Monday, 16 July 2018

ماحولیاتی آلودگی

ماحولیاتی آلودگی انسانی زندگی کے لیے بڑا خطرہ 

تحریر عبدالجبار خان دریشک

انسان نے جتنا ظلم اپنے ماحول کے ساتھ کیا ہے اب اس کی وجہ انسان کا دھرتی پر رہنا رہنا محال ہوگیا ہے اب زمین انسان کے لئے تنگ ہورہی ہے  ، جس دھرتی پر انسان رہتا ہے  انسان نے اسے آلودہ کرکے تباہ کر دیا ہے ہم جن درختوں کی چھاؤں میں بیٹھتے تھے انہیں کاٹ کر ان کا نام نشان مٹا دیا ہے  ، آج ہم شدید گرمی کا رونا روتے ہیں ، لیکن اپنے ماحول کے تحفظ کے لیے ہم نے کچھ نہ کیا اور اسی عفلت میں کئی سال گزار دیے ، سورج کی حرارت میں سال با سال آضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ، سورج کی گرمی انسان کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے ، سورج کا پارہ اوپر چڑتے ہی انسانی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں،  یہی صورت حال اسی سال کراچی میں بنی ہوئی ، کراچی میں موجودہ گرمی کی لہر سے 67 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 2015 میں 1200 سے زائد افراد کراچی میں ہلاک ہوئے تھے۔ کراچی میں موجودہ گرمی کی لہر سے ہوا میں نمی کا تناسب کم ہونے اور درجہ حرارت میں آضافے کا کئی سالوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے، ماہرین گزشتہ کئی سالوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کی وارنگ جاری کرتے آ رہے ہیں لیکن ہماری حکومتوں نے اس طرف توجہ نہ دی اور ایسے ہی ماحول آلودہ ہوتا رہا ، آئندہ آنے والے سالوں میں پاکستان میں دو قسم کے مسائل شدت اختیار کر جائیں گے ایک ماحولیاتی آلودگی اور دوسرا پانی کا مسئلہ  ، یہ دو مسائل ایسے ہیں جن کی وجہ سے انسانی زندگی کے ساتھ زمین پر زندہ اجسام چرند پرند اور درختوں کا بچنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

اقوامِ متحدہ کے ورلڈ میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی تحقیق کے مطابق حالیہ صدی کے آخر تک پاکستان کے درجۂ حرارت میں تین سے پانچ ڈگری تک کا اضافہ دیکھا جا سکتا ہے جس کے باعث پاکستان کے معاشی، سماجی اور صحت کے شعبے بری طرح متاثر ہوں گے۔ گرمی کی لہر کے نتیجے میں شہروں اور گنجان آبادی والے علاقوں میں عمر رسیدہ افراد ، کمزور ،بیمار ، غربت اور بھوک سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی ممکنہ طور پر اموات میں اضافہ ہو جائے گا۔ ماحولیاتی تبدیلی  کے سبب گزشتہ کئی سالوں سے ہمیں سخت موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ، ہمارے ہاں ضرورت کے وقت بارشوں کا نہ ہونا اور بے وقت بارشوں کی زیادتی،  اسی طرح  فیکٹریوں کے دھواں سے ستمبر کے مہینے میں سموگ کا سامنا  جبکہ سموگ ختم ہوتی نہیں  فوگ شروع ہو جاتی ہے۔ جبکہ اسی طرح گرمیوں کا سیزین وقت پہلے شروع ہونا ، اور سیلابوں کی صورت حال و دیگر وجوہات کی بنیاد پر ہمارا زرعی شعبہ کئی سالوں سے متاثر ہو رہا  ہے،  جس سے پیداوار میں کمی کے وجہ سے معیشت پر تو برے آثرات پڑتے ہی ہیں ساتھ ہی انسانی آبادی کے لیے خوراک کی کمی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ہی ملکی وسائل میں کمی کی وجہ سے ملک کے اندر غربت اور بے روزگاری میں آضافے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گرین ہاﺅسسز گیسوں کے اخراج کی وجہ سے درجہ حرارت میں بتدریج آضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے زراعت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے، جس سے خوراک کی طلب پوری نہ ہونے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بالخصوص غریب ممالک کے عوام کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کی جانیوالی چار غذائی اجناس، گندم، چاول، مکئی اور سویابین کی پیداوار میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران تشویشناک حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے، کیونکہ موسم میں تبدیلی کے باعث امریکہ، آسٹریلیا، یورپ اور ایشیاء میں کاشتکاری کا نظام شدید متاثر ہوا ہے، جبکہ ایشیاءکے زرعی ممالک، خصوصاً پاکستان،  اور بھارت میں آبپاشی کا نظام دریاﺅں میں پانی کی قلت کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ پاکستان میں اس وقت پانی کی قلت نہ صرف زرعی شعبہ کو ہے بلکہ انسانی آبادی کے لیے بھی مختلف شہروں میں پانی کم ہونے کے ساتھ مضر صحت ہوچکا ہے

بین الاقوامی جریدے 'نیچر کلائمیٹ چینج' میں چھپنے والی تحقیق کے مطابق اس وقت پاکستان سمیت عالمی سطح پر ہر تین میں سے ایک فرد گرمی کی لہر کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے۔ پاکستان میں عموماً تاریخی طور پر گرمی کی لہر کے واقعات مئی اور جون کے مہینوں میں دیکھے جاتے تھے مگر اب ملک میں ہیٹ ویو  مارچ اور اپریل میں بھی شروع ہو  جاتی ہے اب ہمارے ہاں سردیوں کا دورانیہ کم ہوگیا ہے جبکہ بہار کا موسم نہ ہونے کے برابر رہے گیا ہے اور گرمیوں کا سیزین طویل ہو چکا ہے ۔ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں آضافے کے باعث رونما ہونے والے ان واقعات سے انسانوں اور ان کی صحت پر ممکنہ طور پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے بچنے کے لیے ملک کے مختلف علاقوں میں ہیٹ ویو اور ارلی وارننگ سسٹم نصب کرنے کے ساتھ ساتھ شجرکاری کو ہر سطح پر فروغ دینا انتہائی ضروری ہوگیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق گرمی کی لہر کی پیش گوئی اور اس کے متعلق عام لوگوں تک معلومات کی بروقت رسائی سے اس کے منفی اثرات کو بڑی حد تک قابو پاکر انسانی  زندگیوں سے بچایا جاسکتا ہے۔

موجودہ صدی سے پہلے سائنس دانوں نے ماحولیاتی آلودگی کے خطرات کے الرٹ دینے شروع کر دیے تھے لیکن ان کو کسی نے سنجیدگی کے طور پر نہیں لیا۔ ماہرین کی ایک جائزہ رپورٹ میں جس کو دنیا بھر کے 13سو غیر جانب دار ماہرین اور سائنس دانوں نے مرتب کیا تھا جس میں تمام ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ گزشتہ اڑھائی سو برسوں میں ہونے والی انسانی سرگرمیوں نے ہماری زمین کی حرارت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ جس کے منفی اثرات شروع ہو چکے ہیں، موجودہ صورت حال تو مزید گھمبیر ہوتی جارہی ہے۔کینیڈا کے شہر وینکوور کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے اسکول آف پاپولیشن اینڈ پبلک ہیلتھ کے ایک پروفیسر مائیکل براؤئر نے کہا، ’’فضائی آلودگی اس وقت عالمی سطح پر انسانی صحت کے لحاظ سے چوتھا سب سے بڑا خطرہ ہے۔

ماحولیاتی آلودگی کے بارے مختلف ماہرین انسان کو اپنے ماحول کو بہتر بنانے پر زور دے رہے ہیں آنے والے سالوں میں زیادہ تر ترقی پذیر ممالک متاثر ہوں گے جن میں گرمی سردی ، طوفان ، حد سے زیادہ بارشیں ، سموگ و فوگ ،اور سب سے بڑھ کر غذائی قلت سے انسانی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوں گی ’’دی لینسیٹ ‘‘نامی ریسرچ جرنل میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق تیزی سے ہونے والی ان ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں شدید غذائی کمی کے سبب 2050 میں 5 لاکھ لوگ موت کے منہ میں چلے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔

عالمی سطح پر ایک سرگرم  تھنک ٹینک ’’جرمن واچ‘‘ نے اپنے گلوبل کلائیمیٹ رسک انڈیکس میں پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث 10 سب سے زیادہ غیر محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کیا جبکہ ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ اگلے پندرہ برسوں میں پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد 27لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ پاکستان اور ڈبلیو ڈبلیو ایف برطانیہ کی ایک مشترکہ رپورٹ ’’نیچر پاکستان پروجیکٹ‘‘کے مطابق پاکستان میں سمندر کی سطح میں سالانہ 6 ملی میٹر اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں ساحلی علاقوں کی زمین آہستہ آہستہ سمندر برد ہو رہی ہے

ایک بشر کئی شجر

ماحولیات آلودگی کو کم کرنے اور درجہ حرارت میں کمی لانے میں درختوں کا اہم کردار شامل ہے لیکن ہم دن بدن جنگلات کا صفایا کر رہے ہیں اس میں ٹمبر مافیاء کا بہت بڑا کردار ہے۔ پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ملک میں 90 کی دہائی میں 35 لاکھ 90 ہزار ہیکٹر رقبہ جنگلات پر مشتمل تھا جو دو ہزار کی دہائی میں کم ہو کر 33 لاکھ 20 ہزار ہیکٹر تک رہ گیا۔ اور اس میں مزید آضافہ ہونے کی بجائے کمی واقعہ ہورہی ہے ۔ جبکہ حکومتی اعداد شمار جنگلات میں آضافے کا بتاتے ہیں جو صرف کاغذوں کی حد تک ہے  اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او اور دیگر اہم غیر ملکی ادارے ان اعداد و شمار کو درست نہیں مانتے۔

وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور سہولیات میں کمی وجہ سے دیہی آبادی  شہروں کا رخ کر رہی ہے ایک وقت تھا ہماری دیہی آبادی 75 فیصد پر مشتمل تھی حالیہ مردم شماری میں اس میں کمی ہوئی جوکہ موجوددہ یہی آبادی 65 فیصد تک رہے گئی ہے یعنی دس فیصد آبادی نے شہروں کا رخ کیا جس کی وجہ سے شہروں کے پھیلاؤ میں آضافے سے دیہی زمینیں کم ہورہی ہیں اور درخت کاٹ کر ہاوسنگ سوسائٹیز بنا کر شہر آباد کیے جارہے ہیں ایسے ہی شہروں میں ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے درختوں کا صفایا کیا جارہا ہے سٹرکوں کشادہ کرنے کے لیے پچاس سے لے کر سو سال تک کی عمر کے درخت کاٹے جارہے ہیں

ماحولیاتی آلودگی کے ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں اور ایک بشر کے لیے کئی  شجر ضرور ہونے چاہیں اور بشر کا شجر سے ناطہ نہ ٹوننے پائے تب جا کر ہم آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے بچ سکتے ہیں اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر ماحول دے کر جائیں درخت لگانے کے بارے آگاہی کے پروگرام شروع کیے جائیں فیکٹری مالکان اور بھٹہ خشت کو درخت لگانے کا پابند کیا جائے اور سالانہ محضوص تعداد میں درخت لگانے کا انہیں پابند کیا جائے سکولز کالجز اور یونیورسٹی کے طلباء کو شجر کاری کرنے پر آضافی نمبرز دے کر درختوں کی تعداد میں آضافہ کیا جاسکتا ، سٹرکوں کے کنارےدرخت لگانا لازمی قرار دیا جائے اور ساتھ ہی مقامی آبادی کو شامل کر کے ان کی دیکھا بھال اور حفاظت کے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ زرعی سہولیات ، بلا سود قرض ان زمینداروں اور کاشت کاروں کو دیے جائیں جس کے رقبہ کے گرد درخت وافر مقدار میں موجود ہوں اور قومی سطح پر پانچ سالہ درخت لگانے کا منصوبہ بنا کر کروڑوں درخت لگائے جائیں ہم ایسے اقدامات اٹھا کر ماحولیاتی آلودگی کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں

Saturday, 14 July 2018

دھشت گردی کی لہر

جمہوریت کی گاڑی کو روکنے کی کوشش

  تحریر عبدالجبار خان دریشک

دنیا میں جمہوری سفر کو کامیابی سے طے کرنے والے ممالک میں ہمیشہ ترقی رفتار تیز رہتی ہے ، ایسے ممالک میں تمام تر وسائل انسانی فلاح اور انسانی ترقی پر خرچ ہوتے ہیں ، وہاں ایسے نہیں جیسا ہمارے پاس ہے ملکی وسائل صرف ایک فرد یا خاندان پر خرچ کیے جاتے ہوں ، جہاں مکمل جمہوری نظام ہے تو ان کے ہاں وسائل کو شفاف انداز میں خرچ کیا جاتا ہے ، ان کے ہاں ادارے مضبوط اور عدالتوں غیر جانبداری میں فیصلے کرتی ہیں ، عوام فیصلے قبول کرتی ہے  اور حکومت ان پر عمل درآمد کراتی ہے ، یہ تمام تر جمہوری نظام ایسے چلتا رہتا ہے ، ایک سیاسی  جماعت کی حکومت چلی جاتی ہے تو دوسری اس کی جگہ حکومتی نظام چلانے آ جاتی ہے اور یہ جمہوری سفر یوں ہی طے ہوتا رہتا ہے 

ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں اپنے کم جمہوری دور کا رونا روتی ہیں لیکن جب ان جماعتوں کو موقع ملتا ہے تو یہ ڈلیور کرنے میں ناکام رہتی ہیں ، کہا یہی جاتا ہے ملک میں جمہوری سفر مختصر رہا ، لیکن اب تو ان سیاسی جماعتوں کے شکوے کا کوئی خاص جواز نہیں بنتا کیونکہ ملک میں مسلسل دو جمہوری دور گزر چکے ہیں اور تیسرے دور کآاغاز بس قریب ہی ہے جس میں بس چند دن رہتے ہیں ، پاکستان کے مسلسل جمہوری سفر کو طے کرنے سے ملک بہتری کی طرف جائے گا معیشت میں بہتری کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں آئے گی۔

  ملک کے جمہوریت اور خوشحالی کی طرف بڑھتے قدم دشمنوں کو ناگوار گزر رہے ہیں ،  دشمن یہاں مستحکم جمہوریت ، مضبوط معاشی ڈھانچا ، اور ہر شہری کا بلند ہوتا معیار زندگی دیکھ کر برداشت نہیں کر رہا ہے ، یہی دشمن طاقتیں ملک میں ہونے والے انتخابات کو خونی بنانے کے لیے شرانگیزی کرنے کوشش کر رہی ہیں  ، ملک میں مصوم لوگوں کا قتل عام کر کے کسی نہ کسی طرح انتخابات کو ملتوی کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، عالمی میڈیا مسلسل پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے مصروف ہے ، خاص کر بھارتی میڈیا پاکستانی اداروں پر تنقید کر رہا کہ  ادارے الیکشن کے نتائج پر آثر انداز ہوں گے ، اور یہ لابنگ کرنے والے میڈیا چینل یہ تاثر پھیلا رہے ہیں کہ ملک میں ہونے والے الیکشن شفاف نہیں ہونگے الیکشن کو سلکشن بنا کر پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جو جمہوریت کے خلاف سراسر سازش ہے ، انٹرنیشنل میڈیا عدالت کی طرف سے نااہل ہونے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سزا کو بھی جانبداری کا شوشا پھیلا رہا ہے ، عالمی طاقتیں پاکستان کے جمہوری نظام کے خلاف ایک تو میڈیا وار لڑ رہی ہیں ،  دوسرا یہ طاقتیں الیکشن سے قبل دھشت گردی کے حملے کروا کر جمہوری پراسس میں روکاوٹ ڈالنا چاہتی ہیں

ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ کچھ عناصر انتخابات کو ملتوی کرانے کے درپے ہیں. میاں نواز شریف کو نیب عدالت کی طرف سے ملنے والی  سزا کے بعد ملک میں دہشت گردی کے واقعات شروع ہو گئے ہیں  ، میاں نواز شریف کی آمد پر 13جولائی کو  پہلا دھماکہ خیبرپختونخوا کے علاقے بنوں میں  ایم ایم اے کے امیدوار اکرم خان درانی کی انتخابی قافلے کے قریب ہوا جس میں 4 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں

جبکہ اسی روز  دوسرا دھماکہ بلوچستان مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار سراج رئیسانی کی انتخابی مہم کے دوران  ہوا یہ ایک خودکش حملہ تھا جس کے نتیجے میں سراج رئیسانی کے ساتھ 130  کے قریب افراد  شہید اور 150 زخمی  ہوئے، 

جبکہ اسی ہفتے پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار بیرسٹر ہارون بلور کی کارنر میٹنگ کے دوران خودکش حملہ ہوا جس وہ  میں شہید ہوگئے تھے جب کہ اس حملے میں 22 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اسی ہفتے کے دوران 4 دہشت گردی کے واقعات ہو چکے ہیں جن میں 160 کے قریب افراد شہید ہو چکے ہیں

ضرب عضب اور ردالفساد میں پاک فوج نے بھر پور کامیابیاں حاصل کیں اور اسی وجہ سے ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، لیکن الیکشن قریب آتے ہی دھشت گردی کی کاروائیاں اور ان میں خاص کر سیاست دانوں کو ٹارگٹ کرنا اس بات کا پیغام ہے تاکہ سیاست دان دھشت  گردی کے خوف سے الیکشن مہیم نہ چلا سکیں ، اور سیاسی جماتیں اس بات کو جواز بنا الیکشن کا بائیکاٹ کردیں، جس وجہ سے الیکشن ملتوی ہو جائیں، جس کا نہ تو کسی سیاسی جماعت کو فائدہ ہے اور نہ ہی یہ ملک کے مفاد میں بہتر ہے

اس خطے میں دھشت گردی کے واقعات کو افغانستان سے کنٹرول کیا جارہا ہے ، امریکہ مسلسل افغانستان میں دھشت گردی کے خاتمے کے ساتھ امن قائم کرنے میں ناکام رہا ہے ، امریکہ افغانستان میں طالبان کا کیا خاتمہ کرتا اب تو داعش بھی افغانستان میں پیر جما رہی ہے ، جس کا اظہار سابق افغان صدر حامد کرزئی بھی کرتے رہے ہیں وہ افغانستان میں داعش کے قوت پکڑنے کا ذمہ دار امریکہ کو قراردے چکے ہیں۔ترکی کے صدر اردوان نے بھی عالمی ذرائع ابلاغ پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس امریکہ کے داعش کی سرپرستی اور اسلحہ بارود فراہم کرنے کے شواہد موجود ہیں۔ جبکہ روس اور چین کی جانب سے بھی داعش کے حوالے سے امریکی کردار کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان کا چین اور روس کے ساتھ بنتا اتحاد دشمن طاقتوں اور مسلسل جمہوری سفر  ہضم نہیں ہورہا ہے ، خطے سے دھشت گردی کے خاتمے کے لیے گزشتہ دونوں اسلام آباد میں روس ، چین ، ایران ، پاکستان کے حکام کی ملاقات ہوئی ہے جس میں افغانستان سے داعش کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنائے کی بات کی گئی ، پاکستان روس، چین اور ایران کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کی اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں خطہ میں دہشت گردی اور داعش کے خاتمہ کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا ہے جبکہ امریکہ دھشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کو جواز بنا کر ایک کے بعد ایک مسلم ملک کو کھنڈرات میں بدل رہا ہے۔

ملک میں سیاست دانوں کو دھشت گردی کی کاروائیوں میں ٹارگٹ کر کے ملک اندر انارکی پھیلا نے کا منصوبہ دشمن طاقتیں اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کرنا چاہتی ہے ، انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت کے لیے یقینی طور پر معاشی حالات ساز گار نہیں ہیں ، پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں بھی شامل کیا جا چکا ہے ،  خزانہ بھی خالی ہے ذرمبادلہ کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں ،  لیکن ان سب کے باوجود ماہرین کو بہت سارے ایسے مثبت پہلو نظر آ رہے ہیں جن سے پاکستان کے معاشی حالات میں بہتری آسکتی ہے اور بہت سارے معاملات بہتر ہو جائیں گے ، ایک تو جمہوریت کا مسلسل سفر ، امن امان کی صورت حال ،سی پیک ، اور پاکستان کا چین روس کے ساتھ بنتا نیا اتحاد ، جس سے ملکی حالات میں بہتری کی امید ہے

Saturday, 9 June 2018

فیفا ورلڈ کپ کا فیور

فٹ بال فیور ورلڈ کپ 2018

تحریر عبدالجبار خان دریشک

فٹ بال ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا جانے والا تھا ایک آدمی اپنی سیٹ پر آکر بیٹھا اور دیکھا کہ اس کے ساتھ والی سیٹ خالی ہے ، اس نے خالی سیٹ کے ساتھ بیٹھے ایک اور تماشائی سے پوچھا، اس سیٹ پر کوئی بیٹھا ہے تماشائی ،  نہیں، یہ سیٹ خالی ہے ، آدمی کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو ورلڈ کپ کی ٹکٹ لے کر بھی اتنا بڑا میچ دیکھنے نہیں آیا ، 
تماشائی،  اصل میں یہ سیٹ میری ہے میں نے اپنی بیوی کے لیے لی تھی مگر بدقسمتی سے اس کا ایک حادثہ میں انتقال ہوگیا ،  اس لیے سیٹ خالی ہے ، آدمی،  سوری ،  مگر آپ یہ سیٹ اپنے کسی دوست ، پڑوسی یا رشتہ دار کو دے دیتے تاکہ وہ یہ زبردست میچ دیکھ سکتے ، تماشائی نے اپنا سر نفی میں ہلایا پھر جواب دیا وہ سب میری بیوی کے جنازے پر گئے ہیں ، خیر یہ تو لطیفہ تھا لیکن فٹ بال فیور ایسے ہی سر چڑھ کر بولتا ہے ۔

فیفا ورلڈ کپ فٹ بال 2018 میں دن نہیں اب گھنٹے شمار کیے جارہے ہیں کہ کتنے وقت بعد ورلڈ کپ کے میچز شروع ہوں گے ، تو دیوانوں کا بخار آہستہ آہستہ اترتا جائے گا ، دنیا میں سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا کھیل فٹ بال ہے دنیا کے زیادہ تر ممالک میں باقاعدہ فٹ بال کھیلا جاتا ہے ، برازیل دنیا کا واحد ملک ہے جو ابتک پانچ مرتبہ عالمی چمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کر چکا ہے ، فٹ بال برازیل کا قومی کھیل ہے جس کے پرچم میں بھی فٹ بال چھاپ دیا گیا ہے

اس وقت فیفا ورلڈ کپ 2018  کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں ، جس کا آغاز 14 جون سے روس کے شہر ماسکو میں ہوگا جبکہ اختتام 15 جولائی کو ہوگا 14 جون کو ہونے والے افتتاحی میچ میں گروپ اے میں شامل میزبان ٹیم روس اور سعودی عرب کے درمیان ماسکو کے لوژنکی اسٹڈیم ہو گا جس میں 80 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائس ہے جبکہ یہ میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہوگا۔

فٹبال ورلڈ کپ 2018 کے ڈراز کا  اعلان گزشتہ سال کردیا گیا تھا،  ورلڈ کپ میں کل 64 میچ ہوں گے ، ورلڈ کپ میں کل  32  ممالک کی ٹیمیں شامل  ہیں ، جن  8 مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ، ہر گروپ میں شامل ٹیم مجموعی طور پر تین میچ کھیلے گی ،  گروپ اے میں میزبان ٹیم روس کے علاوہ ، یوروگوئے، مصر اور سعودی عرب شامل ہیں، گروپ بی میں پرتگال، اسپین، ایران اور مراکش کی ٹیمیں شامل ہیں۔ اسی طرح گروپ سی میں فرانس، پیرو، ڈینمارک اور آسٹریلیا کو شامل کیا گیا ہے جب کہ گروپ ای میں برازیل، سوئٹزرلینڈ، کوسٹاریکا اور سربیہ شامل ہیں۔ گروپ ایف میں جرمنی، میکسیکو، سویڈن اورجنوبی کوریا شامل ہیں، گروپ جی میں بیلجیم، انگلینڈ ،تیونس اور پاناما کی ٹیمیں شامل ہیں اور گروپ ایچ میں پولینڈ، کولمبیا، سینیگال اور جاپان کی ٹیمیں شامل ہیں۔ پاناما اورآئس لینڈ کی ٹیمیں پہلی بار ورلڈ کپ ایونٹ میں شامل ہوئی ہیں ۔ آئس لینڈ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے والا دنیا کا سب سے چھوٹا ترین ملک ہے۔ برازیل واحد ملک ہے جس نے اب تک کے تمام فٹ بال ورلڈ کپ مقابلوں میں شرکت کی ہے۔ سب سے زیادہ ورلڈ کپ ٹائٹل بھی برازیل کے پاس ہی ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ 2018 اس مرتبہ روس میں منقعد کیا جا رہا ہے ، جو روس میں ہونے والے اب تک کھیلوں کے میگا ایونٹ میں دوسرا بڑا ایونٹ ہے ، روس میں اس سے پہلے  1980  میں ماسکو اولمپکس انعقاد کروا چکا ہے ، روس میں ورلڈ کپ کے میچز  درالحکومت ماسکو سمیت دیگر شہر جس  یلنن گراڈ، قازان، کراسنوڈار،  سینٹ پیٹرزبرگ، سمارا، سارانسک شامل ہیں،  کل 11شہروں کے 12 سیڈیم میں میچز ہوں گے جن کو خصوصی طور پر ورلڈ کپ کے لیے تیار کیا گیا ہے ، روس کے شہر ماسکو کا سیڈیم لوژنکی جو  اولمپک کمپلیکس ہے اور روس کا سب سے بڑا اور قدیم اسٹیڈیم ہے۔ روس کے دارالحکومت میں واقع لوژنکی اسٹڈیم 1955 سے 1956 کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔ اسٹڈیم میں 81 ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

روس اس وقت عالمی برادری میں تنہائی کا شکار ہے اب یہ ایونٹ اسے کے لیے بہت بڑا موقع ہے اور وہ اس کے ذریعے دنیا کو اپنے قریب لا سکتا ہے ،روس اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے، فیفا کے مطابق ورلڈ کپ کے میچز کی 24 لاکھ ٹکٹس فروخت ہو چکی ہیں اور سب سے زیادہ ٹکٹس خود میزبان روس کے باشندوں نے خریدی ہیں جن کی کل تعداد 8  بنتی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر روس کے بڑے حریف ملک امریکہ کے باشندوں نے خریدی ہیں جن کی تعداد  82 ہزار سے زیادہ بنتی ہے اسی طرح تیسرے نمبر پر بزازیلن نے خریدی ہیں جن کی تعداد 72 ہزار سے زیادہ بنتی ہے جبکہ خود فیفا نے ایک لاکھ ٹکٹس اپنے مندوبین کے لیے خریدی تھیں لیکن انہیں بھی بعد میں فروخت کر دیا گیا ہے
فٹبال ورلڈ کپ کی ٹکٹسں قرعہ اندازی کے ذریعے فروخت کی جا رہی ہیں اور ان کی قیمت 105 ڈالر سے لے کر 1450 ڈالر تک ہے۔ روسی حکومت شائقین فٹبال کے لیے  ورلڈ کپ 2018 میں  نئی عارضی پالیسی کے اعلان کیا ہے  جس کے مطابق فٹ بال شائقین کو عالمی میلے کے دوران بغیر ویزا میزبان ملک روس میں داخل ہونے کی اجازت دیدی گئی ہے ، جس کا اطلاق پاکستانی شائقین پر بھی ہوگا۔

ورلڈ کپ فٹ بال جہاں کھلاڑی ، مختلف ٹیمیں شائقین کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں وہیں ورلڈ کپ کی ٹرافی بھی توجہ کا مرکز بنی ہوتی ہے کھلاڑیوں کے ساتھ ایونٹ میں شامل مختلف ممالک کی عوام اور ان فینز کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی ٹیم فاتح بن کر ورلڈ کپ ٹرافی لے آئے ،  فیفا ورلڈ کپ کی ٹرافی 18 قیراط سونے سے بنائی گئی ہے جس کا وزن 6 کلو گرام سے زائد ہے ۔ عالمی کپ شروع ہونے سے قبل ورلڈ کپ کی ٹرافی کو دنیا بھر میں چکر لگاویا گیا ، ورلڈ کپ فٹ بال 2018 کی ٹرافی کا عالمی دورہ رواں سال 22 جنوری سے شروع ہوا تھا، یہ ٹرافی چھ براعظموں کے 51 ممالک کے 91 شہروں سے ہوتی ہوئی 30 اپریل کو جاپان پہنچی جہاں سے اس کا دنیا کا چکر مکمل ہوا ، جبکہ 3 جون کو  ٹرافی روس  لائی گئی جہاں  صحافی، نوجوان کھلاڑیوں، مہمانوں اور ماسکو کے رہائشیوں کو دکھایا گیا۔ فیفا ورلڈ کپ کی ٹرافی پہلی مرتبہ پاکستان لائی گئی فروری میں اس ٹرافی کی رونمائی اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں کی گئی ، جس کے بعد ٹرافی 4 فروری کو قازقستان کے لیے روانہ کر دی گئی تھی ۔

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کی رینکنگ کی فہرست میں کل 206 ممالک ہیں جس میں پاکستان کا نمبر 200 پر ہے جبکہ  پاکستان کی ٹیم عالمی کپ کے مقابلوں میں شرکت تو نہ کر سکی لیکن پاکستان کا تیار کردہ فٹ بال عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہے 2018 کے عالمی کپ میں بھی پاکستان کے شہر سالکوٹ میں تیار کردہ فٹ بال استعمال ہوگا ، بلکہ اس فٹ سے کھلاڑی جہاں زمین پر گرونڈ پر کھیلیں گے وہیں یہ فٹبال خلاء میں بھی لے جایا گیا ، روسی خلائی کمپنی روس کاسموس نے کچھ دن قبل  فوٹیج جاری کی جس میں خلاء میں  موجود  اولیگ آرٹمیویوف اور اینٹن شکاپلورف نے میگا ایونٹ کی ٹی شرٹس پہن کر فٹبال کو ککس لگائیں۔ فٹبال کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کا تیار کردہ فٹبال 1982 سے 2002 تک استعمال ہوتا رہا ، 2006 میں پہلی بار فٹبال کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کی بجائے تھائی لینڈ میں نئی ٹیکنالوجی ’ تھرمو مولڈڈ‘ سے تیار کردہ فٹبال استعمال کیا گیا اور 2010 میں بھی اسی ٹیکنالوجی سے چین میں تیار کردہ فٹبال استعمال کیا گیا  تھا۔ جبکہ 2014 اور موجودہ 2018  ورلڈ کپ میں پاکستان کا بنا فٹ بال  استعمال ہوگا

موجودہ ورلڈ کا معرکہ بہت زیادہ دلچسپ ہوگا جہاں ہر ٹیم کی کوشش ہو گی کہ وہ اگلے مرحلے تک پہنچ جائے ، اب کون سی ٹیم ورلڈ کپ کی ٹرافی لے اڑے گی ، یہ تو آنے والا وقت بتائے گا پر فیفا نے عالمی رینکنگ جاری کی ہے جس سے اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ زیادہ مراحلے کون سی ٹیم طے کر سکتی ہے ، فیفا کی رینکنگ کے مطابق پہلے درجے  پر دفاعی  چمپئن جرمنی، 2 درجے پر برازیل ،3 پر بلیجئیم ،4 پر درجے میں پرتگال ، 5 پر ارجنٹائن ، 6 پر سوئٹرزلینڈ ،7 پر فرانس ، 8 پر پولینڈ ، 11پر  انگلینڈ  جبکہ میزبان روس کا نمبر رینکنگ میں 70 ہے عالمی سطح پر جرمنی اور برازیل کو زیادہ فیورٹ سمجھا جا رہا ہے، برازیل پانچ مرتبہ چمپئن بھی رہے چکا ہے لیکن برازیل کے عظیم فٹبالر پیلے جو کہ تین مرتبہ عالمی کپ بھی کھیل چکے ہیں کا کہنا ہے کہ برازیل کی ٹیم اس مرتبہ کمزور پوزیشن میں ہے اب تمام صورت حال کا پہلے سے صرف اندازہ لگایا جاسکتا ہے مزید حالات کا جائزہ لینے کے لیے ورلڈ کپ کے میچز پر نظر رکھنی ہو گی ۔

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...