Wednesday, 11 October 2017

چھر مار اور آوارہ کتے

چھرا مار اور آوارہ کتے
تحریر. عبدالجبار خان دریشک
آج کل کراچی میں ایک چھر مار نے خوف حرص پیدا کر رکھا ہے جو اپے سے باہر ہو گیا راہ چلتی خواتین پر چھرے سے وار کر کے فرار ہو جاتا ہے کہ پیر کے نشان تک نہیں چھوڑ رہا پولیس مسلسل اس کی تلاش میں لگی ہوئی ہے پر تا حال پولیس کو کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل رہی ہے دوسری طرف میڈیا نے اس چھر مارکی عدم گرفتاری پر بار بار خبریں چلا کر مزید خوف حرص میں آضافہ کرہا کرردیا ہے جس سے چھر مار کی شہرت میں آضافہ ہوتا جارہا ہے چھرا مار بھی میڈیا کی خبروں پر نظریں جمائے ہوئے ہوگا کہ دن میں کتنی مرتبہ میری خبر نشر ہورہی ہے چھرا مار کی ابتک کی کاروائیوں سے لگتا یہی ہے اس کو اتنی ہی شہرت درکار تھی جتنی اسے مل چکی ہے اور شاید اس کی اوقات سے زیادہ میڈیا نے اس کا نام بنا دیا ہے اب میڈیا کی مہر بانی سے اس کے سر پر انعام بھی لگ چکا ہے ادھر خواتین کافی خوف زدہ ہیں جوکہ گھروں میں محصور ہو کر رہے گئی ہیں حالانکہ اس کے خوف سے بچاری خواتین شاپنگ کرنے بھی نہیں جاتی ہیں
       خواتین بہت حساس ہوتی ہیں اگر ہمت کریں تو بندوق اٹھا کر دشمن کا خوب مقابلہ کر سکتی ہیں گھریلو حالات جیسے بھی ہوں ان کا مقابلہ بہتر انداز میں کرتی ہیں مشکل سے مشکل حالات میں پورے کنبے کو سنبھال لیتی ہیں اگر ڈر جائیں تو چپکلی سے ڈر جاتی ہیں اور تقریباً ساری خواتین ہی چپکلی جیسی چھوٹی چیز سے خوف کھا جاتی ہیں صرف چپکلی ہی نہیں چند عام چیزوں سے ویسے ہی قدرتی طور پر خوف زدہ رہتی ہیں آوارہ..... کتوں کو ہی لے لیں یہ بچاری ان سے ہمیشہ خوف کھاتی ہیں جب بھی گلی میں آوارہ کتے ہوں تو بچاری گھر سے اکیلی باہر نہیں جاتی ہیں کہ کہیں کوئی آوارہ کتا کاٹ نہ لے آگر کاٹے بھی نہ صرف بھونک دے تو وہ بھی پریشانی کی بات ہے کیونکہ کتے کے بھونکے کی آواز دور تک جاتی ہے پھر سب سوال کرتے ہیں کہ تمہیں وہ کتا کیوں بھونک رہا تھا خیر اب انتظامیہ نے آوارہ کتوں کو کنٹرول کرنا شروع کردیا ہے جو ایک خوش آئین بات ہے کیوں ہر ٹی ایم اے کے پاس کتے تلف کرنے کا بجٹ ہوتا ہے یہ الگ بات ہے کتے مارنے کے  بجٹ سے کتے نہیں مارے جاتے بلکہ کتے ہمیشہ ٹرک اور بس کی زد میں آکر مرتے ہیں اس لئے تو کتوں کو مارنے والا بجٹ کسی اور کام...... میں لگا دیا جاتا ہے
        بات ہورہی تھی چھر مار کی تو کتوں کا ذکر اس لئے کرنا پڑا کہ آوارہ کتوں کی شدید کمی محسوس کرتے ہوئے ..... جان کی امان  ...محترم چھر مار نے آوارہ کتوں کی ڈیوٹی سرانجام دے دی ہے کیونکہ چھرا مار اور آوارہ کتوں کے کام میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے کتے کاٹ کر زخمی کرتے ہیں اور یہ چھرے سے وار کر کے مقصد دونوں کا ایک ہے زخمی کر کے خوف پھیلانا ہے اب چھر مار ٹھیک آوارہ کتوں کی طرح کررہا جیسے وہ ایک دو لوگوں پر بھونک دیتے ہیں ایک دو کے پیچے لگ گئے ان کو دور تک چھوڑ آیا تاکہ  کتے کی دہشت بنی علاقے میں بنی رہے پھر وہی آوارہ کتا کسی گلی کے نکڑ پر بیٹھا اپنی اجارداری قائم کر کے سب آنے جانے والوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے ان میں سے جو کمزور نظر آتا ہے اس پر بھونک دیتا ہے یہ کتا عموماً فیصلہ سوچ سمجھ کر کرتا ہے کہ کسی ایسے پر نہ بھونک دے کہ کہیں وہ ڈرنے کی بجائے الٹ اینٹ کا ٹکرا سر میں نہ مار دے
        اب یہ چھر مار مختلف قسم کی سیریل کلرز اور پراسرار لوگوں کی کہانیاں پڑھ کر ان جیسا بننا چاہتا ہے کہ مجھے بھی ان جیسی شہرت مل جائے لیکن یہ مشکل ہے میں نے کبھی مشہور آوارہ کتے کی کہانی نہیں پڑھی یہ چھرا مارا اپنے آپ کو لندن کا پراسرار کلر جیک دی رپر ' امریکہ کا جان وین گریسی' چارلس سوبھراج. سو بچوں کا قاتل جاوید اقبال خواتین کا قاتل مولوی انور اور 90 کی دہائی میں ہتھوڑ گروپ جیسا بننا چاہتا ہے تو اس کی خام خیالی ہو گی پہلے تو یہ ان کے انجام کو پڑھ لے دوسرا ہماری پولیس رینجرر اور فوج اسے کہیں نہ کہیں ایک دن جلد دبوچ لے گی
       اگر مختلف سیرکلرز کی زندگیوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ سب کے سب نفسیاتی مریض تھے اگر وہ ذہین بھی تھے تو وہ اپنی ذہنت کا استعمال منفی انداز میں کرتے رہے وہ آہستہ آہستہ جرم کی طرف آتے رہے اور ایک دن بڑا قدم اٹھا بیٹھے ایسے لوگ دراصل ہمیشہ دڑپوک ہوتے ہیں جن میں قوت فیصلہ کی ہمت نہیں ہوتے یہ لوگوں کے سامنے مثبت قدم اٹھانے سے ڈرتے ہیں کہ ناکامی ہوئی تو کیا کریں گے پر تنہائی میں اکیلے چھپ کر یہ بڑا قدم اس لئے اٹھاتے ہیں کہ لوگ ان کو دیکھ نہیں رہے ہوتے یہ لوگ ڈرپوک ایسے ہوتے ہیں کہ اپنے سائے بھی ڈر جاتے ہیں
        بنیادی طور پر یہ لوگ خفیہ طور اور منفی کام کیوں سرانجام دیتے ہیں اس کے برعکس لوگوں کے سامنے آسان مثبت کام کیوں نہیں کرتے ؟ اس بات کاجواب یہ ہے ایسے لوگوں کا بچپن بہت تاریک ہوتا ہے جس سے یہ ساری زندگی خوف زدہ رہتے ہیں اور وہ اس تاریک ماضی کا بدلہ کسی نہ کسی صورت میں لینا چاہتے ہیں ان کی تربیت کچھ ایسے ماحول میں ہوئی ہوتی ہے جہاں ہر وقت ماحول تشدد زدہ ہوتا ہوگا یعنی گھریلو جھگڑے بڑوں کی مار پیٹ خاص کر میاں بیوی کی لڑائی جوکہ بچوں کی ذہینی پرورش پر بہت اثر انداز ہوتی ہے یا پھر باہر کا ماحول جس میں ان کے ساتھ کسی نہ کسی طرح جنسی یا جسمانی تشدد ہو چکا ہو جب یہ بڑے ہوتے ہیں اور خود مختیار و طاقت ور ہوتے ہیں تو  یہ اپنی ساری مثبت سرگرمیوں کو منفی میں تبدیل کر لیتے ہیں
         یہ چھرا مار ایسی نفسیات کا مالک نہیں اور نہ ہی اس کی کاروائیوں سے لگتا ہے کہ یہ کوئی نفسیات مرض میں مبتلا ہے اگر اس کے ساتھ نفسیاتی مسئلہ بھی ہے تو اتنی شدید نوعیت کا نہیں عام گھریلو جھگڑے وغیرہ جس کو یہ حالیہ وار داتوں سے پہلے فیس کر چکا ہو گا ہو سکتا ہے اس کی بیوی طلاق لے گئی ہو آشنا کے ساتھ فرار ہو چکی ہو یا منگتر نے منگنی توڑ لی ہو اس کے علاوہ دوسری صورت یہ بھی ہو سکتی ہے اس کی بیوی یا بہین نوکری کرنا چایتی ہو جن کو وہ خود منہ سے روکنے کی بجائے ایسی کچھ واردتیں کر کے خوف حرص پھیلا کر ڈرانا چاہتا ہو
          یہ چھر مار کوئی آوارہ ٹائپ آدمی ہے جو اپنی شوشا قائم رکھنے کے لئے آوارہ کتے کی جگہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے جس کو میڈیا نے ایسے ہی شہرت دے رکھی ہے اللہ کرے پولیس کو جلد اس کی گرفتاری میں کامیابی ملے تو سب صورت حال سامنے آجائے گی کہ یہ کتنے پانی میں تھا
       اس کے سر پر انعام خوامخواہ لگایا گیا ہے ایسے آوارہ کتے ٹائپ لوگوں پر انعام نہیں لگایا جاتا یہ خود کسی ٹرک کی زد میں آکر مرتے جاتے ہیں

Monday, 9 October 2017

جعلی لوگ تحریر عبدالجبار خان دریشک

تحریر عبدالجبار خان دریشک
دن بدن اس کی مایوسی بڑھتی جارہی تھی اس نے بڑے سے بڑے ڈاکٹر اور اور مہنگے ترین ہسپتالوں سے اپنا علاج کروایا وہ مختلف درگاہوں آستانوں اور عاملوں کے پاس بھی گیا پر وہاں سے بھی کچھ نہ بنا سکا اس کی شادی کو دس سے زیادہ عرصہ بیت چکا تھا اللہ پاک کا دیا اس کے پاس سب کچھ تھا بس کسی چیز کی کمی تھی تو وہ اولاد کی تھی آس پاس کے لوگ دوست احباب رشتے دار سو سو باتیں کرتے تھے جس سے وہ مزید پریشان ہو جاتا پر یہ سب کچھ اس کے بس سے باہر تھا ایک دن اس کی دوکان پر ایک سنیاسی بابا (نیم حکیم) آیا سنیاسی بابا نے اسے باتوں باتوں بھانپ لیا اس نے اپنی ساری داستان  اسے سنائی سنیاسی نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میں تمہیں گارنٹی دوا دیتا ہوں اس کے استعمال سے تمہیں جلد ہی خوشخبری ملے گی سنیاسی نے دوائی اس کے ہاتھ میں تھمائی اور کہا یہ سات پوڑیاں سات دن استعمال کرو اس نے سنیاسی کے کہنے مطابق دوائی کھانا شروع کر دی ایک ہفتہ متوتر دوائی استعمال کرنے کے بعد اس کی طبیت بگڑنا شروع ہوگئی وہ ڈاکٹر کے پاس گیا ڈاکٹر نے اسے بتایا تمہارے گردے ناکارہ ہو چکے ہیں مزید طبیت بگڑی تو مختلف ٹیسٹ کروائے گئے جن کی رپورٹ نے سب گھروالوں ہوش اڑا دیے اسے بلڈ کینسر ہوچکا تھا اس کا معدہ اور آنتیں گل چکی تھیں ڈاکٹر نے بتایا اس نے ایسی کوئی چیز کھائی ہے جس نے اس کا پورا اندر جلا رکھ دیا ہے دوماہ ہسپتال میں زیرے علاج رہنے کے بعد بالا آخر اللہ کو پیارا ہو گیا یہ کہانی یہاں پر اختتام ہوئی ایک اور کہانی ملاخط کیجئے
        طفیل لیاقت پور کے قریب ایک چک میں رہتا تھا وہ غریب آدمی تھا محنت مزدوری کر کے زندگی کے دن ہنسی خوشی گزار رہا تھا اس کی شادی کو 17 سال ہوچکے تھے اس کی پانچ بیٹیاں تھیں لیکن کوئی نرینہ اولاد نہ تھی اس بات کی کمی کا احساس اسے ہر وقت رہتا تھا اپنے پرائے اس کے کان بھرتے تھے اکثر اوقات اس کا بیوی سے بات بات پر جگڑا رہتا تھا وجہ اولاد نرینہ کی کمی تھی اس کی بیوی ایک دن اس پریشانی کو لے کر ایک عامل کے پاس چلی گئی وہ اسے تعویز بنا کر دیتا اور اگلے ہفتے آنے کا کہتا ایسے یہ سلسلہ کئی ہفتے چلتا رہا عامل نے طفیل کی بیوی کو اپنے شیشے میں اتار لیا طفیل کی بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا اور عدالت سے رجوع کر کے طلاق لے لی وہ پانچوں بیٹیوں کو لے کر اس عامل کے پاس آکر رہنے لگی طفیل نے بیٹیوں کی واپسی مطالبہ کیا لیکن بیٹیاں اس کے حوالے نہ کی گئیں پریشانی کی وجہ سے طفیل کے سر پر جنون سوار تھا عید روز وہ عامل کے گھر گیا اپنی بیوی اور عامل کو قتل کر دیا خود جیل چلا گیا اور اس کی پانچ بیٹیاں در بدر کے دھکے کھا رہی ہیں ایسے ہی ایک اور ہنستا بستا گھر برباد ہوگیا
     آپ ان دونوں واقعات کا بغور جائزہ لیں تو آپ کو ایک چیز مشترکہ ملے گی جب انسان پریشان اور مایوس ہوتا ہے وہ کسی کی بات اعتبار کر لیتا ہے ایسا ہی ان لوگوں کے ساتھ ہوا یاردکھیں جعلی لوگ جعلی ہی ہوتے ہیں ان کو کسی کی عزت جان مال کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی بس پیسہ اور ذاتی مطلب ان لئے اہم ہوتا ہے یہ ڈھونگی نوسر باز مصوم پریشان حال لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں یہ اپنی دوکان اور جعلی آستانہ بنا کر لوگوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں یہ لوگ ایک ہی وقت میں حکیم روحانی معالج دست شناس اور ستاروں کے علم کے پروفیسر بھی بن جاتے ہیں بازاروں چوکوں چورہوں پر بے وقوفوں کا مجمہ لگا کر دانت درد سے لے کر جلدی جنسی اور تمام پیچیدہ امراض کی پھکیاں پوڑیاں گولیاں اور کیپسول پیچتے ہیں ان کی باتیں سنیں تو یہ لوگ کسی ماہر فیزیشن ڈاکٹر سے کم نہیں ہوں گے جن کے پاس تمام امراض کا علاج اور ادویات موجود ہوں گی یہ انسانوں کے علاوہ جانوروں کا علاج بھی کرتے ہیں جانوروں کی پھکیاں سیرپ اور تعویز دم سب ان پاس ہوگا بازاروں اور گلیوں میں پھرنے والے سنیاسی جوگی اور نیم حکیم ہر ملنے والے کو پہلے ایک ہی بات کریں گے آپ کی آنکھیں پیلی ہیں اور مثانے میں گرمی ہے ایسے ہی عامل آپ کی تمام پریشانیوں کا حل فوری اور منٹوں میں کر دینے کا دعوا کرتے ہیں یہ لوگ جن بیماریوں اور پریشانیوں کا حل کرنے کا دعوا کرتے ہیں ان میں یہ خود مبتلا ہوتے ہیں
        موجودہ دور میں حکومت عوام کی صحت کے ساتھ کھیلنے والوں کو سیدھا کر رہی ہے آئے دن جعلی ادویات بنانے والی فیکٹریوں اور میڈیکل سٹورز کو سیل کیا جا رہا ہے عطائیوں کے خلاف بھر پور ایکشن لیا جا رہا علاج میں کوتائی برتنے والے ڈاکٹرز کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے فوڈ اتھارٹی جعلی اور غیر معیاری اشیاء بنانے والوں کے خلاف کاروائی کررہی ہے حکومت قطعاً کسی کو اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی کی صحت کے ساتھ کھیلیں لیکن یہ جعلی عامل غیر تربیت یافتہ حکیم  سنیاسی اور جوگی بابا کیوں آزادی سے عوام کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں؟ ان کو کس نے اجازت دی کیا ؟ ان کے پاس کوئی لائسنس ہے ؟ یہ اپنا کام آسانی سے جاری رکھتے ہیں یہ بسوں پبلک مقامات درگاہوں کے باہر ریلوے اسٹیشن بس اڈوں گلی محلوں بازاروں میں بغیر کسی رکاوٹ ادویات بھی بپچتے ہیں تعویز دیتے ہیں اور دمہ بھی کرتے ہیں ان کے پاس کسی قسم کا کوئی لائسنس یا اجازت نامہ تک نہیں ہوتا
    حکومت ایسے جعلی عامل نیم حکیم سنیاسی اور جوگی بابا لوگوں کے خلاف سخت ایکشن لے ایک ردالفساد یہاں بھی ہونا چاہیے ان کی وجہ سے کتنے لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں سنیکڑوں خواتین خودکشی کر چکی ہیں کئی ہسنتے بستے گھر برباد ہو چکے ہیں اور کئی لوگ اپنی عزت اور دولت گنوا چکے ہیں ساتھ ہی ہمیں خود بھی سوچنا اور سمجھنا چاہیے کہ جو لوگ خود مریض کی شکل کے ہیں جن کو ایک نہیں کئی امراض لاحق ہیں وہ کیا ہمارا علاج کریں گے ایک بندہ خود سٹرک پر سارا دن دھول چاٹ رہا ہے جو شام کو بامشکل گھر کے لیے آٹا لے جاتا ہے وہ کیا کسی کو نوکری دلوا سکتا ہے کسی کا کاروبار چمکا سکتا ہے
  مایوسی اور ناامیدی کفر ہے کچھ خواہشات دنیا میں پوری نہیں بھی ہوتیں اس میں بھی اللہ پاک کی حکمت ہوتی ہے وہ سب کچھ بہتر جانتا ہے جس کسی کی کوئی خواہش اس دنیا پوری نہ ہو تو اللہ پاک کسی نا کسی صورت اس بدلہ اس میں بھی دیتا ہے اور آخرت میں بھی دیتا ہے اگر کوئی بیمار ہے تو بہترین سے بہترین ڈاکٹر آج کے دور میں موجود ہیں اپنا بہتر علاج کروائیں کسی سخت ذہنی پریشانی میں مبتلا ہیں سکون نہیں مل رہا تو عامل کے پاس جانے کی بجائے ماہرے نفسیات کے رجوع کریں کم سے کم وہ آپ کو خوش رہنے اور بہتر زندگی گزارنے حل بتائے گا اللہ کو یاد کریں نماز پڑھیں اس میں  سکون بھی اور علاج بھی

انتباہ... تحریر کاپی کرنا یا چوری کر قانوً جرم ہے

Tuesday, 3 October 2017

خواجہ فر ید میو زیم کو ٹ مٹھن شریف 

خواجہ فر ید میو زیم کو ٹ مٹھن شریف 
تحر یر عبدالجبار خان دریشک 
حضرت خواجہ غلام فر ید ؒجنو بی ایشا ءکی دھرتی کے عظیم شا عر وروحانی شخصت تھے جن کے کلام ہر رنگ نسل خاص وعام سب کے لئے ایک قیمتی آثا ثہ ہے آپ کی شاعری کو پڑھ کو ئی انسان عشق اللہ اور عشق رسول کے سحر میں کھو جا تا ہے آپ کی شا عری میں معاشرتی اصلاع شامل تھی

زیر تھی ، زبر نہ بن ، متاں اتوں پیش پوندی ہووی ۔
ترجمہ. یعنی نرمی اختیار کرو ، سختی نہ کیا کرو ، ورنہ اللہ تعالٰی تم پر بھی سختی کر سکتے ہیں-

  آپ کے کلام میں عشق محبت کے علاوہ وسیب کی تقافتی جھلک بھی نظر آتی ہے آپ نے بیک وقت اردو ‘عربی ‘ فارسی ‘ پوربی ‘ سندھی‘ اور ہندی زبان میں شاعری کی حضرت خواجہ غلام فر ید ؒ26 نومبر 1845 کو چاچڑاں شریف میں میں پیدا ہو ئے جبکہ آپ کا وصال 1901 ء میں ہوا آپ کا مز ار کو ٹ مٹھن شریف ضلع راجن پور میں ہے آپ کے مز ار پر سالانہ لا کھوں کی تعدا د میں زئراین آتے ہیں آپ کے عقد ت مند وں کے لئے جہاں آپ کے مز ار کی زیا رت بہت بڑا شرف ہے وہیں ان عقدت مند وں کو آپ کی زند گی کے بارے میں مکمل معلو مات خواجہ فر یدمیوزیم و لائبریری میں ملتی ہیں خواجہ فرید میوزیم میں عقدت مند کے لئے قلبی سکون کا با عث بنتا ہے جس میں وہ کے تبرکات کی زیارت کے ساتھ علم اور تقافت سے بھی روشناس ہوتے ہیں خواجہ فرید میو زیم آپ کے مز ار شر یف کی شمالی اطر ف میں قائم کیا گیا ہے جو کہ پاکستان میں کسی بھی مزار پر بنا یا جانے والا پہلا میو زیم ہے جس میں اس ہستی کے متعلق تمام اشیاء موجود جن کا آپ کی زندگی میں استعمال اور واسطہ رہا ہے ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی یہ چیزیں آج بھی محفوظ ہیں یہ تمام تبرکات کتب اور نایاب ثقافتی اشیاء کو سنبھالنا اور جمع کرنا بہت محنت طلب کام ہے اور میوزیم قائم کرنے جیسے بڑے منصوبے کو پاتکمیل تا پہنچانا بہت بڑا کارنامہ ہے خواجہ فر ید میو زیم و لائبریری بنانے میں اصل محنت مو جو دہ سجاد نشین حضرت معین دین کوریجہ کی ذاتی کا وش کا نتیجہ ہے خواجہ فر ید میو زیم و لائبریری کی عمارت چودہ کمروں پر مشتمل ہے جس کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلے حصےمیں وہ تما م تبرکات رکھے گئے ہیں جو حضرت حو اجہ غلا م فر ید ؒ کے زیر استعمال رہی ہیں یہ تما م تبر کات اس بات کی واضع دلیل پیش کر تے ہیں کہ اتنی بڑی شخصت جن کے کئی ریا ستوں کے نو اب مر ید ہوں جن کی ابتدائی تعلیم وپرورش بہاولپور کی ریاست کے محلات میں ہو ئی ہو وہ اتنی ساد زند گی بسر کر تے تھے آپ کی ساری زند گی حلق خدا کی خدمت اور اصلا ح میں گزری ہے

خلقت کو جیندی گول ہے
ہر دم فرید دے کول ہے
ترجمہ:مخلوق کو جس کی تلاش ہے
وہ ہر وقت فرید کے پاس ہے

   پہلے حصے میں آپ کا زیراستعمال مختلف لبا س ہاتھ سےبنی مخصوص فریدی ٹو پی جن کو وہ اکثر اپنے سر مبارک پر رکھتے تھے واسکیٹ کڑتہ ‘ فریدی رومال ‘ پگ (پگڑی )جائے نماز تسبح صا بن سرمہ مٹی چینی اور پیتلا کے برتن حج ایام کے مو ہ مبارک بھی اس حصے میں محفوظ رکھے ہیں میو زیم کے دوسرے حصے میں داخل ہوں تو وہاں ایک علم کا ایک خزانہ محفوظ ہے علم کا وہ خزانہ جس سے خود حضرت خواجہ غلام فر ید ؒ مستفید ہو تے تھے اس لا ئبریر ی میں مو جو د قرآن پاک کے وہ نسخے موجود ہیں جن کی آپ تلاوت فر ما تے تھے تمام کتب قلمی نسخوں پر مشتمل ہیں ان میں سے ایک قرآن پاک ایسا بھی ہے جس کو سو نے کے پانی سے تحر یر کیا گیا ہے اور سب سے چھو ٹے سا ئز کا قرآن پا ک بھی اسی حصے میں مو جو د ہے اس کو حصہ لا ئبریر ی بھی کہا جاتا ہے اس میں ایک ہزار نایاب کتب موجو د ہیں عظیم عالم دین اما م جلا الد ین سوطیی کی تفسیرکی کتب بھی یہاں مو جو د ہیں یہاں آپ کا دیوان اور آپ کے دست مبارک سے تحریر شدہ خظوط بھی موجو د ہیں میوزیم کا تیسرا حصہ نہایت ہی خوبصورت اور دل کش ہے اس حصے میں علا قائی ثقافت کو اجاگر کرتی ہاتھوں محنت سے تیار شدہ اشیا ءرکھی گئی ہیں جن کا کسی نہ کسی طرح آپ کی زندگی واسطہ رہا ہے اس کے علاوہ وہ چیز یں جن کے نام آپ نے اپنی شاعری میں شامل رہے ہیں
یہاں ہاتھ سے بنی چیز دیکھ کر واقعی حیرانی ہوتی ہے کہ ان کو کتنی مہارت ہو خوبصورتی ہے بنایا گیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کے لوگ کتنے محنت اور جفاکش ہونے کے ساتھ سلیقہ مند بھی ہیں یہاں روہی کی ثقافت کے علاوہ کوہ سلیمان سندھ اور پنجاب کی ثقافت بھی نمایا نظر آتی ہے پرانے وقتوں میں خواتین گھروں میں دستکاری کا م کرتی تھیں ایسی اشیاءکسی بھی آنے والے کے کئے دلچسپی سے خالی نہیں ہے خواجہ فر ید میو زیم میں آنے والے روحا نی تسکین حاصل کر تے ہی ہیں لیکن وہ اپنے ساتھ بہت ساری معلو مات بھی لے جاتے ہیں ساتھ ہی وہ یہاں کی ثقافت سے بھی واقفیت بھی حاصل کرتے ہیں میوزیم کے تینوں حصوں کی دیواروں پر تقاویر آویزں کی گئی ہیں پہلے حصے میں خاندان فرید اور سجاد گان دربار فر ید کی تصاویر دوسرا حصہ لائبر یری میں حضرت خواجہ غلام فرید ؒ کے بارے میں لکھنے والے مصنفین اور آپ ؒ کلام کو مختلف زبانوں میں ترجمع کر نے والوں کی تصاویر لگا ئی گئی ہیں تیسر ے حصہ میں روہی کی ثقا فت اور مختلف تقاریب کی تصاویر دیکھنے کو ملتی ہیں دربار شریف کی زیار ت کو ہر آنے والا عقدت مند یہاں ضرور آتا ہے میو زیم کی تاثرات کی کتا ب میں سابق صدر فاروق خا ن لغا ری ‘ سا بق وز یر اعظم یو سف رضا گیلا نی ‘ عمر ان خان ‘ جا وید ہاشمی ‘ شا ہ محمو د قریشی ‘ سراج الحق ‘ مو لا نا فضل الر حمن ‘ سید بلال احمد قریشی اجمیر شریف ‘ کے علا وہ پاکستان اور دنیا بھر سے آنے والے مہمانوں کے تا ثرات مو جو د ہیں خو اجہ فرید میو زیم و لائبریری ہماری آنے والی نسلوں کے لئے ایک قیمتی خزانہ ہے جس کی حفاظت و خیا ل ہم سب کی ذمہ داری ہے 

آیا وقت فرید چلن دا
گزریا ویلھا کھلن ہسن دا
اوکھا پیندا یار ملن دا
جان لباں تے آندی اے

Wednesday, 20 September 2017

ایک اور قومی شاہرہ سنگ بنیادکی منتظر تحریر. عبدالجبار خان دریشک

ایک اور قومی شاہرہ سنگ بنیادکی منتظر
تحریر.  عبدالجبار خان دریشک
گزشتہ دونوں وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے ڈیرہ غازی خان کو ملتان سے ملانے والی سٹرک کو دو رویہ کرنے کا سنگ بنیاد رکھا یہ منصوبہ نہ صرف ڈیرہ غازی خان کی عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا بلکہ کہ اس سٹرک کی تعمیر سے ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے دیگر اضلاع اور تحصیلوں علاوہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی عوام کو بھی اس سے بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی 55کلو میٹر طویل سڑک کے اس تاریخی منصوبے پر 13ارب 38 کروڑ روپے سے  رقم خرچ ہو گی اور اس عوامی منصوبے کو 30جون 2018 تک مکمل کرلیاجائے ڈیرہ غازی خان اور ملتان کو ملانے والی یہ سٹرک پاکستان کا اہم ترین روٹ ہے یہ روٹ بیک وقت دو قومی شاہرات سے مل رہا ہے ایک انڈس ہائی وے این 55 اور جبکہ مغربی طرف بلوچستان کو پنجاب کو ملانے والی سٹرک سے منسلک ہو رہا ہے جس سے اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے ڈیرہ غازی خان پنجاب کا رقبے کے اعتبار  سے بڑا ڈویژن ہے جو پاکستان کے چاروں صوبوں کو آپس میں جوڑ رہا بلوچستان سندھ اور خیبر پختونخواہ کے سنگم پر ہونے کی وجہ ان صوبوں سے آنے والی ٹریفک ڈیرہ غازی خان ڈویژن سے ہی گزر کر جاتی ہے مثلاً پشاور بنون سوات ڈیرہ اسماعیل خان کوہاٹ ٹانک کرک وزیرستان سے کراچی اندورن سندھ اور لورالائی زیارت کوئٹہ بلوچستان آنے اور جانے والی ساری ٹریفک ڈیرہ غازی خان سے براستہ انڈس ہائی وے گزرتی ہے اس کے علاوہ بلوچستان لورلائی سے پنجاب کے دیگر شہروں میں آنے اور جانے کے لئے ڈیرہ غازی خان سے ملتان روڈ کو استعمال کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ڈیرہ غازی خان اور اس باقی تین اضلاع مظفر گڑھ لیہ اور راجن پور کی سٹرکوں پر ٹریفک کا بے پناہ رش رہتا ہے ایک تو دوسرے شہروں سے سے آنے اور جانے والی ٹریفک میں دن بدن آضافہ ہو رہا ہے ساتھ ہی ڈیرہ غازی خان ڈویژن کی آبادی میں کئی گناہ آضافے کی وجہ سے سٹرکیں گنجائش کے لحاظ سے کم ہو رہی ہیں ڈیرہ غازی خان کے  اضلاع میں ٹریفک کے مسائل دن بدن بڑھ رہے ہیں ان کی آبادی کی صورت حال کو دیکھا جائے تو کچھ یوں ہے ڈیرہ غازیخان ڈویژن کے چار اضلاع ڈیرہ غازی خان راجن پور مظفر گڑھ اور لیہ جن کی آبادی کی شرح بالترتیب 16 لاکھ 43 ہزار سے بڑھ کر 28 لاکھ 72 ہزار‘ گیارہ لاکھ سے بڑھ کر انیس لاکھ 95 ہزار‘26 لاکھ 35 ہزار سے بڑھ کر 43 لاکھ 22 ہزار اور 11لاکھ 9 سو 51 سے بڑھ کر 18 لاکھ 24 ہزار ہوئی۔ یوں پورے ڈیرہ غازیخان ڈویژن کی آبادی 65 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ دس لاکھ ہوئی۔ یعنی 71.5 فیصد اضافہ ہوا ہے آبادی میں آضافے کی وجہ سے جہاں سہولیات کی کم ہوئی ہے تو وہیں ٹریفک کے مسائل میں بھی آضافہ ہوا ہے آئے روز المناک حادثات کی وجہ سے کئی قیمتی جانین ہر سال ضائع  جاتی ہیں جتنے حادثات ڈیرہ غازی خان ملتان روڈ پر ہوتے ہیں ان سے کئی گناہ زیادہ یہاں سے گزرنے والی قومی شاہرا انڈس ہائی وے پر ہوتے ہیں انڈس ہائی وے جو پاکستان کی دوسری طویل ترین قومی شاہرا ہے جیسے این 55 بھی کہا جاتا ہے یہ شاہرا کراچی سے پشاور تک 1250 کلو میٹر طویل ہےحکومت نے این 5 کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے 1980 میں انڈس ہائی وے کا منصوبہ بنایا تھا جس پر باقاعدہ کام کا آغاز 1981 میں کراچی سے کیا گیا جو مختلف مراحل میں مکمل ہونے کے بعد 1999 کو پایا تکمل تک پہنچا این 55 انڈس ہائی وے پاکستان کے تین صوبوں سندھ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کو ملاتی ہے 18 سال پہلے مکمل ہونے والی سٹرک اب ٹریفک کے بے ہنگم رش کے سامنے کم ہے جس پر آئے روز حادثات میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں یہاں حادثات میں اموات کی شرح پورے پاکستان میں سے زیادہ ہے راجن پور میں انڈس ہائی وے کو دو مراحل میں مکمل کیا گیا پہلا مراحلہ 1993 میں کشمور سے راجن پور شہر تک جبکہ دوسرا مراحلہ اس کے کچھ عرصہ بعد میں راجن پور شہر سے ڈیرہ غازی خان تک مکمل کیا گیا ویسے تو انڈس ہائی وے پنجاب سے تقریباً 350 سے کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے یہاں پر چند کلومیٹر راجن پور کی حدود میں ٹریفک حادثات کا جائزہ لیا ہے جس سے خود ہی اندازہ لگائیں کہ 350 سے زیادہ ٹکڑے میں کتنے حادثات ہوتے ہوں گے راجن پور میں ٹریفک پولیس کی رپورٹ کے مطابق 2017 میں جنوری سے مئی تک 40 بڑے حادثے ہوئے ہیں جن میں 27 اموات ہوئی ہیں 50 لوگ شدید زحمی ہوئے ہیں سال2016  میں کل 147 بڑے حادثات ہوئے جس میں  49 اموات اور 257 لوگ شدید زخمی ہوئے اسی طرح سال 2015 میں 172 حادثات ہوئے جن میں 65 اموات اور 272 لوگ شدید زخمی ہوئے یہ وہ حادثات ہیں جن کی ایف آئی آر کا اندراج ہوا ہے ایسے بہت سارے حادثات ہو جاتے ہیں جن کی مدعی ایف آئی آر درج نہیں کرواتے ہیں ریسکو 1122 نے تحصیل راجن پور میں اکتوبر 2009 میں اپنی سروس شروع کی تھی اس وقت سے لے کر اب تک ان کے پاس تمام حادثات کی تفصیل اور وجوہات کی رپورٹ موجود  ہیں رپورٹ کے مطابق  14 جون 2017 تک پورے راجن پور میں 1265 چھوٹے بڑے حادثات رونما ہوئے جن میں 28 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اس طرح سال 2016 میں کل 2736 حادثات پیش آئے جس 46 اموات ہوئیں ریسکو 1122 نے 22 اکتوبر 2009 سے 7 اپریل 2015 تک ایک مفصل رپورٹ بھی جاری کی جس میں اس دوران ہونے والے حادثات میں اموات اور ان کی وجوہات کی نشاندہی کی گئی ہے اس رپورٹ کے مطابق 22 اکتوبر 2009 سے 7 اپریل 2015 تک کل 8231 حادثات پیش آئے جن میں 11422 لوگ ان حادثات کی وجہ سے مثاثر ہوئے جن میں سے موقع پر 188 افراد ہلاک ہوئے 4214 لوگ کی حالت تشویشناک اور 7020 افراد معمولی زخمی ہوئے جبکہ ان میں 90 فیصد  حادثات انڈس ہائی وے پر باقی لنک روڈز پر پیش آئے ہیں جبکہ کہ 100 فیصد ہلاکتیں انڈس ہائی وے پر پیش آئی ہیں اس رپورٹ میں ان وجوہات کو بیان کیا گیا جس کی وجہ سے اکثر اوقات حادثات رونماں ہوتے رہتے ہیں اس علاوہ راجن پور اور رحیم یار خان کو ملانے والا منصوبہ نشترگھاٹ بے نظیر برج کی سٹرک تعمیر آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے جس کے بعد انڈس ہائی وے پر ٹریفک کا دباؤ مزید بڑھ جائے گا اب اس تمام صورت حال کو مدنظر رکھا جائے تو انڈس ہائی وے کو ڈیرہ اسماعیل خان سے کشمور تک دو رویہ کیا جاناانتہائی ضروری ہو گیا ہے ڈیرہ غازی خان اور ملتان روڈ کی طرح انڈس ہائی وے کے دو رویہ ہونے کا منصوبہ بھی یہاں کی عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے جبکہ مواصلات کی قومی وزارت بھی ڈیرہ غازی خان کے حصے میں آئی ہے اور یہ منصوبہ بھی وفاق کا ہے بس اب انڈس ہائی وے سنگ بنیاد کی منتظر ہے

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...