Tuesday, 30 January 2018

بھارت کا اصل چہرہ

تحر یر عبدا لجبار خان دریشک 
بھارت کی یہ فطر ت رہی ہے جب بھی کسی ملک کا سربراہ بھارت کا دور کر تا ہے یا پھر مو دی کسی ملک کے دورے پر جاتا ہے تو ان کو سوائے پاکستان کی مخالفت کے کچھ اور نظر نہیں آتا۔ ویسے تو بھارت خطے میں امن بات کر تا ہے لیکن باڈر پر مسلسل خلاف ورزی بھی خود بھارت کر رہا ہے آئے رو ز ورکنگ باونڈری پر فائرنگ اور گو لہ باری سے مصوم شہریوں کو نشانہ بنا نے کے علاوہ  عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے ‘ ساتھ ہی کشمیری مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے۔  انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہ تو عالمی اداروں کو نظر آتی ہیں اور نہ ہی بھارت کو تھپکی دینے والوں کو نظر آتی ہیں ۔  بھارتی آرمی چیف نے بھی مودی کی طرح گیدڑبھپکی سے کام لیا ۔ دنیا کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ رکھنے والی بھارتی فوج اور اس کے ملک کی اندر سے حالت بہت خر اب ہے بھارتی فوجی اور عوام بھوک سے خود کشیاں کر رہے ہیں ۔ 

بھارت کا یہ دعوا ہے کہ اس کی جمہو ریت دنیا کی بہتر ین جمہو ریت میں شمار ہوتی ہے ‘ پتہ نہیں یہ دنیا کیسی بہتر ین جمہو ریت ہے جہاں کی عوام بھو ک سے مر رہی ہے۔  مو دی بھار ت کو شا ئنگ انڈیا بنا نا چا ہتا ہے لیکن بھارت کے اند رونی حالات کچھ اور کہا نی بیا ن کر تے ہیں بھارت پاکستان دشمنی کا ڈھنڈورا پیٹ کر اپنے اندرونی حالات سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے بھارت میں بھو ک افلاس‘ غربت ‘ جہالت ‘ انتہا پسندی ‘ کی وجہ سے کئی ریا ستوں علیحدگی کی تحر یکیں چل رہی ہیں ‘بھارت کی اکثر ریاستوں کی 80 فیصد آبادی نہا یت ہی بد حالی کی زندگی بسر کر رہی ہے بھارت میں مذہبی انتہا پسند ی عروج پر ہے مسلمانوں اور نچلی ذات کے ہندوں پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں

حال ہی میں ایک مسلمان مصنفہ نازیہ ارم کی کتاب "مدرنگ اے مسلم" نے سارا بھانڈا پھو ڑ دیا کتاب
کے مطابق بھارتی سکولوں میں مسلمان بچوں کو ہراساں کرنے کے علاوہ  نفرت انگیز سوالات سے ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ مقامی ہندو  سما جی طور پر مسلمانوں کو برداشت نہیں کرتے چھو ٹے چھو ٹے بچوں کو سکولوں میں تنگ کیا جاتا ہے اور انہیں ذہنی اذیت پہنچا ئی جاتی ہے مسلمان بچوں سے باقی بچے سوال کر تے ہیں کیا تم دہشت گرد ہو ؟ کیا تم طالبان ہو ؟ اس طر ح کے سوال کر کے مسلما ن بچوں کو پر یشان کیا جاتا ہے 
  
  جہاں بھارت میں اتنہاہ پسندی کو کنٹر ول کر نا حکومت کے بس میں نہیں رہا تو ساتھ ہی غربت کا خاتمہ کرنے میں بھی بھارت ناکام ریاست ثابت ہو رہا ہے ہر سال غریب افراد کی تعداد میں آضا فہ ہو رہا ہے ‘ یو نیسف کی ایک رپورٹ کے مطابق ہر چوتھا بھارتی باشندہ بھو ک کا شکار ہے دنیا میں غربت اور مفلسی میں پر ورش پانے والے بچوں کی مجمو عی تعدا د کا 30فیصد بھارت میں ہے، فاقہ کشی میں افر یقہ کے بعد بھارت کا نمبر آتا ہے بھارت کی بیشتر آبادی کے لئے مکان جیسی سہو لت میسر نہیں ہے دولت کی غیر منصفانہ تقسم کی وجہ سے وہاں کے دو سے تین فیصد لوگ کھر ب پتی ہیں اور باقی آبادی انتہائی غربت میں ز ند گی بسر کر رہی ہے ایک ایسا ملک جو اپنے آپ کو ایٹمی طاقت کہلواتا ہو اور دنیا میں سب سے زیادہ اسلحے کا خر ید ار ہو لیکن دوسری طرف اسی ملک کے باشندے کروڑوں کی تعداد میں جھو نپڑیوں میں زند گی بسر کر تے ہیں ۔

ایک رپورٹ کے مطابق تقریبا ً 29 فیصد آبا دی جو کہ 36 کروڑ سے زیا دہ بنتی ہے خط غربت سے نیچے ز ند گی بسر کرتی ہے اور اسی طر ح 73 فیصد آبادی کی ما ہا نہ آمد نی 5 ہز ار سے بھی کم ہے ‘ یو نیو رسٹی آکسفورڈ کی جا نب سے شا ئع کئے جا نے والے غربت کے ایم پی آئی انڈکس کے مطابق بھارت میں 64 کر وڑ افرادخطے غربت میں زند گی بسر کر تے ہیں ۔ بھارت کا اگر افریقہ کے ممالک سے مو از نہ کیا جا ئے تو افریقہ کی عوام اور بھارتی عوام میں کو ئی زیا دہ فرق نہ ہو گا بھارت میں 60 فیصد سے زیادہ آبادی کو بیت الخلاءکی سہو لت میسر نہیں 
   
بھارت میں مذہبی ہندو انتہا پسند وں نے اپنی پر ائیو یٹ فورس بنا رکھی ہے کسی بھی سیا سی یا مالی فائد ے کی خاطر اس فورس کو استعما ل بھی کیا جاتا ہے اور کر ائے پر دے کر دنگے کر وائے جاتے ہیں حتیٰ کہ اس فورس کو فلموں کی کا میابی اور ناکامی کے لئے بھی استعما ل کیا جاتاہے ان انتہا پسند وں کے پنجے بالی ووڈ میں گڑھے ہو ئے ہیں یہ انتہا پسند با قا عد ہ ادکاروں اور فلمی صنعت سے وابستہ افراد سے بھتہ وصولی کر تے ہیں بھتہ نہ ملنے پر فلم کی پر مو شن اور نمائش رکو ا دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ گلو کاروں اور فنکاروں کے کنسرٹ پر حملے کر وائے جاتے ہیں اکثر مسلمان گلوکاروں اور داکاروں کو نشا نہ بنا یا جاتا ہے سٹید یم میں میچ رکوا دیا جاتا ہے ‘ بھارت میں اب تو ذاتی دشمنی کے لئے بھی مذہبی انتہا پسند وں کا استعمال کیا جاتا ہے جس کی با قاعدہ فیس وصول کی جاتی ہے اور کر ائے کے غنڈے فراہم کیے جاتے ہیں
   
بھارت خواتین کے لئے غیر محفو ظ ترین ملک بن گیا ہے سب سے زیا د ہ خواتین پر جنسی حملے بھارت میں ہو تے ہیں جو اس حوالے سے دنیا کا چوتھا بدترین ملک ہے ایک امر یکی صحافی نے فوربس میگزین کی ویب پر ایک مضمو ن لکھا جس میں ان کا کہنا تھا دنیا میں خواتین کے لئے دس خطر ناک ترین ممالک میں بھارت کا شما ر ہو تا ہے ۔  بھارت میں خواتین کو غلام اور کمز ور تصور کیا جاتا ہے خواتین کے حقوق کی پامالی کو عام تصور کیا جاتا ہے ۔ بس ٹر ین کے علاوہ راہ چلتی خواتین کو دن دھاڑے اغوا کے بعد جنسی تشد د کا نشا نہ بنا یا جاتا ہے بھارت میں ڈاکو ڈکیتی کی واردات کے ساتھ خواتین کو زیادتی کا نشانہ بھی بنا تے ہیں وہاں خواتین کو جا ئید اد کے حقوق سے محر وم رکھا جاتاہے ساتھ ہی پیسے کی خاطر کم عمر بچیوں کو فر وخت کرنے کے علاوہ  لڑکیوں کو پیدا ئش سے پہلے ماردیا جاتا ہے تاکہ ان کو جہیز نہ دینا پڑے گز شتہ دس سالوں میں بھارتی ڈاکٹر 8 کر وڑ بچیوں کو استقا عت حمل میں مار چکے ہیں بھارت میں لڑکوں کے مقا بلے میں لڑکیوں کی تعد ا د کم ہو رہی ہے ایک ہز ار لڑکیوں کے مقا بلے میں لڑکیوں کی تعد اد 760 سے لے کر 900 تک رہے گئی ہے 
   
بھارت یوں تو تعلیم کے میدان میں بڑے دعوے کر تا ہے لیکن تعلیم کے میدا ن میں بھی بھارتی عوام کی صورت حال بہت ابتر ہے اگر بھارت تعلیم میدان میں انقلاب لارہا ہوتا تو وہاں جہالت کا خاتمہ ہو جانا چا ہیے تھاایک بھارتی اخبار میں شا ئع ہو نے والی رپورٹ کے مطابق سکولوں میں  پڑھنے والے 14 سال تک کے بچے ملک کا نقشہ نہیں پہچان سکتے 36 فیصد اسی عمر کے بچے ملک کے درالحکو مت کا نام نہیں بتا سکتے ‘ 21 فیصد یہ نہیں بتا سکتے وہ کس ریاست میں رہتے ہیں مز ید حیر انی کی بات یہ ہے کہ اٹھویں سے با رہویں کلاس کے ایک چو تھا ئی بچے جمع تفریق کے عام سوال حل نہیں کر سکتے اٹھو یں کلاس کے بچے اپنی مادری زبان نہیں پڑھ سکتے 
 
   دنیا میں بھارت کا شمار ان ممالک میں ہو تا ہے جہاں سب سے زیاد ہ خو دکشیا ں کی جاتی ہیں بھارت میں سالانہ ایک لاکھ 35 ہز ار افر اد خو دکشی کر تے ہیں جن میں زیاد ہ تر تعداد نو جو انوں کی ہے جن کی عمر یں 15 سے 29سال تک کی ہو تی ہیں اس کے علاوہ بھارتی کسان قرض کے بوجھ تلے دبننے کی وجہ سے خودکشیاں کر تے ہیں ہر سال ہز اروں کسان خو دکشی کرتے ہیں بات یہیں ختم نہیں ہوتی دنیا میں سب سے زیادہ خودکشیاں بھارتی فوجی کرتے ہیں اور بغیر جنگ لڑے بھارتی فوج مر رہے ہیں۔ اکثر فوجی جو ان نفسیاتی مر یض ہو چکا ہیں ان وقت پر کھانا نہیں ملتا اور یہ باڈر پر بھو کے مر رہے ہیں۔ گز شتہ نو برسوں میں ایک ہز ارسے زیا دہ فوجی خودکشی کر چکے ہیں اور سولہ سو فوجی بغیر لڑے مر گئے ہیں جن میں سے اکثر اپنے ہی ساتھیوں کی گو لی کا نشانہ بنے ہیں ان کے لئے مز ید شرمنا ک صورت حال یہ ہے کہ گز شتہ پانچ برسوں میں بھارتی فوج کے 532 کیس ہم جنس پر ستی کے سامنے آچکے ہیں ۔ اب اس تما م ترصورت حال کو دیکھا جا ئے تو بھارت بجائے خطے میں چوہد ری بننے کے اپنا فوکس اپنی عوام کی فلاح بہبود پر رکھے تو اس کے لئے زیادہ بہتر ہے ۔پاکستان کو دھمکی دینے سے پہلے یہ بھی ِذہن میں رکھے پاکستا ن ایک ایٹمی ملک ہے اور پاک فو ج کا شمار دنیا کی بہترین افوا ج میں ہو تا ہے

کالم نگار عبدالجبار خان دریشک ایم ایس ماس کمیونیکیشن ایل ایل بی تحصیل و ضلع راجن پور 

Wednesday, 17 January 2018

نابینا کیمرے سیکورٹی کے لیے

تحریر عبدالجبار خان دریشک
  انسا نوں کی یہ دنیا جس میں اربوں انسان بستے ہیں ہر انسان کی سوج ‘ کردار اور ز ند گی گز ارنے کے طر یقے الگ الگ ہیں سا رے انسان ایک جیسے نہیں ہو سکتے سارے پاکیز ہ و نیک عمل بھی نہیں ہو سکتے ہیں ۔ اچھا ئی اور برائی کا وجو د انسانوں کے کر دار سے ہی دنیا میں مو جو د رہے گا ۔ دنیا میں جر م اور مجر م کو ئی نئی با ت نہیں بلکہ یہ ہر دور اور ہر تہذیب میں مو جو د تھے پہلے سابقہ ادوار میں بھی جر م ہو تے تھے اور مجرم کبھی پکڑے جاتے تھے تو کبھی کہانیوں اور داستانوں کا حصہ بن جاتے ۔لیکن سابقہ اور مو جو دہ دور میں کا فی فر ق ہے

پہلے انسا نی آبا دی کم تھی اور جر ائم کی شر ح بھی کم تھی آبا دی بڑھتی گئی جر ائم بھی بڑھتے گئے پر انے وقتوں میں میں کسی علاقے میں چوری چکاری ہو تی تو پو لیس اور قا نون نافذکر نے اداروں کو اند از ہ جاتا کہ اس میں چوری کو ن کر سکتا ہے یہاں کے نا می گر امی چور کون ہیں ان کے پاس مکمل ریکارڈ مو جو د ہو تا تھا یا پھر اس معا ملے میں علاقے کے کسی بڑے سے مد د حاصل کی جاتی تھی‘ اس کے علا وہ چور کے کھو رے (یعنی پاؤں کے نشان )کو کھو جی شنا خت کر تا اور کھو را یعنی قدموں کے نشان سے مجر م کی سمت اور چال کا اند از لگا یا جاتا اگر کھو جی نے اس چورکی چا ل کو ز ند گی میں ایک مر تبہ بھی دیکھ چکا ہو تا تو وہ اس کی نشاند ہی کر دیتا اس کے علاوہ پولیس بدنام اور نامی گر امی جرائم پیشہ افراد کو پکڑ کر کھوجی کے سامنے چلاویا جاتا کھوجی ان کے چال کے اند از سے اس مطلو بہ شخص کی نشاند ہی کر دیتا تھا ۔وقت کے ساتھ سا تھ یہ نظام بھی بے کا ر ثا بت ہو نے لگا مجر م اپنی چال بدل کر واردت کر تے یا پھر کھوجی چوروں کے ساتھ مل جاتا اسے پتہ ہو نے کے باوجو د وہ پو لیس اور متاثرین کو آگا ہ نہ کر تا ۔

    کھو جی کے بعد سراغ سراں کتے مجرم کا کھورا سونگ کر اس کو تلاش کر تے اور کسی ایسی جگہ پہنچ جاتے جہاں وہ مجرم رہتا ہو یا کسی کے ہاں قیا م کر تا ہو لیکن وقت کے ساتھ یہ بھی نا کارہ ہو گیا اکثر سراغ کتے غلط نشاند ہی کر نے لگے اور ان کی وجہ سے کئی بے گناہ لوگ مجرم قرار دیے جاتے پیسے کے لالچی لو گوں نے غیر تربیت یا فتہ کتوں کو مجرموں کی کھو ج کے کا م میں استعمال کرنے لگے جس سے تفتیش کے کام میں مد د دینے والا یہ بھی طر یقہ بے کار ہو نے لگا کیونکہ مجرموں کی کھو ج کا م پر ائیو یٹ ایجنسیاں کر رہی تھیں جن میں سے اکثر غیر رجسٹر ڈ تھیں ۔
  
  دنیا میں ٹیکنالو جی کا استعمال انسانی فائد ے لئے ہو نے لگا تو جرائم پیشہ افراد بھی جد ید ٹیکنالو جی کا استعمال کر کے پو لیس کی نظروں سے بچنے کی کو شش کر نے لگے اور ٹیکنا لو جی کی مد د سے جرم کر تے ہیں لیکن ایسا بھی نہیں کے تمام جرائم پیشہ افراد ٹیکنالو جی کو استعمال کر تے ہو ئے جرم کر تے ہیں روایتی طر یقے سے بھی جرم ہو تے ہیں اگر ایک طر ف دنیا کے کسی کو نے میں ہیکر زہز اروں میل دور کوئی ورات کرتے ہیں تو سٹر یٹ کرائم ‘ڈکیتی ‘اغواء‘ چوری ‘ مو یشی جوری جیسے جر م بھی ہو رہے ہیں بس ان مجرموں نے کچھ اپنے طر یقہ واردات تبدیل کر لئے ہیں لیکن اس کے با وجو د پو لیس ان کو پکڑنے میں کا میا ب رہتی ہے جو نہیں پکڑے جاتے تو وہ جرم سے توبہ تو نہیں کر لیتے ان کی عادت تو بنی ہو تی ہے وہ کسی نہ کسی مو ڑ پر پو لیس گرفت میں آجاتے ہیں 

    جرائم کی روک تھام کے لئے دنیا میں پولیس کے نظام کو جدید بنایا جارہا ہے سانئسی بنیا دوں پر تفتیش کی جارہی ہے فنگر پر نٹ کاریکارڈ ‘ ڈی این اے سے مد د ‘ اور ملزمان کا ڈیٹا بیس تیار کر کے مختلف اداروں کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے اور پولیس کی اپنی فرنزک لیب بنا ئی جاتی ہیں جس میں تمام سائنسی شعبہ جات کے ماہر ین کے ساتھ آئی ٹی ایکسپرٹ مو جو د ہو تے ہیں ۔ لیکن ان سب طر یقہ کارے کے باوجو د سب سے اہم چیز جو مجر موں کو پکڑنے اور شنا خت میں کارآمد ثابت ہو نے کے ساتھ واردات میں کمی کا بھی سبب بن رہی ہے وہ ہیں جگہ جگہ لگے سیکورٹی کیمرے جو چوبیس گھنٹے ہر آنے جانے اور ہر حرکت کو ریکارڈ کر رہے ہو تے ہیں ۔پوری دنیا میں اب ان کی ہی مد د سے مجرموں کو پکڑا جاتا ہے بلکہ کسی بھی جر م ہونے کے چند گھنٹے بعد مجرم پو لیس کی گر فت میں ہوتا ہے ۔

پاکستان میں بھی دہشت گردی کے بڑھتے ہو ئے واقعات کے پیش نظر بڑے شہر وں اور اہم و حساس جگہوں پر کیمرے لگا ئے گئے سانحہ آرامی پبلک سکول کے بعد ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں کیمر ے لگانا لازمی قرار دیا گیا اور سیکورٹی انتظامات کے مکمل نہ ہونے تک ملک بھر کے تعلیمی ادارے بند رکھے گئے ۔ ان  کیمروں سے سیکورٹی اداروں کو کا فی معاونت ملی جس کی وجہ سے بڑے بڑے دہشت گردی کے واقعات سے لے کر عام چوری چکاری کے ملز م اسی کی وجہ سے پکڑے گئے لاہور مال روڈ پر ہو نے والے خود کش دھماکے کے نتیجے میں شہید ہو نے والے ڈی آجی جی اور ایس ایس پی ‘ کے مجرم تک ان ہی کیمروں کی مد د سے پہنچا گیا تھا دہشت گرد کو  چند دن میں گرفتار کر لیا گیا تھا ۔لیکن یہ ساری کا میا بی سیف سٹی کیمروں سے حاصل نہیں ہو ئی بلکہ کچھ پر ائیو یٹ کیمروں کی ویڈیو سے کافی فائدہ حاصل ہو ا جو مختلف دوکاندروں نے لگا ئے ہو ئے تھے ۔

 ملک کے بڑے شہر وں اور اہم جگہوں پر کیمرے تو لگا ئے گئے ہیں ان پر کروڑوں روپے بھی خر چ کیے گئے ہیں لیکن وقت کے ساتھ یہ کیمرے ناکارہ ہو تے جارہے ہیں مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے ساتھ کیمرے بھی غیر معیاری  استعمال کیے گئے ہیں جن کی ویڈیو کوالٹی انتہائی غیر مناسب ہے جس میں لو گ چلتے پھرتے تو نظر آتے ہیں لیکن ان کے چہر وں کی شنا خت کر نا مشکل ہو جاتا ہے حالیہ قصور میں زینب کے قتل کے  میں بھی یہی کچھ ہو ا ملزم کی شنا خت سیکورٹی کیمرے کی ویڈیو سے نہ ہو سکی اس کا خاکہ تیا ر کر وانا پڑا پہلا خاکہ بھی مشابہت نہ رکھتا تھا اس کے بعد ایک اور خاکہ تیار کیا گیا ۔ اس کے واقعہ کے بعد ملک میں سیکورٹی کیمروں کو لے کر ایک نئی باعث چل پڑی اگر اس جگہ کیمرہ اچھی کوالٹی کا لگا ہوتا تو مجرم کی شناخت اچھے طریقے سے ہو سکتی جس کے چہر ے کی شناخت نادرہ سے کروا کر مجرم تک جلد پہنچا جاسکتاتھا ۔

ہمارے ہاں جہاں پر کیمرے لگ ہو تے ہیں وہاں ساتھ یہ بھی لکھ دیا جاتا ”خبردار آپ کو کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے “ یعنی آپ یہاں کچھ نہ کریں تھو ڑا سا ئیڈ پر ہو کر جو مر ضی آئے کر لیں وہاں کیمر ہ نہیں ہے میرا خیا ل میں ایسا لکھنے کی ضرورت نہیں ہے یہ بس ڈرانے کے لئے ہے کہ کوئی اس وجہ سے جرم نہ کرے لیکن جرم پھر بھی ہو جاتے ہیں ۔اکثر ملز م دنداتے ہو ئے بنک ڈکیتی کر لیتے ہیں ان کی بھی شنا خت نہیں ہو پاتی اس کی بھی یہی وجہ ہے وہاں بھی ایسے پرانے کیمرے لگے ہو ئے ہیں جن کی کوالٹی بھی بے کار ہو تی ہے جب ہمارے کیمرے کی آنکھ ناکارہ ہے تو اس اندھی آنکھ سے ڈرانے کا کیا فا ئد ہ اور اس سے ملزم تو پکڑے نہیں جاسکتے ، میں اکثر اپنے کالمز میں لکھتا رہتا ہوں ہم ٹیکنالو جی کی دوڑمیں دنیا سے بہت پیچھے ہیں جس کی وجہ سے اب ہمیں زندگی کے ہر شعبہ میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور مز ید کرنا پڑے گا ۔ 
  
  چین نے سیکو رٹی کیمر وں کی ٹیکنا لوجی میں پوری دنیا کو پیچھے چھوڑدیا ہے چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی سے لیس چین کی شاہروں پر لگے کیمرے بچنا تقریبا ناممکن ہو گیا ہے۔ ان جدید ٹیکنالوجی کے حامل کیمر وں کی رینج میں آتے ہی کسی شخص کی شناخت اور پھراس کا ریکارڈ فورا اسکرین پر آجاتا ہے۔ چین میں نگرانی کے اس نظام کا جائزہ لینے کے لیے برطانوی صحافی نے تجر با تی طور پر پولیس ریکارڈ میں خود کو مشکوک درج کرایا۔جب وہ متعلقہ شخص مانیٹرنگ نظام کی رینج میں آیا تو اسے چند منٹ میں پولیس نے اسے حراست لے لیا ۔چین میں مانیٹرنگ کے اس جد ید نظام کے لیے 17 کروڑ کیمرے نصب کیئے جاچکے ہیں‘ چینی حکومت 2020 تک ہائی ٹیک سی سی ٹی وی کیمروں کی تعداد 45 کروڑ تک لے جانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔مستقبل میں یہ نظام ہر شہری کی نقل و حرکت کے رویوں کی بنیاد پر ایک ریٹنگ بھی مرتب کرتا رہے گا۔چینی حکام کا کہنا ہے کہ اس نظام سے نہ صرف جرائم کو روکنا بلکہ جرم ہونے سے پہلے ہی آگاہ رہنے میں مدد ملے گی ۔ چین کے ایک بینک نے تو چہرہ شناخت کرنے کی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر صارفین کو اے ٹی ایم کارڈ رکھنے اور پاس ورڈ یاد کرنے کی مشکل سے نکال دیا ہے۔صارفین اے ٹی ایم میں لگے کیمرے میں چہرہ شناخت کرا کر رقم نکال سکتے ہیں.لیکن دوسری طر ف ہمارے ہاں اے ٹی ایم میں نو سر با ز اپنا نظام لگا کر عوام کو لو ٹ رہے ہیں 
  
  اگر ملک میں جرائم کا خاتمہ کرنا ہے تو قانون میں اصلاحات کرنے کے ساتھ بہت ساری تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ایسا قانون اور نظام بنانے کی ضرورت ہے جس میں امیر غریب کا فر ق نہ ہو معاشی طور پر بہتری لانے کے ساتھ روزگار کے نئے مواقعے تلاش کرنے کی ضرورت ہے ساتھ ہی پولیس کی تفتیش میں معا ون ثا بت ہونے والے سیکورٹی کیمروں کو تبدیل کر کے ان کی جگہ جدید کیمرے لگانے کی ضرورت ہے ۔ اکثر اہم اور حساس جگہوں پارکس ‘ ہسپتالوں ‘سکولوں ‘ چوہاروں ‘پٹرول پمپ ‘ سروس اسٹیشن وغیرہ میں لگے کیمروں کو چیک کرنے کی اشد ضرورت ہے ‘ اس کے علاوہ بڑے دوکاندار ‘ بازاوروں ‘ مساجد ‘ گلی محلوں میں بھی کیمرے لگا ئے جائیں ہر دوکاندار کو پابند کیا جائے کہ کیمر ے لگا ئیں خاص کر حس میں باہر کا ویو واضع اور زیادہو‘اور گورنمنٹ ان کے ساتھ کسی بھی ٹیکس کی مد د میں رعایت دے کران سے کیمرے لگوا سکتی ہے

ملک میں محلے کی ہر بڑی مسجد میں کیمرے لگوائے جائیں جن میں خاص کر باہر والے کیمرے کا ویو زیا دہ ہو ایسے بڑے گھر وں و محلے کی سطح پر لگا ئے جائیں بلد یاتی نمائندے محلہ کمٹیاں بنا کرایسا کر سکتے ہیں اگر یہ نظام زیادہ پیمانے پر پھیل جاتا ہے تو پولیس کو جرائم پیشہ افراد تک پہنچنے میں دیر نہیں لگے گی اور جرم کی شرح میں خاطر خواہ کمی ہو گی 

کالم نگار عبدالجبار خان دریشک ایم ایس ماس کمیونیکیشن ایل ایل بی تحصیل و ضلع راجن پور ,

Thursday, 11 January 2018

کسان کھیت میں کوے کو عبرت کیوں بناتے ہیں

تحریر عبدالجبار خان دریشک
دیہاتوں میں جب گندم کی بیجائی کی جاتی ہے تو گندم کے بیج اگنے تک کسان اس کی رکھوالی کرتے ہیں کیونکہ پرندے جن میں خاص طور پر کوے ان بیجوں کو اگنے سے پہلے کھا جاتے ہیں۔ جب یہ کوے کسی کھیت کو کھانے جاتے ہیں تو پہلے سارے کوے ایک ساتھ یہ وارت نہیں کرتے پہلے ایک کوا صورت حال کو بھانپ کر کھیت میں داخل ہوتا جب وہ اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹتا ہے اس کے باقی ساتھی اس کی کامیاب واپسی کو دیکھا کر جرت مند بن جاتے ہیں اور وہ اس کھیت پر سارے کے سارے ٹوٹ پڑتے ہیں اور وہ سب اپنی مرضی سے آتے ہیں بیج کھاتے ہیں اور چلے جاتے ہیں اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہتا ہے جب بیج سے پودے نہیں بن جاتے اور وہی بیج پودے بنتے ہیں جو قسمت سے اس کوے کا نوالہ بننے سے بچ جاتے ہیں

کسان ان سے بچنے کے لیے اکثر  پہرے داری کے ساتھ ایک اور بڑا کام کرتے ہیں وہ ایک کوے کا بندوق سے نشانہ لگا کر ہلاک کر دیتے ہیں اور اس مرے ہوئے کوے کو کھیت کے عین درمیان میں کسی لمبی لکڑی کے ساتھ باندھ کر الٹا لٹکا دیتے ہیں جب کوئی بھی کوا یا ان کا جھنڈ اس فصل کا رخ کرتا ہے تو دور سے انہیں اپنا ایک ساتھی الٹا لٹکا نظر آتا ہے تب وہ دور سے کاں کاں کرتے ہیں اور اس فصل کے قریب نہیں جاتے وہ پھر کسی اور طرف اپنا رخ کرتے ہیں جس کھیت کا مالک غافل ہوتا ہے وہ اس کھیت ہیں
کو اجڑانے چلے جاتے ہیں

قصور میں ہونے واقعہ بھی کھیت کے مالک کی طرح ہمارے حکمران بھی غافل ثابت ہوئے معاشرے میں امن کی فضاء قائم رکھنا حکمت چلانے والوں کی ذمہ داری میں شامل ہوتی ہے ۔ مصوم زینب کے ساتھ ہونے والے واقعہ نے پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔  پاکستان میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ایسے درندگی کے سانحے ہر روز ہوتے ہیں مصوم بچوں کو درندے نوچھ کھاتے ہیں  اس چمن کی جس نے حفاظت  کرنی ہے وہ عافل ہو چکا وہ مالی اب مالی نہیں رہا وہ کچھ اور بن چکا ہے مالی تو پھولوں سے پیار کرتا ہے ان کی حفاظت کرتا ہے جب ایک درندہ ایک پھول کو مسل کر کوڑے میں پھنک جاتا ہے اور اس کو کوئی کچھ نہیں کہتا تو اور درندوں کا حوصلہ بلند ہوجاتا ہے اور وہ اپنے شکار کو نکل پڑتے ہیں یہ درندے پھولوں کو مسلنے والے بھی ہیں ان کو کاٹ کربیچنے والے بھی ہیں ان اور فروخت کرنے والے اغواء کرنے والے بھی ہیں

ملک میں اب تو دن بدن بچوں کے لیے ہر طرف صورت حال پریشان کن ہوتی جارہی ہے بچے نہ گھر میں محفوظ ہیں نہ ہی سکول مدرسے و کھیل کے میدان اور نہ ہسپتال میں درندگی وائرئس ہر طرف پھیل گیا ہے ہم تو اتنے نااہل اور ناکام ہو چکے ہیں کہ ہمارے بچوں کو پسپتال میں چوہے کاٹ کھاتے ہیں اب اس بڑی گلستان کی بربادی اور کیا ہوگئی کہ درندوں کے ساتھ کیڑے مکوڑوں کا بھی شکار ہمارے بچے بنتے ہیں

کالم نگار عبدالجبار خان دریشک ایم ایس ماس کمیونیکیشن ایل ایل بی تحصیل و ضلع راجن پور ,

Monday, 8 January 2018

امر یکہ کے دو چہرے 

تحر یر : عبد الجبار خا ن دریشک 
    ثا بت قدم قومیں ہمیشہ ڈٹ جا تی ہیں ہر حالات میں مقا بلہ کر تی ہیں ڈرتے وہ جو ڈر جا تے ہیں ڈر انے اپنے آپ کو تب تک طا قت وار سمجھتا ہے جب تک اس سے کو ئی ڈر تارہتا ہے جب اس کے سا منے کو ئی سینہ تان کے کھڑا ہو جا ئے تو اسے اپنی اوقات کا ندازہ ہو جاتا ہے ۔ پوری دنیا میں آج کل کچھ ایسی ہی صورت حال بنی ہو ئی ہے امر یکہ کی پور ی دنیا پر کمز ور ہوتی گر فت اور اس کے مقا بلے میں ابھر تی ایک اور طاقت چین جو آنے والے دور میں سپر پاور کی جگہ حاصل کر لے گا ۔ امر یکہ کا 9/11 کے بعد دوسری مر تبہ افغانستان میں آنا صرف حوف کی ہی وجہ تھی اور اب مز ید افغانستان میں رہنا خوف کی یہ تیسری وجہ سمجھا جا ئے تو غلط نہ ہو گا ۔ امریکی صدر ٹر مپ کے حالیہ ٹیو ٹر پر جاری ہو نے والے بیا ن اور امر یکی انتظامیہ کے اقدامات پاکستان  کو لیشن فنڈ کو رو ک دینا جسے وہ اپنے مفاد حاصل کر نے کے لئے دیتے تھے اسے وہ پاکستان کی مدد سمجھ رہے ہیں ہم نے امریکہ یہاں آنے کی کو ئی دعوت نہیں دی تھی وہ اپنے مفاد ات کے ہاتھوں مجبو ر ہو پا کستا ن کی طر ف دوڑے تھے ویت نام کی جنگ میں مار کھانے کے بعد امر یکہ سوویت یو نین سے کس طر ح بدلہ لینا چا ہتا تھا اورسوویت یونین کے بڑھتے قدموں سے امر یکہ کو خوف تھا امریکہ سوویت یونین کے لئے دیوار صرف افغانستان میں ہی بن سکتا تھااس مقصد کے لئےامر یکہ کو افغانستان میں اڑ کر تو نہیں آنا تھا صاف ظاہر ہے خطے کی جغرافیا ئی صورت حال کے مطا بق واحد پاکستان ہی تھا جو سوویت یونین کاراستہ روکنے میں امریکہ کی مددکر سکتا تھا۔

اس مقصد کے لیے 1980 ءمیں امر یکی صدر جمی کارٹر کے مشیر زبگینو بر یز نسکی اسلام آبا د آکر جنر ل ضیا ءالحق سے ملے اور چا لیس کروڑ ڈالر کی امد اد پیشکش کی جسے صدر ضیاءالحق نے یہ کہے کر ٹھکر ا دیا کہ امر یکہ یہ مو نگ پھلی اپنے پاس رکھے اور یہ بات بڑی دلچسپ تھی کہ امر یکی صدر جمی کارٹر کے اس وقت مو نگ پھلی کے وسیع کھیت تھے جنوری 1981 ءکو رونالڈو ریگن صدر بنا تو اس نے پاکستان کو 3 ارب 20 بیس کروڑڈالر دینے کی پیش کش کر دی جس میں نصف فوجی امداد اور نصف اقتصادی امداد تھی ۔اس دوران ادھر افغانستان میں سوویت یونین کی کاروائیوں شر وع ہو جاتی ہیں اور پاکستان میں 60 لا کھ افغان پنا ہ گز ین آجاتے ہیں جبکہ سوویت یونین کے لئے ایک اور پر یشانی پیدا ہو گئی چین اورسوویت یونین کے ما بین سرحد وں پر جھڑپیں شروع ہو جاتی ہیں سوویت کا ایک وقت میں دو محاذوں پر لڑنا مشکل ہو رہا تھا اور افغانستان میں سوویت یونین کو مسلسل مار مل رہی تھی ۔افغانستان میں طویل جنگ کی وجہ سے سوویت یونین کی معیشت دن بدن کمز ور ہو تی جا رہی تھی بالا آخر سوویت یونین نے ہار تسلیم کی اور جنیو ا میں معاہد ہ طے پایا اور جس میں چار کی بجا ئے تین فر یق شامل تھے روس ‘ پاکستان ‘ اور امر یکہ لیکن اس معاہد ے میں افغان مجا ہد ین کی قیا د ت کو شامل نہ کیا گیا صدر ضیاءالحق اس معاہد ے سے متفق نہ تھے ان کے نز دیک یہ درست ہو تا سوویت یونین کے انخلاء سے پہلے افتدار اس وقت کی افغان مجا ہد ین قیادت کو منتقل ہو نا چا ہیے تاکہ نظام چلتا رہے ۔

      افغانستان سے سوویت یونین ہار کر اور امر یکہ اپنے مقاصد پور ے کر کے چلا جاتا ہے ایک طر ف افغانستان میں اقتدار کی خاطر خانہ جنگی چھڑ جا تی ہے تو دوسری طر ف پاکستان پر باقی رہے جانے والے 35 لا کھ افغان پنا ہ گز ینوں کا بوجھ بر قرار رہتا ہے ان پناہ گز ینوں کو عالمی اداروں سے امداد ملنا بھی کم ہو گئی اور یہ پناہ گزین افغان کمپیو ں سے نکل کر پور ے ملک میں پھیل جاتے ہیں اور ایسے ہی پاکستان میں ان کے ذریعے اسلحہ منشیات اور سمگلنگ کا سامان آنا شر وع ہو جاتا ہے اتنے بڑے بارڈر کو سیل کر نا ناممکن تھا ایسا تب ممکن تھا جب دوسری طرف بھی فعال نظام حکو مت چل رہا ہوتا لیکن وہا ں خانہ جنگی جاری تھی
     
وقت گز رتا رہا پاکستان امر یکہ سےتعاون کی قیمت مسلسل ادا کر تا رہا ساتھ افغان مہاجر ین کا بوجھ پاکستان مسلسل برداشت کر تا رہا ۔ 1991 ء میں سوویت یونین بھی پاش پاش ہو جاتا ہے اس سے 14 ریاستیں آز اد ہو جا تی ہیں اور اس طر ح دنیا میں طاقت کا تو ازن دو پلڑوں کی بجا ئے ایک میں چلا جاتا ہے ۔ پاکستان اس دوران حالات سے مقابلہ کر تا رہا حکومتیں بنتی اور ختم ہو تی رہیں ۔پاکستان نے 28 مئی 1998 کو انڈیا کے جو اب میں ایٹمی دھماکے کر دنیاکی پہلی ایٹمی اسلامی ریاست بن جاتا ہے ۔اس اسلامی بمب سے امر یکہ سمیت دنیا کی آنکھیں کھل جاتی ہیں کہ دنیا کے نقشے پر چھو ٹا سا ملک جس کے وسائل بھی کم ہیں اور معا شی طور پر بھی کمز ور ہے ایٹمی طاقت کیسے بن گیا ۔ یہ بات دنیا کے لئے کسی حیر انی سے کم نہ تھی اور یہ بات امر یکہ بھارت اور اسرائیل سمیت دنیا کی دیگر طاقتوں کو ہضم نہیں ہو رہی تھی۔

ملک کے اقتدارکو پرویز مشروف سیاسی و جمہو ری وزیر اعظم کو معزول کر کے حاصل کر لیتا ہے افغانستان میں طالبان آہستہ آہستہ پورے ملک کا کنٹر ول سنبھالتے جار ہے تھے چین اور روس میں دوریاں کم ہو رہی تھیں اور چین کی معیشت کے پر نکل رہے تھے اس دور ان امر یکہ کے پیٹ میں شد ید درد اٹھتا ہے امر یکہ کی تڑپ سے بھارت کی بھی چیخیں نکلنا شر وع ہو جای ہیں ۔اچانک امر یکہ میں 9/11 کا واقعہ ہو جاتا ہے ورلڈ ٹر یڈ سنٹر کی عمارت کے دونوں ٹاورز سے ہو ئی جہاز ٹکر ا جا تے ہیں اور وہ زمین بو س ہو جاتے ہیں جبکہ وہ عمارت اپنی مدت پوری کرنے کے بعد زائد المعیاد ہو چکی تھی جس کی تحقیقا ت میں اشارے خود امر یکہ کی طر ف جاتے رہے ہیں بلکہ اتنا بھی کہا جاتا رہا ہے کہ بارود بلڈنگ کے اندر پہلے سے رکھا گیا تھا ہو ئی جہاز ٹکرانے کے منظر ہو لو گر ام ٹیکنالو جی سے بنا ئے گئے جو حقیقت میں ٹکراتے ہو ئے نظر آئے ۔ اس مرتبہ امر یکہ کے پاس 9/11 جیسا بہانہ  تھا امریکہ نے 9/11 کے بعد  مظلومیت کے ساتھ اپنی جو دھر ہٹ بھی دیکھائی سید ھی دھمکی دینے والی بات کی حالانکہ پاکستان سے فضا ئی حد ود اور اڈے ما نگنے سے پہلے ا مر یکہ تر کی کے پاس بھی گیا لیکن ترکی نے صاف انکار کر دیاحالانکہ ترکی ایک وقت میں امر یکہ کا اتحادی تھا اور امر یکہ نے سوویت یونین کے لئے میز ائل ترکی میں نصب کر رکھے تھے۔اور سوویت یو نین نے پہلے امر یکہ کے لئے کیو با میں میز ائل لگا ئے ۔امر یکہ  سوویت یونین کے اس اقدام سے بے خبر رہا ‘1962 ءامر یکی جا سوس طیاروں نے کیو با میں سوویت یونین کے خفیہ اڈے کا پتہ چلا لیا ۔ اس وقت دنیا میں ایٹمی جنگ کے خطر ات بڑھ گئے لیکن بعد میں ایک خفیہ معا ہد ے سے امر یکہ نے تر کی سے اور روس نے کیو با سے میز ائل ہٹا لیے لیکن 9/11 کے بعد  ترکی کے انکارسے امر یکہ کے پاس سوا پاکستان کے کو ئی اور آبشن نہیں تھی لہذا غیر آئینی طر یقے سے آنے والے پر ویز مشرف کو سپورٹ کی ضرورت تھی اور اس نے امر یکہ کی ہاں میں ہاں ملا کر پوری قوم کو امر یکہ کی جنگ میں دھکیل دیا

اس وقت کی پاکستانی قیا دت نے امریکہ کو اپنے  اڈاے بھی دے دیے اور کمرشل فضائی حدود بھی اس کے ساتھ ہی نیٹو سپلائی کے لئے اپنی سٹر کیں اور راستے انہیں استعما ل کر نے کی اجاز ت دے دی امر یکہ اپنے اتحادیوں کے لاو لشکر لے کر افغانستان میں داخل ہو جاتا ہے افغانستان میں مسلسل بمباری ڈراون حملے کرتا رہا اور بعدمیں امر یکہ نے یہ ڈراون حملے پاکستان کی حد دو میں کر نا شر وع کر دیے افغانستان میں سولہ سال کی جنگ میں امر یکہ کے حد ف تو کچھ اور تھے اپنے ساتھ اپنے اتحادیوں کے فو جی بھی مر واتا رہا امر یکہ کے آنے سے پہلے افغانستا ن میں منشیا ت کی پید اوار چند ہز ار ایکڑ پر ہو رہی تھی لیکن امر یکہ کے قدم رکھتے ہی دو لا کھ ایکڑ تک پہنچ گئی ساتھ ہی بلیک واٹر اور سی آئی اے کے ایجیٹ افغانستا ن اور پاکستان لا ئے گئے جو دہشت گردی کے نیٹ ورک چلاتے رہے افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان میں خودکش حملے اور دہشت گردی پھیلاتے رہے ۔ 
  
  اس جنگ میں امر یکہ کے دو چہرے تھے ایک دہشت گردوں کے ساتھ اور دوسرا دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنے اتحادیوں کے ساتھ امر یکہ اب کہتا ہے پاکستان ہمارے ساتھ دوغلی پالیسی چلتا رہاہے حالانکہ دوھوکا دہی اور دوغلہ پن خود امر یکہ دیکھتا رہا ہے بھارت کو افغان امو ار میں شامل کر کے اس کی تعمیر نو کے لئے بھارتی کمپنیوں کو تعمیر اتی ٹھیکے دیے گئے اس بہانے را ءکے ایجنٹ افغانستان میں داخل کر کے ان کو پاکستان بھیج کر دہشت گردی کی کاروا ئیاں کر وائی گئیں پاکستان میں جتنے دہشت گردی کے حملے ہو ئے ہیں وہ افغانستان سے کنٹر ول ہو تے تھے اور ان کے تانے با نے بھارت اور راءسے ملتے رہے ہیں امریکہ کے ساتھ اب بھارت رو رہا ہے ۔آج ٹر مپ کہتا ہے کہ ہم نے پاکستان کو اربوں ڈالر دےے ہیں حالانکہ یہ اربوں ڈالر جس کو وہ امداد کا نا م دے رہا ہے وہ اتحادی ہو نے کے نا تے دینے کا مجاز تھا جنگ وہ خطے میں لے کر آیا تھا اور وہ کو ئی مد دنہیں تھی وہ کو لیشن فنڈ تھا ۔ اس کے ان فنڈزسے کہیں زیادہ نقصا ن ہمارا ہو ا ہے ہمارا اب تک 180 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے ہمارے 75 ہزار لو گ شہید ہو ئے ہیں ہمارے دفاعی اہم ہوائی اڈاے ہماری سٹر کیں راستے سب استعمال ہو تے رہے امر یکی ایجنٹ پاکستان میں جاسوسی کر تے رہے ریمنڈ دن دہاڑے دومصوم پاکستانیوں کو مار کر چلا جاتا ہے اس اتحادی بننے کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے ہم بروقت قرضے ادا نہ کر سکے جس سے ہماری عالمی سطح پر ساکھ خراب ہو ئی بیر ونی سرمایہ کاری نہ آسکی حتیٰ کہ ہمارے کھیل کے میدان ویران ہو گئے ہمارے بچوں کو سکولوں میں دن دیہاڑے شہید کیا گیا ۔

   امر یکہ کا افغانستان سے جانے کا اراد ہ اچانک تر ک ہو نا خطے کی بدلتی صورت حال کی وجہ سے ہے روس چین کا اتحاد ‘ سی پیک ‘ امر یکہ سے ناراض ہوتے ملکوں کے نئے اتحاد کی وجہ سے امر یکہ کی پر یشانی بڑھ گئی ہے امر یکہ اب اپنے آپ کو دنیا کے مختلف معاملات میں الجھارہا ہے خلیجی ریاستوں کے علاوہ شمالی کوریا اور ایران اس کے لئے سر درد بنے ہوئے ہیں ترکی کی ابھر تی ہو ئی طاقت بھی اسے مزید پر یشان کر رہی ہے اسلامی اتحادی فورس اور پاکستان کے سابقہ آرمی چیف کو سربراہی کا عہد ہ ملنا یہ بات بھی بھارت اور امر یکہ کو آسانی سے ہضم نہیں ہو رہا ۔ترکی میں بغاوت کی ناکامی سے بھی امر یکہ کو منہ کی کھانی پڑی ۔ دوسری طرف ایر ان کے مظاہر بھی ٹھنڈے پڑ گئے ہیں جس سے اسے ایک اور ناکامی ملی ہے خود امر یکہ چین کا دن بدن مقروض ہو رہا ہے ۔ اور ٹر مپ جیسے متنازعہ شخصیت کا انتخاب کرنے کی وجہ سے  امر یکہ اور امر یکی عوام کے لئے پر یشانی مسلسل بڑھ رہی ہے خود امر یکہ کے ماہر ین نفسیات ٹرمپ کو عجیب اور احمق قرار دے چکے ہیں امر یکی صحافی مائیکل وولف کی کتا ب میں بھی اس کی کارستانیوں کا ذکر ہے جس میں وہ ٹرمپ کے بارے میں لکھتے ہیں الیکشن مہیم میں ٹر مپ کہتا تھا اسے الیکشن جیتنے سے زیادہ دلچسپی اس بات کی ہے کہ وہ دنیا کا مشہور ترین فرد بن جا ئے 

 ہمارے سیاست دان اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے ہر مرتبہ امر یکہ کو خوش کر تے رہے امر یکہ سے ملنے والے فنڈز اور آئی ایم یف کے قرضوں کو کر پشن کے ذریعے ہتھیا تے رہے دوسر ے مما لک میں جا ئیدا یں بنا تے رہے بنک بھر تے رہے پاکستان کو اور قوم کو قرضوں میں دھنساتے رہے پاکستان کو فنڈز اور قرض ملے ہیں اس سے کہیں زیادہ ان چند لوگوں اور خاند ان کے پاس ہیں جو سیا ست اور دوسرے ذرائع سے باہر ممالک میں بنک بیلنس اور جائیداوں کی صورت میں جمع کر تے رہے ۔ پاکستان کی فوج اور پاکستان کی قوم دشمن کا مقابلہ کرنا خوب جانتی ہے جس قوم کے جذبے یہ ہوں کہ ایک باپ کے تین بیٹے ملک کی راہ میں شہید ہو جائیں اور وہ کہے میرے اور بیٹے ہیں وہ بھی ملک راہ میں شہید ہو جا ئیں تو ایسی قو م کا کون کچھ بگاڑ سکتا ہے پاکستان کی فو ج اور قوم دشمن کے سامنے ہمیشہ ثابت قدم رہے ہیں۔ساتھ ہی امر یکہ کو پتہ ہو نا چا ہےے پاکستان ایک خود مختار آزاد ریا ست ہے پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین فوج کے علاوہ پاکستان ایٹمی طاقت کا حامل ملک ہے اگر کو ئی حر کت کی جا ئے گی تو اس کا منہ توڑ جواب بھی دیا جا ئے گا ۔

کالم نگار عبدالجبار خان دریشک ایم ایس ماس کمیونیکیشن ایل ایل بی تحصیل و ضلع راجن پور 

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...