Sunday, 31 December 2017

سائنس وٹیکنا لو جی کی دوڑ میں دنیا ہم سے سو سال آگے چلی گئی  

تحر یر : عبدالجبارخان دریشک 
انسانی دما غ کا ئنا ت کی پیچید ہ ترین چیز وں میں سے ایک ہے ہم پور ی ز ند گی میں اپنی دما غی صلاحیت کو صرف چند فیصد ہی استعما ل میں لا تے ہیں اس چند فیصد کے استعما ل سے انسان نے ایجادات کر کے خود اس کو حیر انی میں مبتلا کر دیا ہے ۔دنیا میں انسان بڑھتے گئے ضروریات بڑھتی گئیں لیکن انسان کی کھوج کا عمل نہ روک سکا اور یہ سلسلہ صدیوں سے چلتا آیا ہے اور تا قیا مت چلتا رہے گا ۔ ہم زیادہ دور نہیں جا تے پچھلی صدی کی ایجا د ات کا جا ئز ہ لیا جا ئے تو ایک طر ف سابقہ نصف صدی اور مو جودہ کے چند سالوں کو دیکھیں لیں دنیا کتنی تر قی کر رگئیہے چیز یںتیز ی سے تبدیل ہو تی جا رہی ہیں آ ج کو ئی چیز انہو نی لگتی ہی نہیں ہے تو چند سال بعد اس کا وجود ہی نہیںتھا پہلے دور میں کو ئی چیز ایجا د ہوتی تواس کی ساخت اور ٹیکنالو جی تبدیل ہو نے میں وقت لگتا تھا پر اب دو تین سال میں کو ئی نا کو ئی نئی ٹیکنا لو جی متعارف ہو جا تی ہے۔ آنے والے دس سال کے اند ر دنیا یکسر تبدیل ہو جا ئے گی مو جو دہ دور کی آدھی سے زیادہ اشیاءناکارہ اور بے کا ر ہو جا ئیں گی ان کی جگہ نئی ٹیکنالوجی اور نئی اشکال کی چیز یں آ جا ئیںگی 
    دنیا کے تر قی یا فتہ ممالک پہلے بھی ٹیکنا لو جی کی دوڑاور ایجا دا ت میں ہمارے ملک سے بہت آگے تھے اور وہ پہلے بھی سانئس و ٹیکنا لو جی سے بھر معا شی فا ئد ہ حا صل کر رہے تھے اور آ ئند ہ چند سالوں میں وہ مز ید عروج پر چلیں جا ئیں گے آنے والے دور میں ایسے ممالک دنیا پر حکمر انی بر قرار رکھیں گے وہ اب بھی ہر مید ان میں خواہ وہ معیشت ہو ‘زراعت ‘تعلیم ‘ صحت ‘ صنعت‘ حتیٰ کہ زند گی کا کو ئی شعبہ ہی کیوں نا ہو ہمیں وہ بہت پیچھے چھوڑ چکے ہیں ۔ پاکستان اور پاکستا ن جیسے غریب ممالک ان کے قرض پر چلتے ہیں یا پھر ان کی استعما ل شدہ اشیاءاور ان کی ناکارہ ٹیکنا لو جی پر چلتے ہیں ۔ہماری سوچ کبھی خود سے ایجاد ات اور تحقیق کی طر ف جا تی نہیںکہ ہم نے بھی دنیا کا مقا بلہ کر نا ہے تو سائنس و ٹیکنا لو جی کے مید ان میں ترقی کرنی ہو گی ۔ لیکن ان سے قرض لے کر ان ہی کے قرض سے ان کی ٹیکنا لو جی خر ید لاتے ہیں کیا خو ب ہما ری سو چ ہے ۔ترقی یا فتہ ممالک تھنک ٹینک کے ذریعے سو سوسال کی پالیسی بناتے رہے دو عالمی جنگوں میں دنیا مختلف بلاکس میں تقسیم ہو گئی معاشی طور پر مضبوط ممالک ہتھیا روں کے ساتھ زند گی کے ہر شعبے کو جد ید طر ز میں ڈھالتے رہے لیکن کسی دوسرے مما لک کاترقیکا راستہ روکنے کے لئے ان کو جنگوں ‘ باہمی جھگڑوں ‘دھشت گردی ‘ انتشا ر‘ خانہ جنگی میں دھکیلتے رہے تا کہ یہ اپنے مسائل میں الجھے رہیں نہ ہی یہ معا شی طور پر مضبوط ہوں گے اور نہ ہی ان کے پاس امن ہو گا جس سے انہیں سوچنے کا مو قع ہی نہیں ملے گا ۔ اور یہ ممالک تمام تر ضروریات اسلحہ سے لے کر خوراک تک اور قرض سے لے کر امد اد تک ان کے محتا ج رہیں گے ۔ آج ہمارے ملک کی بھی یہی صورت حا ل ہے آج ہم ان کے قرض اور امد اد کے محتا ج ہیں وہ ہمیں قرض دے کر ہماری پالیسی بھی وہ بنا تے ہیں کہ آپ نے یہ کر نا یہ نہیں کر نا کس ملک سے تعلق رکھنا کس سے نہیں اب وقت ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے دنیا ہم سے سو سال آگے چلی گئی ہے 
     آج کے دور میںپاکستان کے اندر ہر شعبے اور نظام کو کمپیو ٹر کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے تا کہ ہرچیز کا رریکارڈ بروقت اور آن لا ئین دستیا ب ہو سکے لیکن ترقی یا فتہ ممالک یہ کام سا بقہ صدی کے اختتا م سے پہلے مکمل کر چکے تھے آج کے دور میں ہم کمپیو ٹر ڈرائیو نگ لا ئسنس کے اجر ا ءکو بڑا کارنا مہ کہتے ہو ئے نہیں تھکتے کہ اس سے ہم حادثات میں کمی لاتے ہو ئے انسانی جانو ں کو محفو ظ بنا دیں گے ۔ دوسری طر ف ترقی یا فتہ مما لک بغیر درائیو ز کے خود کارگا ڑیاں سٹر کوں پر لانے کے آخری اور حتمی مر حلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں حادثات میں 70 سے 80 فیصد کمی واقع ہو گی اور سٹر کوں پر پبلک ٹر انسپورٹ سے لے کر ذاتی گاڑیاں بغیر ڈرائیور کے دوڑیں گی ۔ چین ‘ جا پان ‘بر طانیہ ‘ فر انس ‘اور امر یکہ میں آنے دو تین سالوں میں یہ ٹیکنا لو جی عا م ہو جا ئے گی اس مقصد کے لئے برطا نیہ نے ان گا ڑیوں کو کنٹر ول کر نے کے لئے اپنی ایک 4400 میل طو یل شاہر ا کو فاسٹ وائی فا ئی کی رینج میں لانے کے لئے فا ئبر آپٹک بچھانے پر کام شر وع کر دیا ہے لیکن آنے والے چند سالوں میں ہمارا کیا ہو گا ہمارے ہم وطن جو مختلف مما لک میں با طور ڈرائیور نو کری کر تے ہیں اور ٹیکسی چلاتے ہیں وہ بے کار ہو جا ئیں گے سعودی عر ب میں خواتین کو ڈر ائیو نگ کی اجا ز ت ملنے سے تو اس پیشے سے وابستہ افر اد میںپہلے ہی تشویش پا ئی جا تی تھی لیکن خود کار گاڑیو ں کے بعد بے روزگاری اور پر یشانی میں مز ید آضا فہ ہو گا 
    اگر ہم پاکستان میں گاڑیو ں کی صنعت کی بات کر یں تو اپنی ضرورت کی تمام تر گاڑیا ں باہر ممالک سے امپو رٹ کر تے ہیں حتی ٰ کہ ان گاڑیوں کے پارٹس تک بھی۔ آج بھی ہماری سٹر کوں پر 1980 کے ماڈل کی گاڑیاں چل رہی ہیں ہم جا پان اور دیگر ممالک سے پر انی گاڑیاں خر ید کر بڑے فخر سے کہتے ہیں یہ جا پانی گاڑی ہے وہ ممالک اپنی پر انی گاڑیاں ہمیں دیتے جا رہے ہیں اور خود ایک نئی ٹیکنا لو جی پر شفٹ ہو رہے ہیں وہ ہا ئی برڈ گا ڑیوں سے خود کار اور بغیر ایند ھن کے الیکٹر ک گاڑیوں پر اپنا ٹر انسپورٹ کا نظام منتقل کر رہے ہیں دنیا کے ترقی یا فتہ ممالک 2030 تک تقریبا ً ایندھن کی مشکل سے آزاد ہو جا ئیں گے دنیا میں بڑی تیز ی سے الیکٹر ک گاڑیوں پر کا م ہو رہا ہے جن میں ایسی بیٹر ی استعما ل کی جا ئے گی جو صرف چند منٹ چار ج ہو نے کے بعد تین سو کلو میٹرسے بھی زیادہ سفر کر سکیں گی ۔ برطانیہ ‘فر انس ‘ چین تیل کی مشکل سے نکلنے کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ بھارت تک نے بھی اس ٹیکنا لو جی پر کا م شروع کر دیا ہے ۔ لیکن اس وقت تک ساری دنیا کا کباڑ ہمارے پاس جمع ہو جا ئے گا جیسے ہمارے ہاں کمپیو ٹر ز کا بڑا کباڑ مو جو د ہے جو ہم نے خوشی سے ان کے استعمال شدہ کمپیو ٹر خر ید کر جمع کر تے رہے ہیں ۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ ہم اپنی زمین سے تیل کے ذخیر ے نہ نکال سکے ۔ اور دنیا انہیں ختم کر کے کسی اور طر ف جا رہی ہے 
    پوری دنیا میں خود کار نظام مشینوں اور ربوٹس سے کا م لیا جا رہا ہے جو انسا نوں سے بہتر اند از میں جلد کا م کو مکمل کر لیتے ہیں بڑی تیز ی سے مصنو عی ذہانت پر تحقیق ہو رہی ہے جس میں سائنس دان کا فی حد تک کا میا ب ہو چکے ہیں ۔انسان اپنے سارے کا م کا بوجھ آہستہ آہستہ ربوٹس پر ڈال دے گا کو ئی بھی انسان ایک مخصوص آلہ سر پر لگا ئے گا اور کو ئی بھی کا م کا حکم صرف ذہن میں دے گا ربورٹس اس پرعمل شروع کر دیں گے ۔ہالی وڈ کی فلمیں اب حقیقت میں تبدیل ہو نے والی ہیں دنیا میں بڑی تیز ی سے ربوٹیک اور مصنو عی ذہانت کی ٹیکنا لو جی پر کا م ہو رہا ہے دبئی میں تو مصنوعی ذہا نت کی وزارت قا ئم کر دی گئی ہے دبئی میں ربوٹس پو لیس اور اڑنے والی ٹیکساں بھی آچکی ہیں ہمارے دوست ملک چین نے ربوٹ جج بنا دیے ہیں جو عام نو عیت کے مقد مات کی سما عت کر کے فیصلہ سنا رہے ہیں لیکن ہمارا کیا ہو گا ہم تو بچوں کا کھیلو نا ربوٹ بھی نہیں بنا سکتے وہ بھی چا ئینہ سے لیناپڑتا ہے 
    ہم کہنے کوکہے دیتے ہیں ہمار ا ملک ایک زرعی ملک ہے اور زراعت کے شعبہ معاشی نظام میں ریڑ کی ہڈی سمجھا جا تا ہے پر ہم اس ریڑکی ہڈ ی تو ڑ چکے ہیں ہم شرمند ہ کیسے نہ ہوں ٹماٹر ‘ پیاز ‘ ادرک‘ اور پھل چا ئنہ سے امپورٹ کر رہے ہیں اس کے ساتھ ہم یہ بھی دعوا کر تے ہیں کہ اپنی زراعت کو جد ید خطوط پر استو ار کر رہے ہیں ہم اپنے کسان کو لیز ر لیو ل مشین اور ڈریپ ایرگیشن سسٹم لگا کر دے رہے ہیں ۔ لیکن دوسری طر ف ترقی یا فتہ ممالک اس شعبہ میں بھی ہم سے بہت آگے چلے گئے ہیں ان مما لک میں ربوٹس کسان اور ڈر او ¿ن کو فصلوں کی بہتری کے لئے استعما ل کیا جا رہا ہے اس طر ح کے جد ید نظام سے فصل کی خوراک پانی اور بیماری سب کو پہلے سے بھانپ لیا جاتا ہے جس سے وقت کی بچت کے ساتھ پیداوار میں بھی آضا فہ ہو تا ہے ہمارے ہاں روایتی طریقہ کاشت ہے ہم ایک ایکڑ سے وہ پیداوار حاصل نہیں کر سکتے وہ اس کے کہیں زیادہ تھو ڑے سے زمین کے ٹکڑے سے حاصل کر لتیے ہیں ۔اب تو کسی بڑے حال میں گرین ہاوس اور جد ید قسم کے پنگ ہاوسز میں فصلیں کا شت کی جارہی ہیں ۔ اب تو مٹی کے بغیر خاص قسم کے محلو ل میں فصل کا شت کی جا تی ہے جو بکس بنا کر ان میں پو دے لگا ئے جاتے ہیں اور اس محلو ل میں مچھلیا ں پا لی جا تی ہیں جس سے پا نی کی 90 فیصد بچت ہو تی ہے اور مچھلیاں الگ سے پل جا تی ہیں ۔وہ ممالک خوراک میں خود کفیل ہو رہے ہیں اور ہمارے ہاں خوراک کی مسلسل کمی ہو رہی ہے وہ گوشت کو پیداوار میں کمی کی صورت میں مصنوعی گوشت تیار کر نے پر کا م کر رہے ہیں 2013 ءمیں پو لینڈ کے سائنس دان اس میں کا فی حد تک کا میا ب ہو چکے ہیں 
اکیسویں صدی کی دوسری دہا ئی بھی ختم ہو نے والی ہے ہم کسی طور پر بھی دنیا کا مقا بلہ نہیں کر سکتے ہم اب بھی پچھلی صدی میں مو جو د ہیں ہم تو صرف اپنا جمہوری نظام اور نظام عدل کا ڈھانچہ ٹھیک نہ کر سکے جو کسی بھی ملک کے ابتداءسے ہی بہتر ہو جاتا ہے ۔ہم آنے والی نسلوں کو مسائل ہو پر یشانی دے کر جا ئیں گے جس میں مزید آضا فہ ہو تا جا ئے گا اور وہ اپنی پر یشانی اپنی آگے والی نسل میں بمعہ منافع منتقل کر دیں گے وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے سو چنے اور غور کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے 

کالم نگار عبدالجبار خان دریشک ایم ایس ماس کمیونیکیشن ایل ایل بی تحصیل و ضلع راجن پور ,

Thursday, 28 December 2017

احوال عرس حضرت خواجہ غلام فرید

تحریر عبدالجبار خان دریشک
برصغیر کی دھرتی کے عظیم صوفی شاعر و روحانی بزرگ حضرت خواجہ غلام فرید رح  نے سات محتلف زبانوں میں شاعری کی جن کا  کلام سرائیکی زبان میں  میں زیادہ مشہور ہے خواجہ غلام فرید کا مزار کوٹ مٹھن شریف ضلع راجن پور میں ہے حضرت خواجہ غلام فرید کا عرس ہر سال 5،6،7 ربیع الثانی کو ہوتا ہے اسی سال خواجہ غلام فرید کا 120 عرس کی تین روزہ  تقریبات 5،6،7 ربیع الثانی اور انگریری کی تاریخ کے حساب سے 24 دسمبر تا 26 دسمبر 2017 تک جاری رہیں 26 دسمبر 2017 کو عرس کا اختتام ہوا تین روزہ عرس پر لاکھوں کی تعداد میں عقیدت مندوں نے شرکت کرتے ہیں عرس کے آیام میں کوٹ مٹھن شہر  میں پاؤں رکھنے کی جگہ نہیں ہوتی جس طرف نظر دوڑائیں لوگ ہی لوگ نظر آتے ہیں ابھی یہ رش بہت کم ہے جو کئی سالوں پہلے ہوتا تھا کیونکہ عرصہ دراز سے عرس میں میلے جیسے کھیل تماشوں پر پابندی لگا دی گئی ہے گزشتہ سال سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 8 لاکھ افراد عرس میں آئے اگر پابندیاں نہ ہوتیں تو اس سے دوگناہ مزید زیادہ تعداد میں زائرین آتے اسی سال بھی تقریباً 8 سے 9 لاکھ لوگ آئے اتنی تعداد میں لوگوں کا ایک شہر میں آنا تین دن کے قیام کھانا پینا رہائش تبرکات خریدوفرخت سے کوٹ مٹھن میں کاروباری سرگرمیاں عروج پر ہوتی ہیں

جبکہ اتنے تعداد میں لوگوں آمد پر انتظامات کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے سول محمکے مصرف رہتے ہیں جن میں سول ڈیفنس اوقاف محکمہ صحت ٹاؤن کمیٹی ریسکو 1122 اور دیگر محکمہ جات انتظامات میں شامل ہوتے ہیں جبکہ محکمہ پولیس کے جوان سیکورٹی کے انتظامات سنبھالتے ہیں
عرس کی سیکورٹی کے لیے پولیس 1300 اہلکار جن میں ٹریفک پولیس ضلع پولیس ایلیٹ فورس پنجاب کانسٹبلری لیڈی پولیس اور رضاکار شامل تھے  اس کے ساتھ واک تھرو گیٹ سی سی ٹی وی کیمرہ وغیرہ بھی  سیکورٹی کو بہتر بنانے کے لیے لگائے گئے تھے

کوٹ مٹھن سٹیڈیم میں پارکنگ کے انتظام کیا گیا تھا جب میں عبدالجبار خان دریشک آخری روز عرس پر گیا تو یہ سیٹڈیم موٹرسائیکلوں سے بھرا ہوا تھا جس میں اس وقت تقریباً تیس چالیس ہزار موٹر سائیکل کھڑے تھے عرس کے آیام میں زئرائین کی خدمت و سہولت کے لیے #خواجہ_فرید_فاونڈیش کے کارکنان حضوصی طور پر خدمت کے لیے معمور ہوتے ہیں سجادہ نشین خواجہ معین الدین کوریجہ کی خصوصی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے زئرائن کو ہر طرح سے آسانی پیدا کرنے کے لیے ان کی مدد کو تیار رہتے ہیں تقریباً  1000 ہزار خواجہ فرید فاونڈیشن کے کارکن مختلف ڈیوٹیاں سرانجام دیتے ہیں اس موقع پر خصوصی فریدی لنگر کا انتظام کیا جاتا ہے جس پر 400 کارکن فریدی لنگر کے انتظامات اور اس کی تقسیم پر ڈیوٹی دیتے ہیں 100 کارکن لنگر کی کیٹرینگ کا نظام سنبھالتے ہیں اور 100 کارکن خواجہ فرید میوزیم پر ڈیوٹی دیتے ہیں جو انتظامات کے ساتھ زائرئن کی رہنمائی کرتے ہوئے بطور گائیڈ ڈیوٹی دیتے ہوئے آنے والے وزٹر کو تاریخی معلومات سے روشناس کرواتے ہیں 200 کارکنان دربار فرید اور قصر فرید پر آنے والے مریدین کی رہنمائی اور خدمت کے لیے ہر وقت حاضر رہتے ہیں آنے والے مہمانوں مریدوں اور مشائخ کو سجادہ نشین خواجہ معین الدین کوریجہ کے چھوٹے فرزند ارجمند خواجہ علی فرید استقبالیہ دیتے ہیں اور اسی طرح ولی عہد سجادہ نشیں خواجہ روال فرید عرس کے تین دن فریدی لنگر کے انتظامات کو کنٹرول کرتے ہیں  فریدی لنگر پر ان تین دن کی تقریبات میں تقریباً 3 لاکھ سے زیادہ افراد لنگر میں شریک ہوتے ہیں اور تین دن میں 24 گھنٹے لنگر کا انتظام رہتا ہے اس کے علاوہ باہر سے آنے والوں کے لیے رہائش کا انتظام سجادہ نشین حضرت خواجہ معین الدین کوریجہ خود کرواتے ہیں کوٹ مٹھن میں قصر فرید مہمان خانوں کے علاوہ سرکاری عمارتوں اور گیسٹ ہاوس میں رہائش کا انتظام کیا جاتا ہے اور ہزاروں افراد کو مفت رہائش فراہم کی جاتی ہے

اس کے علاوہ پاکستان کی نامور سیاسی شخصیت خواجہ عامر کوریجہ اور ان کے بھائی خواجہ غلام فرید کوریجہ عرس کے آیام میں آنے والے زائرین کے لیے اپنے لنگر خانے میں حضوصی لنگر و رہائش کا انتظام کرواتے ہیں بڑی تعداد میں مریدین کی آمد کا سلسلہ ان کے پاس رہتا ہے ان کے کارکن ہر وقت خدمت پر معمور رہتے ہیں اسی طرح تین دن عرس کے آیام میں آل فرید اپنے بزرگوں کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے آنے والے ہر مرید کو عزت احترام پیار محبت خصوصی دعاؤں سے استقبال کرتے ہیں ان کے قیام طعام کا انتظام بھی کرواتے ہیں اور ہر مرید سے فرداً فرداً مل کر خصوصی دعا اور محبت دے کر رخصت کرتے ہیں
عرس میں جہاں عقدت مند دور دراز سے مرادیں پانے آتے ہیں وہیں پر کافی سارے لوگ اپنی روزی کمانے کی غرض سے آتے ہیں

اس عرس میں مجھے چند لوگ ایسے ملے جو دور رارز سے آئے ہوئے تھے ایک بندر تماشے والا اجمل اپنے بندر شارخ کے ساتھ رحیم یار خان سے آیا ہوا تھا کھلونے والا سرگودھا سے ایک مٹھائی کی ریڑھی والا چشتیاں سے خوشبو اور عطار فروخت کرنے والاجھنگ سے سندھی ٹوپی بیچنے والا کندھ کوٹ سے چھوٹا بچہ کھلونے بیچنے والا خان پور سے   پاکستان کے کونے کونے سے لوگ زیارت کے لیے آتے ہیں تو ایسے کی روزی کی تلاش میں لوگ کوٹ مٹھن دربار فرید کا رخ کرتے ہیں ایسے میلے پیار محبت کے درس کے ساتھ امن اور خوشی کا احساس بھی دلاتے ہیں دربار فرید پر کچھ عرصہ سے ناجائز پابندیاں لگائی گئی ہیں جن پر خواجہ عامر کوریجہ اور خواجہ غلام فرید کوریجہ مسلسل احتجاج کرتے آ رہے ہیں ساتھ ہی عرس پر تفریحی پروگراموں کی بندش اور پابندی کی وجہ سے شہر فرید کی مقامی آبادی کی معاشی سرگرمیوں کو بھی روک دیا گیا ہے شہر فرید کی کوٹ مٹھن کی غریب عوام اس عرس کے ایام میں اپنی روزی روٹی کما لیتی تھی جن کا سال بھر کا گزارہ چل جاتا تھا 

Friday, 22 December 2017

انتشار ملک و قوم کے مفاد میں نہیں 

تحریر. عبدالجبار خان دریشک
یہ حقیقت ہے کہ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ایک ہاتھ کا دوسرے ہاتھ شدت سے ٹکرانا اور اس ٹکراو ¿ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آواز کا چاروں طرف پھیل جانا کسی عمل اور روعمل کا نتیجہ ہی ہوتا ہے ہمارے ملک کی سیاسی صورت حال کسی بجتی تالی سے کم نہیں عمل دونوں طرف سے ہوتا ہے تو اس کی گونج پورے ملک میں سنی جاتی ہے ہماری جمہوریت بھی کسی نئے چلنے والے بچے کی طرح لٹکے جھٹکے کھا کر منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ چھوٹا بچہ جب ہچکولے کھاتے کسی چیز سے ٹکراتا ہے تو چیزوں کا نقصان کم ہوتا ہے لیکن خود اس بچے کا اپنا نقصان زیادہ ہوتا ہے بچے کو چوٹ بھی زیادہ لگتی ہے اور روتا بھی دیر تک ہے جبکہ اس کے چلنے میں کچھ وقت کا وقفہ بھی آجاتا ہے یہ سب کچھ اس کے اناڑی پن سے ہی ہوا ہوتا ہے ایسے ہی ہماری جمہوریت کے ساتھ ہو رہا ہے مسائل پہلے خود پیدا کیے جاتے ہیں جب مسائل کے نتیجے میں ٹکراو ¿ پیدا ہوتا ہے تو اپنا ہی نقصان کروانا پڑتا ہے موجودہ حکومت کی ساری مدت سیاسی کشمکش میں پوری ہونے تو والی ہے لیکن ملک میں نئی نئی روایات بھی قائم ہوتی جارہی ہیں
    موجودہ جمہوری حکمومت ہو یا سابقہ دونوں ہی سیاسی انتشار اور مسائل میں الجھی رہیں مسلسل عدالتی کیس اور کاروائیوں میں ایسے غرق ہوئیں کہ عوامی مسائل کی فکر ہی نہ رہی ساتھ ہی احتجاج دھرنوں جلسوں کا ایک نیا کلچر پیدا کر دیا گیا سیاست لڑنے جھگڑنے اور مرنے مارنے کا نام نہیں بلکہ مسائل کا حل جمہوری انداز میں گفت شنید سے کیا جانا ایک دوسرے کو برداشت کرنا ایک دوسرے کی بات سننا مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا یہی سیاست ہے اور جمہوریت کا حسن بھی، لیکن ہمارے ہاں جمہوریت کی شکل ہی بگڑتی جا رہی ہے۔ مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے سے بات چیت کی روایت دم توڑ گئی ہے جس سے سیاست دانوں کے علاوہ مختلف مکاتب فکر میں تقسیم پائی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہر کوئی اپنے مطالبات منوانے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کرنے لگا۔ سماج میں مکالمے کی روایت زندہ اور توانا ہوتی تو ایسے بہت سے المیے ہمیں نہ دیکھنے پڑتے، جو ہم ان چند سالوں میں دیکھ چکے ہیں
    ملک میں سیاسی انتشار کے نتیجے میں بڑے بڑے واقعات رونما ہوچکے ہیں جن کا خمیازہ پوری قوم کو ادا کرنا پڑا۔ دھرنوں کی ابتداءسابقہ دور حکومت میں ہوئی جس کے بعد ہر کوئی اپنے مطالبات منوانے کے لیے دھرنوں کا ہی سہارا لینے لگا۔ جس کا سلسلہ تاحال جارہی ہے حالانکہ موجودہ دور کے دھرنے ہوں یا سابقہ دور کے سب کا اختتام ہمیشہ مکالمے سے ہوا ہے اگر یہ بردباری بڑا پن پہلے دیکھایا جاتا تو نقصانات سے بچا جا سکتا تھا۔ لیکن ایسے دھرنوں کی نوبت ہی کیوں پیش آتی۔ سیاسی دھرنے تو اپنی جگہ رہے گئے اب ہر شعبے سے وابسطہ افراد اپنے مطالبات منوانے کے لیے دھرنے ہڑتالیں کر کے حکومت کے لیے جو پریشانی پیدا کرتے سو کرتے ہیں لیکن سب بڑا سے مسئلہ عام پاکستانی کے لیے بنتے ہیں۔ دھرنوں جلسوں جلوسوں انتشار ریلیوں ہڑتالوں سے عام آدمی کی زندگی کاپہیہ روک جاتا ہے اور نظام مفلوج ہو کر رہے جاتا ہے
    دھرنوں سے اقتصادی نقصانات تو ہوتے ہی ہیں لیکن ہر بار ہونے والا دھرنے ریاست کی عملداری کو بھی چیلنج کرتا ہے، جو کسی طور بھی معیشت کے لیے سود مند نہیں ہے۔حالیہ فیض آباد دھرنے کا اختتام بھی تو گفتگو سے ہو پایا لیکن اس ضد اور آنا پرستی میں جو نقصان ہوا وہ عام پاکستانی کا ہوا۔ اور ملک میں ایک نئی روایت نے جنم لیا کہ ایک طرف سے ضد تھی اور اس کے مقابلہ تشدد کا راستہ اختیار کر کے کیا گیا تو دوسری طرف اس کا بھیانک ردعمل ، اب یہ روایت چل پڑی ہے ایک نے بات ماننی ہی نہیں تو دوسری طرف تشدد اور دنڈے کے زور پر بات منوانی ہے گزشتہ دونوں ملتان کے وکلاءنے بھی کچھ ایسا ہی راستہ اختیار کیا اپنی بات منوانے کے لیے کچری میں توڑ پھوڑ کی کہا جاتا ہے ان کے مطالبات جائز تھے پر جو راستہ اختیار کیا گیا وہ غلط تھا مان لیا راستہ غلط تھا لیکن اس حد تک نوبت کیوں پیش آئی۔ فیض آباد دھرنے لانگ مارچ اور دیگر معاملات میں یہی صورت حال تھی مطالبات جائز راستہ غلط، جب مطالبات جائز ہیں تو پہلے کیوں مان نہیں لیے گئے کیوں ملک و قوم کا نقصان کراویا جاتا ہے۔ جب دھرنے دینے والے حق پر تھے تو مسئلہ مذکرات سے حل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی۔
    دھرنوں کے معاشی نقصا نا ت کے اثرات دیر تک محسوس کیے جا تے ہیںان کے ختم ہو نے کے فوراً بعد مہنگا ئی کا ایک نیا طو فان آجاتا ہے جو کبھی نہیں ختم ہو تا ہے بلکہ بڑھتا رہتا ہے ۔ 2014 میں اسلام آباد میں 126 دن کے دھرنے کے نتیجے میں معیشت کو 547 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق اس دھرنے کے سبب پاکستانی روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے قرضوں کی ادائیگی میں زیادہ رقم ادا کرنا پڑی اور منفی تاثر کے سبب سٹاک مارکیٹ میں بھی مندی سے 319 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ دھرنے کے سبب قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اضافی 35 کروڑ 76 لاکھ روپے دیے گئے ہیں جبکہ تاجر برادری نے بلیو ایریا کے کاروباری مراکز بند ہونے کے سبب 10 ارب روپے کے نقصان کا دعویٰ کیا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطا بق دھرنا دینے والی سیاسی جماعت کے 126 دن دھرنے پر 29 کروڑ 33 لاکھ 58 ہزار روپے خرچ ہوئے۔جبکہ حالیہ فیض آباد میں مذہبی جماعت کے دھرنے میں اسلام آباد پولیس کا کل خرچہ 19 کروڑ 55 لاکھ روپے آیا جبکہ میٹرو اسٹیشن کی توڑ پھوڑ اور بندش کے باعث 6 کروڑ 60 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ دھرنے کے دوران پولیس جوانوں کے کھانے پر 9 کروڑ 30 لاکھ روپے خرچہ آیا جبکہ پیٹرول پر 2 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔جڑوں شہروں میں حفاظتی اقدامات کے تحت کنٹینرز لگا نے پر 6 کروڑ روپے لگے جبکہ اسلام آباد انتظامیہ نے سیکیورٹی اہلکاروں کی رہائش کے لیے جو عمارتیں کرائے پر لیں ان پر 20 لاکھ کا خرچہ آیا۔اس کے علاوہ دھرنے کے دوران مختلف اشیا کی خرید پر بھی 15 لاکھ روپے لگے۔22 دن میٹرو کی بندش اور فیض آباد، شمس آباد اسٹیشنز کی توڑپھوڑ سے 6 کروڑ 60 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ مشتعل مظاہرین نے فیض آباد اسٹیشن پر ٹکٹنگ بوتھ، لفٹ، آٹومیٹک دروازے، کیمرے اور شیشے توڑ دیے جس نقصان کا تخمینہ 2 کروڑ روپے ہے۔ اس دھرنے کے اثرات پورے ملک پر پڑے کراچی لاہور پشاور فیصل آباد ملتان حیدرآباد اور دیگر شہروں میں دھرنے احتجاج کے نتیجے میں توڑ پھوڑ سے کرڑوں روپے کا نقصان ہوا اس کے علاوہ نااہلی کے فیصلے کے خلاف تحریک کی وجہ سے جی ٹی روڈ پر آنے والے شہر بند کیے جاتے ریے شہریوں کو تکلیف کے مالی نقصان الگ سے اٹھانا پڑا
    یہ تو وہ اعداد شمار ہیں جن کا تخمینہ لگایا گیا اس کے علاوہ عوام کا اور نقصان کیا ہوا حکومت اور ایوزیشن چار سال ایک دوسرے سے اقتدار کی جنگ میں الجھے رہے عوامی مفاد کے لیے کبھی مل بیٹھ کر بات چیت نہیں کی گئی۔ عوامی مسائل جوں کے توں رہے۔ ساتھ ہی اس کشمکش کے نیتجے میں عدالتوں اور میڈیا کو بھی اس میں مصروف رکھا گیا۔ چار حلقوں کا معاملہ اور اس کا کیس پھر پانامہ کیس اب نیب ماڈل ٹاو ¿ن اور دیگر ان جیسے معاملات کے کیس سننے میں عدالتیں مصروف ہیں اور ادھر ہمارا میڈیا بیس منٹ کے رات نو بجے کے بلٹن میں یہی سیاسی انتشار تشدد کوٹ کچری سخت لہجے والی پریس کانفرنس گالم گلوچ پر مشتمل جلسے میں خطابات ہی دیکھتا ہے عوامی مسائل کی جگہ ہی نہیں بچتی۔ میڈیا کی سیاسی کوریج کی وجہ سے عوامی مسائل ارباب اختیار تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔
    حالیہ ملکی صورت حال سیاسی طور پر بگڑتی جا رہی ہے نئے اتحاد بنتے جا رہے سینٹ الیکشن سے پہلے استعفے یا کوئی اور دھرنہ ہونے کے امکانات ظاہر کیے جاتے ہیں۔الیکشن 2018 میں ہوں گے یا کوئی اور سیٹ اپ تیار کیا جائے گا ادھر نااہلی کے بعد ایک اور تحریک چلانے کا پلان تیار کیا جارہا جو سوائے وقت کی برباد کرنے کے اور کچھ نہیں ہوگا ۔ہم سب کو یقیناً غور کرنا ہوگا کہ ہماری آنا پرستی تکبر پر مبنی رویے انتشار کو دعوت دیتے ہیں ایک دوسرے کو تحمل سے سن کر ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہوئے مسائل کا حل باخوبی نکلا جا سکتا کہ کسی سے زیادتی بھی نہ ہو اور معاملات بھی خوش اسلوبی حل ہو پائیں۔ ہر مکاتب فکر عام پاکستانی اور خاص کر سیاست دانوں کو حالات کی سنگینی کا اندازہ کرنا چاہئے کہ پاکستان کس قدر اندرونی اور بیرونی سازشوں کا شکار ہے اور پاکستان میں کسی بھی نوع کا انتشار وطن عزیز کے دشمنوں کی راہ آسان کرے گا اور یقیناً کوئی بھی پاکستانی ایسا نہیں چاہئے گا۔

کالم نگار عبدالجبار خان دریشک ایم ایس ماس کمیونیکیشن ایل ایل بی تحصیل و ضلع راجن پور 

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...