Sunday, 20 May 2018

بھلائی ہمیشہ زندہ رہنے والا عمل ہے

بھلائی ہمیشہ زندہ رہنے والا عمل ہے

تحریر  عبدالجبار خان دریشک

انسان کو اس دنیا میں بھیجنے کا مقصد صرف اس کا اپنی ذات کے لیے زندہ رہنا نہیں بلکہ خلق خدا کے ساتھ بھلائی اور باہمی تعلقات کو استور کرنے علاوہ  پرامن طور پر زندگی گزارنا بھی شامل ہے۔  دنیا میں انسان کو ملنے والی بیش بہا نعمتوں پر اس دینے والی پاک ذات کا شکر بجا لانا بھی انسان پر لازم ہے جس پاک ذات نے ہمیں اپنے بے بہا خزانوں سے نوازا ہے ، ہمیں عقل اور شعور دے کر علم حاصل کرنے اور کچھ سیکھنے کے قابل بنا کر اس کائنات پر غور فکر کرنے کے لیے علم عطاء کیا ہے ، انسان اسی علم کی بنیاد پر کانئات میں کھوج لگاتا گیا اور نئی نئی چیزیں دریافت کر کے دنیا میں انسانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا گیا ، ایک انسان کا دوسرے انسان کے لیے آسانی پیدا کرنا جو سب سے بڑی بھلائی اور نیک عمل ہے۔ 

آسانی صرف یہ نہیں کہ آپ نے کوئی چیز یا آوزار  بنا کر دوسروں کے لیے آسانی پیدا کر رہے ہیں ،  بلکہ کسی کے ساتھ آسانی پیدا کرنا یہ بھی ہے آپ کسی کی مدد کر دیں، آپ کسی کام میں مخلوق خدا کی رہنمائی کردیں جس کے بارے میں آپ  علم رکھتے ہوں ، طاقت اور عہدہ رکھتے ہوں۔

کسی  قوم کے زندہ کہلانے کی سب سے بڑی دلیل یہ سمجھی جاتی ہے کہ اس کے باشندوں کے دل میں انسان سے دوستی اور بھلائی کے بلند ترین جذبات موجود ہوں ۔ جب ہمارا دین اسلام ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کی بار بار تاکید کرتا ہے ، آپ جب ایک دوسرے سے ملتے وقت "اسلام علیکم " اور " وعلیکم سلام" کہتے ہیں تو اس ایک ہی مثال کو لے لیں جس میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے سلامتی کی دعا کرتا ہے ، اسی طرح دین اسلام قدرت رکھنے والے ہر شخص کو خیر کی طرف آنے کی دعوت عام دیتا ہے اور یہ دعوت عام  کسی بھی مالدار ، عہدہ رکھنے والے ، علم والے ، غریب ،مزدور،تاجر،زمیندار، شاگرد، استاد، عورت، مرد، بوڑھا،اندھا،کمزور یہ سبھی نیکی کا کام کر سکتے ہیں۔  مال دولت معاشرے میں نیکی اور بھلائی کے کام کرنے میں اسکے لیے رکاوٹ نہیں بنتے کہ اسلام میں ایسا کوئی انسان نہیں پایا جاتا جو کسی نہ کسی طریقے سے بھلائی کا کام نہ کر سکتا ہو۔

حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نیکی کیا ہے ’’نیکی صرف مال ہی خرچ کرنے کا نام نہیں بلکہ ہر وہ کام بھلائی کا کام اور صدقہ ہے جس سے انسانوں کو فائدہ پہنچے‘‘۔نبی کریم  ﷺکی یہ حدیث کہ ’’ تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو‘‘۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم جو ایک دفعہ اللہ کی تسبیح کرتے ہو یہ بھی صدقہ ہے کسی بھلائی کا حکم دینا بھی صدقہ ہے ،برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے،راستے سے کانٹے وغیرہ تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔دو آدمیوں میں صلح کرا دینا بھی صدقہ ہے اور اگر تم کسی شخص کو اسکی سواری پہ چڑھنے میں مدد دو تاکہ و ہ سہولت سے چڑھ جائے تو یہ بھی صدقہ ہے (بخاری و مسلم)

جب ہم معاشرے میں ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں تو اللہ پاک ہمارے لیے خیر کے دروازے کھول دیتا ہے اور  اللہ پاک ہمیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھتا ہے ، اور انہیں رحمتوں کا نتیجہ ہوتا ہے کہ اللہ پاک ہمیں معاشرے میں اعلی منصب اور عہدے بھی عطاء فرماتا کہ ہم زیادہ سے خلقت خدا کے بھلائی کر سکیں ، جو ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی ہے

دنیا میں بہت سارے لوگ آئے اور چلے گئے ، جن کے پاس بیش بہا دولت کے حزانے بھی تھے تو کسی کے پاس علم کی دولت تھی ، پر دنیا میں نام ان کا زندہ رہا جو مخلوق خدا کی خدمت کر کے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ، اگر ماضی کو چھوڑ کر موجودہ دور کی بات کی جائے تو اس دنیا میں بہت سارے لوگ اب بھی موجود ہیں جو کسی نہ کسی صورت میں انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں ، آج کے دور میں ہم نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ بڑا عہدہ ، دولت ، شہرت ، اور علم آ جانے پر لوگ میں تکبر آ جاتا ہے ، لیکن اب بھی ایسے انسان موجودہ ہیں جو سب کچھ پا لینے باوجود اپنے اندر انسانیت کی بھلائی کا جذبہ رکھتے ہیں ، راجن پور پنجاب کا آخر ڈسٹرکٹ ہے جہاں پر دور دراز سے آفیسرز یہاں پر تعینات کیے جاتے ہیں ، جن میں سے اکثر صرف اپنی تعیناتی کا وقت گزارتے ہیں جبکہ کچھ درد دل رکھنے والے بیوکریٹس اس پسماندہ علاقے کی بہتری کے لیے بھر محنت کے علاوہ مقامی افراد کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرتے ہوئے ان کے دل میں گھر کر جاتے ہیں۔

راجن پور کے موجودہ ڈپٹی کمشنر اشفاق احمد چوہدری ان میں سے ایک ہیں جو عوامی خدمت اور انسانیت کے ساتھ بھلائی کی وجہ سے راجن پور کی عوام کے دلوں میں گھر کر گئے ہیں۔ اشفاق احمد چوہدری جو کہ گزشتہ سال  میں بطور ڈپٹی کمشنر راجن پور تعینات ہوئے تھے ، سائلین کے لیے ان کے آفس کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں جبکہ کسی بھی عوامی شکایت کی صورت میں فوری ایکشن لے کر شکایت کا ازلہ کرتے ہیں۔ میں نے تین چار ایسے معاملات میں ان کو بروقت ایکشن لیتے دیکھا جن پر فوری ایکشن لینا از حد ضرور تھا ، ایک تو کچھ ماہ قبل راجن پور کے کچھ علاقوں میں پانی کا شدید بحران پیدا ہو گیا انسانوں کے ساتھ جانوروں کے لیے پینے کا پانی ناپائید ہو گیا  جب کسی نے اس مسئلے کی نشاندہی کروائی  تو اس پر ڈپٹی کمشنر اشفاق احمد چوری نے فوری طور پر پانی کا بندوبست ٹینکر کے ذریعہ کروایا جو وہاں کی مقامی آبادی کو بروقت اور مفت فراہم کیا گیا ، انہوں محکمہ انہار کو فوری طور پر نہر میں پانی چھوڑنے کے احکامات کے ساتھ واٹرسپلائی کی مرمت کے لئے گرانٹ بھی جاری کر دی جس پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا گیا۔

اشفاق احمد چورہدی راجن پور میں کسی بھی ہنگامی صورت حال یا حادثے کے سبب بروقت موقع پر پہنچ کر امدادی کاموں جائزہ لیتے ہیں اور ہسپتال میں زخمیوں اور مریضوں کی عیادت بھی کرتے ہیں۔ اکثر میں سوشل میڈیا کے ذریعہ میں نے دیکھا کسی بھی روڈ ایکسڈنٹ کے کی صورت میں رات کو دو بجے بھی ہسپتال میں مریضوں کی خریت دریافت کر رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ موجودہ ماہ رمضان میں حکومت کی طرف سے سستے رمضان بازار راجن پور میں بھی لگائے گئے ہیں جن کے انتظامات ڈپٹی کمشنر راجن پور اشفاق احمد چوہدری نے بروقت مکمل کروائے ہیں  جبکہ ان سستے رمضان بازاروں میں عوام کو تمام تر سہولیات  دی جاری ہیں جن سے یہاں کی عوام مستفید ہو رہی ہے

اشفاق احمد چوہدری جہاں انسانیت سے بھلائی اور خدمت خلق کا جذبہ رکھتے ہیں وہیں اہل قلم اور قلم سے محبت اور دلی لگاؤ بھی رکھتے ہیں وہ خود بھی بہت اچھے مفکر اور اہل علم ہیں وہ وسیع علم رکھنے کے کتابوں سے محبت کرنے والے انسان ہیں۔ اس دنیا میں انسان کا نام اس کے عہدے اور دولت کی وجہ سے زندہ نہیں رہتا بلکہ اس کا نام دوسروں کے ساتھ اچھائی اور بھلائی کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتا ہے ایسے لوگ جہاں بھی جاتے ہیں اپنی بھلائی اور مخلوق خدا سے محبت کی خوبصورت یادیں چھوڑ جاتے ہیں اللہ پاک ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کرنے اور آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے امین

Thursday, 3 May 2018

مزدور کی زندگی

تحریر عبدالجبار خان دریشک

پہاڑوں کو کاٹ کر راستہ بنانے والے ہاتھ کسی بادشاہ یا حکمران کے نہیں ہوتے ، اور زمین کا سینہ چیر کر فصل آگانے والے ہاتھ جاگیردار کے نہیں ہوتے ، کارخانوں سے تیار ہو کر نکلنے والے مال سیٹھ کے ہاتھوں سے نہیں بنا ہوتا، ہمارے اردگرد موجود ہماری ضروریات کی تمام اشیاء  گاڑیاں ، بسیں ، عمارتیں ، سٹرکیں سب ایک محنت کش کے ہاتھ سے بنے ہیں جن کو ہم اپنے استعمال میں لاتے ہوئے آرام دے زندگی بسر کرتے ہیں۔ ہمیں بس اتنا پتہ ہوتا ہے کہ اسے فلاں دوکان سے خرید ہے اور اسے کیسے استعمال کرنا ہے، ہم اس چیز کے فائدہ حاصل کرتے ہوئے اس اور کمپنی کی تعریف ضرور کرتے ہیں اور ہم فخر سے یہ بھی کہتے ہیں کہ اسے اتنے میں خرید لائے ہیں ۔ لیکن ہم نے اس پر کبھی غور نہیں کیا ،کہ اس کو بنانے والے انسان  اسے خود بھی استعمال کرتے ہوں گے میرے خیال میں کبھی نہیں ، کیونکہ وہ ہاتھ محنت کش کے ہوتے ایک دہاڑی دار مزدور کے ہوتے ہیں جسے شام کو مزدوری ملے گی جس سے وہ دو تین کلو آٹا خریدے گا اور اس کے بچے چند نوالے کھا کر رات بھر سکون سے نیند کریں گے

ہم ہر سال یوم مزدور مناتے ہیں ان کے حق کی فرضی اور بناوٹی باتیں کرتے ہیں تحریریں لکھتے ہیں لیکن ہم ایک مزدور کے دکھ تکالیف کو محسوس نہیں کر سکتے جس سے وہ گزر رہا ہوتا ہے ایک مزدور کو اس بات کی فکر رات سے ہی لگ جاتی ہے کہ صبح کسی تھڑے و اڈے پر جائے گا وہ اس چوک اور تھڑے والی جگہ پر بچوں کی دال روٹی کی خاطر زمین پر بیٹھ کر کسی سیٹھ کسی بابو کا انتظار کرے گا۔ جب اس کے ارگرد بیٹھے ساتھی ایک ایک کر  ڈہاڑی  پر جانا شروع ہوں گے اور جوں جوں سورج بلند ہونا شروع گا اس کی امیدیں بھی دم توڑنے لگیں گی پھر اسے فکر کھائے جائے گی کہ شام کو خالی ہاتھ کیسے گھر جاؤ گا ۔

اکثر ہم نے دیکھ ہے چوک چوہارہوں میں بیٹھ مزدورں کے ساتھ کم دہاڑی دینے کی تکرار میں لگے سیٹھوں کے منہ سے جھاگ نکل رہا ہوتا ہے کسی طرح اس مزدور کو کم اجرت پر راضی کر لیاجائے ، جب سارے مزدور ایک ایک کر چلے جاتے ہیں تو بچ جانے والے بچارے مزدوروں کو کم اجرت پر لے جانے والے سیٹھ کا دل خوشی میں جھوم رہا ہوتا ہے لیکن اسے یہ احساس کبھی نہیں ہوتا کہ اس کم اجرت میں بچارہ ایک مزدور کیسے بچوں کی دال روٹی پوری کرے گا۔ مزدور کی زندگی مزدوری سے شروع ہوتی ہے اور مزدوری کرتے کرتے ایک ایک دن زندگی ہی ختم ہوجاتی ہے پر کسی مرنے والے مزدور کی نہ ہمیں فکر ہوگی نہ ہی ریاست کو ، ہم پیسے والے سیٹھ ہیں کل کو کوئی اور مزدور دہاڑی پر لے آئیں گے

ہمارے علاقے میں رہنے دو مزدور بھائیوں کی زندگی کا خاتمہ رزق حلال کی تلاش میں جاتے ہوا تھا دونوں صبح سویر مزدوری کے لیے نکلتے ہیں کہ کسی ظالم نے دونوں کو گاڑی کی ٹکر ماری دی جبکہ ٹکر مارنے والا بدبخت موقع سے فرار ہوگیا۔ ایک بچارے کی موقع پر موت ہو گئی دوسرا چند دن بعد ہسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش میں لڑتا رہا لیکن زندگی نے مزید مہلت نہ دی اور وہ بھی ہسپتال میں چل بسا، حادثہ اتنی صبح سویر ہوا کہ کسی کو کچھ خبر نہیں ہوئی کہ ان کی کس چیز کے ساتھ ٹکر ہوئی، حادثے تھوڑی دیر بعد لوگ جمع ہوئے تو ان کے گھر والوں کو اطلاع دی گئی ، دونوں بھائی گھر سے چار روٹیوں کے درمیان  اچار کی ڈالیاں رکھے رومال میں باندھ کر اسے اس امید پر ساتھ لے جا رہے تھے کہ دوپہر کو کچھ دیر کے ملنے والے ریسٹ میں یہ روکھی سوکھی روٹی کھا کر سیر ہوجائیں گے تو باقی آدھے دن کا کام بھی آسانی سے ہو جائے گا۔ پر وہ روٹیاں ان کے نصیب میں نہ تھیں۔ ان میں سے ایک کے آٹھ بچے جبکہ دوسرے کے چار بچے ہیں۔ ایک کے بڑے بیٹے نے پڑھائی چھوڑ کر مزدوری شروع کردی ہے ، آج وہ بھی اپنے باپ کی طرح دو سوکھی روٹیوں میں اچار کی ڈالیاں رکھ کر مزدوری پر جاتا ہے۔ ان مزدور کے بچے کس حال میں زندگی بسر کرتے ہیں یوم مزدور منانے والوں کو کچھ پتہ نہیں۔

یوم مزدور منانے والے ریلیاں نکلنے والے فوٹو سیشن کرنے والے ، سلفیاں بنانے اور تقریبات میں پیس برگر کھانے والے ، اور میرے جیسے کالم لکھنے والا بند  مزدور کی مشکلات اور پرشانیوں کو محسوس نہیں کر سکتا ، مزدور جس حال میں زندگی بسر کرتا ہے شاید ہم باتوں میں تو آسانی سے بیان  کر سکتے ہیں اور لکھ بھی سکتے ہیں لیکن تکلیف کا اسے پتہ جس میں وہ زندگی بسر کرتا ہے ، کبھی اس کے پاس آٹے کے پیسے نہیں تو کبھی بیوی بچے بیمار ، کبھی یہ پریشانی تو کبھی وہ پریشانی

حکومت کی طرف سے مزدور کی اجرت بڑھانے کا اعلانات تو ہوتے ہیں لیکن اس  بچارے مزدور کو فیکٹری و مل مالک اور ٹھیکدار وہ اجرت نہیں دیتا ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مزدور کا خون اچھی طرح سے چوس لیا جائے تاکہ  اسے جلدی چلتا کرے اس کی جگہ دوسرا مزدور لے آئے ، ملک میں ویسے بھی بے روزگاری میں دن بدن آضافہ ہورہا ہے ، بجلی کے بحران نے کئی مزدوروں کو بے روزگار کر دیا ہے دوسرا ملک میں  وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے بھی غریب کو غریب تر بنا دیا ہے آج دور میں سرمائے کا کھیل ہے ، سرمایہ دار جب چاہے مزدور و محنت کش کو نکال دے اس کی مرضی وہ کام بند کر دے پھربھوک کی وجہ سے اسے کم اجرت میں مزدور مل بھی ملے جاتے ہیں لیکن بات احساس کی رہے جاتی ہے کہ اس مفاد پردی اور مادی زندگی میں ہم دوسروں کا حق آسانی سے کھا لیتے ہیں۔

ملک میں موجودہ حکومت اپنے آخری ایام میں ہے اور اقتدار سے جدائی کے غم میں حکمرانوں نڈھال ہیں لیکن اس پانچ سال کے عرصے میں مزدور کو نہ بہتر روز گار ملا نہ ہی اسے کسی قسم کا تحفظ ، ایک طرف مزدور کو بہتر سہولیات دینا ریاست کی ذمہ داری ہے تو باحیثیت معاشرے کے فرد کے ہمیں مزدور کا احساس بھی کرنا ہوگا اسے بھی اپنے جیسا انسان سمجھنا ہوگا ، اور کچھ نہیں کر سکتے تو مزدور سے اس اجرت سے زیادہ کام نہ لیں پسینہ خشک ہونے سے پہلے اسے اجرت ادا کردیں جس کے بارے میں حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ارشاد فرمایا ہے اس سے نرمی اور محبت سے پیش آنا چاہیے۔ یقین جانیں ایک مزدور کی دعا جب لیں گے تو اللہ پاک آپ کے کام میں بھی آسانیاں پیدا فرمائے گا

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...