Sunday, 25 March 2018

شامی مسلمان اور انسانی ہمدردی

تحریر عبدالجبار خان دریشک

پوری دنیا اس وقت عالمی جنگ کے دھانے پر کھڑی ہے ، اسحلہ کی دوڑ اور اقتصادی اجارہ داری کی وجہ سے عالمی طاقتیں سرحدوں کے پار اپنی بھی سوچنے لگے ہیں اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے یہ طاقتیں ہر ہربا استعمال کرتی ہیں جس سے ہر طرف شدت پسندی دہشت گردی اور جنگی صورت حال بنتی جارہی ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد تقریباً پوری دنیا میں سرحدیں تقسیم ہوئیں، ہر ملک و خطہ اپنی حدود و قیود کے اندر رہنے لگا ، سرحدی تناظے آہستہ آہستہ ختم ہوئے ۔ جنگوں کا دور ختم ہوا اور ترقی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہوا جہاں پورا روز اور وسائل جنگوں پر خرچ ہوتے انہیں عوامی خدمت اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچے کیا جانے لگا، ایسے ہی بہت سارے ممالک ترقی کا سفر طے کرتے ہوئے  مزید بلندیوں پر چلے گئے۔ بے پناہ وسائل کی وجہ سے ان ممالک کو اپنی اجارہ داری قائم کرنے کا خیال آیا جس سے مسقبل کا لائحہ عمل تیار کیا جانے لگا،  بجائے کسی ملک پر جا کر قبضہ کرنے ان سے جنگ لڑنے کے ، دو ممالک کو آپس میں لڑوا دو،  اور پھر دونوں پر حکومت کرو اگر ایسا نہیں کر سکتے تو سرد جنگ کے ذریعہ شازس کروا کر ملک کے اندر بغاوت پیدا کروا دی جائے اور  کومت کا تختہ الٹا کر اس کے حکمران کو اپنے ہاتھ میں رکھو اگر وہ بھی کسی موڑ پر آنکھیں پھیر لے تو اسے بھی چلتا کرو

دنیا کی عالمی طاقتیں ایسے ہی کر رہی ہیں وہ اپنی جنگ اپنی سرحدوں پر لڑنے کی بجائے اپنے حمایت یافتہ ممالک میں جاکر لڑ رہے ہیں، اپنے بنائے گے تمام تر اسلحہ کے تجربات بھی ان ممالک اور ان کی بے قصور عوام کر رہے ہیں۔ جتنی بھی عالمی طاقتیں ہیں وہ ساری کی ساری عیسائی،  یہودی ، اور بدھ مذہب کی پیروکار ہیں جو بظاہر تو ایک دوسرے کے بڑے حریف ہیں۔ ان کی بیان بازیوں سے کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے بس ان کی جنگ ابھی شروع ہوئی لیکن یہ سب ان کا مکار پن ہے۔ ان کی اصل سازش عالم اسلام کے خلاف ہے آج ان مکاروں نے مسلمانوں کو ایسا تقسیم کردیا ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے  ہاتھوں قتل ہورہا ہے ، یہ ساری سازش ان شیطانی طاقیتوں کی ہے جو اپنے مفاد کی خاطر کسی کا بھی گلہ دبا سکتی ہیں۔ لیکن دوسری طرف باقی دنیا کے مسلمان ممالک اور ان کے حکمران تماشہ دیکھ رہے ہیں۔  فلطسین کشمیر روہنگیا کے بعد شام کو ہی دیکھ لیں۔ کیسے چھوٹے چھوٹے بچوں،  عورتوں ، جوانوں اور بوڑھوں کو بے دردی سے قتل کیا جارہا ہے لیکن مجال ہے کوئی اسلامی ممالک کا کوئی بھی لیڈر کچھ بولا ہو، سب کی زبان تالے پڑے ہیں ۔ کدھر ہے آو آئی سی، کدھر ہے 34 ممالک کا اتحاد ، کیا یہ تنظمیں اور اتحاد بس ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے لیا بنائے گئے ہیں ۔

شام کے معاملے پر جہاں اسلامی ممالک کے سربراہان خاموش ہیں وہیں عالمی ادارے اور اقوام متحدہ کا فورم بھی بے بس نظر آتا ہے جو صرف بیان بازی سے کام چلا رہا ہے۔ حالانکہ شام میں 30 روز کے لیے جنگ بندی کی قرار داد بھی سیکورٹی کونسل سے منظور ہو جانے کے باوجود  اس پر عمل نہ ہوسکا۔ اقوام متحدہ کی قرار داد پاس ہوتی ہے لیکن اس کو کسی نے سنجیدہ لیا ہی نہیں ، دوسرا بشارالاسد کی ملشیا اور اس کے حمایت یافتہ ممالک کے لشکر مصوم شامی باشندوں پر گولہ باری جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قرار داد کا خیال نہ رکھنے اور بات نہ ماننے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ عالمی طاقیوں کا ہو تو ہر طرح کے وسائل لگا کر اسے نمٹا جاتا ہے لیکن دوسری طرف چھوٹے ممالک خاص کر مسلمان ملکوں کے باشند مر رہیں تو مرتے رہیں۔

سلامتی کونسل کی قرار داد پر صرف چندگھنٹے عمل کیا گیا ، جس کے فوری بعد شام کے مشرقی علاقے غوطہ پر شدید گولہ باری کی گئی جس کے نتیجے میں بتایا جارہا ہے کہ نو سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں دو سو سے زیادہ بچے شامل ہیں۔ بمب بار جنگی جہازوں نے سکول ہسپتال پر گولوں کی برسات کر دی، فرانس میں ایک ڈاکٹروں کی عالمی تنظم نے اپنے ٹیوٹر اکاونٹ پر  ایک ویڈیو جاری کی جس میں ایک سکول اور چند ہسپتال کی تباہی کو دیکھایا گیا ہے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ایک طرف باغی ہیں تو دوسری طرف بشار کی فوج ہے جس کو روس و دیگر ممالک کی حمایت حاصل ہے، بے بس شامی مسلمان ان لوگوں  کے درمیان میں پھنس گئے جن کو دونوں فریق ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ ان بچارے لوگوں تک کسی قسم کی امداد نہیں پہنچ رہی ہمارے یہ مسلمان بھائی ایک ایک قطرہ پانی اور ایک ایک نوالہ خوراک کو ترس رہے ہیں ان علاقوں میں میڈیکل کی ٹیمیں نہیں پہنچ سکیں۔ شام کی عوام عالم اسلام سمیت پوری دنیا سے مدد کی اپیل کر رہی ہے  دنیا بھر کے لوگ مذہب کی بنیاد پر نہ سہی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شامی مسلمانوں کی مدد کرے۔ شامی مسلمان سوشل میڈیا کے ذریعہ وہاں کے مظالم پوری دنیا دیکھا رہے ہیں

19 فروری سے 28 فروری تک ہونے والی گولہ باری کے بعد کی تباہی کو پوری دنیا نے دیکھا ہے۔ اس کے باوجود شام کے لوگوں نے سوشل میڈیا " میں زندہ ہوں " کی ایک کمپین شروع کر رکھی ہے جس میں پوری دنیا سے اپیل کی جارہی ہے کہ ہماری مدد کی جائے، آج ہمارے شام کے مسلمان بھائی شدید مشکلات میں ہیں۔ ہمیں عالمی سطح پر آواز بلند کر کے ان کی مدد کرنی چاہیے اور مسلمانوں کو شیطانی طاقتوں کی سازش کو سمجھنا چاہیے جو مسلمانوں کو آپس میں لڑوا رہے ہیں

شبعہ تعلیم کی زبوحالی

تعلیم
تحریر عبدالجبار خان دریشک

تعلیم جہالت کے اندھیروں کو مٹانے کا ذریعہ ہے ، جب
کسی بھی ملک و ریاست کا  ہر باشندہ علم کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے تو وہ معاشرہ ترقی یافتہ اور باشعور بھی ہوتا ہے اس ملک کے فرد یہ شعور دوسروں تک پہنچانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ وہ دوسروں کو تعلیم دے کر بھی باشعور بناتے ہیں ، اور تعلیم کی وجہ سے  اپنے اعلی رویوں کی بنیاد پر بھی دوسروں کو علم دے کر باشعور بناتے ہیں۔ جو قومیں تعلیم کی اہمیت کو باخوبی سمجھتی ہیں تو وہ  تعلیم کے بل بوتے پر جلد ترقی کر کے دنیا کے سامنے ایک طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آتی ہیں ہمارے سامنے دنیا کے ایسے کئی ممالک کی مثال ملتی ہے جنوں نے شعبہ تعلیم کو ہی ترقی کا  راستہ سمجھا اور اس شعبہ میں بہتر سرمایا کاری کی تو انہیں اس کے نتائج بہت اچھے برآمد ہوئے۔

امریکہ کے ہاتھوں تباہ ہونے والا جاپان ہو یا  نشے میں غرق کسی دور کے چینی ہوں آج دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک کی لسٹ میں شامل ہیں۔ لیکن ہمارے ملک میں 70 سال سے  شعبہ تعلیم کی طرف خاص توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے ہمیں آزادی ملے ایک صدی ہونے والی ہے لیکن ہماری حالت نہ بدل سکی، ہم اپنے بجٹ کا بہت کم حصہ تعلیم پر خرچ کرتے ہیں جبکہ اس کے کئی گناہ زیادہ بجٹ دوسرے فضول کاموں پر خرچ کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہمارے ہاں تعلیم کے معیار  میں دن بدن گروٹ پیدا ہوتی جارہی ہے۔ قائداعظم کی وفات کے بعد ملک کو کوئی ایسا حکمران نہ مل سکا جو صرف تعلیم کو ترجیح دیتا ایک تو ہمیں تقسیم کے وقت بہت کم آثاثہ جات دیے گئے جس کی وجہ سے ہمیں نظام حکومت چلانے اور ترقیاتی کاموں کے لیے دوسرے ممالک سے قرض کے ساتھ امداد بھی لینی پڑی ، جس کی وجہ سے ہمیں ان کی شرائط کے ساتھ کچھ ایسی باتیں بھی قبول کرنی پڑیں جس جو ہماری داخلی معاملات سمت کچھ شعبوں پر بھی اثر انداز ہوتی تھیں۔ ہمیں تعلیم کی مد میں ملنے والی امداد کی وجہ اس شعبہ کی پالیسی بھی ان ہی  کے کہنے پر چلانی پڑی  ، جسکی وجہ سے ملک میں مختلف نظام تعلیم نے جنم لیا ملک کا ایک طبقہ دینی تعلیم کے علاوہ دوسری تعلیم کو اچھا نہ سمجھتا تھا ایک طبقہ قومی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیع دیتا تھا تو ایک اور طبقہ جو خوشحال تھا اور پہلے سے کافی حد تک تعلیم یافتہ تھا وہ انگریزی تعلیم کو ترقی کا ذریعہ سجھتے ہوئے انگریری تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا، جس سے ملک میں یکساں تعلیمی نظام کی بجائے مختلف  نظام رائج ہوئے۔ آج ملک میں طبقاتی تقسیم بھی یکساں تعلیمی نظام نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے، ہر طبقے کی سوچ دوسرے سے اتنی مختلف ہے کہ اس میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے جو کہ معاشرے میں عدم برداشت کے ساتھ تشدد میں آضافہ کر رہا ہے۔

ملک میں کرپشن کی وجہ سے خزانے خالی پڑے ہیں اور سرکاری سطح پر تعلیم ہر بچے کو دینا بہت مشکل ہے جس کے لیے شعبہ تعلیم میں پرائیویٹ سکولز کا نظام بھی لایا گیا اب بڑی تعداد میں بچے سرکاری کی بجائے پرائیویٹ  اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں سرکاری سطح پر قائم سکولز میں سہولیات کے فقدان، استاتذہ کی عدم توجہی اور دیگر عوامل کی وجہ سے زیادہ تر والدین پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو ترجیع دیتے ہیں۔ موجودہ دور میں تقریباً اکثریت پرائیویٹ سکولز چلانے والے کاروباری سوچ کے حامل افراد ہیں جو ان اداروں کو  ایک دوکان کی طرح چلاتے ہیں اسی وجہ سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں پر سے والدین کا اعتبار اٹھتا جارہا ہے۔ بھاری بھرم فیسوں اور تعلیمی معیار کی کمی کی وجہ بچے کی کمی ٹیوشن سے پوری کروائی جاتی ہے۔ لیکن دوسری طرف دنیا میں ایسے ممالک بھی ہیں جہنوں نے اس شعبہ کو سرکاری سطح پر رکھا ہوا ہے اور ان ممالک میں یکساں تعلیمی نظام کے ساتھ حکومت ہر بچے کو مفت تعلیم فراہم کرتی ہے۔ کیوبا جیسا ملک جس پر سارا عرصہ امریکہ کی طرف پابندیاں لگائی جاتی رہیں وہاں بھی بھی ہر بچے کو سکول سے لے کر یونیورسٹی تک مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔  کیوبا میں یکساں تعلیم نظام قائم ہے پورے ملک میں ایک جسی کتابیں اور ایک جیسی  یونیفارم رائج ہے۔ کچھ ماہ قبل چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی یکساں تعلیم نظام کے بارے میں کہا تھا ایک کتاب ایک بستہ اور ایک یونیفارم ہونا چاہیے۔

پاکستان میں تعلیمی بجٹ ویسے تو بہت کم رکھا جاتا ہے لیکن 2010 سے اس میں ہر سال 15 فیصد آضافہ کیا جارہا ہے۔ لیکن اس باوجود خواندگی کی شرح میں آضافہ نہیں ہو رہا ہے۔ حال ہی میں ایک اقتصادی سروے بین الاقومی خبر راساں ادارے کی ویب سائٹ جاری کیا گیا، جس کے مطابق  ایسے افراد جو پڑھ لکھ نہ سکتے ہوں ان کی تعداد میں 2 فیصد آضافہ گزشتہ سال کی نسبت ہوا ہے۔ جبکہ 2016 میں اس میں دوفیصد کمی ہوئی تھی اور اسی طرح 2014 اور 2015 میں کو تبدیلی نہیں ہوئی اور یہ گراف ویسے کا ویسا رہا، ادھر حکومت کی مدت مکمل ہونے والی ہے جہاں وہ اپنے ترقی یافتہ کاموں کی ایک لمبی چوڑی لیسٹ رکھتے ہیں وہیں تعلیم کے حوالے سے یہ رپورٹ تشویش ناک ہے، ایک طرف یونیورسٹی کی تعداد میں آضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف بنیادی تعلیمی میں پوزیشن نیچے کی طرف چلی گئی ہے

حالیہ مردم شماری میں ملک کی آبادی بیس کروڑ  سے زیادہ ہے جبکہ کے چودہ برس سے یا اس سے کم عمر افراد کی تعداد کل آبادی کا 35 فیصد بنتا ہے۔ اس 35 فیصد میں سے 2 کروڑ 25 لاکھ سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں، جس میں ایک کروڑ بچے پنجاب کے سکول سے باہر ہیں دوسری طرف بلوچستان میں بھی اس وقت 27 لاکھ بچے سکولز سے باہر ہیں جبکہ وہاں صرف 8 لاکھ بچے سکولز میں ہیں بلوچستان میں 74 فیصد بچے سرکاری سکولز میں 19 فیصد پرائیویٹ اور 5 فیصد مدرسوں میں زیر تعلیم ہیں۔ ملک میں شرح خواندگی کا تناسب 58 فیصد ہے یہ شرح شہری آبادی میں 74 فیصد ہے جبکہ دیہات میں 49 فیصد ہے، اب اگر دیہی اور شہر آبادی کو دیکھا جائے تو 65 فیصد دیہات میں تناسب خواندگی 49 فیصد شہر علاقوں میں آبادی 35 فیصد اور خواندگی کا تناسب 74 فیصد ہے اس سے صاف ظاہر ہے حکومتی سطح پر زیادہ توجہ شہری آبادی پر  مرکوز رکھی جاتی ہے جہاں دیگر سہولیات کے ساتھ اچھے اور اعلی تعلمی ادارے موجود ہوتے ہیں دوسری طرف بینادی سہولیات کے ساتھ تعلیمی اداروں کی بھی کمی ہوتی ہے۔

پاکستان اس وقت ڈھائی لاکھ سکول ہیں جن میں سے بچاس ہزار ہائیر سیکنڈری سکول ہیں۔ جبکہ ملک میں یونیورسٹیوں کی 188 ہے اور پندرہ سال قبل یہ تعداد صرف 59 تھی جبکہ حکومت سطح پر کوشش کی جاری ہے 2025 ان تعداد 300 تک ہونے کے امکانات ہیں۔ یونیورسٹیوں میں اس وقت انرولمنٹ 9 فیصد ہے جوکبھی 2.6 فیصد تھی۔ اگر یونیورسٹوں کی تعداد  بڑھانے میں  ترکی اس وقت ہم سے زیادہ آگے ہے طیعب اردون سے پہلے ترکی میں یونیورسٹوں کی تعداد 98 تھی جبکہ اب یہ تعداد 190 تک پہنچ چکی ہے اور ان کا تعلیمی بجٹ 7.5 ارب ویرا سے بڑھا کر 35 ارب ویرا کر دیا گیا، جبکہ ترکی میں سکول سے لے کر یونیورسٹی تک مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے 2023 تک ترکی میں 3 لاکھ محقیق تیار کیے جائیں گے۔ دوسری طرف ہمارے ہاں خواندگی میں کمی ہورہی ہے وہیں یونیورسٹیوں میں بھی معیاری تعلیمی کی کمی واقع ہورہی ہے یونیورسٹیوں آئے روز جھگڑے فساد اور منشیات کے استعمال کی وجہ سے یونیورسٹی کے طلباء کی کارکردگی بھی کم ہورہی ہے

شرح خواندگی میں کمی ہورہی تو ساتھ پرائمری سے لے اعلی تعلیم تک کے معیار میں بھی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ہائی سکولوں سبجیکٹ سپشلسٹ کی کمی ہے صرف پنجاب میں تقریباً  400 سبجیکٹ سپشلسٹ کو ہیڈ ماسٹر لگایا گیا ہے جن کی تعیناتی خلاف قانون ہے ہیڈ ماسٹر کی پوسٹ کے لیے پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ بھرتی کی جائے یا تو سبجیکٹ سپشلسٹ کا دس سالہ تجربہ آیس آیس ٹی ٹیچر ہو کو ہیڈ ماسٹر لگایا جاتا ہے لیکن یہاں 5 سے8 سالہ تجربے والے ہیڈ ماسٹر لگائے گئے ہیں جو سارا دن اپنے دفتری اموار سرانجام دیتے ہیں دفتر کام اتنا ہوتا وہ اپنا سبجیکٹ بھی نہیں پڑھا سکتے جس سے میٹرک کا رزلٹ متاثر ہو رہا ہے
معیار تعلیم کی گروٹ کا انذاہ اس سے لگا جا سکتا ہے  کہ ملک میں ہونے والے اعلی سول امتحان ، سی ایس ایس میں پاس ہونے والوں کی شرح میں مسلسل کمی ہورہی ہے امیدوار امتحان  بڑی تعداد میں فیل ہو تے ہیں جس  کی وجہ سے ہر سال بہت ساری آسامیاں خالی رہے جاتی ہیں۔  ایک اندازے کے مطابق ہر سال ساڑھے چار لاکھ گریجویٹس ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں اس تناظر میں2016 میں سی ایس ایس کے امتحانات کے تحت199 اسامیوں کے لئے 9643  امیدواروں نے مقابلے کے امتحان میں شرکت کی جس میں سے صرف202 امیدواروں کا کامیاب ہوئے جبکہ 1990 میں سی ایس ایس کے امتحان میں 126 اسامیوں کے لئے 10ہزار امیدواروں میں سے  ایک ہزار کامیاب ہوئے تھے۔

اگر ملک کو ترقی کی شاہرا پر لے آنا ہے تو شعبہ تعلیمی پر توجہ دینی ہوگی ، جس کے بجٹ میں خاطر خواہ آضافے کرنا ہوگا ، ساتھ ہی ملک میں یکساں تعلیمی نظام رائج کیا جانا چاہیے تاکہ قومی سطح کی تقسیم سوچ کو مزید تقسیم ہونے سے بچایا جا سکے۔ اور قوم کو ایک قوم بنایا جائے

Saturday, 24 March 2018

ٹرمپ کی نئی صف بندی

تحریر عبدالجبار خان دریشک

نوبیل انعام یافتہ ماہرِ اقتصادیات پال کرگمین نے ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے پر کہا تھا  "امریکا میں واضح طور پر حکمرانی نااہل ترین شخص کے ہاتھ میں آئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے عہدہ صدارت سنبھالتے ہی ایسی سخت گیر پالیسی اپنائی ہیں جس کے لیے امریکی انتظامیہ کو بھی پریشانی اٹھانا پڑی رہی ہے ، ان کے قریب رہنے والے صحافی مائیکل وولف نے اپنی  کتاب "فائر اینڈ فیوری" میں صدر ٹرمپ کے بارے میں ہوش روبا انکشافات کیے ہیں حتی کہ ٹرمپ کو نفسیاتی مریض تک کہا گیا ، خواتین کے متعلق ٹرمپ کے بیان اور ان کے رویہ سے بھی ٹرمپ کی شخصیت کے منفی پہلو کی عکاسی ہوتی رہی ہے

ٹرمپ نے آتے ہی سات اسلامی ممالک کے باشندوں کو امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی، اس کے علاوہ ان کی خارجہ پالیسی  کے عجیب و غریب خیالات عالمی رہنماؤں کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ وہ غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے لیے میکسیکو کی سرحد پر دیوار کھڑی کرنے اور اس دیوار کی قیمت بھی میکسیکو سے وصول کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ مگر سب سے زیادہ تشویش ناک بات امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی کا فیصلہ بھی شامل ہے۔  یہ فیصلہ واشنگٹن کی طویل عرصے سے قائم پالیسی سے انحراف ہوگا۔

امریکا کی طرف روس پر اس بات کا الزام بھی لگایا جاتا رہا کہ روس امریکہ کے انتخابات میں اثر انداز ہوا ہے ۔ امریکہ مشرق وسطی میں اپنا اثر برقرار رکھنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ قربت بڑھا رہا ہے ،دوسری طرف شام میں روس اور ترکی کی مداخلت کو روکنے کے لیے سر توڑ کوشش میں لگا ہوا ہے ۔

امریکا ایران پر مزید پابندیوں کے ساتھ ٹرمپ کی بیان بازی میں بھی تیزی آ رہی ہے ایران پر وار کرنے کے لیے جس کندے کی امریکہ کو تلاش تھی اسے وہ سعودی عرب کے شہزادے محمد بن سلیمان کی صورت میں مل گیا ہے ، حالیہ امریکہ کا دورہ کرنے کے بعد ایران کے لیے ان کی بیان بازی میں تیزی آ گئی ہے ، جبکہ ایران اور سعودی عرب میں مزید تناؤ پیدا ہوگا ، یمن میں خواثی باغیوں کا سعودی عرب پر میزائل حملے اس تناؤ کا باعث بنیں گے ۔ جبکہ اس قبل سعودی شہزادہ محمد بن سلیمان امریکہ کے طویل دور کے موقعہ پر امریکہ تھے جہاں انہوں امریکہ کے ساتھ بڑے دفاعی سمجھوتے  کیے ہیں سعودی عرب امریکہ سے  بنیادی سمجھوتے میں 67 کروڑ ڈالر مالیت کے ٹینک شکن میزائلوں کے سودے شامل ہیں ۔ امریکا نے سمجھوتے کے ضمن میں سعودی عرب کو 6600 ٹاؤ میزائل فروخت کرنے کی منظوری دی  ہے۔ دیگر معاہدوں میں ہیلی کاپٹروں کی مرمت اور دیکھ بھال شامل ہے امریکا نے  اسلحے کی اس فروخت کی تیاریاں صدر  ٹرمپ کے گزشتہ سال مئی میں سعودی عرب کے دورے کے وقت سے  شروع کر دی تھیں ۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ان امور میں سعودی ویژن 2030 کے تحت تزویراتی تعاون اور دو طرفہ شراکت داری کو گہرا بنانا ہے ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور شدت پسندی کا انسداد اور خطّے کے امن و استحکام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی سخت پالیسوں کو چلانے کے لیے  سب پہلے وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن کو عہدے سے فارغ کر دیا ہے۔ اور ان کی جگہ سی آئی اے چیف مائیک پومپیوکو عہدہ سونپ دیا جبکہ اب قومی سلامتی کیلئے اپنے مشیر جنرل ڈاکٹر مک ماسٹر کو بھی برطرف کردیا۔ انکی جگہ جان بولٹن کو مشیر برائے قومی سلامتی لگا دیا ہے ۔ صدر ٹرمپ اپنی ٹیم کے معاملے میں خاصے سخت گیر ہیں اور ہر صورت اپنی بات منوانے کے خواں رہتے ہیں۔ اسی بناپر صدر ٹرمپ نے  14 ماہ کے اقتدار میں اپنی ٹیم کےکئی ارکان کو برطرف کیا  جبکہ انہوں نے تیسری مرتبہ قومی سلامتی کے مشیر تبدیل کرتے ہوئے جان بولٹن اپنا مشیر مقرر کیا 

بولٹن  ایک  قدامت پسند، قوم پرست، جنگجو صفت، اسلام مخالف شخص ہے بولٹن شمالی کوریا کے بارے میں بہت سخت موقف رکھتا ہے بولٹن ایران اور شمالی کوریا پر حملے کے حق میں ہیں۔ وہ ماضی میں صدام و قذافی سے چھٹکارا،مصر کی اخوانی حکومت کے خاتمے اور غزہ میں حماس اقتدار کو مفلوج کرنے کی مہم بھی کامیابی سے سرانجام دے چکے ہیں ، وہ ایران کی دہشت گرد تنظیم مجاہدین خلق کے زبردست حامی ہیں۔ مجاہدین خلق بم حملوں میں اعلیٰ پائے کے ایرانی سیاستدانوں سمیت ہزاروں ایرانیوں قتل کر چکے ہیں۔ ایران پر مزید پابندیاں سخت کرنے کی خاطر  امریکا نے حال ہی میں نو ایرانی باشندوں اور ایک ایرانی کمپنی کو امریکا سمیت دنیا بھر میں یونیورسٹیوں اور درجنوں کمپنیوں کا ڈیٹا ہیک کرنے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے ۔  امریکا نے اپنے الزام میں یہ بھی کہا کہ ایرانی افراد اور "مابنا انسٹیٹیوٹ" نامی کمپنی نے سائبر حملے ایران اور بالخصوص ایرانی عسکری سپاہ اسلامی پاسداران انقلاب کے ایما پر کیے۔ جبکہ ان الزامات کے دفاع میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام غاسمی نے امریکی الزامات کی مذمت کی اور کہا یہ الزامات بے بنیاد قرار دیے ہیں غاسمی نے امریکا کو  الزامات کا ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ غاسمی کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن حکومت ثبوت مہیا نہیں کرتی تو ان الزامات کو ایرانیوں کی سائنسی ترقی روکنے کی ایک چال سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا جائے گا۔

صدر ٹرمپ جہاں شمالی کوریا اور ایران پر اقتصادی پابندیاں مزید بڑھانے کا خواہش مند ہے وہیں اپنے حریف روس سے بھی خوف زدہ ہے پوٹن کے چوتھی مرتبہ صدر منتخب ہونے کے بعد ٹرمپ کی بوکھلاٹ میں آضافہ ہو گیا ہے، روس اس وقت اسلحہ کی دوڑ اور ٹیکنالوجی میں کافی حد تک امریکہ کو پیچھے چھوڑ چکا ہے ، روس میں انتخابات سے قبل ایک  میزائل کا  تجربہ کیا گیا جو کہ آواز کی رفتار سے اپنے ہدف کی طرف سفر کرتا ہے ۔ امریکا  کسی نہ کسی طرح روس کو سفارتی سطح پر تنہاہ کرنا چاہتا ہے اور چین کی اقتصادی ترقی کو روکنا چاہتا ہے

روس کو سفارتی طور پر تنہاہ کرنے کا موقع امریکہ کو برطانیہ میں چھیا سٹھ سالہ سابق روسی جاسوس سیر گئی سکرپل اور ان کی  33 سالہ بیٹی کو 4 مارچ  کو  کیمیائی حملے میں ہلاک ہونے کے بعد ملا ۔ برطانیہ نے اس ہلاکت میں روس کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا اور روس کے سفارت کاروں پر جاسوسی کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ملک سے چلے جانے کا حکم سنایا ہے ، جبکہ امریکہ نے اس سے پہلے ایک اقتصادی چال چلی صدر ٹرمپ نے سب سے پہلے اسٹیل اور ایلومینیم کی درآمد پر بھاری ٹیکس عائد کیے جو دراصل چین کا راستہ روکنے کے لیے ایسا اقدام اٹھا گیا،  جبکہ اب اس ٹیکس میں سوائے چین کے یورپی ممالک کو چھوٹ  دے دی گئی ہے ۔ یورپی ممالک کو چھوٹ دینے کے پیچھے کے محرکات یوں سمجھ آتے ہیں یورپی ممالک نے برطانیہ کی طرح روس کے سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا کہے دیا ہے ، یورپی یونین کے چودہ رکن ریاستوں کا روس کے سفارت کاروں کو ملک بدر کرنا کا اعلان کرنا ، ان میں سے اکثر ممالک امریکہ سے ٹیکس میں چھوٹ حاصل کرنے والے ہیں۔ ان چودہ رکن ممالک کو چھوٹ ملنا اور دوسری طرف یورپی ممالک کا روسی سفارت کاروں کو ملک چھوڑنے کا کہنا دونوں کی ٹائمنگ برابر ہے۔ اس تناظر میں روس کے لیے ایک اور پریشانی یہ پیدا ہو گی کیونکہ 14 جون 2018  سے روس میں فٹبال ورلڈ کپ شروع ہو رہا ہے جس کے میچز روس کے گیارہ شہروں میں منقعد ہوں گے، ورلڈ کپ سے پہلے یورپی ممالک سے روس کے سفارتی تعلقات متاثر ہونے کی وجہ سے روس کے لیے مزید تشویش بڑھ گئی ہے ساتھ ہی امریکہ نے بھی ساٹھ روسی سفارت کاروں کی بدخلی کا بھی حکم جاری کردیا ہے

چین نے بھی امریکا کے اقدامات کے جواب میں  کہا ہے کہ امریکا کی تجارتی جنگ کا نقصان اقوام عالم کو ہو گا۔ دوسری جانب اعداد و شمار کے مطابق امریکی اعلان کے باوجود چین کی تجارتی سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے سخت الفاظ میں امریکا کو متنبہ کیا ہے کہ اُن کا ملک امریکا کی جانب سے شروع کی جانے والی تجارتی جنگ کے لیے تیار ہے۔ امریکی صدر کے اسٹیل اور ایلومینیم پر درآمدی ٹیکسوں کی شرح میں آضافے پر عالمی سطح پر تشویش سامنے آ چکی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکا درآمد کیے جانے والے چینی اسٹیل اور ایلومینیم کی مقدار وسیع امریکی کھپت میں بہت معمولی ہے۔ امریکا یہ دونوں اہم دھاتیں کئی اور ممالک سے زیادہ مقدار میں درآمد کرتا ہے۔ اس کے ساتھ امریکا اگر دنیا میں اسلحہ فروخت کرنے والا بڑا ملک ہے لیکن اب چین بھی اسلحہ سازی کی صنعت میں امریکا کا مقابلہ کر رہا ہے امریکا کو اس معاملے میں چین اور روس سے کافی تشویش ہے

صدر ٹرمپ کی سخت پالیسوں جنگی جنون کی وجہ سے امریکی معیشت متاثر ہورہی ہے ایک طرف امریکا  کے اندر نسلی تعصب میں آضافہ ہورہا ہے اور ذہنی ہجان میں مبتلا امریکی آئے روز اپنی پبلک پر فائرنگ کر کے ایک دوسرے کو مار رہے ہیں ایسے واقعات خاص کر سکولوں میں زیادہ ہو رہے ہیں امریکہ میں گنز کلچر پروان چڑھ رہا ہے ، جس کی مخالفت میں گزشتہ آٹھ سو مکامات پر لاکھوں امریکیوں بے احتجاج کیا

امریکا کی معیشت کا یہ حال ہے کہ اس کا بجٹ 5 مہنیے اور 23 دن کی تاخیر سے منظور ہوا ہے،  اخراجات کا مجموعی حجم 1300 ارب ڈالر ہے جس میں 700 ارب ڈالر دفاع کیلئے مختص کئے گئے ہیں،  جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 61 ارب ڈالر زیادہ ہیں۔  جبکہ 65 ارب ڈالر امریکہ سے باہر فوجی آپریشن کے لئے رکھے گئے ہیں، جس کا بڑا حصہ افغان جنگ میں خرچ کیا جائیگا۔ امریکا میں اب منظور ہونے والا بجٹ کا بل 2300 صفحات پر مشتمل ہے ، جو کہ امریکہ کے لیے سراسر خسارے کا سودا ہے۔ محتاط تخمینے کے مطابق رواں مالی سال میں امریکی حکومت کو 1000 ارب ڈالر کا خسارہ ہوگا۔ نئے خسارے کا بڑا حصہ چین سے قرض لے کر پورا کیا جائیگا۔

چین کا قرض امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بانڈز کی صورت میں ہے۔  صدر ٹرمپ نے چین کے خلاف تجارتی جنگ چھیڑ رکھی ہے جس کے جواب میں چین کے سفیر نے عندیہ دیا کہ شائد بیجنگ مزید یہ بانڈز نہ خریدے۔ اگر ایسا ہوا تو امریکہ کو چین کے انکار کے بعد  نئے گاہک تلاش کرنے ہونگے تو دوسری طرف بانڈز کی فروخت کیلئےشرح سود کو مزید پر کشش بناناہوگا۔

اس ساری صورت حال اور تناظر میں دیکھا جائے تو امریکا کا بہت سارے محاذوں پر ایک ساتھ لڑنا اب اس لیے دشوار ہوتا جا رہا ہے چین اور روس تو امریکہ سے مقابلے کے لیے تیار نظر آتے ہیں جن کا اتحاد پوری دنیا کو نظر آرہا ہے اس کے علاوہ  امریکا کا پاکستان کی امداد بند کرنے کی دھمکی ڈومور کا مطالبہ ، افغان جنگ ، ایران اور شمالی کوریا پر اقتصادی پابندیاں لگانے کا حربہ بھی ساتھ ساتھ استعمال کر رہا ہے اور وہ اپنے آپ کو کسی طرح جنگ سے دور رکھنے کے لیے ایران اور سعودی عرب کو آمنے سامنے لانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے تاکہ دونوں ممالک کے اتحادی اپنے اپنے ملک کے ساتھ ہمدردی میں کھڑے ہوجائیں اور وہ باہر سے صرف تماشہ دیکھ سکے اور اسے مزید وقت کے لیے راحت مل جائے لیکن یہ امریکہ کے سارے حربے اب آخری لگتے ہیں اس کے بعد اس کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...