے کہا کہ فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے جاری رہنے سے عالم اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے امریکہ کی نئی حکومت بھی عالمی امن و صلح اور بین الاقوامی قوانین کے لئے بہت بڑا خطرہ بن گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت فلسطین میں جنگی و بھیانک جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے انسانی عزت اور کرامت کو پامال کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ ، اسلامی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرکے اسرائیل کو خطے میں مضبوط اور طاقتور بنانا چاہتا ہے لیکن اسلامی ممالک  باہمی اتحاد کے ذریعہ اسرائیل کا بھر پور مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور مسلم ممالک آپسی اتحاد اور یکجہتی کے ذریعہ اسرائیل کی سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ امریکہ اسرائیل کو گرین سگنل دے کر فلسطینیوں کے مصائب ومشکلات میں اضافہ کررہا ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کو عالمی امن خاص طور سے علاقے کی سلامتی کے لئے سنجیدہ خطرہ قراردیتے ہوئے کہا کہ ایران نے بارہا علاقے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی تجاویزدی ہیں اور یہ تجاویز اسلامی ملکوں کے اقدامات میں سر فہرست قرارپانی چاہئیے۔ صدر حسن روحانی نے اسلامی ممالک سےمطالبہ کیا کہ وہ  اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرکےاس کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کریں۔ اور اسرائیل کی بے جا حمایت کرنے کے سلسلے میں امریکہ کے خلاف بھی عملی اقدام عمل میں لائیں۔

اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ کی اکثر شقوں میں فلسطینیوں کی ہر فورم پر مکمل حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یروشلم کے معاملے کے حل کے لیے کوئی قدم نہ اٹھایا تو رکن ممالک اس معاملے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لے کر جائیں گے۔

جبکہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں شرکت تو نہ کی لیکن مصر نے غزہ کے ساتھ رفح نامی سرحدی گزرگاہ کو رمضان کے مہینے کے پیش نظر  دوبارہ کھول دیا ہے تاکہ اس اسلامی مہینے کے دوران غزہ کے پٹی کے عوام کی روزمرہ تکالیف میں کمی کی جا سکے اور انہیں مناسب مقدار میں خوراک بھی مہیا ہو سکے۔ مصر اپنی جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے غزہ پٹی اور اسرائیل دونوں کا ہمسایہ بھی ہے اور 1979ء میں مصر نے اسرائیل کے ساتھ ایک باقاعدہ امن معاہدہ بھی طے کر چکا ہے جس کے پیش نظر مصر نے اپنی سرحد بند رکھی ہوتی ہے

عالمی سطح پر او آئی سی کے ہنگامی اجلاس کو مسئلہ فلسطین کے لیے اہم سمجھا جارہا ہے، او آئی سی اسلامی دنیا کو پیش آنے والے مسا ئل پر زیادہ فعال تو نظر نہیں آتی تاہم فلسطین کی حالیہ صورت حال پر کم از کم تمام رکن ممالک میں سے اکثر نے کھل کر اظہار خیال کیا  تاہم یروشلم کے معاملے پر اس تنظیم کا اصل امتحان یہ ہو گا کہ وہ یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اپنے فیصلے پر دنیا کے مزید کتنے ممالک کی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔

فلسطین کی موجودہ صورت حال پر سعودی عرب نے کھل کر مذمت بھی کی تھی جبکہ عرب لیگ کا اجلاس بلانے کا بھی کہا تھا لیکن او آئی سی کے اجلاس میں سعودی عرب کا شرکت نہ کرنا عجیب محسوس ہوتا ہے جبکہ کچھ عرصہ قبل ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان نے اسرائیل کے حوالے  متنازعہ بیان بھی دے چکے ہیں ساتھ ہی سعودی عرب نے بھارت اور اسرائیل کے درمیان براہ راست پروازوں کے لیے  اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی بھی اجازت دے چکا ہے اور اسی طرح او آئی سی کے اجلاس میں فلسطین کے پڑوسی اسلامی ملک مصر کے سربراہ نے بھی اجلاس میں شرکت نہیں کی ، اس کی وجہ بھی اسرائیل اور مصر کے درمیان 1979ء کا امن معاہدہ ہو سکتا ہے ان دونوں اہم ممالک  کی عدم حاضری کے سبب اس تنظیم میں شامل ممالک کے آپس میں تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بجلی بحران کا خاتمہ اندرونی احتساب سے ممکن ہے

تحریر عبدالجبار خان دریشک

زندگی کا پہیہ اب تو بجلی کے کرنٹ سے ہی چلتا ہے بجلی کا کرنٹ بند ہوتے ہی ایسے لگتا ہے بس سانس رک گئی ہے نہ قدم آگے جا سکتے ہیں نہ پیچھے کو مڑ سکتے ہیں۔ بس ادھر بجلی کی تاروں میں کرنٹ دوڑا نہیں تو جسم میں ایسے محسوس ہوتا ہے یہ کرنٹ تاروں کی بجائے خون کی نالیوں میں گردش کررہا ہے، اس کے آتے ہی جان میں جان آجاتی ہے پھر لگتا کہ اب ہم زندہ ہیں۔ لیکن کیا کریں یہ جان اب دن میں کئی مرتبہ نکالی جاتی اور کئی کئی گھنٹے بجلی کی روح جسم سے جدا رہتی ہے۔ حکمرانوں کے وعدے بس فیس بک والی گرل فرینڈ جیسے ہوتے ہیں، جو کبھی سچ نہیں بولتی ، اور حکمران بھی بس امیدوں ، اور تسلیوں پر ٹرغاتے رہتے ہیں۔  ملک میں سخت سردی ہو یا سخت گرمی لوڈشیڈنگ کا کوئی موسم نہیں ، اب کے سال گرمیاں اپنی عروج جا چکی ہیں ، گرمی میں جہاں ہر انسان کا برا حال ہے وہیں اس بجلی کے بحران کا کوئی مستقل حل نہیں نکالا گیا ، موجود حکومت نے آتے ہی بجلی کے بحران کے خاتمے کے اعلان ، وعدے ، قسیمیں ، اور تسلیاں دے عوام کو صبر کا روزا رکھوا دیا اب اقتدار کا سورج غروب ہونے والا ہے لیکن بجلی کا روزا طویل ہو چکا ہے جس کے افطار کا وقت دور دور تک دکھائی نہیں دیتا ، 2018 کو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا سال کہا گیا تھا لیکن 2018 بھی آگیا نہیں آئی تو بجلی پوری ۔

گزشتہ دونوں کراچی میں کے الیکٹرک کے خلاف شدید احتجاج ہوتا رہا، کراچی میں لوڈشیڈنگ کے ستائے لوگ سٹرکوں پر نکل آئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی کا دورہ کیا کے الیکٹرک کو بجلی کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی ، وہاں انہوں نے ایک بیان دیا جہاں لوڈشیڈنگ زیادہ  وہاں ہے جہاں بجلی چوری زیادہ ہے، ان کے کہنے کا مقصد ہے بجلی چوری جہاں زیادہ ہوگی وہاں بجلی بھی کم دی جائے گی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بجلی چوری کو عام آدمی نے تو نہیں روکنا اسے ادارے نے کنٹرول کرنا ہے، اس میں محکمہ کے اہلکاروں کی نااہلی یا ملی بھگت شامل ہو تو قصور وار عوام تو نہیں ، اور یہ کتنی بے بسی والی بات ہے کہ چور پکڑنے کی بجائے بجلی کی فراہمی کو معطل رکھا جائے۔ آپ نے بجلی چوری کرنے پر بھاری جرمانے سخت سزائیں تو بنا دی ، لیکن بجلی چوری کی روک تھام اور چور پکڑنے کے لیے کیا نظام تیار کیا ہے، جب 24 گھنٹے میں سے 8 سے 12 گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے ، اور اس حساب سے مہینے بھر میں 18  دن بجلی رہتی ہے لیکن دوسری طرف محکہ صارف سے مہینے بھر کے فیکسڈ چارجز وصول کرتا ہے پھر تو عوام بھی کہے دے جتنی بجلی اتنے پیسے ، اب ہر ماہ بجلی پر سرچارج ، فیکسڈ لائین چارجز، پی ٹی وی فیس ، سب وصول کیا جاتا ہے حتی کہ ایک دن لیٹ بل جمع کروایا جائے اس پر جرمانہ بھی پورا وصول کیا جاتا ہے ، جب کہ یہی جرمانہ ترقی یافتہ ممالک میں جمع کر کے تمام صارفین کو رعایت دینے کی مد میں ان بلوں میں جمع کر دی جاتی ہے جو تمام صارفین میں برابر تقسیم کردی جاتی ہے

بجلی چوری کی روک تھام میں نااہلی محکہ کے ان لوگوں کی ہے جو اصلی بجلی چوروں پر ہاتھ ڈالنے کی بجائے بچارے عام غریب آدمی پر چوری کی ایف آئی آر درج کرواتے ہیں۔ واپڈ کے گریڈ اسٹیشن سے نکلنے  والی لائین کے ساتھ سمارٹ میٹر نصب ہوتا ہے جس میں سے گزارنے والی بجلی کی ریڈنگ ہوتی ہے اور اسی بنیاد محکمہ کو حساب دینا ہوتا ہے لائین لاسسز کی مد میں بھی مخصوص ماہانہ کوٹہ مختص ہوتا ہے، شیڈول سے ہٹ کر لوڈشیڈنگ میں محکمہ کے اہلکاروں نے اپنے یونٹ پورے کرنے کے لیے خود ساختہ بحران پیدا کرتے ہیں ہر گریڈ سے باہر جاتی لائین پر کچھ فاصلے پر جا کر ایک بریکر لگا دیا جاتا اور یہ لوگ اسی جگہ سے سپلائی معطل کر دیتے ہیں اور اسی طرح گریڈ میں لگے سمارٹ میٹرکو پتہ نہیں چلتا آگے بجلی بند ہے یا چل رہی ہے اور ایسا کرنے والے اہلکار سمارٹ میٹر سے زیادہ سمارٹ ہیں ۔ یہ اہلکار اپنے یونٹ بچانے کے لیے عوام کو لوڈشیدنگ کے عذاب میں مبتلا کرتے ہیں

اب یہ ایسا کیوں کرتے ہیں جس کی بنیادی وجہ چوری ہے آج کل سختی زیادہ ہوجانے کی وجہ سے عام آدمی بجلی چوری نہیں کر سکتا ، بجلی چوری ہمیشہ بااثر افراد کرتے ہیں یا پھر محکمہ کی کالی بھیڑیں چوری  جرم میں حصہ ہوتی ہیں ، محکمہ کے ایسے کرپٹ لوگ باقاعدہ بجلی چوروں سے منتھلیاں وصول کرتے ہیں پہلے یہ لوگ میڑ ریڈنگ میں کرپشن کر کے عام آدمی پر چوری شدہ یونیٹوں کا عذاب ڈالتے تھے پر جب سے تصویر والی ریڈنگ شروع ہوئی ہوئی ان کی حرام کی کمائی بند ہوئی تو یہ لوگ فیک میٹرز لگا کر چوری کروانے لگے۔

اب مال پانی بنانے کے یہ کرپٹ عناصر غریب اور عام آدمی پر ایف آئی آر درج کروا ریے ہیں یہ ایف آئی آر کسی جگہ بقیہ جات کی وصولی میں تو کسی جگہ کار سرکار میں مداخلت ، یہ لوگوں کو ڈرانے دھماکنے غرض سے جھوٹی ایف آئی آر دوج کروا ان سے اچھا خاصہ مال بٹورتے ہیں ۔ کچھ دن قبل ملتان کے ایک لائین سپریڈنٹ کے بارے خبر شائع ہوئی کہ اس وہ کروڑوں کی جائیداد کا مالک ہے جس نے یہ جائیداد کرپشن کر کے بنائی ہے ، یہ تو صرف ملتان کے ایک اہلکار کی خبر ہے جنوبی پنجاب میں تقریباً اکثریت ہی اس جیسے کروڑوں کی جائیداد رکھنے والے بجلی محکمہ کے اہلکار موجود ہیں ، جنوبی پنجاب کے تقریباً تمام اضلاع میں عرصہ دارز سے تعینات اہلکار بڑی مقدار میں بحلی چوری کروا کر کرڑوں کما رہے ہیں، جبکہ غیر قانونی کمرشل کنکشن لگا کر مختلف جگہوں پر فیکٹریاں اور آٹا چکیاں لگائی ہوئی ہیں جن میں سے کہیں حصہ داری ہے یا کہیں منتھلی ،ڈیرہ غازی ڈویژن میں چلنے والی آٹا چکیوں میں سے 80 فیصد کے مالک یہی واپڈ اہکار ہیں اور کچھ ایسی ہی صورت حال راجن پور میں بھی یہاں بھی ایک ایک اہلکار 5 سے زیادہ آٹا چکیوں کے چھپے ہوئے حصہ دار ہیں

ملک میں بجلی بحران کے سے کہا جاتا ہے کہ طلب اور رسد کبھی برابر ہے تو کبھی تھوڑا سا فرق ہے جو چند دن میں پورا ہو جائے گی، ملک میں بجلی پوری ہے اور موجودہ  پیداوار کو پورا کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے محکمہ کے اندر موجود کالی بھٹروں کا احتساب کرنا ضروری ہے ، لائین سپریڈینٹ سے لے ایک ڈویژن میں بیٹھے چیف انجیئنر تک کا احتساب کیا جائے ،  ایک ہی جگہ عرصہ دراز سے تعینات اہلکار جو محکمہ کو اپنی جاگیر سمجھتے دراصل محکمہ کی نیک نامی خراب کرنے والے بھی یہی لوگ ہیں ، ان سب کے  کی جائیدادوں  نیب کے ذریعے چھان بین کروائی جائے تو ان میں اکثریت کروڑ پتی نکلے گی۔ اور ان سے جواب طلب کیاجائے کہ اتنی دولت کیسے کما لی ذرائع آمدن بتائیں ۔ یہ لوگ چند سالوں اتنے امیر کیسے ہوگئے اور سب سے پہلے احتساب کا عمل جنوبی پنجاب کے اضلاع میں سے راجن پور اور ڈیرہ غازی خان سے شروع کیا جائے اور وفاقی وزیر پانی وبجلی کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے اور پتہ چلے کہ چراغ تلے کتنا اندھیر ہے

ان چہروں کو دیکھ کر ووٹ دیں

ان چہروں کو دیکھ کر ووٹ دیں

تحریر عبدالجبار خان دریشک

آپ سب کو 25 جولائی کا بڑی بتیابی سے انتظار ہوگا ، اس
دن آپ اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے اپنا ووٹ اپنے پسندیدہ نمائندئے کو دیں گے ، آپ کو ریاست نے یہ حق دے رکھا ہے کہ آپ اپنی رائے قائم کرتے ہوئے اپنی مرضی کا لیڈر منتخب کر سکیں ، آپ جب بازار سے کوئی سودا خریدنے جاتے ہیں تو اس کو پرکھ کر خریدتے ہیں کہ آیا یہ اصلی ہے یا نقلی ، پائیدار بھی ہے یا نہیں، اگر جلدی خراب ہو گیا تو پیسے ضائع ، اور دوبارہ خریدنے کے لیے بھی وقت لگے گا تو ایک ہی بار اچھا سودا نہ لے لیا جائے ایسا جعلی اور دونمبر سودا کیوں لیں جس کو بار بار استعمال کرتے آئے ہیں اور ہر بار ذغا دے جاتا ہے تو ووٹ بھی کسی پائیدار سودے کو دیں

جو بار بار آزمایا جا چکا ہو اس مرتبہ بھی ایسے سے ذغا ضرور کھانا ہے جعلی کمپنوں ایک فراڈ بار بار کرنے کے لیے اپنے پروڈکیٹ کی پیکنگ تبدیل کردیتی ہیں ، یعنی دونمبر، غیر معیاری چیز کو نئے رنگ ڈبے میں پیچنا شروع کردیتی ہے ہم پھر ذغا کھا جاتے ہیں کہ اس کی پیکنگ تو نئی ہے میرے بھائی پیکنگ کا کاغذ کسی کام کا نہیں ہوتا اسے ہم عموماً کوڑا دان میں پھنکے دیتے ہیں ہم نے تو وہ پروڈکیٹ استعمال کرنا ہے جو اس نئی پیکنگ میں بھی جعلی ہے

آپ 25 جولائی کو ہزگز گھر نہ بیٹھیں اور اپنا قومی فریضہ ادا کرتے ہوئے اپنے ووٹ کی طاقت کو استعمال کریں ، آپ ووٹ دیتے وقت ایک چیز کو مدنظر رکھیں اپنے علاقے کی محرمیوں دیکھیں ، اپنی ذات اور برادری کی بجائے آپ کی توجہ اجتماعی اور قومی نوعیت کے مسائل پر ہونی چاہیے

آپ ووٹ دیتے وقت اپنے بچوں کے مستقبل کا سوچیں ، اگر آپ صاحب حیثیت ہیں اور آپ کے بچے اچھے سکولوں میں پڑھتے ہیں تو زیر نظر تصویر میں ایسے بچوں کے چہروں کی جانب دیکھیں ، جن کی ساری زندگی ایسے مزدوری کرتے ورکشاپس پر کام کرتے اور بکریاں چراتے گزرے گی ، کیا آپ کے نمائندے ایسی اجتماعی سوچ کے حامل ہیں

کیا آپ جن کو ووٹ دے رہے ہیں کیا وہ آپ کی برابری کے ہیں اگر کل کو اس نے علاقائی ترقی میں کردار ادا نہ کیا تو اپ اسے پکڑنے اور اپنے ووٹ کا حساب لینے کی جرت رکھتے ہیں

کیا جب وہ اپنے کے پاس ووٹ لینے آتے ہیں تو آپ ان کی خاطرمدارت بوتل والے پانی ، جوس کے ڈبوں اور فروٹوں سے کرتے ہیں تو کیا اس نے کبھی آپ سے بولا ہے مجھے بھی وہ پانی دیں جو آپ اور آپ کے بچے پیتے ہیں

میرے پاکستانی بھائی اور بہنوں آپ ووٹ کا استعمال ہر صورت میں کریں لیکن خدارہ ایسے جعلی پروڈکیٹ کی پہچان ضرور کریں جو نئی پیکنگ میں دوبارہ بیچا جارہا ہو

اگر ہمارے ووٹ سے کو جعلی دونمبر ووٹ منتخب ہو گیا تو وہ طاقت بن جائے گا پھر مجبوراً آپ کو کھوہ میں گرے کھوتے والا پانی پینا پڑے گا اور کھوتا نکالتے نکالتے آپ کو پانچ سال لگ جائیں گے

جنتر منتر یا جھوٹ اور ڈھونگ

جنتر منتر یا جھوٹ اور ڈھونگ

تحریر عبدالجبار خان دریشک 

جب انسان کی عقل اور سوچ پر دوسروں کا اختیار  چلنے لگے ، تو اس کی ذات پر اس کا نہیں کسی اور کا کنٹرول ہوجاتا ہے ، ایسا تب انسان کے ساتھ ہوتا ہے جب اس میں علم اور شعور کی کمی ہوجائے اس عقل پر پردے پڑ جائیں ، تو وہ خود سے شعور حاصل کرنے کی بجائے دوسروں کا محتاج ہو جاتا ہے ، کبھی کبھی انسان کے ساتھ یوں بھی ہو جاتا ہے وہ لاحاصل کو حاصل کرنے کی جستجو میں لگ جاتا ہے ، ایسے میں وہ لا حاصل کو شعور کے اجالوں میں ڈھونڈنے کی بجائے اس کی اندھریوں میں کھوج لگانا شروع کر دیتا ہے ، وہ اندھیروں میں ایسے پر اسرار راستوں پر چلتے ہوئے بھٹک جاتا کہ واپسی کی لاکھ کوشش بھی کرنا چاہے تو اسے شعور کی روشنی نصیب نہیں ہوتی ، پھر اس تاریکی میں ایسے غرق ہوتا ہے کہ اس کے جسم کو روح تک چھوڑ جاتی ہے وہ اندھیروں سے زندہ اپنے شعور سے واپس نہیں آتا۔

انسان اکثر اپنی خوہشات کی تکمیل ، پریشانیوں سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے بجائے محنت اور صبر کرنے کے ، اس کو حاصل کرنے یا چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے خدا کی ذات کی بجائے ایسے کرداروں کا سہارا تلاش کرتے ہیں جو اس انسان کے مسائل کا حل منٹوں میں دینے کا دعویٰ کرتے ہیں ، لیکن ایسے کردار اپنی بہت ساری خواہشات کے خدا کی ذات مانگ رہے ہوتے ہیں ، یہی لوگ  وہ اندھیرا ہیں جو پریشان حال انسانوں کو سچائی کے اجالے میں نہیں آنے دیتا۔

معاشرے میں ایسے بہت سارے ڈھونگی لوگ نہ تو عامل ہوتے ہیں نہ ہی ان کے پاس کی قسم کی غائب کی قوت ہوتی ہے ، بس ان  کے سارے جھوٹ اور چالیں ان کے پیٹ اندر کی بھوک اور مادی خواہشات کی وجہ ہوتی ہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ آج کے اس جدید دور میں جب انسان کے آدھے کام مشینں انجام دے رہی ہوں ، میڈیکل سائنس نے ترقی کے ہمالیہ عبور کر لئے ہوں پھر بھی انسان ان جنتر منتر پر یقین رکھتا ہے 

یکم جولائی کو بھارت کے شہر دہلی میں ایک ہی خاندان کے گیارہ افراد کی لاشیں برآمد ہونے والا پر اسرار واقعہ اسی نوعیت کے اندھیروں میں رہنے والوں کا ہے ،  ان سب گیارہ مردہ افراد کا تعلق ایک ہی خاندان  براڑی برادری سے تھا ، یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے جس میں ایک ہی گھر کے گیارہ افراد جن کی عمریں 16 سے لے کر 70 سال تک تھیں سب نے اجتماعی طور پر خودکشی کر کے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرلیا۔

ابتدائی طور پر یہ معاملہ میڈیا میں آیا تو ہرسننے والوں کے ساتھ پولیس کے بھی ہوش اڑ گئے کہ ایک ہی ساتھ 11 افراد کیسے خودکشی کر سکتے ہیں ، کیاان افراد کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کا رنگ دیا گیا ہے ، لیکن پولیس نے اپنی تفتیش جاری رکھی ، لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا جن کے جسم پر کسی قسم کے زخم نہ تھے،  اور نہ ہی کوئی مذاحمت محسوس ہوئی ، دہلی پولیس ہر زاویے سے تحقیق کر رہی ہے لیکن واقعہ کے کچھ دن بعد معاملہ پولیس کی سمجھ میں آ رہا ہے کہ اس فیملی کے ساتھ معاملہ نفسیاتی نوعیت کا ہے جن کو جنتر منتر مطلب جادو ٹونے کے لیے قائل کیا گیا

تحقیق سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ اس گھر میں ایک لڑکا للت جو ان مرنے والوں میں شامل تھا اس کے ہاتھ کے لکھے رجسٹر ملے ہیں جن کو وہ 27 مئی 2013 سے بلاناغہ لکھ رہا تھا اور ان رجسٹروں کی تحریریں لگ بھگ 200 صفحات پر مشتمل ہیں ، ان میں سے ایک رجسٹر کے ایک ہی صفحہ میں تفصیل سے تمام باتیں ہندی میں لکھی ہوئی ہیں۔ اس میں لکھا ہوا ہے کہ ’پرماتما میں لین ہورہے ہیں۔ آنکھیں بند کررہے ہیں تاکہ بھاری اور بری چیز کو نہ دیکھ سکیں،

مزید رجسٹر میں لکھا ہے کہ سات دن بعد مسلسل پوجا(ہندو مذہب کی عبادت)  کرنی ہے۔ کوئی گھر میں آ جائے تو آئندہ جمعرات یا اتوار کے دن کو منتخب کریں۔ رجسٹر میں مزید لکھا ہے کہ بیبے(دادی) کھڑی نہیں ہو سکتی توالگ کمرے میں لیٹ سکتی ہیں۔ بیبے شائد اس 70 سالہ بزرگ خاتون کو کہا گیا ہے جس کی لاش الگ کمرے میں سے برآمد کی گئی۔

پولیس یہ بھی تفتیش کررہی ہے کہ متاثرہ خاندان کس گرو کو مانتا تھا۔ آیا کہ اس خاندان کو خودکشی کے لئے اکسایا تو نہیں گیا۔  جس طریقہ سے یہ افراد لٹکے ہوئے تھے اس طریقے کی باتیں رجسٹر میں لکھی ہوئی ہیں۔ پولیس کے مطابق  دونوں رجسٹروں میں موت اور موکش پر ایک کہانی نما لمبی تحریر موجود ہے ، جس میں کسی روحانی گرو کا نام نہیں ہے لیکن موت کے طریقوں پر ایک بڑا حصہ ہے۔

پولیس کو پڑوسیوں اور جاننے والے لوگوں سے یہ پتہ چلا ہے کہ پورا خاندان نہایت مذہبی تھا، ان کے گھر میں ہر دوسرے دن شام کو کیرتن (ان کی مذہبی عبادت) ہوتے تھے۔ گھر کے باہر ہر روز ایک تختی پر شلوک (ان کے مذہبی کلمات)  لکھے جاتے تھے۔ کنبہ کے تمام 11لوگ ہر ورت (ان کی مذہبی عبادت)ساتھ میں کرتے تھے۔ کنبہ کا ایک رکن گزشتہ دو تین برس سے مون ورت( ان کی مذہبی عبادت) پرتھا۔

پولیس سبھی اطلاعات کو یکجا کر کے سائیکالوجیکل آٹوپسی کرانا چاہتی،  میڈیکل سائنس میں سائیکالوجیکل آپٹوسی کی مدد سے مرنے والے کے دماغ کا مطالعہ کیا جاتا ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جاسکے کہ آخر مرنے سے پہلے اس کے برتاؤ میں کس طرح کی تبدیلی آئی تھی۔

للت نے رجسٹر کے نوٹس میں لکھا ہے کہ آخری وقت خواہش جب پوری ہوگی تو آسمان ہلے گا، زمین کانپے گی۔ اس وقت تم ڈرنا نہیں۔ منتروں کو اور بڑھا دینا۔ میں آکر تمہیں اتار لوں گا۔ دوسروں کو بھی اتارنے میں مدد کروں گا۔’ قابل ذکر ہے کہ للت کو خواب میں اس کے والد نظر آتے تھے۔ رجسٹر میں لکھی تمام باتوں کا یہ مطلب نکالا جا رہا ہے کہ یہ میسج للت کو اس کے والد نے دیا اورللت نے خاندان کے دیگر ارکان کو ویسا ہی کرنے کو کہا۔

پولیس کا شک ایک بابا پر  ہےجو جیل میں بند ہے۔ اور اس خاندان کا تعلق اس بابا سے رہا ہے ، یہ معاملہ سارے کا سارا جنتر منتر کا ہے کیونکہ اس واردات میں 11 کے ہندسے کو بہت اہمیت دی گئی ہے اور ملنے والے رجسٹروں میں مختلف جگہوں پر تحریر میں 11 کے ہندسے کا ذکر خاص طور پر کیا گیا ہے ، جیسے گیارہ مردے ، گیارہ پائپ ، گیارہ کھڑکیاں ، اور گیارہ اینگل۔

اب پولیس اس معاملے کی مزید تحقیق کررہی ہے ، جو کس رخ جاتی ہے لیکن بات تقریباً واضع ہو چکی ہے، معاملہ سارا جادو ٹونے اور پراسرار دنیا کی سوچ میں رہنے کی وجہ سے ہوا ہے ،  معاشرے میں اس طرح کے جعلی عامل پیر ڈھونگی بابے بہت ہیں ، خاص کر برضعیر کے باشندے ان پر بہت زیادہ اعتبار کرتے ہوئے ان کا ہر کہنا ماننے کو تیار ہو جاتے ہیں ، جس کی بنیادی وجہ جاہلت اور تعلیم کی کمی ساتھ شعور کی کا فقدان ہے

اکثر واقعات میں گھر کے افراد کی خودکشی کے واقعات گھریلوں جھگڑوں ، مالی پریشانی پر ہوتے ہیں جس میں باپ یا ماں بچوں سمیت خودکشی کر لیتی ہے ، اسی طرح جادو ٹونے والے دوسروں کی جان لے لیتے ہیں ، ایسے واقعات بھی پیش آچکے ہیں جادو کرنے کی خاطر جعلی عامل کے کہنے پر اپنے بچوں تک کو مارنے زندہ قبر میں دفن کرنے کے واقعات ہو چکے ہیں ، پیروں اور عاملوں کی طرف سے تشدد کی وجہ سے اجتماعی طور پر لوگوں کے مرنے کے بھی واقعات ہوئے ہیں ، لیکن دہلی میں رابڑی برادری کاواقعہ اپنی نوعیت انوکھا واقعہ ہے جس میں 11 افراد ایک ساتھ خودکشی کرتے ہیں جن کو کسی قسم کی مالی یا کوئی اور پریشانی نہ تھی

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...