Tuesday, 12 September 2017

بیٹی اللہ کی رحمت   

 
تحر یر : عبدالجبار خان دریشک 
اللہ پا ک نے ہمیں بے شما ر نعمتیں عطاءفر ما ئی ہیں وہی پاک پرور دگار ہمیں بے حساب اور بن ما نگے بھی دیتا ہے وہ ہرلمحہ کسی نا کسی صورت میں اپنی رحمتوں اور برکتوں سے ہمیں نو ازتا رہتا ہے ہم اس پاک ذات کا جیتا شکر ادا کر یں کم ہے اگرہم ایک پل کے لئے اپنے اردگرد نظر دوڑیں تو ہر طر ف اللہ پاک کی رحمتیں اورنعمتیں ہی نظر آئیں گی اللہ پاک کی یہ عطائیں کسی بھی صورت ہوسکتی جن کو ہم اپنے اردگرد محسوس کر سکتے ہیں چاہے ہماری صحت ہو علم ہودھن دولت گھر شان وشوکت ہو یا پھر اولاد رشتے ناتے سب اپنی اپنی ہمارے لئے اہمیت رکھتے ہیں اور یہ ہمارے لئے رحمت ہیں ان سب میں سے پیاری چیز اولاد ہے جو پاک پر ودگار کی خاص عطاءہے اللہ پاک نے اولاد میں دو درجے رکھے ہیں یہ دونوں درجے ایک سے بڑھ کر ایک ہیں ان میں سے ایک درجہ نعمت کا ہے اور دوسر رحمت کا یعنی بیٹا نعمت ہے تو بیٹی رحمت اور اللہ پا ک جسے چا ہتا ہے نعمت سے نو ازتا ہے اور جسے چا ہتا رحمت سے نو از تا ہے اور جسے چا ہتا یہ دونوں عطاءفر ما دیتا ہے اور کسی کو ان دونوں میں سے کچھ بھی نہیں دیتا یہ بھی اس پاک ذات کی حکمت ہے قرآن پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے ”آسمان اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کے لئے وہ جو چا ہتا ہے پیدا کر تا ہے جسے چا ہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے جسے چا ہتا ہے بیٹے دیتا ہے یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دو نوں عنا یت فرماتا ہے جسے چا ہتا ہے بے اولا د رکھتا ہے وہ جاننے والا اور قدرت والا ہے (الشوریٰ)اب جبکہ خود اللہ پاک نے فر ما دیا ہے کہ فیصلے کا اختیار اس کے پاس ہے پر افسوس کا مقام یہ کہ ہمارے معاشر ے میں اس بات کی فرما ئش اور آرزو کی جا تی ہے کہ پہلے بیٹا ہی پیدا ہو اور بیٹی کی پیدا ئش پر منہ بنا لیا جا تا ہے اور بیٹی پیدائش پر اتنی خوشی نہیں منا ئی جا تی جتنی بیٹے کی پیدا ئش پر منا ئی جا تی ہے اور یہ کہاجاتا ہے کہ ہائے بیٹا پیدا ہو جا ئے تو ہمارا چشم چرغ ہمارا وارث اور ہمارے بعد کو ئی ولی عہد آجا ئے گا اور ایسے بہت کم ہی ہوں گے جو بیٹی کی خواہش کرتے ہوں گے اکثر شادی شدہ جوڑوں اور ان کے گھر والوں کی دعا ئیں بیٹے کے لئے توہوں گئی لیکن بیٹی کی دعا بالکل ہی نہیں ما نگی جا تی جس گھر میں ایک سے زیادہ بٹیا ں پیدا ہو ں توان بیٹیوں کی ماں کے ساتھ رویوںمیں تبدیلی آجا تی ہے بات دوسری شادی تشدد اور طلاق تک پہنچ جا تی ہے کہ تم نے بیٹیاں پیدا کیوںکی جب خو د اللہ پاک نے اس بارے قرآن پاک میں بتا دیا ہے تو پھر یہ جہا لت کیوں ایسی جہالت تو ہمارے معاشرے میں عام سی بات ہے لیکن اس سے بھی زیادہ بھیا نک شکلیںہمارے معاشرے میں مو جو د ہیں جو اسلام سے قبل عرب معاشرے کی جہالت میں تھیں جس میں بیٹی کے پیدا ہو نے پر اسے زند ہ دفن کر دیا جا تا تھا جب عرب کی جہالتکے اندھیرحضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے ماضی کا حصہ بن گئے اور ہر سوں اسلام کی روشنی پھیل گئی اور ایسی رسومات بھی دم توڑگئیں جب ایک مرتبہ ایک بدو نے حصور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیٹی کے زندہ دفن کرنے کا واقعہ سنا یا توآ پ کی آنکھوں سے آنسوں جا ری ہورہے تھے اس زمانے کی جہالت اور آج کی جہالت کو دیکھا جائے تو اس میں کو ئی فر ق نہیں ہے گزشتہ دونوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر نے مجھے جنجووڑ کر رکھ دیا ایک بچی کی لاش بغیر کپڑوں کے کسی نہر کے کنارے الٹی پڑی تھی اس کے ساتھ اور تصاویر بھی تھیں جس میں پٹرولنگ پو لیس کے جو ان اس لاش کو اٹھا کر کپڑے میں لپیٹ رہے تھے ساتھ کچھ تحر یر بھی لکھی ہو ئی تھی کہ یہ بچی کی لاش ہے جس کو پیدائش کے فوراً بعدنہر میں پھینک دیا گیا تھا بچی جسامت کے اعتبار سے پورے ہفتوں کی لگ رہی تھی اگر کسی نے اپنے گنا ہ کو چھپانے کے لئے ایساجرم کیا ہے تو وہ بچی اتنی صحت مند اور پورے ہفتوں کی نہ ہو تی اندازہ یہ لگا یا جا سکتا تھا کسی کے ہاں بیٹی پید ا ہو ئی اس نے اپنی جہالت کی وجہ سے نہر میں پھینک دی با قی بہتر تو اللہ پا ک کی ذات جا نتی ہے اصل حقیقت کیا ہے اب سائنس نے بڑی ترقی کر لی ہے الٹر ساونڈ جو انسا ن کی اندرونی بیماری اور عورت کے پیٹ میں بچے کی صورت حال بتا سکتا ہے اس کے ایجاد کرنے کا مقصد تو مثبت تھا کہ کسی بھی حاملہ عورت کے پیٹ میں بچے کی صورت حال کا جا ئزہ لے کر بروقت علاج کیا جاسکے لیکن اس کا بھی غلط استعمال کیا جا رہا ہے ڈاکٹر مر یض کے اسرار پر الٹر ساونڈ کے ذریعے چیک کر یہ بتا دیتے ہیں کے حاملہ عورت کے پیٹ میں بیٹا ہے یا بیٹی جن کے ہاں پہلے سے تین چار بٹیاں ہو تی ہیں وہ استقاط حمل کر واکے بچہ ضائع کر وا دیتے ہیں بیٹی کو پیدائش کے بعد زندہ دفن کرنے والے اور بیٹی کو پیدائش سے پہلے مارنے والے دو نوں جاہل بر ابر ہیں اگرماں کے پیٹ میں پرورش پانے والا بچہ لڑکی ہے تو والدین فوراً استقاط حمل کر وا لیتے ہیں جس کو وہ عا م سی بات سمجھتے ہیںاستقاط حمل کرنے والوںمیں زیادہ پر ائیو یٹ کلینک میٹر نٹی ہو م گلی محلے میں ایل ایچ وی اور دائیوں کے کلینکس پر ہو تا ہے جو چند پےسوں کی لالچ میں اس گناہ اور قتل جیسے جر م میں ان والد ین کی طر ح برابر شر یک جرم ہوتے ہیں اور ساتھ ہی اللہ پاک کی قدرت میں مداخلت بھی کرتے ہیںجسکی وجہ سے وہ اپنی دنیا اور آخر ت بھی برباد کر تے ہیں یہ بھی تو ایک قتل ہے ہم کون ہو تے ہیں کسی انسان کو دنیا میں آنے سے روکیں کیا ان کو روزی روٹی ہم نے دینی ہے اس جر م کے متعلق ہمارے ملک میں قانون بھی مو جو د ہیں پھر بھی یہ گناہ ہو رہا ہے پاکستان میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 338۔ت پ ‘کے تحت ایسا جر م کر نے والوں کے خلاف کاروائی ہو سکتی ہے جس کی سزا دس سال قید ہے لیکن اس کے برعکس دنیا میں اس بارے سخت قوانین مو جو د ہیں کسی ڈاکٹر اور ہسپتال کا عملہ ایسا کام کرنے کے بارے سوچ بھی نہیں سکتے ایسا کرتے پکڑے گئے تو ساری زندگی کے لئے لائسنس کینسل کر دیاجاتا ہے ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بیٹی کو پیدائش سے پہلے ہی ماں کے پیٹ میں ماردینا عام ہے اس لئے ان کی زیادہ تر ریاستوں میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کی تعدا د کم ہو تی جا رہی ہے اور ہر دس سال بعد 70 لاکھ لڑکیوں کی تعدا د میں کمی ہو جا تی ہے اب یہ صورت حال ہمارے ملک میں بھی شروع ہو گئی ہے حالیہ مردم شماری میں مر دوں کے مقابلے میں خواتین کی تعدا د کم ہو گئی ہے جو 1998 میں مردوں سے زیادہ تھی اس کے علاوہ بھارت نے پچھلے کچھ سالوں سے قوانین سخت کر دیے ہیں الٹر ساونڈ کرنے والوں کو سختی سے کہا گیا ہے کہ جنس کے بارے مر یض اور اس کے لا حقین کو آگا ہ نہ کر یں اسی طر ح ہمارے ملک میں بھی اس بارے قوانین کو سخت بنا نے کی اشد ضرورت ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کچھ این جی اوز جو آبادی کو کنٹر ول کرنے کا کام سرانجام دے رہی ہیں وہ اپنی کارکر دگی دیکھانے کے لئے دیہات میں رہنے والی خواتین کو استقاظ حمل کے لئے قائل کر کے ان کا بچہ استقاط حمل کر کے ضا ئع کر وا دیا جاتا ہے کچھ ڈاکٹر ز کو بھی اس بات کا ٹاسک دیا گیا ہے کہ آپ نے یہ کام کر نا ہے جس کے لئے وہ والد ین کو کہتے ہیں کے آپ کے بچے کی گروتھ ما ں کے پیٹ میں ٹھیک نہیں ہو رہی جس کے سرکی پرورش صیح نہیں ہو رہا جس کو Macro cephalic کہتے ہیں اگر بچہ پید ا ہو ا تو اس کا سر چھو ٹا ہو گا اور بچہ ِذہنی طور پر مفلوج پید اہو گا آپ بچہ ضا ئع کروا لیں جب ایک ڈاکٹر مشورہ دے رہا ہے تووالد ین اس پر ضرور عمل کر تے ہو ئے استقا ط حمل کرواتے ہیں ایسے کیس سو میں سے ایک دو فیصد ہو تے ہیں لیکن آج کل اس کے بارے میںڈاکٹرز زیادہ کیو ں بتار ہے ہیںجبکہ ہمارے ملک میں ذکا وائر یس کا کوئی کیس بھی سامنے نہیں آیا ہے اس با ت کی تحقیقا ت ضرور ہونی چا ہےی جن لوگوں نے ڈاکٹر کے مشورے پر عمل نہیں کیا ان کے بچے نارمل پیدا ہو ئے ہیں اس کا مطلب ہے کچھ دال میں کالا ہے اس کے علاوہ ڈاکٹرزہر الٹر ساوٹڈ کر وانے والوںمیں خاص کر حاملہ خواتین کا مکمل ریکارڈ رکھیںاور ان کو سختی سے ہدایت جاری کی جا ئے کہ کسی بھی صورت میںجنس کے بارے نہ بتا ئیں اور وہ خود بھی سوچیں وہ بتا تو دیتے ہیں لیکن وہ خدا کے کاموں میں بھی تو مداخلت کرنے جیسے گنا ہ کر مر تکب ہو تے ہیں استقا ط حمل کرنے والے بھی ان کرانے والوں کی طر ح آخرت میں جو ابدے ہو ں گے اور وہ لو گ جن کو اللہ پاک نے بیٹے نہیں دےے بیٹاں دی ہیں تویہ اللہ پاک کی مر ضی ہے جس کو جو دے بیٹیتواللہ کی رحمت جس کے بار ے میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے تین بٹیوں یا تین بہنوں کی پر وش کی تو وہ جنت میں میرے قریب ایسے ہو گا جیسے میں میری درمیان والی دو نوں انگلیاں ہیں کسی نے پوچھا آقا پاک کسی کی دوبٹیاں ہو ں تو آپ نے فر ما یا وہ بھی ایسے ہی میرے ساتھ ہو گا حتی کہ آپ نے تو ایک بیٹی کے بارے میںبھی یہی کچھ فر ما یاہے یہاں ایک اور بات بھی غورطلب ہے اور سمجھنے والی ہے کہ جس کسی کی اولاد چھوٹے مصوم بچوں کی صورت میں فوت ہو جاتی ہے تو وہ قیامت کے دن اپنے ماں باپ کو دوزخ کی آگ سے بچا ئیں گے اور اپنے والدین کو جنت میں لے جا ئیں گے لیکن جنہوں نے اولاد کو خود قتل کیا ہو چاہے پیدا ئش سے پہلے یا بعد میں وہ بچے تو سوال کر یں گے ہمارا کیا قصور تھا ہمیںکیوں مارا گیا کہ ہم بٹیاں تھیں ہم بیٹے نہیں تھے بیٹی کے آڑے غربت اور مہنگا ئی تھی اگر میں بیٹا ہو تی تو نہ مہنگائی ہو تی نہ ہی غربت پھر اس وقت کیا جو اب دیں گئے تمہاری شفارش کر نے والے توخود اللہ سے انصاف ما نگ رہے ہو ں گے پھر سارے اعمال اور نیکیوں کا کیا بنے گا اولاد اللہ پاک کیخاص عنا یت ہے چا ہے وہ نعمت ہو یا رحمت ہمیں اللہ کا شکر ادا کر نا چا ہےے ان سے پو چھیں جن کی کو ئی اولاد نہیں

Saturday, 2 September 2017

جمعہ ملنگ کی عید اور میڈیا ٹرانسمیشن

جمعہ ملنگ کی عید اور میڈیا ٹرانسمیشن 

تحریر.  عبدالجبار خان دریشک 

عید کے روز قربانی سے فارغ ہو کر دوست احباب اور رشتہ داروں کو گوشت کا حصہ ان کے گھروں کو پہچانے کے بعد بکرے کے سری پائے کھانے کا ارادہ تھا  خیال آیا کہ بازار میں ان کو جلا کے صاف ستھرا بنا کے ٹکڑے کردیتے ہیں اس غرض سے راجن پور بازار میں ہزاری ہوٹل کے پر گیا تو وہاں پر تین چار لوگ اپنے کام میں مکمل مصروف عمل تھے ایک لڑکا آگ میں بکروں اور گائے بیل کے سرے اور پائے جلا رہا تھا جس سے بال جلنے کی بدبو نے ہر طرف قہر مچا رکھا تھا بس پائے کھانے تھے اس لئے یہ بو نا قابل برداشت ہوتے ہوئے بھی برداشت کرنی پڑ رہی تھی وہاں ایک ادھیڑ عمر کا آدمی ایک تیز دھار ٹوکے سے بکروں اور بیل گائے کے جلے بڑے بڑے سروں کو کاٹ رہا تھا اس کی جسمانی طاقت اور تیز دھار ٹوکے کے ایک ہی وار سے سرے دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتے وہ پھر ہاتھ کی مدد سے اس سرے سے مغز یعنی بھیجا نکال کر ایک طرف رکھا دیتا بکروں اور گائے بیل سب کے دماغ یعنی مغز دیکھنے میں ایک جیسے ہی لگ رہے تھے بس سرا  جس کو عام زبان میں کوپر یا سر کہتے ہیں سر یا کوپر کسی جانور کا بڑا تھا اور کسی کا چھوٹا ان کے مغز کی بناوٹ دیکھا کر ہوبہو انسانی دماغ کے جیسی ہی لگ رہی تھی جیسا ہم مختلف میڈیکل کی ویڈیوز یا تصاویر میں دیکھتے ہیں شاید سب بڑے چھوٹے سر اور کوپر والے جانداروں کے دماغ کی بناوٹ ایک جیسی ہوتی ہو گی پر بناوٹ ایک جیسی ہوتی ہے لیکن ان میں  فرق صرف سافٹ وئیر کا ہوتا ہے اسی سافٹ وئیر میں انسانوں کا الگ سافٹ وئیر اور جانوروں کے لئے الگ سافٹ وئیر ہوتا ہے یہ قدرت کا نظام ہے یہ سافٹ وئیر ساری زندگی اس جسم کے تمام افعال کی انجام دہی میں مدد دیتا ہے اس جسم نے زندگی کیسے گزارنی ہے کیا کھانا ہے کیا کرنا ہے کیا اچھا ہے کیا برا ہے اور ایسے یہ نظام ساری زندگی چلتا رہتا ہے جب یہ سافٹ وئیر ایکسپیری ہوتا ہے تو جسم کسی کام کا نہیں رہتا ایک وقت ہوتا ہے یہ جسم محلوں میں بیٹھ کر حکمرانی کرتا یا وہی جسم ہوتا ہے اس کا سافٹ وئیر ایکسپیری ہونے بعد چند گز زمین دبا کر مٹی ہو جاتا ہے اگر کبھی اس سافٹ وئیر میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو اس سافٹ وئیر کا جسم اپنی عادات تبدیل کر لیتا ہے اگر جانور کا سافٹ وئیر خراب ہو جائے تو وہ جانور سے درندہ تو بن جاتا ہے پر وہ انسان نہیں بنتا پر جب انسان کا  سافٹ وئیر خراب ہو جائے تو وہ انسان سے جانور اور جانور سے درندہ بن جاتا ہے خیر یہ تو میں سر کے ٹکر ہوتے دیکھ کے سوچ رہا تھا میں کاونٹر پر کھڑے لڑکے کے پاس گیا اس پوچھا کتنی دیر تک تیار ہو جائیں گے اس نے کہا جناب دوگھنٹے لگیں گے آپ ٹوکن لے جائیں اور اپنا نمبر نوٹ کروا دیں ہم آپ کو دوگھنٹے تک کال کردیں گے میں وہاں سے ٹوکن لے کر چلا گیا دوگھنٹے گزر گئے لیکن اس کی کوئی کال نہ آئی میں دوبارہ اس کے ہوٹل پر گیا اس لڑکے سے پوچھا تیار ہوگئے ہیں وہ تیار شدہ شاپروں میں دھونڈنے کے بعد کہتا ہے نہیں جناب آپ کے سری پائے تیار نہیں ہوئے رش بہت تھا اس لئے لیکن مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا وہ بھول گیا تھا خیر اس نے کہا آپ پندرہ بیس منٹ یہاں ہوٹل میں بیٹھ کر انتظار کر لیں بس تیار کردیتے ہیں میں دومنٹ بامشکل ہوٹل میں بیٹھ سکا بال جلنے کی وجہ سے سانس لینے میں الجھن ہو رہی تھی ان بنانے والوں کی ہمت ہے یا اس کے اردگرد والے رہنے والے لوگوں کی اس تکلیف دینے والے گناہ میں بھی برابر کا شریک جرم تھے جو ہماری پائے کھانے کی خواہش میں اور کو مل رہی تھی میں اس بدبو اور تکلیف کی وجہ سے وہاں سے اٹھ کر باہر بازار میں ہوٹل کے سامنے ایک پٹھے پر جا بیٹھا عید کے پہلے روز تقریباً سارا بازار ہی بند پڑا تھا سوائے چند ایک دوکانوں کے آنے جانے والے بھی بہت کم تھے اسی انتظار کے دوران وہاں ایک مانگنے والا آ گیا جو پولیو  کی بیماری کی وجہ سے اپنی ٹانگوں سے محروم تھا وہ بیٹھنے کے انداز میں ہاتھ کی مدد سے اپنے دھڑ کو کھنچ کر آگے بڑھ رہا تھا عید کی وجہ سے اس نے صاف ستھر کپڑے پہنے ہوئے تھے اس نے سر پر سندھی ٹوپی پہن رکھی تھی وہ میرے پاس آیا میں نے اس کو کچھ دینے کے بعد اس سے باتیں کرنی شروع کردی اس نے اپنا نام جمعہ بتایا جو ٹھیڑی کالونی راجن پور کا رہائشی تھا جمعہ کی عمر 25 سے 30 سال کے درمیان ہوگی اس کے اور بھائی بھی ہیں اللہ کرم سے وہ صیح حالت میں ہیں جو شادی شدہ اور بال بچوں والے ہیں اس کے سب بھائی چھوٹی موٹی محنت مزدوری کرتے ہیں اس کا والد وفات پاچکے ہے یہ اپنے بھائیوں کے پاس رہتا ہے اور ایسے ہی مانگ کر اپنی زندگی کا گزارہ کررہا ہے جسمانی معذوری کی وجہ سے اس کی شادی نہیں ہو پائی ہے اس کا قومی شناختی کارڈ تک نہیں ہے میں کہا شناختی کارڈ کیوں ہے اس نے بتایا بھائی کہتا ہے کہ تم نے کونسی نوکری کرنی ہے مجھے اندازہ ہو گیا اس کے بھائی نے بھی بہانا بنایا ہوگا وہ اس لئے کہ ایک عام اور نارمل انسان کا شناختی کارڈ آسانی سے نہیں بنتا تو ایک بچارے معذور کا کیسے بن سکتا ہے پہلے نادرا سنٹر کے دھکے پھر معذوری ثابت کرنے کے لئے ڈاکٹر اور ہسپتالوں کے دھکے مزید میں نے اس پوچھا عید کیسی گزر رہی ہے اس نے کہا اللہ کا شکر ہے بس گزر ہی رہی ہے میں نے کہا صبح عید نماز پر جاتے وقت کوئی میٹھا کھایا تھا اس نے کہا ہاں سویاں کھائی تھیں میرا دوسرا سوال تھا کیا گوشت بھی کھایا ہے اس نے کہا نہیں میں نے  پوچھا کیا دوپہر کو روٹی بھی نہیں کھائی اس نے کہا کھائی ہے میں کہا کیا اس دن بھی گوشت نہیں کھایا اس کہا گوشت کے شوربے کے ساتھ روٹی کھائی ہے اس میں بوٹی نہیں تھی میں کہا کیا وجہ بوٹی کیوں نہیں کھائی اس نے کہا میرا بھائی کہیں سے مٹھی بھر گوشت لایا تھا جب وہ گھر میں پکا تو بوٹیاں تو بچوں کو ہی پوری نہیں ہوئیں ہم بڑوں نے شوربے سے ہی کام چلایا ہے جمعہ ملنگ کی یہ بات دل کو لگنے والی تھی ہم قربانی کرنے کے بعد  اپنے پیٹ اور فریزر خوب بھرتے ہیں اور پورے کا پورا بکرا کھانے کے لئے مکمل پلان تیار کرتے ہیں کہ اس کے گوشت سے کیا کیا پکاون تیار کروانے ہیں ہماری یہ مشکل بھی میڈیا نے آسان بنا دی ہے ہمیں میڈیا سب کچھ بتا اور دیکھا دیتا ہے کہ قربانی جانور کہا سے ملے گا کتنے تک کا ملے گا اس کا گوشت کتنا نکلے گا چھری تیز کدھر ہوتی ہے قصائی کا ریٹ کیا چل رہا ہے وغیرہ وغیرہ آپ قربانی سے پہلے کی ٹرانسمیشن دیکھیں اور عید کے پہلے دوسرے اور تیسرے دن کی آپ کو عید سے پہلے مویشی منڈیوں میں لے جایا جاتا ہے اس میں کمانڈو شیرو سطان پہلوان دبنگ خان دیکھایا جاتا ہے پھر عید کے دن اس شیرو سطان کمانڈو اور دبنگ کو کیسے پکاون تبدیل کر کے کھانا ہے اور خاص کر رات کے وقت کی ٹرانسمیشن میں کس شہر کے لوگ کیا پکا کے کھا رہے ہیں پورا بکرا کہا بروسٹ ہو رہا ہے ران اور سجی کہاں تیار ہورہی ہے کونسا سیاست دان کھلاڑی اور ادکار آج کے دن کونسی ڈیش کھا رہا ہے اور عید کے دن ان کی کیا مصرفیات تھیں نیوز چینلز کی ساری کی ساری ٹرانسمیشن ہوتی ہی اس پر ہے شاید جب 90 کی دہائی میں چینلز نہیں تھے تو لوگ جانور لینے کے لئے ادھر ادھر بٹھکتے رہتے تھے لوگ قصائیوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے تھے اور اکثر لوگ گوشت تو اوبال کر یا کچا ہی کھاتے تھے جناب ان بغیر بھی یہ کام ہو رہے تھے اس ٹرانسمیشن میں ان سب چیزوں کو دیکھ کر سب دیکھنے والوں کا دل بھی ان پکاونوں کی طرف مائل ہوتا ہے اور سب قربانی کے مقصد کو بھول کر پیٹ کے مقصد میں لگ جاتے ہیں معذرت کے ساتھ ہمارا میڈیا یہ نہیں دیکھاتا کہ جمعہ ملنگ جیسے کتنے اور لوگ ہوں گے جو قربانی کے دن بھی گوشت سے محروم رہے جاتے ہیں اگر کسی کو ہم دیتے بھی ہیں تو صرف چار بوٹیوں پر مشتمل مٹھی بھر گوشت جس میں سے کسی ٹانگوں والے نارمل انسان کے حصے میں بوٹیاں تو کسی جمعہ ملنگ جیسے معذور کے حصے میں شوربا مجھے وہ منظر یاد آنے لگا جس میں وہ بندہ تیز دھار ٹوکے سے بڑے کوپر(سری) پر وار کررہا تھا وہ اس کوپر سے مغز مطلب دماغ کو نکال رہا تھا  کہ دماغ سب ایک جیسے ہوتے ہیں پر ان میں سافٹ وئیر کا فرق ہوتا ہے انسانوں میں یہ سافٹ وئیر اعلی قسم کا ہے جس کی وجہ سے انسان اشرف المخوق ہے انسان کا سافٹ وئیر آٹو اپ ڈیٹ ہوتا ہے اب اس میں انسان کی مرضی ہے وہ اپ ڈیٹ میں اچھائی اور نیکی کی فائلیں ڈوان لوڈ کرے یا برائی کی اس یہ مرضی ہوتی ہے پر اچھائی اور برائی کی اپ دیٹ اس کے اپنے اختیار میں ہوتی ہے وہ جس کو ڈون لوڈ کرے ہم میڈیا پر ان سب چیزوں کی دیکھائی جانے والی اپ ڈیٹ کو اگنور بھی تو کر سکتے ہیں شاید کتنے لوگ ان کو دیکھ کر اگنور کرتے ہوں گے کچھ جذبہ انسانی کے تحت تو کچھ مجبوری کے تحت میڈیا چینلز کی پالیسی بنانے والے اپنے دماغ کے سافٹ وئیر میں کھانے پکانے کے علاوہ گوشت سے محروم رہے جانے والے جمعہ ملنگ جیسے لوگوں کو کیوں نہیں لے آتے میرے خیال میں کچھ میڈیا پالیسی میکرز کا قصور ہے تو کچھ قصور وار ان چینلز کے لئے فیلڈ میں کام کرنے والے عملے کا بھی ہے وہ عید کے دن کسی سیاست دان کھلاڑی بیور کریٹ اور ادکار کی کوریج کرنے اور ان کے ساتھ سیلفی بنوانے کو قابل فخر سمجھتے ہیں لیکن وہ جمعہ ملنگ جیسے لوگوں کو تلاش کر کے میڈیا کے سامنے نہیں لے آئیں گے اگر وہ اس جیسے لوگوں بھی کوریج دیں تاکہ لوگ قربانی کا اصل مقصد رندہ رہے اگر کسی حق دار کو قربانی کے گوشت کا حصہ مل گیا تو وہ بھی اس ثواب میں حصے دار بن سکتے ہیں یہی تو اصل قربانی ہے جب آپ اپنی خواہش کو مار کر کسی حق دار کو سامنے لے آئیں گے ابھی جمعہ ملنگ سے باتوں کا سلسلہ جاری تھا کہ اس سری پائے بنانے والے کا بیٹا موٹر سائیکل پر جلدی جلدی آیا اور کہا کہ ابا جلدی دوکان بند کر پولیس آ رہی ہے اس کے باپ نے فوری طور پر دوکان میں سامان پھینکا اور  ساتھ ہی دوکان کا شٹل گرا کر جانے لگا تو میں آواز دی میرے سری پائے کا کیا بنا اس کہا جناب پولیس آ رہی ہے آپ کل پتہ کرنا اس جواب کے بعد میں وہاں سے رخصت ہوا اور جمعہ ملنگ بھی اپنی منزل کو چل پڑا 

ہمارا سافٹ وئیر تحریر.. عبدالجبار خان دریشک

ہمارا سافٹ وئیر
تحریر.. عبدالجبار خان دریشک
عید کے روز قربانی سے فارغ ہو کر دوست احباب اور رشتہ داروں کو گوشت کا حصہ ان کے گھروں کو پہچانے کے بعد بکرے کے سری پائے کھانے کا ارادہ تھا  خیال آیا کہ بازار میں ان کو جلا کے صاف ستھرا بنا کے ٹکڑے کردیتے ہیں اس غرض سے راجن پور بازار میں ہزاری ہوٹل کے پر گیا تو وہاں پر تین چار لوگ اپنے کام میں مکمل مصروف عمل تھے ایک لڑکا آگ میں بکروں اور گائے بیل کے سرے اور پائے جلا رہا تھا جس سے بال جلنے کی بدبو نے ہر طرف قہر مچا رکھا تھا بس پائے کھانے تھے اس لئے یہ بو نا قابل برداشت ہوتے ہوئے بھی برداشت کرنی پڑ رہی تھی وہاں ایک ادھیڑ عمر کا آدمی ایک تیز دھار ٹوکے سے بکروں اور بیل گائے کے جلے بڑے بڑے سروں کو کاٹ رہا تھا اس کی جسمانی طاقت اور تیز دھار ٹوکے کے ایک ہی وار سے سرے دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتے وہ پھر ہاتھ کی مدد سے اس سرے سے مغز یعنی بھیجا نکال کر ایک طرف رکھا دیتا بکروں اور گائے بیل سب کے دماغ یعنی مغز دیکھنے میں ایک جیسے ہی لگ رہے تھے بس سرا  جس کو عام زبان میں کوپر یا سر کہتے ہیں سر یا کوپر کسی جانور کا بڑا تھا اور کسی کا چھوٹا ان کے مغز کی بناوٹ دیکھا کر ہوبہو انسانی دماغ کے جیسی ہی لگ رہی تھی جیسا ہم مختلف میڈیکل کی ویڈیوز یا تصاویر میں دیکھتے ہیں شاید سب بڑے چھوٹے سر اور کوپر والے جانداروں کے دماغ کی بناوٹ ایک جیسی ہوتی ہو گی پر بناوٹ ایک جیسی ہوتی ہے لیکن ان میں  فرق صرف سافٹ وئیر کا ہوتا ہے اسی سافٹ وئیر میں انسانوں کا الگ سافٹ وئیر اور جانوروں کے لئے الگ سافٹ وئیر ہوتا ہے یہ قدرت کا نظام ہے یہ سافٹ وئیر ساری زندگی اس جسم کے تمام افعال کی انجام دہی میں مدد دیتا ہے اس جسم نے زندگی کیسے گزارنی ہے کیا کھانا ہے کیا کرنا ہے کیا اچھا ہے کیا برا ہے اور ایسے یہ نظام ساری زندگی چلتا رہتا ہے جب یہ سافٹ وئیر ایکسپیری ہوتا ہے تو جسم کسی کام کا نہیں رہتا ایک وقت ہوتا ہے یہ جسم محلوں میں بیٹھ کر حکمرانی کرتا یا وہی جسم ہوتا ہے اس کا سافٹ وئیر ایکسپیری ہونے بعد چند گز زمین دبا کر مٹی ہو جاتا ہے اگر کبھی اس سافٹ وئیر میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو اس سافٹ وئیر کا جسم اپنی عادات تبدیل کر لیتا ہے اگر جانور کا سافٹ وئیر خراب ہو جائے تو وہ جانور سے درندہ تو بن جاتا ہے پر وہ انسان نہیں بنتا پر جب انسان کا  سافٹ وئیر خراب ہو جائے تو وہ انسان سے جانور اور جانور سے درندہ بن جاتا ہے خیر یہ تو میں سر کے ٹکر ہوتے دیکھ کے سوچ رہا تھا میں کاونٹر پر کھڑے لڑکے کے پاس گیا اس پوچھا کتنی دیر تک تیار ہو جائیں گے اس نے کہا جناب دوگھنٹے لگیں گے آپ ٹوکن لے جائیں اور اپنا نمبر نوٹ کروا دیں ہم آپ کو دوگھنٹے تک کال کردیں گے میں وہاں سے ٹوکن لے کر چلا گیا دوگھنٹے گزر گئے لیکن اس کی کوئی کال نہ آئی میں دوبارہ اس کے ہوٹل پر گیا اس لڑکے سے پوچھا تیار ہوگئے ہیں وہ تیار شدہ شاپروں میں دھونڈنے کے بعد کہتا ہے نہیں جناب آپ کے سری پائے تیار نہیں ہوئے رش بہت تھا اس لئے لیکن مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا وہ بھول گیا تھا خیر اس نے کہا آپ پندرہ بیس منٹ یہاں ہوٹل میں بیٹھ کر انتظار کر لیں بس تیار کردیتے ہیں میں دومنٹ بامشکل ہوٹل میں بیٹھ سکا بال جلنے کی وجہ سے سانس لینے میں الجھن ہو رہی تھی ان بنانے والوں کی ہمت ہے یا اس کے اردگرد والے رہنے والے لوگوں کی اس تکلیف دینے والے گناہ میں بھی برابر کا شریک جرم تھے جو ہماری پائے کھانے کی خواہش میں اور کو مل رہی تھی میں اس بدبو اور تکلیف کی وجہ سے وہاں سے اٹھ کر باہر بازار میں ہوٹل کے سامنے ایک پٹھے پر جا بیٹھا عید کے پہلے روز تقریباً سارا بازار ہی بند پڑا تھا سوائے چند ایک دوکانوں کے آنے جانے والے بھی بہت کم تھے اسی انتظار کے دوران وہاں ایک مانگنے والا آ گیا جو پولیو  کی بیماری کی وجہ سے اپنی ٹانگوں سے محروم تھا وہ بیٹھنے کے انداز میں ہاتھ کی مدد سے اپنے دھڑ کو کھنچ کر آگے بڑھ رہا تھا عید کی وجہ سے اس نے صاف ستھر کپڑے پہنے ہوئے تھے اس نے سر پر سندھی ٹوپی پہن رکھی تھی وہ میرے پاس آیا میں نے اس کو کچھ دینے کے بعد اس سے باتیں کرنی شروع کردی اس نے اپنا نام جمعہ بتایا جو ٹھیڑی کالونی راجن پور کا رہائشی تھا جمعہ کی عمر 25 سے 30 سال کے درمیان ہوگی اس کے اور بھائی بھی ہیں اللہ کرم سے وہ صیح حالت میں ہیں جو شادی شدہ اور بال بچوں والے ہیں اس کے سب بھائی چھوٹی موٹی محنت مزدوری کرتے ہیں اس کا والد وفات پاچکے ہے یہ اپنے بھائیوں کے پاس رہتا ہے اور ایسے ہی مانگ کر اپنی زندگی کا گزارہ کررہا ہے جسمانی معذوری کی وجہ سے اس کی شادی نہیں ہو پائی ہے اس کا قومی شناختی کارڈ تک نہیں ہے میں کہا شناختی کارڈ کیوں ہے اس نے بتایا بھائی کہتا ہے کہ تم نے کونسی نوکری کرنی ہے مجھے اندازہ ہو گیا اس کے بھائی نے بھی بہانا بنایا ہوگا وہ اس لئے کہ ایک عام اور نارمل انسان کا شناختی کارڈ آسانی سے نہیں بنتا تو ایک بچارے معذور کا کیسے بن سکتا ہے پہلے نادرا سنٹر کے دھکے پھر معذوری ثابت کرنے کے لئے ڈاکٹر اور ہسپتالوں کے دھکے مزید میں نے اس پوچھا عید کیسی گزر رہی ہے اس نے کہا اللہ کا شکر ہے بس گزر ہی رہی ہے میں نے کہا صبح عید نماز پر جاتے وقت کوئی میٹھا کھایا تھا اس نے کہا ہاں سویاں کھائی تھیں میرا دوسرا سوال تھا کیا گوشت بھی کھایا ہے اس نے کہا نہیں میں نے  پوچھا کیا دوپہر کو روٹی بھی نہیں کھائی اس نے کہا کھائی ہے میں کہا کیا اس دن بھی گوشت نہیں کھایا اس کہا گوشت کے شوربے کے ساتھ روٹی کھائی ہے اس میں بوٹی نہیں تھی میں کہا کیا وجہ بوٹی کیوں نہیں کھائی اس نے کہا میرا بھائی کہیں سے مٹھی بھر گوشت لایا تھا جب وہ گھر میں پکا تو بوٹیاں تو بچوں کو ہی پوری نہیں ہوئیں ہم بڑوں نے شوربے سے ہی کام چلایا ہے جمعہ ملنگ کی یہ بات دل کو لگنے والی تھی ہم قربانی کرنے کے بعد  اپنے پیٹ اور فریزر خوب بھرتے ہیں اور پورے کا پورا بکرا کھانے کے لئے مکمل پلان تیار کرتے ہیں کہ اس کے گوشت سے کیا کیا پکاون تیار کروانے ہیں ہماری یہ مشکل بھی میڈیا نے آسان بنا دی ہے ہمیں میڈیا سب کچھ بتا اور دیکھا دیتا ہے کہ قربانی جانور کہا سے ملے گا کتنے تک کا ملے گا اس کا گوشت کتنا نکلے گا چھری تیز کدھر ہوتی ہے قصائی کا ریٹ کیا چل رہا ہے وغیرہ وغیرہ آپ قربانی سے پہلے کی ٹرانسمیشن دیکھیں اور عید کے پہلے دوسرے اور تیسرے دن کی آپ کو عید سے پہلے مویشی منڈیوں میں لے جایا جاتا ہے اس میں کمانڈو شیرو سطان پہلوان دبنگ خان دیکھایا جاتا ہے پھر عید کے دن اس شیرو سطان کمانڈو اور دبنگ کو کیسے پکاون تبدیل کر کے کھانا ہے اور خاص کر رات کے وقت کی ٹرانسمیشن میں کس شہر کے لوگ کیا پکا کے کھا رہے ہیں پورا بکرا کہا بروسٹ ہو رہا ہے ران اور سجی کہاں تیار ہورہی ہے کونسا سیاست دان کھلاڑی اور ادکار آج کے دن کونسی ڈیش کھا رہا ہے اور عید کے دن ان کی کیا مصرفیات تھیں نیوز چینلز کی ساری کی ساری ٹرانسمیشن ہوتی ہی اس پر ہے شاید جب 90 کی دہائی میں چینلز نہیں تھے تو لوگ جانور لینے کے لئے ادھر ادھر بٹھکتے رہتے تھے لوگ قصائیوں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے تھے اور اکثر لوگ گوشت تو اوبال کر یا کچا ہی کھاتے تھے جناب ان بغیر بھی یہ کام ہو رہے تھے اس ٹرانسمیشن میں ان سب چیزوں کو دیکھ کر سب دیکھنے والوں کا دل بھی ان پکاونوں کی طرف مائل ہوتا ہے اور سب قربانی کے مقصد کو بھول کر پیٹ کے مقصد میں لگ جاتے ہیں معذرت کے ساتھ ہمارا میڈیا یہ نہیں دیکھاتا کہ جمعہ ملنگ جیسے کتنے اور لوگ ہوں گے جو قربانی کے دن بھی گوشت سے محروم رہے جاتے ہیں اگر کسی کو ہم دیتے بھی ہیں تو صرف چار بوٹیوں پر مشتمل مٹھی بھر گوشت جس میں سے کسی ٹانگوں والے نارمل انسان کے حصے میں بوٹیاں تو کسی جمعہ ملنگ جیسے معذور کے حصے میں شوربا مجھے وہ منظر یاد آنے لگا جس میں وہ بندہ تیز دھار ٹوکے سے بڑے کوپر(سری) پر وار کررہا تھا وہ اس کوپر سے مغز مطلب دماغ کو نکال رہا تھا  کہ دماغ سب ایک جیسے ہوتے ہیں پر ان میں سافٹ وئیر کا فرق ہوتا ہے انسانوں میں یہ سافٹ وئیر اعلی قسم کا ہے جس کی وجہ سے انسان اشرف المخوق ہے انسان کا سافٹ وئیر آٹو اپ ڈیٹ ہوتا ہے اب اس میں انسان کی مرضی ہے وہ اپ ڈیٹ میں اچھائی اور نیکی کی فائلیں ڈوان لوڈ کرے یا برائی کی اس یہ مرضی ہوتی ہے پر اچھائی اور برائی کی اپ دیٹ اس کے اپنے اختیار میں ہوتی ہے وہ جس کو ڈون لوڈ کرے ہم میڈیا پر ان سب چیزوں کی دیکھائی جانے والی اپ ڈیٹ کو اگنور بھی تو کر سکتے ہیں شاید کتنے لوگ ان کو دیکھ کر اگنور کرتے ہوں گے کچھ جذبہ انسانی کے تحت تو کچھ مجبوری کے تحت میڈیا چینلز کی پالیسی بنانے والے اپنے دماغ کے سافٹ وئیر میں کھانے پکانے کے علاوہ گوشت سے محروم رہے جانے والے جمعہ ملنگ جیسے لوگوں کو کیوں نہیں لے آتے میرے خیال میں کچھ میڈیا پالیسی میکرز کا قصور ہے تو کچھ قصور وار ان چینلز کے لئے فیلڈ میں کام کرنے والے عملے کا بھی ہے وہ عید کے دن کسی سیاست دان کھلاڑی بیور کریٹ اور ادکار کی کوریج کرنے اور ان کے ساتھ سیلفی بنوانے کو قابل فخر سمجھتے ہیں لیکن وہ جمعہ ملنگ جیسے لوگوں کو تلاش کر کے میڈیا کے سامنے نہیں لے آئیں گے اگر وہ اس جیسے لوگوں بھی کوریج دیں تاکہ لوگ قربانی کا اصل مقصد رندہ رہے اگر کسی حق دار کو قربانی کے گوشت کا حصہ مل گیا تو وہ بھی اس ثواب میں حصے دار بن سکتے ہیں یہی تو اصل قربانی ہے جب آپ اپنی خواہش کو مار کر کسی حق دار کو سامنے لے آئیں گے ابھی جمعہ ملنگ سے باتوں کا سلسلہ جاری تھا کہ اس سری پائے بنانے والے کا بیٹا موٹر سائیکل پر جلدی جلدی آیا اور کہا کہ ابا جلدی دوکان بند کر پولیس آ رہی ہے اس کے باپ نے فوری طور پر دوکان میں سامان پھینکا اور  ساتھ ہی دوکان کا شٹل گرا کر جانے لگا تو میں آواز دی میرے سری پائے کا کیا بنا اس کہا جناب پولیس آ رہی ہے آپ کل پتہ کرنا اس جواب کے بعد میں وہاں سے رخصت ہوا اور جمعہ ملنگ بھی اپنی منزل کو چل پڑا

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...