Monday, 16 July 2018

دولت مند

امیروں کی دولت کا ناچ ، غریبوہ کی بھوک کا ماتم 

تحریر عبدالجبار خان دریشک

ماضی کی داستانوں میں دولت مندی کے حوالے قارون کے خزانوں کا ہم سب نے سن رکھا ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیا ہے ، قارون کے پاس اس قدر مال و دولت کے خزانے تھے کہ اس کے خزانے کی کنجیاں اٹھانے پر قوی مردوں کی ایک جماعت مقرر تھی، اس کے بہت سے خزانے اور  ہر خزانے کی کنجی الگ تھی جو بالشت بھر کی تھی۔قوم کے بزرگوں نے قارون کو نصیحت کی کہ اتنا اکڑا مت،  تو قارون نے جواب دیا کہ میں ایک عقلمند، زیرک ،دانا شخص ہوں اور اسے اللہ بھی جانتاہے،اسی لئے اس نے مجھے دولت دی ہے۔ قارون کا خزانہ اس کے تکبر اور اللہ کی راہ سے غافل ہونے سے زمین میں دھنس گیا تھا ، جس کے لیے حضرت موسی علیہ سلام نے اللہ پاک سے دعا کی تھی کہ زمین کو میری اطاعت میں دے دیا جائے حضرت موسی علیہ سلام  سے پہلے قارون نے اللہ پاک سے دعاکی تھی جو قبول نہیں ہوئی تھی، لیکن حضرت موسی علیہ سلام کی دعا قبول ہوئی ،    اس واقع کو گزرے کئی سو سال ہو چکے ہیں ، اس وقت دنیا میں انسانی آبادی نے ترقی نہ کی تھی اور نہ ہی سائنس ٹیکنالوجی کادور تھا، پھر بھی قارون کے خزانے اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ تصور کیے جاتے تھے

موجودہ دور میں سائنس کی ترقی و ایجادات نے انسانی زندگی کو آسان اور سہل بنایا ہے وہیں دنیا میں افراد کے پاس دولت کی ریل پیل بھی زیادہ ہوئی ہے ، لیکن اس سب کے باوجود دنیا میں غربت میں بھی کمی نہیں ہورہی ہے لوگ پیٹ پالنے کی خاطر اپنے جسمانی عضاء سے لے کر اپنے بچوں تک کو فروخت کردیتے ہیں، بھوک سے تنگ آ کر اپنے اہل عیال سمیت خودکشی کر کے موت کو گلے لگا لیتے ہیں ، حال ہی میں  برطانوی اخبار دا گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2030ء تک  دنیا کی دو تہائی دولت  دنیا میں موجود صرف ایک فیصد امیر ترین افراد کی تجوریوں میں چلی جائی گی۔ سن دو ہزار آٹھ کے بعد سے ان امیر ترین افراد کی دولت میں سالانہ چھ فیصد اضافہ ہو رہا ہے جبکہ دنیا کے باقی 99 فیصد افراد کی دولت میں اوسطاﹰ اضافے کی شرح تین فیصد ہے۔ اگر یہ رجحان اسی طرح جاری رہا تو بارہ برس بعد امیر ترین ایک فیصد افراد کے پاس 305 ٹریلین ڈالر کے برابر دولت جمع ہو جائے گی ، جبکہ اس وقت ان ایک فیصد افراد کے پاس 140 ٹریلین کے برابر سرمایہ موجود ہے۔صرف8افراد کے پاس اس قدر دولت ہے جو دنیا کی نصف آبادی 3ارب60کروڑ افراد کی مجموعی دولت کے برابر ہے۔ دنیا کی ایک فیصدآبادی کے پاس عالمی دولت کا 51فیصد ہے۔مزید10فیصد کے پاس38فیصد دولت جبکہ 89فیصدعالمی آبادی کی ملکیت میں صرف11فیصد دولت ہے۔

اس حیران کن رپورٹ کے بعد فوری اقدامات اٹھانے اور توازن قائم کرنے کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔ تجزیہ کاروں نے عالمی رہنماؤں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح دولت کے صرف چند ہاتھوں میں محدود ہونے سے آئندہ عشروں کے دوران غریب افراد میں غصہ اور بداعتمادی بڑھ جائیں گی،  جس سے معاشرے میں انتشار، تصادم ، اور عدم برداشت میں آضافہ ہو جائے گا۔

موجودہ صدی کے قارونوں کی دولت کے اعداد شمار کے بارے میں امریکی جریدے فوربز نے اپنی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ارب  پتیوں کی تعداد دنیا میں 1125 ہوگئی ہے  ، دنیا کی آبادی کا 50 فیصد تو خواتین پر مشتمل ہے لیکن 1125 افراد کی فہرست صرف 81 خواتین دنیا میں ارب پتی ہیں، روس کے شہر ماسکو میں سب سے سب سے زیادہ ارب پتی بستے ہیں جن کی تعداد 89 ہے جبکہ ممالک میں سب سے زیادہ امریکہ میں ارب پتی ہیں جن کی تعداد 495 ہے۔

دنیا میں امیر ترین افراد کی فہرست میں پہلے نمبر پر تو بل گیٹس ہے  ، جو اپنی دولت میں سے سالانہ ایک ارب ڈالر اپنی والدہ کے نام سے خیراتی کاموں پر خرچ کرتا ہے لیکن اس کے برعکس فہرست میں چوتھے نمبر پر دنیا کا امیر ترین شخص وارن بفیٹ اپنی دولت کا 85 فیصد رفاعی کاموں پر خرچ کرتا ہے بل گیٹس کے پاس اتنی دولت ہے کہ امریکہ پر اس وقت 7.3 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے اور اکیلا بل گیٹس امریکہ کا کل قرضہ دس سال میں آتار سکتا ہے ، اگر بل گیٹس کی دولت کو ایک ملک کی دولت تصور کر لیا جائے تو یہ ملک دنیا میں 35 ویں نمبر پر امیر ملک ہوگا ، اسی طرح بل گیٹس کی ساری دولت کو ڈالر میں تبدیل کر دیا جائے تو اسے دوسری جگہ شفٹ کرنے کے لیے 713 بوئنگ طیارے استعمال ہوں گے، جب کہ ان ڈالر کو لمبائی کے رخ میں رکھا جائے تو یہ زمین سے چاند کے درمیانی فاصلے سے 14 گناہ زیادہ ہوں گے

دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے امیروں نے اپنے خزانے اپنے نیچے دبا کر رکھے ہوئے ہیں ، پیسے کی گردش نہ ہونے کے سبب  عام اور غریب افراد کی آمدان میں آضافے کی بجائے کمی ہو رہی ہے، ایک عالمی ادارے آکسفیم کی رپورٹ "اکنامیک فار دی99 پرسنٹ " 2017کے مطابق دنیا میں غریب افراد کو پیچھے چھوڑا جا رہا ہے ، ان کی اجرت ابھی تک جمود کا شکار ہے۔ ان کی صحت اور تعلیم کی سہولتوں کو کم کیا جا رہا ہے۔اس کے مقابلے کارپوریٹ سیکٹر کے افراد  لاکھوں ڈالر کے بونس لے جاتے ہیں۔

حکومتیں بڑے بزنس مینوں اور امیر ترین طبقہ کے مفادات کو تحفظ فراہم کرتی ہیں جبکہ عام اور غریب آدمی کی آواز کو دبایا جاتا  ہے۔ یہ تمام صورتحال نا صرف معاشرے میں توڑ پھوڑ کا باعث بنتی  ہے بلکہ اس سے جمہوریت کو بھی نقصان پہنچتا  ہے۔ بڑے کاروباری اور انتہائی امیر ترین افرادٹیکس چوری کے باعث دنیا میں معاشی عدم مساوات بدامنی اور بحرانوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔کالے دھن کو سرمائے میں لگانے  اور ٹیکس بچانے کے لئے آف شور کمپنیاں بناکر کاوربار کیا جاتا ہے جس کے لیے پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک میں منتقل کیا جا رہا ہے

عالمی ادارہ خوراک کے مطابق دنیا میں ہر سال بھوک اور مختلف مہلک وبائی امراض کی وجہ سے کئی گناہ زیادہ اموات ہوتی ہیں، ایک اندازے کے مطابق دنیا تقریباً 80 کروڑ افراد کو غذائی قلت کا سامنا ہے ، جبکہ ایک ارب افراد کو صحت مند خوراک تک رسائی حاصل نہیں ہے ، ترقی پذیر ممالک کے ساتھ اب ترقی یافتہ ممالک کے افراد بھی خوراک کی کمی کا شکار ہیں، اسی طرح دنیا کا ہر تیسرا افراد غذائی کمی کا شکار ہے ،ایک سماجی تنظیم ، انٹرنیشنل فورڈ ریسرچ انسٹیٹوٹ کی جانب سے گلوبل ہنگر انڈکس کے مطابق جس کی درجہ بندی ترقی پذیر ممالک کو صفر سے 100 کے درمیان پوانٹس دیے گئے ان میں سے آٹھ ممالک ایسے ہیں جہاں صورت حال خوفناک ہے جنگ اور تصادم زدہ علاقوں میں سات ملین افراد تک خوراک نہیں پہنچ سکی ، اس انڈکس میں پاکستان کا نمبر گیارہ ہے بھارت 25 اور افغانستان جنگ زدہ شام یمن کی صورت حال تو مزید ابتر ہے جہاں دنیا کے دولت مندوں کے خزانے 2030 تک مزید بڑھیں گے وہیں غربت اور بھوک کے شکار افراد کی تعداد میں خطرناک حد تک آضافہ ہوگا۔

دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو روکنے  کے لیے عالمی سطح پر منی لاڈرنگ اور غیر قانونی طریقے سے رقم کی نقل حرکت کو روکنا ہوگا ، کرپشن کی روک تھام کے لیے موثر قوانین کے ساتھ احتساب کے عمل کو تیز اور شفاف بنانا ہوگا ، ٹیکسوں کا دائرہ کار عوام اور غریب افراد کی بجائے دولت مندوں تک بڑھانا چاہیے ، کم آمدنی والے افراد سے ٹیکس وصولی کر کے انہیں مزید غریب بنا جارہا ہے جبکہ ایک امیر پاور میں ہونے کی وجہ سے ٹیکس ادا کرتا ہی نہیں ، ایسے میں غریب ، غریب تر اور امیر ، امیر ترین بن رہا ہے







منشیات

منشیات مافیا 

تحریر عبدالجبار خان دریشک

تمباکو نوشی، بیڑی،  پان ، گٹکا ، شیشہ دراصل اس دلدل میں غرق ہونے کا راستہ ہے جس میں جانے کے بعد کوئی لوٹ کر واپس نہیں آتا، اس موت کی وادی میں جانے کتنی ماؤں کے شیر جوان پتر اپنی جوانی تباہ کر چکے ہیں، کئی گھر اجڑ چکے ہیں،  اور کئی اجڑنے والے ہیں ، کسی علاقے محلے اور شہر میں رہنے والا جوان جو سینہ چوڑا کر کے چلتا تھا  آج گلیوں میں بھیک مانگتا ہے ، گندگی سے کچرا جمع کرتا ہے ، جو کبھی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا چوری کرنے کا آج چوریاں کرتا ہے ، ماں رو رو کر آندھی ہوگئی ، باپ پریشانی میں مریض بن گیا ، اور بہن کا سر سفید ہو گیا پر کوئی رشتہ نہ آیا ، وجہ گھر کا وہ شیر جس سے سب کی امیدیں اور خوابوں کی تعبیریں وابستہ تھی وہ غلط سوسائٹی میں آ کر منشیات کا عادی ہوگیا، آج اس سے شہر اور محلے کا بچہ بچہ اس سے نفرت کرتا ہے ایک وقت تھا جب اسے سب ہیرو کہے کر پکارتے تھے ، اب وہ گھر کی تمام قیمتی اشیاء بیچ  کر منشیات دھواں میں اڑا چکا ہے

اکثر منشیات کے عادی افراد کو ابتداء میں تمباکونوشی اور دیگر ایسی چیزوں کا عادی بنایا جاتا ہے کہ وہ باآسانی منشیات کے زہر کو اپنے منہ سے لگا لیں،  نوجوانوں کو  گھر سے باہر سکول و کالج میں دوستوں کی ایسی سوسائٹی مل جاتی ہے جو اسے نشے کی لت لگا دیتی ہے ، اس کے علاوہ والدین کی طرف سے عدم توجہ ، گھریلو ناچاکی ، پیسے کی کمی یا زیادہ فراوانی ، تعلیم کمزوری ، یا پھر محبت میں ناکامی کی وجہ سے نوجوان ذہنی سکون تلاش کرنے کے لیے ایسی سوسائٹاں اور دوستوں کی کمپنیاں اپنا لیتے ہیں جن میں کوئی نہ کوئی نشہ آوار  چیز سکون حاصل کرنے کے لیے   استعمال کی جاتی ہو۔

منشیات کا زہر پوری دنیا میں پھیل چکا ہے ، اور اس کو پھیلانے میں دنیا میں منشیات فروشوں کا مضبوط نیٹ ورک قائم ہے ، جن میں خفیہ ایجنسیوں سے لے کر سیاست دان ، بزنس ٹیکون ، اور بڑے عہدے رکھنے والے سرکاری اہلکار ، ٹرانسپوٹرز ،  آئرلائن کا عملہ ، شپپنگ کمپنیاں شامل ہیں یہ لوگ اتنے مضبوط ہیں اور منظم ہیں کہ کسی ملک میں بھی منشیات فروخت کرسکتے ہیں،  جہاں اس کی سزا موت ہی کیوں نہ ہو ۔ منشیات کے دھندے کی جڑیں دہشت گردی سے نکلتی ہوئی بڑے سفید پوش بابو لوگ تک آتی ہیں پر ان کی گردنوں تک ہاتھ ڈالنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں

اس وقت پوری دنیا میں تقریباً 20 کروڑ افراد نشے کے عادی ہیں اور ان کی تعداد میں بڑی تیزی آضافہ ہورہا ہے ،  اسی طرح سالانہ 40 لاکھ نشے کےعادی افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 70 لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور اسی طرح  پاکستان میں  ڈھائی لاکھ افراد ہر سال نشے کی عادت کے باعث موت کے منہ چلے جاتے ہیں جو مختلف قسم کی منشیات اور اس کے استعمال کے الگ الگ طریقے اپناتے  ہیں۔
 

پاکستان میں منشیات کا استعمال کرنے والوں میں 80 فیصد مرد اور 20 فیصد خواتین شامل ہیں۔  پاکستان میں 66.22 فیصد نشے کے عادی افراد کی عمر 20 سے 29 سال ہے اسی طرح 18.92 فیصد نشے کے عادی افراد کی عمر 15 سے 19 سال ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں اسلامی معاشرے کے ساتھ مشرقی روایات بھی موجود ہیں لیکن نشے کے عادی افراد کی مجموعی تعداد میں 20 فیصد خواتین بھی شامل ہیں ، جن میں سے 80 فیصد خواتین امیر گھرانوں اور ایلیٹ کلاس سے تعلق رکھتی ہیں جو نشہ صرف ذہنی سکون اور تسکین حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں

منشیات کا کاروبار کرنے والا مافیا نوجوانوں کو اپنا شکار بناتے ہیں ، یہ مافیا سکول،  کالج، اور یونیورسٹوں میں اپنے پنجے مضبوط کر چکے ہیں اور منشیات فروشی میں ضرورت مند طالب علموں کو اپنے ساتھ شامل کر منشیات فروشی پر لگا دیا ہے ، اس کے علاوہ تعلیمی اداروں کے اندر کام کرنے والا عملہ درجہ چہارم کے ملازم، کینٹین اور ہاسٹل کا عملہ بھی اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث پایا جاتا ہے ، جبکہ تعلیم اداروں کے اردگرد قائم ہاسٹلز ، ہوٹل اور چائے خانوں کے علاوہ بس اڈوں پر بھی منشیات فروخت کی جاتی ہے اور یہ سارا دھند کسی بااثر سیاست دا، اور  کالی بھیڑوں کی سرپرستی میں چلایا جاتا ہے۔

ملک ہر سال سننے کو یہ ملتا ہے کہ منشیات کی روک تھام کے عالمی دن پر اتنی من یا ٹن منشیات جلا دی گئی لیکن جن سے اتنی بڑی مقدار میں منشیات برآمد ہوئی آیا وہ بھی گرفتار ہوئے یا فرار ہو گئے ، اگر گرفتار ہو بھی گئے ہیں تو کتنے لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا گیا ہے میرے خیال میں کسی ایک کوبھی نہیں ، کیونکہ اس مافیا میں ملوث طاقتوروں کا ٹولہ کیس کو پہلے سے ہی کمزور کر دیتا ہے اور دوسری طرف ہمارا پیچیدہ عدالتی نظام جس سے ایسے مجرم جلد رہائی پا کر باہر آجاتے ہیں. ، یہ پھر اور گھروں کی بربادی شروع کر دیتے ہیں۔

اب ذرہ یہ تلخ حقائق بھی ملاخط فرمائیں ہم کہتے ہیں کہ دھشت گردی کی جنگ میں ہمارے 70 ہزار شہری و فوج اور پولیس کے جوان شہید ہوئے ہیں ، ہم دھشت گردی کی جنگ میں امریکہ کے اتحادی تھے اور دس سال میں ہمارے کتنے لوگ ناجائر مارے گئے ؟ 70 ہزار ، اب ادھر منشیات کی طرف غور کریں ہمارے ملک میں ہر سال 2 لاکھ افراد نشے کی عادت سے مرتے ہیں اور ہمارے ہاں ہر سال 45 ارب روپے کی منشیات استعمال  ہوتی ہے ، تو کبھی کسی سیاست دان ، کسی حکمران ، نے اس بات کا نوٹس لیا ہے دھشت گردی سے تو زیادہ نقصان ہمارا منشیات کر رہی ہے اور ہمارے دشمنوں کو ہمارے ساتھ جنگ لڑنے کی کیا ضرورت ہے ، وہ یہ زہر ہمیں مارنے کے لیے دے رہے ہیں جس میں ہماری 60 فیصد آبادی پر مشتمل نوجوان نسل ان کے نشانے پر ہیں اور ہمارا نوجوان اس مافیا سے یہ زہر لے کر اپنی موت خرید رہا ہے دوسری طرف وہ اس مافیا کو پیسے دے کر اور مضبوط کر رہا ہے ، جبکہ یہی پیسہ ہمارے خلاف دھشت گردی، تخریب کاری ، اور ملک کے امن امان کو خراب کرنے پر ہمارا دشمن خرچ کر رہا ہے۔

دنیا بھر کے ممالک منشیات کی روک تھام کے لیے اپنے قوانین میں اصلاحات کر رہے ہیں اور سخت سزاؤں کی وجہ سے اس لعنت سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے میں لگے ہوئے ہیں کچھ عرصہ قبل ترکی کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ  تعلیمی اداروں کے گرد منشیات فروخت کرنے والوں کی ٹانگیں توڑ دیں۔ ترکی نے منشیات کی روک تھام کے لیے سخت پالیسی بنا رکھی ہیں ، اسی طرح خلیجی ممالک میں منشیات فروشوں کے سرتن سے جدا کر دیے جاتے ہیں ، انڈونیشا میں منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد سزائے موت زہر کا انجکشن لگا کر دی جاتی ہے ، گزشتہ ماہ بنگلہ دیش نے ان سب سے بڑھ کر قدم اٹھایا ہے بنگلہ دیش میں انسداد منشیات کی ملک بھر میں مہیم چلائی گئی ، جس میں ریپڈ ایکشن بٹالین یا آر اے بی نامی فورس نے مرکزی  اپنا کردار  ادا کرتے ہوئے ایکشن لیا ،  فورس  دوران  کاروائی منشیات فرشوں کو موقع پر گولی مار دیتی ہے بنگلہ دیشن میں سکیورٹی فورسز کی ان کارروائیوں کے  نتیجے میں منشیات کا کاروبار کرنے والے  120 مشتبہ افراد اس فورس کے ہاتھوں مارے گئے ۔

ہمارے ملک میں منشیات کے حوالے سے دومسائل ہیں جن میں ہماری حکومتیں سنجیدہ نظر نہیں آتی ہیں ، اور نوجوان اس لت میں بڑی تعداد میں لگ رہے ہیں افسوس کا مقام تو یہ ہے ، منشیات فروش طاقت ور مافیا ڈھڑلے سے یہ کاروبار کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب حکومتی سطح پر کوئی ایسا بڑا ادارہ موجود نہیں جو ایسے منشیات کے عادی  افراد کی بجالی کر سکے ، ملک میں ایسے ادارے این جی اوز کی سرپرستی میں چلائے جا رہے ہیں ، جن کو بظاہر تو خیراتی ادارے کہا جاتا ہے لیکن اندر کچھ اور ہی ہوتا ہے ، ایسے ادارے اکثر مارکیٹوں میں دوکانوں کے اوپر چوبارے لے کر بنائے گئے ہیں ، جن میں کوئی سہولیات اور ڈاکٹر و ماہر نفسیات تک دستیاب نہیں ، چھوٹے چھوٹے کمروں میں دس سے بیس افراد کو قید کیا ہوتا ہے جن کے وراثا سے ماہانہ 15 سے 40 ہزار روپے بٹورے جاتے ہیں ، ان افراد کو زنجیروں میں جکڑ کر ان پر تشدد کیا جاتا ہے ، ان کو نشے کے متبادل گولیاں فراہم کی جاتی ہیں جو ان کے دماغ کوسن رکھتی ہیں ،  جن کے ورثا زیادہ پیسے ادا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں تو ان کو ڈرپ میں طاقت کے انجکشن لگائے جاتے ہیں ، وہاں داخل ہونے والے مریض چار دن کھانا نہیں کھا سکتے ایک ہفتے بعد وہ خوراک کی مقدار زیادہ لینا شروع کرتے ہیں ،   لیکن اس سارے علاج کے دوران اس بات کا پتہ نہیں لگایا جاتا کہ یہ شخص منشیات کا عادی کیوں بنا ، ان کے پاس کوئی ماہر نفسیات ہوگا تب ہی اصل جڑ کو پکڑ سکیں گے بس یہ لوگ ایک مولوی صاحب سے درس دلوا دیتے ہیں۔ اور علاج کا طریقہ کار جدید میڈیکلی و نفسیاتی طور پر نہیں کیا جاتا ہے ۔

علاج کے بعد جب ایسے افراد  دوبارہ اسی سوسائٹی میں آتے ہیں تو ان کو دروان علاج نفسیاتی طور پر مضبوط تو بنایا نہیں گیا ہوتا جس کی وجہ سے چند ہفتے اور مہینے بعد پھر منشیات لینا شروع کر دیتے ہیں ، اکثر منشیات کے عادی افراد نشہ پورا کرنے کے لیے میڈیکل سٹورز سے انجکشن خرید کر لگاتے ہیں ، اور ایک ہی سرنج سے کئی افراد نشہ لیتے ہیں اس سے یرکان اور ایڈز کے پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے ، میڈیکل سٹورز والے بھی منشیات کے عادی افراد کو اپنی کمائی کا اچھا ذریعہ سمجھتے ہیں یہ حضرات 30 روہے کا انجکشن ایسے افراد کو 300 روپے میں بغیر نسخے بلیک پر فروخت کرتے ہیں۔

اگر ملک میں نوجوان نسل کو بچانا ہے تو منشیات کی روک تھام کے سلسلے میں بنگلہ دیش جیسا  بڑا قدم اٹھا کر پاور فل منشیات مافیایا کا خاتمہ کرنا ہوگا ، سخت قوانین کو بنانے کے ساتھ مختلف اداروں میں ایسی کالی بھیڑوں کا خاتمہ کیا جائے جو اس مافیا کے ساتھ ملوث ہیں ، ساتھ ہی منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے اداروں کی حکومت مانٹرنگ کرے اور ہر ضلعی ہسپتال میں کم از کم چھ بستر پر مشتمل ایک وارڈ ضرور قائم کر جن کے لیے دیگر ڈاکٹرز کے ساتھ ماہر نفسیات بھی تعینات کیے جائیں جو ایسے مریضوں کی کونسلنگ کریں۔

ماحولیاتی آلودگی

ماحولیاتی آلودگی انسانی زندگی کے لیے بڑا خطرہ 

تحریر عبدالجبار خان دریشک

انسان نے جتنا ظلم اپنے ماحول کے ساتھ کیا ہے اب اس کی وجہ انسان کا دھرتی پر رہنا رہنا محال ہوگیا ہے اب زمین انسان کے لئے تنگ ہورہی ہے  ، جس دھرتی پر انسان رہتا ہے  انسان نے اسے آلودہ کرکے تباہ کر دیا ہے ہم جن درختوں کی چھاؤں میں بیٹھتے تھے انہیں کاٹ کر ان کا نام نشان مٹا دیا ہے  ، آج ہم شدید گرمی کا رونا روتے ہیں ، لیکن اپنے ماحول کے تحفظ کے لیے ہم نے کچھ نہ کیا اور اسی عفلت میں کئی سال گزار دیے ، سورج کی حرارت میں سال با سال آضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ، سورج کی گرمی انسان کی برداشت سے باہر ہوتی جارہی ہے ، سورج کا پارہ اوپر چڑتے ہی انسانی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں،  یہی صورت حال اسی سال کراچی میں بنی ہوئی ، کراچی میں موجودہ گرمی کی لہر سے 67 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 2015 میں 1200 سے زائد افراد کراچی میں ہلاک ہوئے تھے۔ کراچی میں موجودہ گرمی کی لہر سے ہوا میں نمی کا تناسب کم ہونے اور درجہ حرارت میں آضافے کا کئی سالوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے، ماہرین گزشتہ کئی سالوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کی وارنگ جاری کرتے آ رہے ہیں لیکن ہماری حکومتوں نے اس طرف توجہ نہ دی اور ایسے ہی ماحول آلودہ ہوتا رہا ، آئندہ آنے والے سالوں میں پاکستان میں دو قسم کے مسائل شدت اختیار کر جائیں گے ایک ماحولیاتی آلودگی اور دوسرا پانی کا مسئلہ  ، یہ دو مسائل ایسے ہیں جن کی وجہ سے انسانی زندگی کے ساتھ زمین پر زندہ اجسام چرند پرند اور درختوں کا بچنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

اقوامِ متحدہ کے ورلڈ میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی تحقیق کے مطابق حالیہ صدی کے آخر تک پاکستان کے درجۂ حرارت میں تین سے پانچ ڈگری تک کا اضافہ دیکھا جا سکتا ہے جس کے باعث پاکستان کے معاشی، سماجی اور صحت کے شعبے بری طرح متاثر ہوں گے۔ گرمی کی لہر کے نتیجے میں شہروں اور گنجان آبادی والے علاقوں میں عمر رسیدہ افراد ، کمزور ،بیمار ، غربت اور بھوک سے متاثرہ لوگوں کے ساتھ ساتھ بچوں میں بھی ممکنہ طور پر اموات میں اضافہ ہو جائے گا۔ ماحولیاتی تبدیلی  کے سبب گزشتہ کئی سالوں سے ہمیں سخت موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ، ہمارے ہاں ضرورت کے وقت بارشوں کا نہ ہونا اور بے وقت بارشوں کی زیادتی،  اسی طرح  فیکٹریوں کے دھواں سے ستمبر کے مہینے میں سموگ کا سامنا  جبکہ سموگ ختم ہوتی نہیں  فوگ شروع ہو جاتی ہے۔ جبکہ اسی طرح گرمیوں کا سیزین وقت پہلے شروع ہونا ، اور سیلابوں کی صورت حال و دیگر وجوہات کی بنیاد پر ہمارا زرعی شعبہ کئی سالوں سے متاثر ہو رہا  ہے،  جس سے پیداوار میں کمی کے وجہ سے معیشت پر تو برے آثرات پڑتے ہی ہیں ساتھ ہی انسانی آبادی کے لیے خوراک کی کمی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ہی ملکی وسائل میں کمی کی وجہ سے ملک کے اندر غربت اور بے روزگاری میں آضافے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق گرین ہاﺅسسز گیسوں کے اخراج کی وجہ سے درجہ حرارت میں بتدریج آضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے زراعت کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے، جس سے خوراک کی طلب پوری نہ ہونے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بالخصوص غریب ممالک کے عوام کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ استعمال کی جانیوالی چار غذائی اجناس، گندم، چاول، مکئی اور سویابین کی پیداوار میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران تشویشناک حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے، کیونکہ موسم میں تبدیلی کے باعث امریکہ، آسٹریلیا، یورپ اور ایشیاء میں کاشتکاری کا نظام شدید متاثر ہوا ہے، جبکہ ایشیاءکے زرعی ممالک، خصوصاً پاکستان،  اور بھارت میں آبپاشی کا نظام دریاﺅں میں پانی کی قلت کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ پاکستان میں اس وقت پانی کی قلت نہ صرف زرعی شعبہ کو ہے بلکہ انسانی آبادی کے لیے بھی مختلف شہروں میں پانی کم ہونے کے ساتھ مضر صحت ہوچکا ہے

بین الاقوامی جریدے 'نیچر کلائمیٹ چینج' میں چھپنے والی تحقیق کے مطابق اس وقت پاکستان سمیت عالمی سطح پر ہر تین میں سے ایک فرد گرمی کی لہر کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے۔ پاکستان میں عموماً تاریخی طور پر گرمی کی لہر کے واقعات مئی اور جون کے مہینوں میں دیکھے جاتے تھے مگر اب ملک میں ہیٹ ویو  مارچ اور اپریل میں بھی شروع ہو  جاتی ہے اب ہمارے ہاں سردیوں کا دورانیہ کم ہوگیا ہے جبکہ بہار کا موسم نہ ہونے کے برابر رہے گیا ہے اور گرمیوں کا سیزین طویل ہو چکا ہے ۔ عالمی سطح پر درجہ حرارت میں آضافے کے باعث رونما ہونے والے ان واقعات سے انسانوں اور ان کی صحت پر ممکنہ طور پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے بچنے کے لیے ملک کے مختلف علاقوں میں ہیٹ ویو اور ارلی وارننگ سسٹم نصب کرنے کے ساتھ ساتھ شجرکاری کو ہر سطح پر فروغ دینا انتہائی ضروری ہوگیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق گرمی کی لہر کی پیش گوئی اور اس کے متعلق عام لوگوں تک معلومات کی بروقت رسائی سے اس کے منفی اثرات کو بڑی حد تک قابو پاکر انسانی  زندگیوں سے بچایا جاسکتا ہے۔

موجودہ صدی سے پہلے سائنس دانوں نے ماحولیاتی آلودگی کے خطرات کے الرٹ دینے شروع کر دیے تھے لیکن ان کو کسی نے سنجیدگی کے طور پر نہیں لیا۔ ماہرین کی ایک جائزہ رپورٹ میں جس کو دنیا بھر کے 13سو غیر جانب دار ماہرین اور سائنس دانوں نے مرتب کیا تھا جس میں تمام ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ گزشتہ اڑھائی سو برسوں میں ہونے والی انسانی سرگرمیوں نے ہماری زمین کی حرارت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ جس کے منفی اثرات شروع ہو چکے ہیں، موجودہ صورت حال تو مزید گھمبیر ہوتی جارہی ہے۔کینیڈا کے شہر وینکوور کی یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کے اسکول آف پاپولیشن اینڈ پبلک ہیلتھ کے ایک پروفیسر مائیکل براؤئر نے کہا، ’’فضائی آلودگی اس وقت عالمی سطح پر انسانی صحت کے لحاظ سے چوتھا سب سے بڑا خطرہ ہے۔

ماحولیاتی آلودگی کے بارے مختلف ماہرین انسان کو اپنے ماحول کو بہتر بنانے پر زور دے رہے ہیں آنے والے سالوں میں زیادہ تر ترقی پذیر ممالک متاثر ہوں گے جن میں گرمی سردی ، طوفان ، حد سے زیادہ بارشیں ، سموگ و فوگ ،اور سب سے بڑھ کر غذائی قلت سے انسانی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوں گی ’’دی لینسیٹ ‘‘نامی ریسرچ جرنل میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق تیزی سے ہونے والی ان ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں شدید غذائی کمی کے سبب 2050 میں 5 لاکھ لوگ موت کے منہ میں چلے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔

عالمی سطح پر ایک سرگرم  تھنک ٹینک ’’جرمن واچ‘‘ نے اپنے گلوبل کلائیمیٹ رسک انڈیکس میں پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث 10 سب سے زیادہ غیر محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کیا جبکہ ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ اگلے پندرہ برسوں میں پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد 27لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ پاکستان اور ڈبلیو ڈبلیو ایف برطانیہ کی ایک مشترکہ رپورٹ ’’نیچر پاکستان پروجیکٹ‘‘کے مطابق پاکستان میں سمندر کی سطح میں سالانہ 6 ملی میٹر اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں ساحلی علاقوں کی زمین آہستہ آہستہ سمندر برد ہو رہی ہے

ایک بشر کئی شجر

ماحولیات آلودگی کو کم کرنے اور درجہ حرارت میں کمی لانے میں درختوں کا اہم کردار شامل ہے لیکن ہم دن بدن جنگلات کا صفایا کر رہے ہیں اس میں ٹمبر مافیاء کا بہت بڑا کردار ہے۔ پاکستان فارسٹ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ملک میں 90 کی دہائی میں 35 لاکھ 90 ہزار ہیکٹر رقبہ جنگلات پر مشتمل تھا جو دو ہزار کی دہائی میں کم ہو کر 33 لاکھ 20 ہزار ہیکٹر تک رہ گیا۔ اور اس میں مزید آضافہ ہونے کی بجائے کمی واقعہ ہورہی ہے ۔ جبکہ حکومتی اعداد شمار جنگلات میں آضافے کا بتاتے ہیں جو صرف کاغذوں کی حد تک ہے  اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او اور دیگر اہم غیر ملکی ادارے ان اعداد و شمار کو درست نہیں مانتے۔

وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور سہولیات میں کمی وجہ سے دیہی آبادی  شہروں کا رخ کر رہی ہے ایک وقت تھا ہماری دیہی آبادی 75 فیصد پر مشتمل تھی حالیہ مردم شماری میں اس میں کمی ہوئی جوکہ موجوددہ یہی آبادی 65 فیصد تک رہے گئی ہے یعنی دس فیصد آبادی نے شہروں کا رخ کیا جس کی وجہ سے شہروں کے پھیلاؤ میں آضافے سے دیہی زمینیں کم ہورہی ہیں اور درخت کاٹ کر ہاوسنگ سوسائٹیز بنا کر شہر آباد کیے جارہے ہیں ایسے ہی شہروں میں ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے درختوں کا صفایا کیا جارہا ہے سٹرکوں کشادہ کرنے کے لیے پچاس سے لے کر سو سال تک کی عمر کے درخت کاٹے جارہے ہیں

ماحولیاتی آلودگی کے ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں اور ایک بشر کے لیے کئی  شجر ضرور ہونے چاہیں اور بشر کا شجر سے ناطہ نہ ٹوننے پائے تب جا کر ہم آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے بچ سکتے ہیں اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر ماحول دے کر جائیں درخت لگانے کے بارے آگاہی کے پروگرام شروع کیے جائیں فیکٹری مالکان اور بھٹہ خشت کو درخت لگانے کا پابند کیا جائے اور سالانہ محضوص تعداد میں درخت لگانے کا انہیں پابند کیا جائے سکولز کالجز اور یونیورسٹی کے طلباء کو شجر کاری کرنے پر آضافی نمبرز دے کر درختوں کی تعداد میں آضافہ کیا جاسکتا ، سٹرکوں کے کنارےدرخت لگانا لازمی قرار دیا جائے اور ساتھ ہی مقامی آبادی کو شامل کر کے ان کی دیکھا بھال اور حفاظت کے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ زرعی سہولیات ، بلا سود قرض ان زمینداروں اور کاشت کاروں کو دیے جائیں جس کے رقبہ کے گرد درخت وافر مقدار میں موجود ہوں اور قومی سطح پر پانچ سالہ درخت لگانے کا منصوبہ بنا کر کروڑوں درخت لگائے جائیں ہم ایسے اقدامات اٹھا کر ماحولیاتی آلودگی کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...