پاک بھارت تعلقات میں شنگھائی تعاون تنظیم کا مسقبل میں کردار
تحریر : عبدالجبار خا ن دریشک
پاکستان بارہ سال طو یل انتظار کے بعد شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقل رکن بن گیا اس مو قع پر وزیر اعظم میاں محمد نو از شریف نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ رکن ممالک کے ساتھ ہمارے گہر ے تا ریخی اور ثقافتی رشتے ہیں پاکستان کو مستقل رکنیت ملنے کے بعد اجلاس میں شریک سربراہان مملکت نے وزیر اعظم میاں محمدنو از شر یف کو مبارک باد پیش کی پاکستان کے علاوہ بھارت کو بھی شنگھا ئی تعاون تنظیم میں مستقل رکنیت دی گئی ہے شنگھائی تعاون تنظیم کا قیا م 2001ءمیں عمل میں لایا گیا تھا جبکہ پاکستان 2005 ءمیں اس تنظیم کا ممبر بنا تھا پاکستان 2005ء سے لے کر 2017 ء بطور مبصر کی حیثیت سے شامل رہا ہے تنظیم کا بنیا دی مقصد ممبر ممالک کے درمیان آزادنہ تجارت ‘اقتصادی تعاون ‘ فر ی ٹر یڈ زون کا قیام ‘ مشترکہ بنک اور ترقی و تعاون کے لئے فنڈز قائم کر نا ‘ سرحد وں پر کشید گی میں کمی اورسرحد پر فو ج کی تعداد کو کم کر نا ‘ ٹر انسپورٹ اور مو اصلات کے نظام کی تعمیر میں ایک دوسے سے تعاو ن کرنا شا مل ہے اب حالیہ اجلاس میں پاکستان اور بھارت کو ایک ساتھ رکنیت ملنا خطے کے امن کے لئے خوش آئین بات ہے مبصرین پاکستان اور بھارت کو رکنیت ملنے کے بعد حالا ت کے بہتر ہو نے کی طر ف دیکھ رہے ہیں لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان بہت سے معاملات ہیں کچھ عرصہ سے پاکستان اور بھارت کے سفارتی تعلقات خراب جا رہے جن میں کشید گی پا ئی جا تی ہے بھارت کنٹر ول لائین کی خلاف ورز ی کر تے ہو ئے اکثر اوقات ورکنگ باونڈری پر بلااشتعال فائر نگ اور گولہ باری شروع کر دیتا ہے اور ساتھ بھارت کی خفیہ ایجنسی را پاکستان کے اند ر ہو نے والی دہشت گردی میں ملو ث ہے جس کا واضع ثبوت را کا جا سوس کلبوشن ہے دوسری طر ف بھارت افغانستان کے ساتھ مل کر مغربی سرحد پر کشید گی پیدا کر نے کی کو شش کر رہا ہے مو جو دہ افغان حکومت اور ان کے صدر اشرف غنی بھارت کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں جب بھارت کا دل کر تا ہے وہ اسے پاکستان کے خلاف استعمال کر تا ہے جو ہر وقت پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتا ہے جبکہ پاکستان اور بھارت درمیان مسئلہ کشمیر کو لے کر کافی گرما گر می رہتی ہے بھارت عرصہ دارز سے کشمیر پر نا جا ئز قا بض ہے بھارت مصوم کشمیری مسلما ن پر فوج کشی کر کے ظلم کر رہا ہے بھارت مسئلہ کشمیری کے حل کے لئے مسلسل فرار اختیار کر رہا ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر کے پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں پر نا جا ئز ڈیم تعمیر کر کے پاکستان کے حصے کا پا نی روک رہا ہے اب دونوں مما لک ایٹمی قوت کے حامل بھی ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ مستقل رکنیت ملنے کے بعددونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آتی ہے کہ نہیں پاکستان کا ہمیشہ سے مو قف رہا ہے کہ ہمسایوں سے بہتر تعلقات استوار کےے جا ئیں جبکہ رکینت ملنے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمسایوں سے بہتر تعلقات کے لئے پانچ سال کا معاہدہ کریں گے اور تما م حل طلب مسائل کا حل سفارتی سطح پر نکانے کی کوشش کریں گے لیکن بھارت مسلسل ہڈ دھر می اور انتہا پسندی کا مظاہر ہ کر رہا ہے بھارت خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کی بجا ئے اپنے دفاعی بجٹ میں مسلسل آضافہ کر تا جا رہا ہے اور مختلف ممالک کے ساتھ اسلحہ کی خر ید ار ی کے معاہدوں میں کو مزید بڑھا رہا ہے بھارت روان سال میں فرانس روس اور اسرائیل سے 200ارب روپے کے ہتھیا روں کے معاہدے کیے ہیں جبکہ سالانہ دفا عی بجٹ میں دس فیصدآضافہ کر رہا ہے بھارت اپنی قو می آمد نی کا 13 فیصد جنگی اور دفاعی مقصد پر خرچ کر رہا ہے بھارت کی دنیا میں زیادہ اسلحہ خر ید نے والے ممالک کی فہر ست میں شا مل ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارت شنگھا ئی تعاون تنظیم کے چارٹر پر کتنا عمل کر تا ہے جس میں خاص کر ہمسا یوں سے بہتر تعلق قا ئم کر تے ہو ئے سرحد وں پر کشید گی کو کم کر نا شامل ہے ساتھ ہی ہتھیاروں کی دوڑ کو کب بر یک لگا تا ہے کیونکہ بھارتی وزیر اعظم نر یند مو دی رواں سال جو لا ئی میں اسرائیل کا دورہ کر نے جا رہیں جس میں امکان یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیل سے ماضی کی طر ح مز ید اسلحہ کی خر ید ار ی کے معا ہد ے کر سکتے ہیں اب ادھرتنظیم کے رکن مما لک چین اور روس ایک الگ بلاک تشکیل دے رہے ہیں جس میں وہ یور پ کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کے خواں ہیں اور ایران کو بھی رکنیت دینے کے بارے غور خواص کر رہے ہیں اب اس تنظیم میں جہاں امر یکہ مخالف ممالک شامل ہیں وہیں پر امر یکہ کے اتحادی ممالک بھی شا مل ہیں جن میں پاکستان بھارت اور خاص کر افغانستان جس میں بھی ہزاروں امر یکی فو جی مو جو د ہیں ادھر چین کا ون بیلٹ ون روڈ کا منصو بہ بھی خطے کی تر قی میں ایک سنگ میل ہے جس میں سب سے زیادہ اہمیت پاکستان کو حاصل ہے اب پاکستان کی مغربی اور مشرقی سرحدوں پر کشید گی بر قرار ہے اور حالیہ کچھ دو نوں سے ایر ان کے ساتھ بیان باز ی اور سرحدی کشیدگی کا سلسلہ بھی جا ری ہے اب کیا چین اور روس پاکستان اور دیگر مما لک کے درمیان حالت کو بہتری کی طر ف لا نے میں اپنا کر دار ادا کر یں گے کیا واقعی شنگھائی تعاون تنظیم تمام رکن ممالک کو چارٹر پر پا بند رکھنے میں کامیاب رہیں گے یہ تو آنے والا وقت بتا ئے گا پر سارک ممالک کی تنظیم بھی اس سلسلے میں ناکام ہو ئی ہے جس کی اصل وجہ بھارت ہے جو ہر فور م پر مذکر ات سے فرار اختیار کر تا ہے بھارت کے چین کے ساتھ بھی تعلقات خراب ہیں جس کے بعد روس کی اہمیت معاملات کو حل کرانے میں اہم ہو جاتی ہے اگر ان تمام معاملات اور تنا زعات کو سفارتی سطح پر حل کیا جا ئے تو خطے میں منڈ لا تے جنگ کے بادل جھٹر سکتے ہیں اور خطے میں امن کی فضاء قائم ہو سکتی ہے
Tuesday, 13 June 2017
پاک بھارت تعلقات میں شنگھائی تعاون تنظیم کا مسقبل میں کردار تحریر : عبدالجبار خا ن دریشک
Thursday, 8 June 2017
مسئلے کا حل اس بائکاٹ میں ہے
مسئلے کا حل اس بائکاٹ میں ہے ۔۔۔۔
تحریر : عبدالجبار خان دریشک
گز شتہ دونوں سوشل میڈیا پر پھلوں کی خریداری کے با ئےکاٹ کی مہم چلائی گئی تین دن کا یہ با ئےکاٹ پھلوں کی نا جائز قیمتوں میں کمی لانے کے لئے کیا گیا تھا ہمارے ملک میں ماہ رمضان کے شروع ہو نےسے قبل ناجائز منا فع خور ذخیرہ اند وزی شروع کر دیتے ہیں اور اس مقدس مہینے کو کما ئی سیزن سمجھتے ہوئے روزہ داروں کو لو ٹنا شر وع کر دیتا ہے تین دن کے اس عوامی بائیکاٹ کی وجہ سے پھلوں کی قیمتوں میں خاطر خو اہ کمی دیکھنے میں آئی ہے عوامی حلقوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ یہ بائیکاٹ کافی حد تک کا میا ب رہا اور عوام کو اپنے حق کے لئے ایسے کی متحد ہ ہو نا چا ہیے لیکن اس با ئیکاٹ کے ختم ہو تے ہی قیمتیں دوبار ہ اسی رو ٹین پرلو ٹ آئےں اور آہستہ آہستہ قیمتوں میں آضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اس مسئلے کا حل عوامی نظر میں با ئےکاٹ ہے جن سے قیمتوں کو کم کروایاجا سکتا ہے دراصل یہ ایک عارضی حل ہے اس کے دو راستے ہیں ایک توحل حکو مت پاس ہے دوسراخود عوام کے پاس ہے حکومت و ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان نا جا ئز منافع خوروں کی گردن پر ہاتھ ڈالے اور بجا ئے غر یب ریڑھی والوں کو جر مانے کرنے کے ان آڑھتوں پر اپنی گرفت مضبوط کرے جو منڈی میں بیٹھ کر پل بھر میں لاکھوں کما لیتے ہیں شہر میں چند ایک سستے رمضان بازار لگا نے سے پور ے شہر کو اس کا فائد ہ حاصل نہیں ہو تا اب جن شہر وں کی آباد ی لاکھوں میں ہے وہاں یہ بازاراتنی بڑی آبادی کی ضروریات کو پو را نہیں کر سکتے اب ہر صوبے میں اور ہر شہر میں تو ایسے رمضان بازار مو جو د نہیں ہیںدوسری طر ف زیادہ تر آبا دی دیہا توں میں رہا ئشی پذیر ہے جو اس سہولت سے فائد ہ حاصل نہیں کر پا تے ہیں بات گھو م کر دوبارہ ریاست کے پاس آجاتی ہے کہ ان ناجا ئز منافع خوروں پر گرفت مز ید سخت کی جا ئے اب دوسرا حل عوام کے پاس ہے بجا ئے بائےکاٹ کر کے اس کا عارضی حل نکا لنےسے بہتر ہے کہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کر یں میر ی نظر میں وہ حل ہے کفا یت شعاری جس پر عمل کر تے ہو ئے ہم نہ صرف پھلوں بلکہ ضروریات زند گی کی تما م اشیا ءمیں کمی لا نے میں کا میا ب ہو سکتے ہیں جب ایک امیر اپنی گاڑی میںاپنی ضرورت سے زیاد ہ سامان مارکیٹ سے بھر کر لے جاتا ہے اورقیمتوں کی پرواہ کےے بغیرتو ما رکیٹ والے بھی ان جیسے گا ہکوں کے عا دی ہو جاتے ہیں پھر عا م غریب آدمی ان کو گاہک لگتا ہی نہیں وہ اس کے ساتھ بھی وہی رویہ اور ریٹ رکھتے ہیںجو وہ امیر آدمی سے رکھتے ہیں جو بغیر دام کم کر وائے سودا لے لیتے ہیںپر غریب کی تکر ار اور باعث اس کو نا گوار گزرتی ہے وجہ یہ ہے کہ اس کا سودا بڑے لو گ وافر مقد ار میں لے جا تے ہیں اب اگر ضرورت کی اشےاءکی خرید ار ی میں کفایت شعاری سے کام لیا جائے تو دوکاندار کو اپنا مال نکا لنے کی جلدی ہو تی ہے جس سے مارکیٹ میں قیمتیںکم اور برقرار رہتی ہیں اب جب ہر چیز کی قیمتیں آسمانوں پر ہوں گی اور وہ چیز ہر عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوں گی تو معاشرے کا توازن بگڑتا جا ئے گا ان تما م مسائل کا حل بھی دو با توں میں ہے اور وہ صرف خود عوام کے پاس ہیں عوام صرف عوام نہیں جس میں پور ہ معاشرہ امیر غریب سب شامل ہیںجس میں آپ ہم اور میں سب شامل ہیں ہمیں ایک تو ان کا بائیکاٹ کر نا ہو گا جو عرصہ دارز سے ملک کو لو ٹ رہے ہیں جو ہر پانچ سا ل بعدکسی نئی لانڈری سے ڈرائی کلین کا ٹیگ لگا واکرآ جاتے ہیں اور ہم عوام ان کے عارضی میک اپ سے دھوکا کھا جا تے ہیں ہم ان کی جھو ٹی اور عارضی میٹھی باتوں میں آجا تے ہیں ہم ایک مر تبہ پھران اعتبار کر تے ہیں اور پھر پا نچ سا ل دوبارہ اذیت میں گزار تے ہیں اگر ہم ان سب جھو ٹے وعدے کر نے والوں اور عارضی ڈرائی کلین ہو کر آنے والوں کا با ئیکا ٹ کر یں تو ملکی حالات بہتری کی طر ف جا سکتے ہیں اور عوام کی حالت بہتر ہو سکتی ہے اب آتے ہیں دوسری بات کی طر ف جس کا حل ہم سب کے پاس ہے اس با ئیکا ٹ کے بعد ہم اپنے معاشرے کو خوبصورت بنا نے میں کا میا ب ہو سکتے ہیں ہر طر ف امن سکون ہو سکتا ہے جر ائم کا خاتمہ ہو سکتا ہے نا جا ئز منا فع خوری اور اس جیسی مز ید برا ئیاں ختم ہو سکتی ہیں وہ با ئیکا ٹ ہے ان شیطانی کا موں کا جس کے لئے شیطان ہر وقت ہمیں ورغلاتا رہتا ہےں وہ ہمیں لا لچ نا جا ئز منافع خوری رشوت لینے پر چوری ڈاکے اور کر پشن کر نے پر کسی کا حق مارنے پر کسی کی عز ت اچھا لنے برائی او ر زناکرنے پر اور وہی شیطان ہمیں اللہ کے قریب جانے سے روکتابھی ہے وہی شیطان ہمیں نماز ‘روزہ اور زکو اة جیسے فرائض کی ادائیگی سے بھی روکتا ہے اور وہی شیطان ہمیں ہر وقت بہکاتا اور ورغلاتارہتا ہے جس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ہر وہ برائی جنم لیتی ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے تھے جس دن ہم سب نے ان شیطانی کا موں کے با ئیکا ٹ کوکرنے میں کا میابہو گئے تواس دن کے بعد ہمیں کسی دوسرے با ئیکاٹ کی ضرورت ہی نہیں پیش آئے گی
Saturday, 3 June 2017
قاتل سٹرکیں
قاتل سٹرکیں
تحریر : عبدالجبار خان دریشک
پاکستا ن میں موصلات کا نظام دن بد ن تیزی سے ترقی کر تا جا رہا ہے خا ص کر نئی سٹر کیں مو ٹر ویز اور ہا ئی ویز بڑی تیز ی سے تعمیر ہو رہے ہیں ساتھ ہی سی پیک میں شامل روٹس پر دن را ت کا م جا ری ہے ترقی کی اس رفتار کے ساتھ ٹر یفک کے مسا ئل میں بھی آضا فہ ہو تا جا رہا ہے تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور ہر سال نئی گا ڑیو ں کی پیدار وار کی وجہ سے سٹر کوں پر بے پناہ رش میں آضا فہ ہوتا جا رہا ہے اس رش اور بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے آئے روز کہیں نہ کہیں بڑا حادثہ رونما ہو جا تا ہے جس کی وجہ سے کئی قیمتی جا نیں ضائع ہو جا تی ہیں پاکستا ن میں دہشت گر دی کی وجہ سے قیمتی جانوں کی ہلاکتوں کو بڑا سبب سمجھا جا تا ہے پر دہشت گردی سے زیادہ اموات ان ٹر یفک حادثات کی وجہ سے ہو تی ہیں دنیا میں انسانی موت کی نویں بڑی وجہ ٹریفک حادثات ہیں پاکستان میں جہاں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے انتہائی اقدمات اٹھائے گئے ہیں فوری آپر یشن شروع کر کے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے پر ٹریفک حادثات کو کم کر نے کے لئے ایسا کو ئی آپر یشن شروع نہیں کیا جا رہا ہے جس میں ان حادثات کی تعداد کو کم کر کے انسانی جا نو ں کو بچا یا جائے یا پھر جانی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے ٹریفک حادثات کی تین بنیادی وجو ہات ہیں پہلی خود سٹر کیں اگر سٹرک ٹوٹی پھوٹی ہے اس کی سائیڈوں کے ہارٹ شلوڈرز مو جو د نہیں ہیں یا بوسید ہ ہیں روڈ مارکنگ واضع نہیں ہے روڈ سائین مو جو د نہیں ہیں بناوٹ ناقص اور تعمیر میں غیر معیاری مٹیریل کا استعمال ہوہے اورلوڈنگ کی وجہ سٹرک کا بیٹھ جاتی کو ئی انجینئر نگ فالٹ ہے ٹر یفک کے بے پناہ رش کی وجہ سے سٹر ک کی چوڑائی گنجا ئش سے کم ہے یعنی دو رویہ نہ ہے ناجائز تجا وزات یہ سب تمام پہلی قسم کی وجو ہات ہیں جس سے اکثراوقات حادثات رونما ہو تے رہتے ہیں دوسری وجہ عوام ہے جن میں ٹر یفک فوانین کے بارے آگاہی کا نہ ہو نا اور آگا ہی کے با وجو د غفلت اور لا پر وہی برتنا شامل ہے ہماری سٹر کوں پر گا ڑیاں چلانے والے ڈرئیوارز قوانین اور اصولوں سے لا علم ہو تے ہیں جب ایک ڈرئیوار ٹریفک قوانین اوربنیا دی اصولوں ںسے لا علم ہو گا تو یہ ضرور کسی نہ کسی جگہ حادثے کا سبب بنے گا تیسری اہم وجہ فوانین پرمناسب عمل درآمد کا نہ ہو نا شامل ہے ہمارے ہاں موٹر ویز اور نیشنل ہائی ویز پرمو ٹر وے پولیس قوانین پر سختی سے عمل درآمد کر واتے ہوئے حادثات میں کمی لانے میں کا میاب ہو ئی ہے جبکہ مختلف سٹرکوں اور ہائی ویز پر موٹروے پولیس جیسا نظام مو جو د نہیں ہے تو وہا ں حادثات زیادہ ہو تے رہتے ہیں دوسری طر ف دن بدن گاڑیوں کی تعد اد میں بے تحاشہ آضافہ ہونے کی وجہ سے اور سٹرکیں ٹریفک کے اس بہاتے دریا کے سامنے کم ہیں جہاں پر سٹرکیں چھوڑائی کے لحاظ سے کم ہیں یا دو رویہ نہیں ہیں اور ٹر یفک زیادہ ہے تو ایسی سٹر کوں پر حادثات معمول کی بات ہیں اب اگر بنیادی ڈھانچہ سٹرک ہی کم چوڑی یا دو رویہ نہیں ہے تو اس پرحادثات کی روک تھام کے لئے قوانین پر سختی سے عمل درآمد میں مشکل پیش آتی ہے عوام کا جو از ہو تا ہے کہ جب سٹر ک اس قابل نہیں ہے تو ہمارا اس میں کیا قصور ہے پر ان حادثات میں کمی لائی جا سکتی ہے جب کہ قوانین کو سخت اور زیادہ مو ثر بنایا جانا بہت ہی زیادہ ضروی ہے ان مو جو دہ ملکی قوانین کو بین الاقوامی قوانین کی طرح زیادہ سخت بنانا ہو گااور ان پر کاربند ہو نے کے لئے بہتر حکمت عملی اپنائی جائے تو تب جا کر ان حادثات میں کمی لا ئی سکتی ہے دنیا کے تر قی یافتہ ممالک نے حادثات اور حادثات میں اموات کو کم کر نے کے لئے مزید سخت قوانین تشکیل دیے ہیں اور پرانے قوانین میں ترامیم کرکے عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے حادثات کو کافی حد کنٹرول کر لیا ہے اور اموات کی تعداد کم سے کم کی تعداد پر لانے میں کامیاب ہو ئے ہیں برطانیہ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور غفلت برتنے کی صورت میں سزاو ¿ں اور جرمانے کو دوگناہ کر دیا ہے مختلف نوعیت کی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں قید کی سزا چار سال سے بڑھا کر چودہ سال اور عمر قید تک لے گئے ہیں اس کے علاوہ چھوٹی غلطی پر سزا کے ساتھ بلیک پو ائنٹ بھی دیے جا تے ہیں ایک کو ڈرائیور کسی غلطی کو تاہی کا مرتکب ہونے کی صورت میں جرمانے کے ساتھ بلیک پوائنٹ دیے جاتے ہیں جو جمع ہوتے رہتے ہیں جب ان بلیک پو ائنٹس کی تعداد بارہ ہو جاتی ہے تو اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جاتا ہے اور نئے لائسنس کے لئے دوبارہ ان تما م مشکل مراحل سے گزرنا ہو تا ہے جو ایک نئے سرے سے لائسنس کے حصول کے لئے ٹیسٹ دیے جا تے ہیں اس سے ملتے جلتے اور اس جیسے قوانین دنیا کے ہر ترقی یافتہ ممالک میں مو جود ہیں گزشتہ دوسالوں کے اندر یواے ای اور سعودی عرب نے بھی ٹریفک قوانین میں ترامیم کی ہیں ہمارے ملک میں سزا اور جر ما نے کے قوانین موجود ہیں لیکن لائسنس کے حصول کے لئے ترقی یافتہ ممالک کی طر ح سخت مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا پاکستان میں حادثات کی صورت میں تعزیرات پاکستان (پی پی سی )دفعات لاگو ہو تی ہیں حادثے کی صورت میں غفلت برتنے پر 427 ت پ اگر کسی کو زخمی کیا ہے تو اس پر 337g ت پ لاگو ہوگی جس کی سزا دوسال تک ہوسکتی ہے ہلاکت کی صورت میں 320 ت پ اور اگر ڈرائیور کے پاس لائسنس نہیں تو 322 ت پ کی دفعات لگا ئی جائیں گی جبکہ کے گاڑی اورلوڈ ہو اور ٹر یفک کی روانی کو متاثر کر رہی ہے تو 341 ت پ کے تحت کاروائی عمل میں لائی جا تی ہے تیز رفتاری ون ویلنگ کی صورت میں 279 ت پ لاگو ہو گی اس کے علاوہ ملک میں موٹر وہیکل آرڈنیس 1965 اور موٹر وے ایکٹ بھی مو جو د ہے جس کے تحت گاڑیوں کی فٹنس و غیر ہ دوسری اہم چیزوں کو چیک کر تے ہو ئے کاروائی کی جاتی ہے اور گاڑی کو بند بھی کیا جا تا ہے جبکہ کم عمر ڈرائیو رز پر قوانین کے تحت لائسنس نہ رکھنے کے جرم میں کا روائی اور جر ما نہ کیا جاتا ہے پر مو قع پر مو جو د آفیسرز اس پر چائلڈ لیبر ایکٹ کے تحت کاروائی کی سفارش نہیں کر تا حالانکہ کہ پاکستان میں چائلڈ لیبر ایکٹ کو سینٹ قومی و تما م صوبائی اسمبلیوں سے پاس کرا لیا گیا ہے کسی دوکان ورکشاپ اور بھٹہ پر تو چائلڈ لیبر ایکٹ کے تحت کاروائی کی جا تی ہے پر جب ایک کم عمر ڈرائیور گاڑی چلاتا ہے تواس میں خود اس کی جا ن کو بھی خطر ہو تا ہے اور وہ دوسرں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے اب ملک میں جن شہروں اور علاقوں سے بڑے ہائی ویز گزرتے ہیں اور ان بڑے ہائی ویز پر ٹریفک کا بہاو ¿ زیادہ ہے اور اس ہائی وے یا سٹرک کو گاڑیوں کی تعداد اور رش کے مطابق ان کی چوڑائی کم ہے یا دو رویہ نہیں ہیں ان سٹرکوں پر ہونے والے حادثات کے نتیجے میں امو ات کی تعداد بھی زیادہ ہو تی ہے پاکستان کا دوسری طو یل ترین سٹر ک انڈس ہائی وے جو کہ کر اچی سے پشاور بارہ سو کلو میٹر سے زیادہ طو یل ہے جو تین صوبوں سند ھ پنجاب اور کے پی کو آپس میں ملاتی ہے جبکہ سندھ سے بلوچستان کو لنک کرتی ہے کے پی کے سے آنے والی گاڑیاں جو بلوچستان اور کوئٹہ کی طر ف جا تی ہیں اسی ہائی وے کو استعمال کر تی ہیں پر اس اہم ہائی وے کو ابھی تک چوڑا یعنی دو رویہ نہیں کیا گیا ہے انڈس ہائی وے یہ سی پیک کے مشرقی اور مغربی روٹ کے درمیان میں ہے اور اس منصوبے کا تیسرا روٹ ہے اس پر ٹر یفک کا بے پناہ رش رہتا ہے اور کراچی سے پشاور اور دوسرے شہروں کے لئے ہیوی مشینری اسی روٹ سے جاتی ہے لیکن اس پر موٹر وے پولیس تعینات نہیں اور نہ ہی ان جیسے قوانین اور عمل درآمد کا نظام موجود ہے جس کا وجہ کا فائدہ ڈرئیوارز اٹھاتے ہو ئے لاپر وہی اور غفلت برتتے ہیں اور اورلوڈنگ کرتے ہیں انڈس ہا ئی وے پنجاب کے دو اضلاع راجن پور اور ڈیرہ غازی خان سے گز ر کر جاتی ہے جو تقریباً شہری آبادی سے گزرتی ہے اب ان اضلاح میں ہر روز حادثات بھی ہو تے ہیں اور قیمتی جانے ضائع بھی ہو تی ہیں راجن پور جیسے کم آبادی والے علاقے میں ماہانہ حادثات میں شرح امو ات آٹھ سے دس افراد ہے یہاں اکثر مو ٹر سائیکل سوار تیز رفتا ر کو چیز کی زد میں آجاتے ہیں اب ان حادثات میں اکثر ڈرائیورز قانو ن کی پکڑ سے اپنی جان چھڑوا جا تے ہیں ایک تو پہلے کیس کمزور بنا یا جاتا ہے دوسرا مدعی قانونی پیچید گیوں کی وجہ سے کیس کی پیر وائی سے جلد تھک جا تا ہے تیسرا ملزم پارٹی مدعی کو مقامی اور سیاسی پریشر یا پھر کچھ لین دین پر راضی کر جا تی ہےاب ہو تا یہ ہے کہ یہ ڈرائیور سزا سے تو بچ جا تا ہے جس کو اپنے جرم کا احساس بھی نہیں ہو تا ہو نہ ہی ندامت وہ پھر کسی دن کسی اور جگہ کسی کو کچل کر ہلاک کر دیتا ہے اگر حادثات کو کم کرنا ہے اور انسان جانوں کے ضائع کو روکنا ہے تو قوانین میں ترامیم کر کے بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہو گا سٹرکوں کی حالت کو بہتر اور ان کو گنجا ئش کے مطابق رودبدل کرتے ہو ئے چوڑا اور دو رویہ کر نا انتہائی ضروری ہو گیا ہے لائسنس کے حصول کو عالمی معیار کے مطابق مکمل ٹیسٹ اور جانچ پڑتال ڈرئیوارز کے میڈیکل ٹیسٹ نفسیاتی ٹیسٹ بھی کر وائے جا ئیں سرکاری اور پر ائیویٹ سطح پر ڈرائیونگ سکولز قائم کیے جا ئیں اور ان معیار کا جائزہ لینے کے لئے ان کو وقفے وقفے سے چیک کیا جائے ان ڈرائیونگ سکولز کا معیار عالمی اصولوں کے مطابق ہو تمام موٹر سائیکل کمپنیز کو اس بات کا پابند بنا یا جائے کہ ہر موٹر سائیکل کے ساتھ ہیلمٹ بھی دیں چاہے اس کی قیمت گاہک سے ہی وصول کی جائے گاڑیوں کی مکمل جانچ پڑتال فٹنس اور ضروری سامان کو تھوڑے عرصے بعد چیک کیا جائے اور ہر بڑی گاڑی مثلاً ٹرک کو چ ٹرالر وین بس اور دیگر گاڑی میں روڈ کو نز ہر صورت میں مو جود ہو ں گاڑی خرابی کی صورت میں سٹر ک پر اینٹ رکھا کر نشاندئی کرنے کی بجائے ان روڈ کو نز سے کام لیا جائے ساتھ ہی ساماہی ششما ہی اور سالا نہ بنیا دوں پر مو ٹر وے پو لیس ‘ٹر یفک پولیس کے تمام صوبوں کے سربراہ ‘ریسکیو 1122‘نیشنل ہائی وے اتھارٹی ‘ وہیکل اینڈ ٹرانسپورٹ ‘اور وزارت صنعت و تجارت کے نما ئندوں کی ایک میٹنگ ہو جو گاڑیوں کی پیداوار اور برآمد کے فگر حادثات وجوہات نائقص اس میٹنگ میں شیئر کر یں اور ایک کمیٹی تشکیل دے کر تمام مسائل کو مد نظر رکھتے ہو ئے ایک رپورٹ اور مسائل کے حل کے لئے اپنی سفارشات تیار کر کے وزارت موصلات اور قومی اسمبلی وصوبائی اسمبلوں کو ارسال کر تاکہ ان سفارشات کی روشنی میں قوانین میں ترامیم یا نئے قوانین تشکیل دے جا سکیں اور جہاں مر مت اور تعمیر کی ضرورت اس کے لئے فنڈز جاری کر وائے جا سکیں امید کی جا سکتی ہے کہ ان اقدامات کو اٹھاتے ہو حادثات میں کمی اور جانی نقصان نہ ہو نے کی سطح پر لا یا جائے گا
Thursday, 1 June 2017
جنت کا حصول
جنت کا حصول
تحر یر : عبد الجبار خان دریشک
چاچا یہ کتا ب تبد یل کر دیں کونٹر کی دوسری طر ف کھڑا دوکاند ار جس کی عمر لگ بھگ پچاس سال سے زیادہ ہو گی وہ بچہ اس دوکا ند ار کو دوبارہ کہتا ہے چاچا ‘چاچا یہ کتاب تبد یل کر دیں دوکاندار جس کو بچہ کتا ب تبد یل کر وانے کے لئے با ر بار چاچا ‘چاچا پکار رہا تھا وہ بہت زیادہ مصروف تھا ایک تو رات ہو گئی تھی دوکان بند کر نے کا وقت بھی ہو گیا تھا دوکان بھی گا ہکوں سے کچھا کھچ بھری ہو ئی تھی دوکان بھی بہت بڑی تھی جو لگ بھگ دو تین دو کا نوں کو ملا کر بنا ئی گئی تھی جس کی تمام الماریاں کتابوں سے بھر ی پڑی تھیں اس دوکان میں تمام کلاسز کی کتا بوں کے علاوہ بیگ اور مختلف سکولز کے یو نیفار م بھی دستیاب تھے دوکان میں داخل ہو تے ہی سامنے نیچے کو سیڑھیاں نظر آتی ہیں جو اس دوکان کا تحہ خانے میں جا تی ہیں تحہ خانہ بھی سامان سے بھر نظر آرہا تھا دوکاند ار گاہکوں کا جلدی جلد ی بل بنانے اور پیسے وصول کر نے میں مصروف تھا رش کی وہ سے گاہک اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے دوکان میں بچے سکول کی کتا بوں اور کا پیوں کے علا وہ دوسری چیزین رنگ دار پینسلیں رنگ برنگے کا غذ بھی خر ید رہے تھے دو مرتبہ تو اس بچے نے دوکاندار کو اپنی طر ف متوجہ کر نے کی کو شش کی اب تیسری مر تبہ اس بچے نے ذربلند آواز میں کہا چاچا یہ کتا ب تبد یل کر دیں کا فی دیر ہو گئی ہے میں نے گھر کو جا نا ہے باہر اندھیر ا ہو گیا ہے دوکاند ار غصے میں بولا دیکھا کو ن سی کتا ب ہے بچے نے کتا ب دو کا ند ار کو پکڑائی دوکاند ار نے کتا ب کا معائنہ کیا اور بچے سے کہا یہ کتا ب تبد یلی نہیں ہو سکتی بچے نے کہا کیوں چا چا ‘دوکاند ار بولا یہ کتاب اتنی میلی ہو گئی ہے یہ تو کب لے گیا تھا بچہ دوکاند ار کی گرج دار آواز سے ذرگھبرا گیا اس کی عمر تقریباً بارہ تیرا سال ہو گی اس نے کہا چا چا میں کل آپ کی دو کان سے لے گیا تھا دو کاند ار نے کہا جا جا یہاں سے یہ کتا ب تبد یل نہیں ہو سکتی ہے میر ا وقت ضا ئع نہ کر اب جا پا س کھڑا میں یہ سارا ما جر ہ دیکھ رہا تھا اب میر ی بار تھی میں بل ادا کر نے کے بعد جلد ی سے دوکان کے باہر آیا تو بچہ اپنی سا ئیکل پر جانے کے لئے سوار ہو رہا تھا بچے کی سائیکل بہت پر انی تھی اور کپڑے بھی بہت میلے تھے جیسے کسی ورکشاپ میں کا م کر تا ہو پاؤں میں پر انی بوسیدہ سی چپل میں نے جلدی سے اس بچے سے سوال کر ڈالا یہ کتا ب آپ کب لے گئے تھے اس نے بتا یا میں کل اسی دوکان سے لے گیا تھا میں نے سوال کیا کس کلا س کی کتا ب ہے اور کون سے مضمون کی ہے اس بچے نے بتا یا یہ دوسری کلاس کی گائیڈ ہے یہ میر ی بہن کی ہے جب وہ سکول لے گئی تو استا نی نے کہا یہ کتا ب ٹھیک نہیں ہے دوسری لے آؤ جب بچے نے یہ بتا یا تو میں نے کتاب کو دیکھا آخر اس کتا ب کو ہے کیااس میں مواد کم ہے یا پھر مفاد کم ہو گا خیر یہ توپڑھانے والوں کی مرضی وہ اگر پڑھانا چا ہیں تو گا ئیڈ کے بغیر کتا ب سے بھی پڑھا سکتے ہیں بچے سے میں نے سوال کیا آپ بھی پڑھتے ہو بچے نے جواب دیا چاچا میں ورکشاپ میں کا م کر تا ہو ں کل اماں نے کتاب خر ید نے کے پیسے دیے دتھے بچہ پہلے بھی گھبرایا ہو ا تھا بس اس کے چہرے پراداسی اور آنکھوں سے آنسو ٹپکنے والے تھے وہ مجھ سے بات کرتے ہوئے اپنا منہ دوسری طر ف کر لیتا بس اتنی سی بات کے بعد اس نے سائیکل کے پینڈ ل پر پاؤں رکھا اور وہا ں سے چل دیا میں نے بھی اپنے بچوں کو مو ٹر سائیکل پر بیٹھایا وہاں سے چل پڑاراستے میں بچوں کو ایک دو کان سے آئس کر یم دلا ئی اور گھر کو نکل پڑا مجھ سارے راستے اس بچے کا خیا ل آتا رہا اور اس کی آواز کا نوں میں گھو نجتی رہی میں سو چتا رہا دو کا ند ار کو کیا فر ق پڑتا جو اس بچے سے کتا ب لے کر تبد یل کر لیتا پتہ نہیں اس کی ماں نے کتنی مشکل سے پیسے سے جوڑ کر اپنی پچی کو کتاب خرید کر دی ہو گی اب جس حساب سے اس دوکاند ار کی سیل تھی اور جتی مقدار سے اس نے وہ گا ئیڈ کمپنی سے لی ہو گئی میر ے خیال میں اس کو چالیس فیصد رعایت پر ملی ہو ں گی کاش وہ دو کاندار کتاب تبدیل کر دیتا اور اس فرمان کے مطابق جس میں دوکاند ار کو سودا تبدیل کر نے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نےفرمایا :" جو شخص کسی مسلمان کے خریدے ہوئے مال کو (واپس کرنے پر )واپس لے لے ، تواللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کےگناہ معاف فرمادے گا"۔ (ابوداؤد:3460 ، عن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ ) دوکاند ار نے اس چھو ٹے سے عمل کے بدلے گناہوں کی معافی ملنے اور جنت حاصل کرنے کو ٹھکر ا دیا اور میں سو چے جا رہا تھا یہ کتنا بد قسمت ہے اچانک میر ے ذہن میں خیا ل آیا کہ بد قسمت اگر دوکاندار ہے تو بد قسمت میں بھی تو تھا میں نے اس بچے کی مد د کیو ں نہ کی میں نے خود سے کہا کہ دو کاند ار کو برا بھلا کہے رہے ہو تو اس جنت کے ملنے کا چانس تو تمہارے پاس بھی تھا کسی کی مد د کر کے جنت ملنے کا چانس پر میں نے بھی وہ گنوا دیا کیا ہو تا جو آج اپنے بچوں کو آئس کر یم نہ لے دیتا واقعی میں بد قسمت تھا جنت پانے کا موقع میرے پاس تھا اگر ہم اپنی زند گی اور روز مر ہ کی مصروفیات کو دیکھیں تو جنت ہر وقت ہمارے ساتھ ہے ہم غور نہیں اللہ پا ک نے ہمیں غور فکر کرنے کا حکم دیا ہے پر ہم غافل رہتے ہیں تھوڑا سا اپنی روز مرہ زندگی پر ایک نظر دو ڑاتے ہیں صبح سوایر ے اذان کی آواز دن کا پہلا چانس جو ہمیں نیند سے بیدار ہوتے ہی ملتا اور نماز اور ایسے ہی دن میں پانچ مر تبہ جنت ہمارے ساتھ ہو تی ہے ہم گھر میں ہیں تو ماں با پ بہن بھائی بیوی بچے اور ہمسائے یہ سب ہمارے لئے جنت میں جانے کا ذریعہ ہیں ہم گھر سے نکلتے ہیں تو راستے میں سفر کر نے والے ملنے والے درخت پودے دفتر میں کو لیگ سا ئلین اور ماتحت دوکاند پر ہمارے گاہک اور ملازم یہ سب ہمارے لئے جنت میں جانے کا ذریعے ہیں پر ہم غور نہیں کرتے ہمیں ہر پل جنت میں پانے کا مو قع ملتا رہنا ہے پر غور نہیں کرتے ہم اپنی دھن میں مگن رہتے ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں اور چھوٹے اعمال سے ہم جنت پا سکتے ہیں ہم دوسروں کے حقوق پور ے کر دیں جیسے اللہ پاک نے حکم فر مایا اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہد ایت فرمائی ہم اپنی غفلت سے ایک تو جنت گنو ا بیٹھتے ہیں ساتھ ہی چند پیسوں کی لالچ تکبر اکڑ اپنی آنا غصے ظلم جبر کی وجہ سے دوخ کو اپنا لیتے ہیں ہم حضور پاک کے بتائے ہوئے حکا مات کے مطابق زندگی گزاریں تو یہ دنیا بھی ہمارے لئے جنت ہے اور آخر ت میں بھی جنت ہے
شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...
-
شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...
-
گدھے اور آستین کے سانپ تحریر : عبدالجبار خان دریشک میڈیامیں کچھ عرصے سے گدھوں کی خبریں گردش میں ہیں کبھی گدھا اور قصائی تو کہیں گدھوںکا ...
-
تحریر عبدالجبار خان دریشک فلمیں بنانے والے اور کہانیاں لکھنے والے معاشرے کے حقیقی واقعات کو یا کسی فرد و خاندان کے حالات کو کہانی کے انداز...