Wednesday, 28 February 2018

میں بھی انسان تو بھی انسان

تحریر عبدالجبار خان دریشک

یہ دنیا انسانوں سے بھری پڑی ہے ہر طرف انسان ہی انسان ہیں سٹرک پر جائیں بارزار میں ہسپتال تھانہ کچری پارک میلے چوک چوہارہے ہر طرف انسان ہی انسان ہیں۔  میں بھی انسان ہوں آپ بھی انسان ہیں۔ وہ سامنے چلنے والے بھی انسان ہیں پولیس والے ڈاکٹر استاد طالب علم مزدور کسان وکیل جج سیاست وزیر مشیر ادکار فنکار سب ہی تو انسان ہیں۔ انتے سارے انسان اور ان کے روپ اور پیشے الگ ہیں۔ اچھے کام کرنے والے نیک اعمال کرنے بھی انسان ، جرم کرنے والے بھی انسان ، چور بھی انسان ،  ڈاکو بھی انسان،  حرم کمائی کھانے والے بھی انسان جھوٹ بولنے والے بھی انسان ۔

شرک کرنے والے بھی انسان، مرنے والے بھی انسان اور مارنے والے بھی انسان، رونے والے بھی انسان ، انسان کے دشمن بھی انسان ، یتیم کا مال کھانے والے بھی انسان ، بیوہ کو ستانے والے بھی انسان ، مصوم بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے بھی انسان ، قتل کرنے والے  ، رشوت کھانے والے حق تلفی کرنے والے بھی انسان اپنوں کا خون کرنے والے بھی انسان ، بیوی بھی انسان، شوہر بھی انسان ، اولاد بھی انسان ماں باپ بہن بھائی رشتے دار دوست احباب پڑوسی بھی انسان ، مرد بھی انسان، عورت بھی انسان ، گاڑی بنانے والے بھی انسان ، گاڑی تیز بھاگنے والے اور انسان کو کچلنے والے بھی انسان ، آلودگی پھیلانے والے دونمبر چیزیں بنانے والے ملاوٹ کرنے والے رشوت کھانے والے بھی انسان ،  حرام گوشت کھلانے والے بھی انسان،  حلال گوشت کھلانے والے بھی انسان اور کھانے والے بھی انسان ،  اتنے سارے مسائل پیدا کرنے والے بھی انسان اور مسائل حل کرنے والے بھی انسان ، منافقت کرنے والے بھی انسان ، وفا کرنے والے بھی انسان ، بے وفائی کرنے والے انسان

دنیا کا امن برباد کرنے والے بھی انسان ، بمب بنانے والے بھی انسان ، خود کش حملہ کرنے والے بھی انسان ، مرنے والے بھی انسان جنازہ پڑھنے والے بھی دفنانے والے بھی انسان ، اٹیم بمب بنانے والے بھی انسان ، ایٹم بمب مارنے والے بھی انسان ، سرحدیں بنانے والے بھی انسان ، سرحدیں مٹانے والے بھی انسان ، جنگ کرنے والے بھی انسان ، جنگ میں مصوم بچے مارنے والے بھی انسان ، احتجاج کرنے والے بھی انسان ، خاموش رہنے والے بھی انسان ، شام کشمیر فلسطین افغانستان میں مرنے والے بھی انسان ، ان سب کو مارنے والے بھی انسان ، جنگ ہارنے بھی انسان ، جنگ جیتنے والے بھی انسان

الیکشن میں کھڑے ہونے والے بھی انسان ، نعرے لگانے والے بھی انسان ، ووٹ دینے کے لئے لائین میں لگنے والے بھی انسان ، ووٹ جیت کر طاقت ور بنے والے بھی انسان، حکومت کرنے والے بھی انسان ، کرپشن کرنے والے بھی انسان ، پانامہ والے بھی انسان ، اقامہ والے بھی انسان ، نااہل ہو کر گھر جانے والے بھی انسان ، توہین کرنے والے بھی انسان ، سزا دینے والے بھی انسان ، جرم قبول نہ کرنے والے بھی انسان ، مذمت کرنے والے بھی انسان ، تاج پہنے والے بھی انسان ، چاول کی پلیٹ پر لڑنے والے بھی انسان ، لاڈلے بھی انسان ، نااہل بھی انسان ،   کسی کو اہل کرنے والے بھی انسان ، اور یہ نہ منانے والے بھی انسان ، مسکرانے والے بھی انسان ، بابا رحمتے بھی انسان ، عادل بھی انسان ، تیر بلا پتنگ قلم دوات شیر لوٹا گھڑا بالٹی والے بھی انسان ، شیر ہاتھی کتا بلی چوہا لومڑی گھوڑا سانپ گدا بکری بھنس گائے  سب کو قید کرنے والے بھی انسان ، اور انسان کو قید کرنے والے بھی انسان

انسان کے کیا کیا اور کتنے روپ ہیں میرے لیے بیان کرنا ہی مشکل ہے کیونکہ میں بھی انسان ہوں اتنا یاد نہیں رکھ سکتا۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہ سب لکھتے لکھتے کسی جگہ پر کوئی نہ کوئی کردار یا وجود درندے کا ضرور آئے گا جس سے انسانوں کو خطرہ ہو پر ایسا مجھے کچھ نہیں ملا۔ کیونکہ ہم نے درندوں حیوانوں اور جانوروں کو قید کر رکھا، اور دس بیس روپے ٹکٹ ادا کر کے ان درندوں حیوانوں اور جانوروں کی زیارت بال بچوں سمت کرنے جاتے ہیں۔ ہم  خاص طور پر اپنے بچوں کو یہ دیکھانے جاتے ہیں، بچوں یہ دیکھو یہ جانور حیوان اور درندے ہیں، ان کو انسان سے خطرہ تھا تو ہم انسانون نے انہیں قید کر دیا آج ہم انسان ان درندوں اور جانوروں سے محفوظ ہیں ہم انسان ہیں ہم ہی طاقت ور اور اشرف المخلوق ہیں۔ بچارے وہ درندے پنجرے کی دوسری طرف  مصوم سی شکل بنائے بیٹھے ہوتے ہیں ہم مسکراتے ہیں ہم فخر سے کہتے ہیں یہ وہ درندے ہیں جو ہمیں نقصان پہنچاتے تھے ۔  لیکن وہی درندے ہمیں دیکھ کر دل ہی دل میں سوچتے ہوں گے کہ انسان نے درندوں کو تو قید کر دیا پر انسان آج بھی پریشان اور غیر محفوظ  کیوں ہے

Sunday, 25 February 2018

قومی شناختی کارڈ کا حصول عام پاکستانی کے لیے دشوار کیوں

تحریر عبدالجبار خان دریشک

دن کا آغاز ہوتے زندگی کی چہل پہل شروع ہو جاتی ہے،  ہر ایک فرد بس بھاگ دوڑ میں لگا ہوتا ہے سب کو جلدی ہوتی ہے کسی نے سکول جانا ہے تو کسی کو آفس ، فیکٹری ، دوکان ، ورکشاپ سب نے وقت پر اپنے اپنے کام پر پہنچانا ہوتا۔ ایک انسان سارا دن مشین کی طرح کام کرتا ہے شام کو تھکا ہارا آتا ہے تو گھر میں اسے چار پل راحت کے نصیب ہوتے ہیں۔ سورج کے آنکھیں بند کرتے ہی انسان بھی اپنی آنکھیں بند کر کے رات بھر آرام کرتا ہے اور پھر صبح ہوتے ہی وہی منظر سب جلدی میں دائیں بائیں آگے پیچھے شمال جنوب اور مشرق مغرب کی طرف دوڑ رہے ہوتے ہیں

زندگی اتنی مصروف ہوگئی ہے کہ ایک پل کا وقت نکلالنے کے لیے پہلے سے شیڈول تیار کرنا پڑتا ہے دفتر سے چھٹی لینی پڑتی ، دوکان ورکشاپ بند کرنی پڑتی ہے،  سارے وقفے خوشی اور غمی کے لمحات کے لیے نکالے جاتے ہیں۔ ہم سب اس بات کی دعا کرتے ہیں کہ ایسا کام اور مصیبت نہ آن پڑے جس سے سارے کام ایک طرف رکھ کر اس پر توجہ دینی پڑے۔ دنیاکے ترقی یافتہ ممالک سے ہٹ کر اگر ہم اپنے ملک کی بات کریں تو ہمیں بہت سارے ایسے مسائل کا سامنا رہتا ہے جس کے حل کے لیے ہمیں بہت سارا وقت برباد کرنے کے ساتھ اس پر پیسہ بھی خرچ کرنا پڑتا ہے، ہمارے ہاں زیادہ تر دشواری اور وقت کی بربادی سرکاری دفاتر میں کام کاج پڑنے پر ہوتی ہے، یا پھر بیماری اور تھانہ کچری کی وجہ سے ۔ سرکاری دفاتر میں ہمارا روز آنا جانا تو نہیں ہوتا پر جب ہوتا ہے اگلے پچھلے سارے حساب دینے پڑتے ہیں، خاص کر آپ نادرا کے دفتر شناختی کارڈ بنوانے چلے جائیں ، پاسپورٹ ، بجلی کے محکمے ، لینڈ ریکارڈ سنٹر ، گاڑی کے کاغذ بنوانے ایکسئز کے آفس سب جگہ آپ بغیر سفارش کے یا پھر مٹھی گرم کیے بغیر کام نہیں کروا سکتے

آپ کی سرکاری دستاویزات میں شناختی کارڈ سب سے زیادہ اہم اور بنیادی چیز ہے جس کی بنیاد پر آپ پاکستان کے شہری کہلاتے ہیں۔ آج کے دور میں اس کے بغیر آپ کچھ بھی نہیں، کسی کے پاس قومی شناختی کارڈ نہ ہو تو یوں سمجھیں وہ چلتی پھرتی لاش کی ماند ہیں آپ کہیں جا نہیں سکتے آپ بنک اکاونٹ ، موبائل سم ، جائیداد کی خرید فروخت ، تعلیم اور حتی کہ آپ شادی بھی نہیں کرسکتے۔

نئی صدی کے شروع ہونے سے پہلے پاکستان میں قومی شناختی کارڈ دستی بنائے جاتے تھے تھوڑی سی کاغذی کاروائی سے آپ کا شناختی کارڈ بن جاتا تھا۔ لیکن جب کمپیوٹریزڈ بنانے کا عمل شروع ہوا ہے بجائے آسانی ہونے کے اسے پیچیدہ بنادیا گیا ہے۔ نادرا کے عملہ نے عوام کے شناختی کارڈ کے حصول کو جان بوجھ کر مشکل بنایا ہوا ہے ہر تحصیل و ضلع کی سطح پر قائم نادرا سنٹرز پر علل صبح عوام کا رش جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اکثر دیہاتوں میں رہنے والے بچارے افراد سارا سارا دن لائینوں میں لگتے ہیں اور کئی دن دھکے کھاتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل خفیہ ایجنسیوں نے یہ انکشاف کیا تھا کہ دہشت گردوں اور غیرملکیوں کے قوم شناختی کارڈ عملے کی ملی بھگت سے بنائے گئے ہیں۔ جن کی نشاندہی کے بعد اکثر کو خارج کر دیا گیا تھا پر غریبوں کے نہ بنائے گئے ۔

شناختی کارڈ کے حصول کی دن بدن بڑھتی عوامی شکایات کی وجہ سے چیئرمین نادرا نے عام آدمی کا روپ دھار کر مختلف سینٹرز کا دورہ کیا بلکہ کراچی کے ایک سنٹر پر خود لائین میں لگ گئے۔ جہاں انہوں نے عملے کے ناروا سلوک کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا، اس موقع پر انہوں نے نادرا کی ایک خاتون ملازمہ اور دو افسران کو معطل کر دیا۔ چیئرمین نادرا نے اچھا کیا کہ خود چلے گئے اور اپنے عملے کی کارستانیاں خود دیکھ لیں ۔ کراچی ایک تو بڑا شہر ہے وہاں لوگ بھی پڑھے لکھے ہیں اور عوام کی میڈیا تک رسائی بھی آسان ہے لیکن دور دراز علاقے اندرون سندھ بلوچستان کے پی کے اور خاص کر جنوبی پنجاب میں صورت مزید بدتر ہے ۔ جہاں بچاری عوام سارا دن لائین میں بھوکے پیاسے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

پنجاب کا پسماندہ ڈویژن ڈیرہ غازی خان اور ڈسٹرکٹ راجن پور میں لائین کی ازیت اور عملے کے ناروا سلوک کی وجہ سے اکثر لوگوں کے پاس شناختی کارڈ ہیں نہیں میں چند ماہ قبل راجن پور کے ایک پچاس سالہ شخص پر تحریر لکھی تھی  جس کے پاس قومی شناختی کارڈ ہے ہی نہیں وہ بچارہ سارا دن لائین میں لگا رہا جب باری آئی تو اندر سے کہا گیا آپ جائیں آپ کا شناختی کارڈ نہیں بن سکتا۔ اگر اس کا شناختی کارڈ نہیں بن سکتا تو اسے تھانے میں بند کروائیں کہ یہ کون شخص ہے جس کا شناختی کارڈ ہی نہیں بن سکتا۔ ایسے ہی ایک خاتون جس کی عمر پچاس سے اوپر ہوگی اسے کہا گیا اب تک کدھر تھی اب تمہیں بے نظیر انکم سپورٹ کی رقم ملنی ہے اس لیے کارڈ بنوا رہی ہو جاؤ تمہارا کارڈ نہیں بن سکتا، اسے بتایا گیا پہلے تمہارے بچوں کے کارڈ بنیں گے تب تمہارا بنے گا۔ بھلا یہ کوئی بات ہوئی کہ پہلے بچے پیدا ہوئے تھے یا ان کی ماں عجیب منتق ہے۔ گزشتہ دونوں اسلام آباد میں پڑھنے والا راجن پور کا نوجوان راجن پور نادرا آفس چلا گیا اس نے وہاں کافی دیر لائین میں گزارا پھر باری آئی تو اسے صیح طرح گائیڈ نہیں کیا گیا اس نوجوان نے ان کی ساری ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا پر ڈال دینے کا کہا تو عملے کی دوڑیں لگ گئیں خیر سنٹر انچارچ نے نوجوان کومطمئن کر کے معاملہ ختم کروا دیا۔

قومی شناختی کارڈ کے اسی مشکل حصول کی وجہ سے آج بھی لاکھوں خواتین اپنی شناخت محروم ہیں۔ جس کی وجہ سے انہیں وراثت میں حصہ ملنے میں دشواری ہے دیگر سرکاری کاموں میں رکاوٹ ہے جبکہ 2018 کے الیکشن سر پر ہیں اور ان لاکھوں خواتین اور مردوں کے شناخت کارڈ کا عمل کیسے مکمل ہوگا۔ عوام مجبوری کی حالت میں شناختی کارڈ بنواتی ہے جبکہ مشکل حصول ہونے پر ان میں اپنی خوشی سے بنوانے کا روجھان نہیں پایا جاتا۔ چیئرمین نادرا نے خود لائین میں لگ کر صورت حال کا جائزہ لیا جس سے انہوں نے عادل بادشاہوں کی یاد تازہ کر دی، میرے نزدیک نادرا میں اتنا بگاڑ نہیں ہے جسے ٹھیک نہ کیا جاسکتا ہو۔ واپڈ جیسا محکمہ اس کے میٹر ریڈر اور دیگر عملہ سیدھا ہو سکتا ہے تو نادرا واپڈا سے زیادہ پیچیدہ نہیں

چیئرمین نادرا جہاں کراچی گئے ہیں تو ایک مرتبہ راجن پور بھی تشریف لے آئیں یہاں کی صورت حال کا بھی جائزہ لیں اور دیگر دور دراز شہروں کو بھی دیکھیں ساتھ ہی ایمان دار لوگوں پر مشتمل ایک ویجی لینس بھی بنائیں جو اچانک دورے کریں جس سے عوامی مشکل دور ہو سکے۔ سسٹم کو آن لائین کیمروں کی مدد سے مانٹر کیا جائے، نادرا کا سارا نظام کمپوٹر پر مشتمل ہے ایسا ڈیٹا بیس بنایا جائے جسے  میڈیا کے ذریعے پبلک کیا جائے ہر ماہ کتنے کارڈز کی مدت ختم ہو رہی ہے کتنے نئے بنائے گئے ہیں کتنے  " ب" فارم جاری ہوئے عوام کو ایک جگہ ساری سہولت دینے کے ساتھ عملے کی تعداد بڑھائی جائے اب جیسے راجن پور تحصیل کا سنٹر ہے یہاں عملہ کی تعداد کم ہے جبکہ تحصیل روجھان میں سنٹرنہ ہونے کی وجہ سے کام کا بوجھ یہاں زیادہ ہے۔ چیئرمین نادرا سے امید کی جاتی ہے ان ایسے چھاپے عوامی مفادات میں جاری رہیں گے، جس سے ہر پاکستانی عام و خاص کو باعزت طریقے سے شناخت مل سکے کیونکہ یہ ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے

کالم نگار عبدالجبار خان دریشک

بادشاہ کا اونٹ

تحریر عبدالجبار خان دریشک

ایک سلطنت کا بادشاہ تھا جب وہ اپنے محل سے باہر نکل کر  اپنی سلطنت میں گھومتا تھا تو اسے ہر طرف جانور نظر آتے تھے بادشاہ اپنے وزیر سے کہتا دیکھو ہر طرف جانور ہی جانور ہیں کیسے میری سلطنت میں جانور آزاد گھوم رہے ہیں بادشاہ نے وزیر سے کہا مجھے ایسے جانور بہت اچھے لگتے ہیں جو کچھ نہیں کہتے اور منہ سے کچھ آواز بھی نکالتے اس بات پر وزیر نے بادشاہ سے کہا عالم پناہ جان کی امان پاؤ تو کچھ عرض کروں بادشاہ نے کہا بولو وزیر نے کہا عالم پناہ مجھے تو کوئی جانور نظر نہیں آ رہا ہے بلکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے اتنے سارے انسانوں میں جانور پھر رہے ہوں بادشاہ نے وزیر سے کہا تم کہتے ہو یہاں سارے انسان چل پھر رہے ہیں اور مجھے انسان نہیں جانور نظر آتے ہیں تم کیسے کہے سکتے میں بادشاہ ہوں وزیر نے کہا عالم پناہ ہوسکتا ہے آپ کو دھوکا ہوا ہو یہاں تو سارے انسان ہیں بادشاہ اور وزیر کی باعث چل رہی تھی کہ بادشاہ کے ساتھ لوگوں نے بھی کہا عالم پناہ ہمیں لگتا ہے آپ کو جو نظر آ رہا ہو وہ جانور ہوں پر ہمیں جو نظر آتا ہے وہ انسان ہیں

اس بات کو لے کر بادشاہ پریشان رہا کیا کریں بادشاہ نے ملکہ کو صورت حال بتائی اور کہا کیا کریں مجھے سارے شہر میں جانور نظر آتے ہیں لیکن وزیر اور باقی لوگ کہتے ہیں وہ سب انسان ہیں بادشاہ کی ملکہ نے کہا بادشاہ سلامت آپ شہر کے مختلف چوکوں پر  جانوروں کے مجسمے لگاو دیں اس پر آپ کے وزیروں کو بھی جانور نظر آئیں گے اور آپ اپنی بات پر قائم بھی رہیں گے اگلے دن بادشاہ نے اپنے ایک خاص مشیر کو کہا کہ شہر میں مختلف چوکوں پر جانوروں کے مجسمے لگوا دو اس نے کہا بادشاہ سلامت مجسمے کون کون سے جانوروں کے ہوں بادشاہ نے کہا میرے جو سفید گھوڑے ہیں ان کے مجسمے شہر کے شمالی طرف والے چوک پر لگاوا دو میرے اونٹ کا مجسمہ شہر کے جنوبی چوک پر ایک کلیجی گھوڑے کا مجسمہ میرے باغ کے باہر لگوا دو اور اسی طرح مچھلی دربار والے راستے پر ہرن گھر کی دیوار کے پاس اور دو بطخ بھی ہوں جو باغ کی دیوار کے ساتھ رکھی ہوں

اگلے دن بادشاہ شہر میں گیا تو کہا وزیر تمہیں جانور نظر آ رہے ہیں وزیر نے کہا جی عالم پناہ جانور نظر آرہے ہیں خیر بادشاہ نے اپنی بات کسی طرح منوا لی بادشاہ جو ہوا۔ بادشاہ کی سلطنت میں دو چھوٹے بھائی ہاشم اور قاسم بھی رہتے تھے ان دونوں بھائیوں کو اونٹ کا مجسمہ بہت اچھا لگتا تھا  دونوں بھائی جنوبی چوک میں لگے اونٹ کا مجسمہ ہر روز شام کو دیکھنے جاتے اسے ہاتھ لگاتے وہاں کچھ دیر کھیلتے اور پھر گھر واپس آ جاتے ایک دن جب دونوں بھائی اونٹ دیکھنے گئے تو وہاں سے اونٹ غائب تھا بچارے بہت اداس ہوئے اور گھر کو لوٹ آئے۔ انہوں نے اپنے ماں باپ کو بتایا بادشاہ نے جو اونٹ چوک میں رکھویا تھا ہم ہر روز اسے دیکھنے جاتے تھے لیکن وہ آج وہاں نہیں ہے اسے چور لے گئے ہیں۔ ان کے ماں باپ نے کہا بیٹا اتنے بڑے مسجمے کو چور اٹھا سکتا ہے اور وہ چور کے کس کام کا خیر ان کے باپ نے کہا تم بطخ ہرن اور گھوڑ دیکھ آیا کرو انہوں نے کہا ابو وہاں بطخ بھی نہیں ہے اور ہرن پہلے کھڑی ہوتی تھی اب وہ سارا وقت بیٹھی رہتی ہے اس کی ٹانگیں نہیں ہیں باپ نے کہا تم گھوڑے دیکھ آیا کرو خیر وہ پھر ایسے کرنے لگے

ہاشم اور قاسم کے باپ نے کسی سے ایک دن پوچھا کہ شہر جنوبی چوک میں رکھا اونٹ کا مجسمہ چور لے گئے ہیں اس کا کچھ پتہ چلا اس شخص نے بتایا اسے چور نہیں لے گئے بلکہ بادشاہ نے ایک جگہ اونٹوں کا میلہ کروایا ہے وہ مجسمہ اسی جگہ بادشاہ کے نوکر لے گئے ہیں۔ ہاشم اور قاسم کے باپ نے کہا جو بادشاہ نے چوک میں اونٹ رکھنے کے لیے جگہ بنوائی اس پر پیسہ خرچ کیا وہ ایسے ہی خالی پڑی رہے گی اس شخص نے کہا ہمارا کیا ہے خالی پڑی رہے بادشاہ جانے اور اس کا کام لیکن اس نے دوبارہ کہا جناب سلطنت کی ساری چیزیں تو ہمارے لگان کے پیسے سے خریدی جاتی ہیں اس نے کہا یہ بات بادشاہ کو کون سمجھائے بادشاہ ، بادشاہ ہوتا میری تمہاری طرح عام بندہ تھوڑی

کچھ دن گزرے تو بادشاہ نے ایک میلہ شہر میں کروا جس میں کھیل تماشے تھے تو ہاشم اور قاسم بھی وہاں چلے گئے اس کھیل تماشے میں ایک اونٹ کا رقص تھا جسے ہاشم اور قاسم دیکھ رہے تھے ایک بھائی نے دوسرے سے کہا یہ وہی اونٹ ہے کیا جو جنوبی چوک پر لگا ہوا تھا ہاشم نے کہا نہیں قاسم وہ تو مجسمہ تھا اور یہ زندہ اونٹ ہے اونٹ جب رقص کر رہا تھا تو بادشاہ بہت خوش ہو رہا تھا اس دوران اسے اپنے شہر کے جنوبی چوک میں لگے اونٹ کی یاد ذرہ بھی نہ آئی جسے اس نے خود لگوایا تھا میلہ ختم ہوا ہاشم اور قاسم بھی گھر چلے گئے اگلے روز بادشاہ جنوبی چوک کی طرف گیا تو وزیر سے کہا جی وزیر تمہیں جانور نظر آرہے ہیں وزیر نے کہا جی بادشاہ سلامت مجھے بھی آپ کی طرح بہت سارے جانور نظر آتے ہیں حالانکہ وہاں جانور اونٹ کا مجسمہ بھی نہیں تھا بلکہ وزیر نے بادشاہ سے کہا بادشاہ سلامت آپ کی سلطنت کے جانور ایسے ہیں کہ کچھ بولتے ہی نہیں اس پر بادشاہ نے زور دار قہقہ لگایا اور آگے کو چل دیے

کہانی ختم

کالم نگار عبدالجبار خان دریشک

فلم میں ہیرو کی کامیابی

تحریر عبدالجبار خان دریشک

فلمیں بنانے والے اور کہانیاں لکھنے والے معاشرے کے حقیقی واقعات کو یا کسی فرد و خاندان کے حالات کو  کہانی کے انداز میں لکھ کر پیش کرتے ہیں اسی طرح کوئی فلم ساز  کہانی کی فلم بندی اس انداز میں کرتا ہے کہ وہ حقیقت ہی لگتی ہیں بعض کہانیاں مصنف تخلیق کرتے ہیں اور کچھ وہ اپنی آپ بیتی بھی بیان کرتے ہیں۔ کہانیوں اور فلموں میں ہر طرح کے کردار پیش کیے جاتے ہیں۔ لکھی ہوئی کہانی تو آگے بڑھتی رہتی ہے کرداروں میں اتار چڑھاؤ، خوشی غمی کے پہلو شامل ہوتے ہیں ۔ کہانی پڑھنے والوں کی نسبت کہانی دیکھنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور ان کہانیوں سے ڈرامے اور فلم بنا کر ہر طرح کے افراد کے لیے پیش کیا جاتا ہے فلم میں دیکھنے والوں کی پسند اور ذوق کا خیال رکھا جاتا ہے

فلم بنانے والے ہرموضوع پر فلم بناتے ہیں اکثر  فلموں میں حقیقت کی طرح پیش کرنے کے ساتھ اس میں کچھ کردار ہیرو ہیروین اور ولن کے علاوہ بھی شامل کیے جاتے ہیں اور ہر سین میں ناظرین  کی انٹرٹینمنٹ کا خیال رکھا جاتا ہیں تاکہ دیکھنے والوں کو بوریت کا احساس نہ ہو ۔  فلم میں مزاح کے علاوہ کچھ موسیقی کا تڑکا لگایا جاتا۔ کچھ لوگ فلم کو مزاح کی وجہ سے دیکھتے ہیں تو کچھ اس کی بہترین موسیقی کو پسند کرتے ہوئے فلم کو دیکھ رہے ہوتے ہیں

ہالی وڈ کی مار دھاڑ والی فلمیں چھوڑ کر بالی وڈ اور لالی وڈ کی بات کی جائے تو ان میں موسیقی اور مزاح کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ ایک ہیرو کا ہمیشہ ولن سے پالا پڑتا دونوں کی کش مکش پوری فلم میں جاری رہتی ہے۔ دونوں کا کئی مرتبہ ٹاکرا بھی ہوتا ہے موسیقی والے سین یعنی گانے ہیرو اور ہیروین کے ساتھ بھی ہوتے ہیں تو کبھی ولن کی کسی کامیابی بعد ایٹم سونگ فلم میں شامل کر دیا جاتا ہے تاکہ ولن اپنی کامیابی کو انجوائے کرے ساتھ ہی اس فلم کو دیکھنے والے بھی موسقی اور ایٹم سونگ سے لطف اندواز ہو سکیں۔ ہم اکثر فلموں میں دیکھتے ہیں ہیرو اور ولن کا جھگڑا ہیروین کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ولن نہیں چاہتا کہ ہیرو ہیروین مل جائے اور ان کا پیار امر ہو تو بس اس بات کے جھگڑے کے گرد ساری فلم کہانی چلتی ہے۔ ہیرو اور ولن دونوں ایک دوسرے پر وار کرتے ہیں لڑائی اور ایکشن سین بھی ہوتے ہیں۔

ولن زیادہ طاقت ور ہوتا اور ہیرو اتنا زیادہ طاقت ور نہیں ہوتا بلکہ ایک عام غریب آدمی ہوتا ہے فلم میں ہیرو اکثر ولن سے روپوش رہتا ہے  ہیرو شہر سے دور جنگل یا پھر کسی پہاڑی کی چھوٹی پر جا کر بسرا کرتا ہے پھر تازہ دم ہو کر ولن پر حملہ کرتا ہے تو ولن کے ایک مرتبہ ہوش اڑ جاتے ہیں۔ فلمی کردار میں ولن بہت مضبوط ہوتا ہے اور کردار کے لہذ سے اسے ہر طرح کی سپورٹ حاصل ہوتی ہے اس لیے سب ولن کا ساتھ دے رہے ہوتے ہیں ہیرو بچارہ اکیلا سب کا مقابلہ کر رہا ہوتا ہے سب اس کے دشمن بن جاتے ہیں۔ بلکہ کبھی کبھی فلموں میں ولن اپنی چالاکی سے ہیرو کے رشتے داروں اور دوستوں کو بھی ساتھ ملا لیتا ہے بعض فلموں میں کوئی دوسری لڑکی جو ہیرو سے پیار کرتی ہے لیکن ہیرو اسے پسند نہیں کرتا وہ لڑکی بھی ہیرو کی دشمن بن جاتی ہے۔ اکثر ایسی لڑکی کو فلم کے آخر میں احساس ہوتا ہے میں محبت میں ناکامی کی وجہ سے ولن سے جا ملی تھی یہ ولن تو بہت خراب انسان تھا۔ جس کا اظہار بھی کسی سین میں کرلیتی ہے ۔ خیر فلم کی کہانیاں ایسے چلتی رہتی ہیں، ولن اپنے دونمبر دھندوں کی وجہ سے دن بدن طاقت ور ہو رہا ہوتا ہے ایسا بھی فلموں میں دیکھایا جاتا ہے

خیر فلموں کی کہانیاں ایک موڑ پر اختتام پر پہنچتی ہیں۔ ایکشن فلموں میں ہیرو اور ولن کی لڑائی ہوتی ہے تو کچھ فلموں میں بچارہ ہیرو ناکام ہوتا ہے اور کہانی کا فصیلہ دیکھنے والوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن لوسٹوری فلم میں ہیرو کی کامیابی یہ ہوتی ہے پیار کے دشمن ہار مان جاتے ہیں ہیروین ہمیشہ کے لیے ہیرو کی ہوجاتی ہے۔ وہ ہیرو ہیروین کو لے کر اپنی بسائی ہوئی چھوٹی سی پر سکون دنیا میں چلا جاتا ہے۔ جہاں  پہلے وہ شہر سے دور اور ولن کی نظروں سے اوجھل پرسکون جگہ پر رہتا تھا۔

ہیروین جب ہیرو کو مل جاتی ہے تو فلم کا اختتام ہوتا ہے فلم دیکھنے والے سب خوش ہوجاتے  ہیں کہ شکر ہے ہیرو کو ہیروین مل گئی حالانکہ فلم کی کہانی میں ہیرو کو ہیروین ملنی ہی تھی پھر بھی سب دیکھنے والے دل سے دعا کر رہے ہوتے ہیں اللہ کرے ہیرو کو ہیروین مل جائے۔ کہانی فلمی ہی سہی پر سب کو ہیرو کی کامیابی پر حقیقی خوشی ہوتی ہے۔ اب اگر کسی ہیرو کو حقیقت میں ہیروین مل گئی ہے۔ تو کسی کو کیوں تکلیف ہو رہی ہے لوگ کیوں فلم کے ولن بن رہے ہیں انہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ ہیرو کا بڑا مسلہ حل ہوا اب وہ کسی پہاڑی پر اپنی زندگی خوش خرم گزارے گا۔

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...