Sunday, 23 July 2017

میرے شہر کا مقدمہ

 تحر یر : عبدالجبار خان دریشک
پچھلے ایک سال ملک میں پامامہ ہنگامہ کا معاملہ ایوانوں عدالتوں اور میڈیا میں چل رہا ہے حکمران اپنے اقتدار کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں تو اپوزیشن ان کو رخصت کرنے چکر میں ہے اس سیاسی کشمکش کی صورت حال میں عوام کے مسائل نہ حکمرانوں کو یاد ہیں اور نہ ہی اپوزیش کو سب کرسی کے چکر میں لگے ہوئے ہیں ملک میں ترقیاتی کام ہو بھی رہے ہیں تو وہ صرف چند بڑے شہروں تک محدود ہیں  پنجاب کو ترقیاتی کاموں کے حوالے سے باقی ملک کی نسبت بہتر سمجھا جاتا ہے پنجاب میں تیزی سے ہوتے ترقیاتی کاموں اور ان رفتار کا جائزہ لیا جائے تو پنجا ب میں پیداوار اور وسائل ایک حصے میں موجود ہیں جبکہ ترقیا تی کام اور ان پر آنے والے اخرجا ت دوسرے حصے میں خرچ ہو رہے ہیں اسی طرح جنوبی پنجا ب جس میں پسما ند گی اب تک برقرار ہے جنوبی پنجاب زرعی کی پیدار وار پورے ملک میں سے زیادہ ہے اسی جنوبی پنجاب کا آخری ضلع راجن پور پسما ند ہ ترین اضلا ع میں شمار ہو تا ہے جہاں شرح خواندگی نچلی ترین سطح پر ہے غربت بے روزگاری سہولیات کی کمی بیماریاں سب حوالے سے صورت حال افسوسناک ہے لیکن یہاں کی زرعی پیدار وار کے اعداد شما ر حیر ان کن ہیں راجن پور پورے پنجا ب میں بلکہ پورے پاکستان کی اوسط پیدار وار میں اپنا ایک اچھا خاص حصہ شامل کر تا ہے جغرافیائی اعتبار سے راجن پور سند ھ بلو چستان کے سنگم پر واقعہ ہے راجن پور کے مغرب میں کوہ سلیما ن کا پہاڑی سلسلہ مشرق میں دریا سند ھ ہے راجن پور کی زمینیں سو نا اگلتی ہیں یہاں کا کل رقبہ18 لا کھ 55 ہزار 257 ایکڑ ہے اور قابل کا شت رقبہ 9 لاکھ 67 ہزار کے قریب ہے زیادہ تر رقبہ پر گند م کا شت کی جاتی ہے جو کہ 4 لاکھ 14 ہزار ایکڑ ہے کپاس 3 لاکھ 39 ہزار ایکڑ گنا 40 ہزار ایکڑ ا‘چاول 14 ہزار 502 ایکڑ آم کے با غا ت تقریباً 20 ہزار ایکڑ پیاز دس ہزار ایکڑ اس کے علاوہ دیگر فصلیں جن میں سبزیاں جانوروں کے چارے کے لیے گھاس اور تحصیل جام پور میں تمباکو کی کاشت بھی شامل ہے اگر یہاں گند م کی پیدا وار کی بات کی جا ئے تو 2017 میں محکمہ خوراک پنجاب نے پورے پنجا ب میں سے گندم کی 4 کروڑ بوریوں خریداری کی جن میں سے 47 لا کھ پچاس ہزار بو ری ڈیرہ غا زی خا ن ڈو یژن سے خرید کی گئی ڈیر ہ غا زی خا ن ڈویژن چار اضلا ع مظفر گڑھ‘ لیہ‘ڈیر ہ غا زی خا ن اور راجن پور پر مشتمل ہے صرف اکیلے راجن پور سے گند م کی16 لا کھ بوری تھی اور دس لا کھ بوری کے قریب دوسرے صوبوں اور دیگر علاقوں کے کے بیو پاری اور فلو رملز والوں نے خریدیں اور اس سے کہیں زیادہ گند م کا شت کاروں اور علا قے کے لو گوں نے اپنی سالانہ ضرورت کے پیش نظر اپنے پاس محفوظ کر لی راجن پور کو کپاس کے پیداوار اور کو الٹی کے حو الے پورے پاکستان میں اعلی شمار ہوتی ہے جو اپنے لمبے ریشے اور اعلی معیا ر کے اعتبار سے بلو چستان میں چند اضلاع کے بعد پنجا ب میں راجن پور اور رحیم یا ر خان کی تحصیل صادق آبا کا نمبر آتا ہے گزشتہ سال پنجا ب میں کپاس کی پیداوار 80 لا کھ بیلز تھیں جن میں سے صرف راجن پور کی پیداوار 4 لا کھ بیلز تھیں پاکستان میں گنے کی فصل کے حوالے سے سند ھ کے بعد پنجا ب میں رحیم یار خان اور راجن پور کا نمبر آتا ہے راجن پور کا گنا ہ ریکو ری کے اعتبار سے اعلی کو الٹی کا تصور ہو تا ہے جس کی ریکو ری فی سو کلو گنے میں سے 11 سے 12 کلو چینی ہے راجن پور میں دریا سند ھ کے کنارے گنے کی فی ایکڑ پیداوار 11 سو سے 13 سو من ہے جبکہ یہاں پر ایک ہی شوگر مل ہے جس کی سالانہ چینی کی پیداوار تقریباً 30 لاکھ بیگ کے لگ بھگ ہے اس کے علاوہ بڑی تعداد میں یہاں کا گنا ہ سندھ اور رحیم یار خان کی شوگر ملز کو بھی سپلائی ہوتا ہے  راجن پور چونکہ ایک زرعی علاقہ ہونے کی وجہ سی یہاں کی زیادہ تر آبا دی دیہا توں میں رہتی ہے لو گ کھیتی باڑی کے ساتھ ما ل مو یشی بھی پا لتے ہیں لائیو سٹاک میں راجن پور ملکی ضروریات کا 8 سے 10 فیصد چھو ٹا گو شت اور 12 سے 14 فیصد بڑا گو شت پورا کر تا ہے قربانی پر پورے پاکستان سے خریدار یہاں کا رخ کرتے ہیں زراعت کے لئے شعبے میں پا نی سب سے اہم بنیا دی اور پہلی ضرورت ہے پانی کے بغیر ویر انی ہو گی خوشحالی کا تو تصور  ہی نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی فصل اگائی جا سکتی ہے نہری پانی فصلوں کے لئے بے پناہ فائدہ مند ہونے کے ساتھ سست اور آسان ذریعہ بھی ہے لیکن راجن پور میں نہری پانی کی صورتحال بھی  افسو سنا ک ہے یہاں نہر ی پا نی فصلوں کے علاوہ انسانی ضرورت کو بھی پورا کر تا ہے کیو نکہ زیر زمین پانی کڑوا اور نا قابل استعما ل ہے دوسرا واٹر سپلائی سیکمز ناکارہ ہونے کی وجہ سے انسا ن نہر ی پا نی پینے پر مجبور ہیں ڈیرہ غا زی خا ن اور راجن پور کے دو اضلا ع کے لئے ایک ہی نہرجس کا نا م ڈی کینال جو تونسہ بیر اج سے نکالی گئی ہے جس میں پا نی کو کو ٹہ دس ہزار کیو سک تک ہے جب یہ نہر راجن پور کی حد دو میں زیر وہیڈ کے مقا م پر داخل ہو تی ہے تو اس کا ڈسچا رج 32 سو کیو سک رہے جا تا ہے جو پورے ضلع راجن پور کی ضروریات کو پورا کرنے لئے انتہا ئی نا کا فی ہے مزید حیر انی کی بات یہ ہے کہ یہ نہر سالا نہ کی بجا ئے ششما ہی ہے اس نہر سے مزید لنک نہر یں نکا لی گئی ہیں جن میں پا نی وارا بندی کےحساب سے آٹھ آٹھ دن کے وقفے سے چھوڑا جاتا ہے اس کے علاوہ داجل کینا ل کی توسیع کا منصوبہ برسوں سے زیر التوا کا شکار ہے یہاں کے بچا رے کسان اپنی پا نی کی ضروریات ٹیو ب ویل سے پوری کرنے پر مجبور ہیں اس ذریعہ آبپاشی سے کاشت کاروں کو بچت کی بجا ئے نقصا ن اٹھانا پڑتا ہے کسانوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم کے سیکرٹر ی جنر ل راو افسر راجن پور میں کسانوں کے حقوق کے لئے بہت سرگرم ہیں پانی کے مسئلے کے لئے انہوں نے یہاں کسانوں پر مشتمل اونٹوں پر 610 کلو میٹر طو یل لانگ ما رچ لا ہور کی جانب کیا تھا بلوچستان کو جانے کچی کینا ل راجن پور سے گزر رہی ہے جو تاحال مکمل نہ ہو سکی  کچی کینا ل  سے راجن پور کو پا نی نہیں دیا جائے گا لیکن پر ویز مشرف نے ڈیر ہ غازی خا ن کے جلسے میں راجن پو ر کے کسا نوں سے وعدہ کرتے ہو کہا تھا کہ کچی کینا ل سے راجن پور کو ایک ہز ار کیو سک پا نی دیا جا ئے گا پانی دیا جائے گا لیکن اب کا پتہ نہیں ہے اس منصوبہ کے مکمل ہونے کے بعد پتہ چلے گا راجن پور میں ہر سال سیلا بی پا نی تبا ہی مچا تا ہے 2010ء کے ہولناک سیلاب کے بعد یہاں ہر سال سے مسلسل سیلاب آجا تا ہے ایک دریا سند ھ کی طر ف سے دوسرا کوہ سلیما ن کے پہاڑی سلسلے سے ان پہاڑی ندی نا لوں میں سالانہ ایک اندازے کے مطابق 4 لاکھ کیوسک پانی آتا ہےجو مختلف علاقوں میں تباہی مچا نے کے بعد دریا برد ہو جاتا ہے لیکن ایسی کوئی حکمت عملی نہیں بنا ئی گئی کہ اس برساتی پا نی کو پہاڑوں میں ڈیم بنا کر سٹو ر کیا جا ئے سیا ست دانوں کی طرف ہر دفعہ ایسے وعدے سامنے آتے ہیں کہ ڈیم کا منصوبہ جلد شروع ہو گا ایسا عملی طور پر آج تک نہ ہو سکا اگر ڈیم بنا دیا جا تا ہے تو اس کے بہت زیادہ فا ئد ے ہیں ایک تو سیلا ب کی تباہ کاریوں سے بچا جا سکتا ہے دوسرا بارانی علاقہ جس کو پچادھ کہا جا تا ہےجہاں کی زمین سونا اگلنے والی ہیں جس پر فصلیں بغیر کھاد کے پک جا تی ہے لیکن پانی نہ ہو نے کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ زمین بنجر پڑی ہے جو ڈیم بنے کے بعد آباد ہو جا ئے گی راجن پور کی آبادی اور ان کی ضروریا ت وسائل کی بات کی جا ئے تو یہاں بھی صورت حال حیر ان کن ہیں 1998 کی مردم شماری میں راجن پور کی آبادی 16 لاکھ تھی جبکہ مو جودہ مر دم شماری کے نتا ئج ابھی سامنے نہیں آئے ہیں ایک اند از ے کے مطابق راجن پور کی مو جودہ آبا دی 30 لاکھ کے لگ بھگ ہوگی اتنی ساری آبادی کے لئے ہسپتا لوں اور اور تعلیمی اداروں کی صورت حا ل کچھ یوں ہے راجن پور میں ایک DHQ ہسپتال دو عدد THQ ایک عدد سول ہسپتال ہے اس کے علاوہ اور 6 عدد رولر ہیلتھ سنٹر 32 بیسک ہیلتھ یو نٹ ہیںDHQ ہسپتال میں 138 بستر THQ اور سول ہسپتال میں 40 بستر ہر ہسپتال میں جبکہ DHQ ہسپتال میں چند ایک سپشلسٹ ڈاکٹرز تعینا ت ہیں یہاں ماہر سرجن اور گا ئنا کا لو جسٹ نہیں ہے اکثر پیچید ڈلیوری کیسز کے لئے مر یضوں کو ملتان اور بہا ولپو ر شفٹ کر نا پڑتا ہے جو لوگ علاج اور آپر یشن کے بھاری اخراجات برداشت کر سکتے ہیں وہ تو دوسرے شہر جاتے ہیں باقی مر یض یہاں تڑپ تڑپ کر مر جا تے ہیں یہاں خواتین کی زچگی دوران امو ات کی شر ع زیا دہ ہے باقی تما م چھوٹے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور سہو لیات کی تو ویسے ہی کمی ہے بیسک ہیلتھ یو نٹس میں ایمر جنسی کے سہولت ہے اور ان ہیلتھ یونٹ میں ڈلیوری کیس کی سہولت کے لئے ایک بستر پر مشتمل ایمر جنسی بھی قا ئم تو ہے پر کا غذوں کی حد تک کبھی ان میں مریض کو داخل نہیں کیا گیا راجن پور کے اکثر علاقوں میں زیر زمین پانی کڑوا اور مضر صحت اور پینے کے قابل نہیں نے قابل نہیں ہے خراب اور مضر صحت پا نی سے گردے کی پتھر ی ‘ کالے یر کان ‘ معدے اور دیگر مر یضوں کی تعداد زیا دہ ہے DHQ ہسپتال میں ڈائیلسز کی صر ف پانچ مشینیں ہیں جن میں سے چا ر سرکاری طورپر فراہم کی گئی ہیں اور ایک عطیہ شدہ ہے اس کے بر عکس رجسٹرڈ ڈائیلسز کر انے والے مر یضو ں کی تعداد 80 سے زیادہ ہے جن کو ہفتے میں دو مر تبہ ڈائیلسز کر وانا پڑتا ہے راجن پورمیں 500 بسترپر مشتمل ترکش ہسپتال تعمیر ہو نا تھاجس کا ابھی تک پی سی ون بھی تیار نہیں کیا گیا ہے ٹراما سنٹر کا منصوبہ منظوری کے باوجود کینسل ہو گیا صحت کی طر ح تعلیم کے کی صورت حال بھی کچھ مختلف نہیں ہے جو ما یو س کن ہے یہاں شرح خواندگی انتہا ئی کم ہے جو پورے پنجاب میں آخری درجے پرہے پورے راجن پور میں اتنی آبادی ہو نے کے باوجود یہاں پر کسی یو نیورسٹی کا کمپس نہیں ہے وزیر اعظم میاں محمد نواز شر یف کے پہلے دور حکو مت میں راجن پور کے لئے اسلا مک انٹر نیشنل یو نیو رسٹی کے قیا م کا منصوبہ منظور کیا گیا تھا جس کا سنگ بنیاد خود میاں محمد نو از شر یف نے بطور وزیر اعظم پاکستان نے  1992 میں رکھا تھا جس کے لئے مقامی زمینداروں نے کئی مر بعے زمین بھی عطیہ کر دی تھی لیکن اچا نک اس یو نیو رسٹی کو اسلام آباد منتقل کر دیا گیا جو راجن پور کی عوام کے ساتھ بہت بڑی زیا دتی کی گئی راجن پور میں اس وقت 2 پوسٹ گریجو یٹ کا لج ہیں جن میں صرف تین تین مختلف سبجیکٹ میں ایم اے کر وایا جا رہا ہے راجن پور پوسٹ گر یجو یٹ کالج میں انگلش ‘ اسلا میات ‘ ہسٹر ی اس علاوہ جا م پور پوسٹ گریجو یٹ کا لج میں ارد و انگلش اور اکنا مکس اس کے علاوہ پورے ضلع میں سات ڈگری کا لجز ہیں جن میں سے 2 بو ائز 5 گرلز ہیں اور مزید 2 زیر تعمیر ہیں تین کا مرس کا لج اور ایک ٹیکنا لو جی کالج جس میں تین سالہ کورسز کی بجا ئے چھ چھ ما ہ کے شارٹ ڈپلومہ کورسز کروائے جا رہے ہیں پورے راجن پور میں 1166 سرکاری سکول ہیں 998 پر ائمری سکول جن میں سے 653 بو ائز 345 گرلز‘ 87مڈل سکول جن میں سے 34 گرلز 53 بوائز 69 ہائی سکول ہیں ان میں سے 45 بوائز 24 گرلز ‘12 ہا ئر سکنڈری سکول جن میں سے 7 بوائز 5 گرلز ہیں اس کے علا وہ ایک دانش سکول فاضل پور اور ایک سکول آف ایکسی لینس روجھان میں ہے یہاں کی آبادی اور لو گوں کی معاشی صورت حا ل کا جا ئز ہ لیا جا ئے تو صحت اور تعلیم کی سہولیات نہ ہو نے کے برابر ہیں یہاں مر یض کے علا ج کی طر ح بچوں کی تعلیم کے لئے بھی بڑے شہر وں کا رخ کر نا پڑتا ہے جس پر بھا ری آخراجات آتے ہیں مجبورً والد ین کو بچوں کے مستقبل کی خا طر اپنی جا ئیدایں فر وخت کرنا پڑتی ہیں لیکن جن کے پاس کسی قسم کی جا ئیدا د ہو گی تو وہ ہی بچوں کو پڑھا ئیں گے باقی بچارے بچے مڈل میٹرک بہت کم ایف اے اور بہت تھوڑے سے بی اے کر جاتے ہیں ایم اے تو قسمت والے ہی کر تے ہیں اکثر والدین کے خواب ادھو رے رہے جا تے ہیں راجن پور جہاں پورے ملک کی زرعی اور دیگر ضروریات پوری کر رہا ہے لیکن راجن پور کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا ہے یہاں کے مسائل اور پسماند گی پاکستان بننے سے پہلے جو تھی اب بھی اس میں کو ئی کمی یا تبدیلی نہیں آئی ہے راجن پور کو کسی بھی دور حکومت میں بڑا منصوبہ نہیں دیا گیا جو علا قے کی تقدیر بدل دیتا اور جو منصوبے دیے بھی گئے وہ بھی خا موشی سے واپس لے لئے گئے یہاں کے سیا ست دان بھی آج تک راجن پور کے کوئی بڑا منصوبہ نہیں لا سکے او ر نہ اسمبلی میں راجن پور کی پسما ند گی اور وسائل مقدمہ لڑے ہیں راجن پورکے سیاست دانوں کو ہر دور حکو مت میں بڑے بڑے عہدے بھی ملے ہیں لیکن بات عہدوں تک محدود رہی عوامی مسائل پر کسی نے غور ہی نہیں کیا یہاں کے سیاست دان تو کچھ نہیں کر ہے ہیں لیکن کوئی تو ان وسائل اور مسائل کو دیکھے ہماری پسما ند گی اور وسائل کو دیکھتے ہوئے ہمارا مقدمہ سنے اور یہاں کی عوام کو انصا ف فراہم کرے 

Saturday, 8 July 2017

ٹینکر حادثے سے پہلے اور بعد تلخ حقا ئق


ٹینکر حادثے سے پہلے اور بعد تلخ حقا ئق 
تحر یر : عبد الجبا رخان دریشک 
احمد پور شرقیہ کے المنا ک سا نحہ میں ہلا کتوں کی تعدا د 218 ہو چکی ہے جبکہ 40 کے قریب افر اد اب بھی مختلف ہسپتا لوں میں زیر علا ج ہیں اس حادثے کے فوری بعد تحقیقات کا آغا ز کرتے ہوئے سانحہ کی ایف آئی آر درج کی گئی جس میں ٹینکر کے ڈرئیو ار مالک اور کمپنی کو نا مز د کیا گیا تھا شروع میں یہ کہا جا تا رہا کہ ڈرائیور مو قع سے فر ار ہو گیا ہے لیکن بعدا زں ٹینکر کا ڈرائیو رنشتر ہسپتا ل میں زیر علاج پا یا گیا جو ہسپتال میں ہی دم توڑ گیا تھا مختلف اداروں کی تحقیقات میں کبھی ضلعی انتظا میہ ذمہ دار ٹھہری تو کبھی مو ٹر وے پو لیس کبھی مقا می پولیس تحقیقاتی رپو رٹوں کا سلسلہ تا حا جا ری ہے گزشتہ دونوں اوگرا نے اپنی رپورٹ پیش کی جس میں کمپنی کو ذمہ دار ٹھہریا گیا اور کمپنی پر ایک کروڑکا جرمانہ کیا  جبکہ مر نے والوں کو فی کس  دس دس لاکھ اور زخمیوں کو فی کس پا نچ پانچ لا کھ روپے اداکر نے کی ہد ایت کی گئی رپورٹ کے مطابق آئل ٹینکر مقر رہ معیا ر کے مطابق نہیں تھا آئل ٹینکر کا فٹنس سرئیٹفٹک بھی جعلی تھا جبکہ 50 ہزارلیٹر کئ گنجا ئش والے آئل ٹینکر کے ایکسل کی تعدا 5 کی بجا ئے 4 تھی سانحہ احمد پر شرقیہ کی تحقیقات کے بعد تمام محر کا ت سامنے آرہے ہیں کہ کہاں کہاں معیار اور قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس کی وجہ سے اتنا المناک حادثہ پیش آیا ہے ہمارے ہاں  قائدے قوانین ہونے کے باوجود ان پر عمل درآمد صفر ہوتا ہے کسی حادثے کے فوری بعد کچھ دن تک قوانین پر عمل کر وایا جا ئے گا پھر وقت گزرنے کے ساتھ دوبار قانون کی خلاف ورزی شروع ہو جائے گی اور پھر کسی اور حادثہ ہو نے تک ایسا چلتا رہے گا ہمارے ملک کی سٹرکوں پر لاکھوں کی تعداد میں دوڑتی گاڑیاں جن میں سے آدھی سے زیادہ معیار کے مطابق ہیں ہی نہیں اگر آئل ٹینکرز کی بات کی جا ئے تو ان کی تعدا د بھی ہز اروں ہے ایک اندازے کے مطابق سٹر کوں پر چلتے ٹینکرز کی تعداد ہزاروں میں ہے اور اتنی ہی تعد اد میں آئل ڈپو کے با ہر انتظار میں کھڑے ہو تے ہیں لیکن آج سے پہلے ان محر کا ت کو تلاش کر نے اور قانون پر عمل درآمد کر وانے کی کبھی کو شش ہی نہیں کی گئی آئل ٹینکرز کی بنا وٹ کی بات کی جا ئے تو  50 ہزار لیٹر گنجا ئش والے آئل ٹینکر کے ٹینک کی چا درنا میاتی سٹیل کی ہو تی ہے لیکن غیر ممالک میں اس کا معیار اعلی قسم کے سٹیل اور المیو نیم ہے پاکستان میں چا ئنہ سے امپو رٹ ہو نے والے ٹنیکرز کی چادرقدرے عالمی معیا ر کے قریب تر ہو تی ہے اس کے علا وہ زیادہ تر ٹنیک مقا می ورکشاپس میں تیار ہوتے ہیں جن کو باڈی میکرز تیار کر تے ہیں ان کے تیار کردہ ٹینک کی سٹیل چادر کا معیار کم تر اور وزن کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جا تی ہے ان مقامی ورکشاپس میں اکثر میکنک کا م کرتے ہیں جبکہ ان کو بنانے والے باڈی میکرز کوکسی انجینئرز کی خدمات حاصل نہیں ہو تی ہیں کچھ عرصہ قبل یہ بھی انکشاف ہو چکا ہے کہ پاکستان میں چلنے والے 85 فیصد آئل ٹینکرز غیر محفوظ ہیں جو بین الاقومی معیار پر پورا نہیں اترتے ہیں اوگر ا کی حالیہ رپورٹ کے مطا بق ٹینکر کے چار ایکسل تھے جبکہ ایکسل کی تعدا د پا نچ ہو نی چا ہے سٹرک پر چلنے والے ان آئل ٹینکرز کا جا ئزہ تو لیں تو بڑی تعداد میں چا ر ایکسل والے آئل ٹینکر ہی دوڑ رہے ہو تے ہیں آئل کمپنیاں تیل کی مختلف علاقوں اور ڈپوں تک ترسیل  آئل ٹینکر ز کے ذریعے کرتی ہیں اس کے علاوہ پائپ لا ئین سے ترسیل کا نظام پاکستان میں پارکو کے پا س ہے  آئل ٹینکرز کے ذریعے  تیل نقل حرکت جس میں آئل ٹینکرز کا معیار غیر تسلی بخش ہو نے کے ساتھ ان چلا نے والے ڈرئیوارز بھی عام گا ڑیاں چلا نے والے ہو تے ہیں ان کے پاس لانسئس تو ہو تا ہے پر وہ اصلی ہو یا جعلی اس کے بارے میں حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا ہے ان ڈرئیوارز کی باقاعدہ تربیت نہیں ہوتی ان کے میڈ یکل ٹیسٹ تک نہیں کر وائے جاتے ان میں اکثر شراب اور چرس جیسے نشے کے عا دی ہو تے ہیں ان کی تنخوا ہیں کم ہوتی ہیں اور ڈیوٹی سخت اور زیا دہ ہو تی ہے جس کی وجہ سے یہ راستے میں آئل ٹینکر ز سے تیل چوری نکا ل کر فر وخت کر تے ہیں جس کو ان کی زبان میں ڈبہ ما رنا کہا جاتا ہے یعنی کسی ڈبے کنستر کے ذریعے سے تیل نکالتے ہیں جبکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں کچھ ڈرائیور حضرات خود بھی تیل کی بہتی گنگا میں مال بنا نے کی کو شش کر تے ہیں اور خودی بھی بہتا تیل جمع کر کے کسی ایجنسی یا گا ڑی والے کو فر وخت کر دیتے ہیں پٹرول پمپ مالکا ن اپنی گاڑیاں ڈپو کے لئے آدھی را ت کو روآنہ کر تے ہیں تاکہ دن کی اوقا ت میں تیل بھر وانےکے بعد جلد گاڑی واپس آجا ئے کیو نکہ سٹا ک ختم ہو نے کا خد شہ ہو تا ہے اس صورت حا ل کو دیکھا جا ئے تو ڈرئیوارز حضرات جلد ی واپس آنے کےلئے گا ڑی کو تیز رفتا ری سے چلا تے ہیں آدھی رات سفر کرنے کی وجہ سے ان کی نیند بھی پو ری نہیں ہو پا تی ہے اس سے حادثات کے امکا نا ت بڑھ جا تے ہیں رپورٹ میں ایکسل کا ذکر کیا گیا ہے کہ معیار کے مطابق بڑے آئل ٹینکر کے پا نچ ایکسل ہونے چاہیے  پا نچ ایکسل  ٹینکر کے ٹینک والے حصے میں جبکہ ایک فرنٹ ایکسل انجن والی سا ئیڈ پرکل ملا کر ایکسل کی تعداد چھ بنتی ہے جس میں 22 عدد ٹا ئرز استعمال ہو تے ہیں جن کی مالیت لا کھوں میں بنتی ہے ہم اپنی سٹر کوں کا جا ئزہ لیں تو یہ بہت پرانی اور ٹو ٹ پھوٹ کا شکا ر ہو چکی ہیں جو گاڑیوں کے ٹا ئرز کو جلد نا کارہ بنا دیتی ہیں ٹائرز کی تبدیلی پر آنے والے بھاری آخر جات سے مالکان بچنے کے لئے گزارہ چلانے کو ہی ترجیع دیتے ہو ئے ناکارہ اور پر انے ٹا ئر وں سے کام چلا نے کی کو شش کر تے ہیں ان نا کا رہ ٹا ئر و ں کے پھٹنے اور پنچر ہو نے سے گاڑی کے الٹنے کے امکا نا ت بڑھ جاتے ہیں اور اکثر حادثات کی وجو ہات ہی ٹا ئر پھٹنا ہو تی ہے اس کے علاوہ مالکا ن گا ڑیوں میں ایکسل کی تعداد اس لئے کم کر دیتے ہیں اس سے ٹا ئرز کی تعداد کم ہو جا تی ہے اور مالکان مزید اخراجات سے بچ جاتے ہیں ان کے مطابق تیل کا وزن کم ہوتا ہے اور ہمیشہ ایک سا ہی رہتا ہے جو تیل کی مقدار کم ہو پر بوجھ مزید کم ہو جاتا ہے لیکن زیادہ نہیں جبکہ کنٹینرز اٹھا نے والے ٹرالز زیادہ ایکسل اس لئے استعما ل کر تے ہیں کہ یہ اپنی مقررہ گنجا ئش سے زیادہ وزن لو ڈ کر تے ہیں اس سے ان کے کر ائے میں آضا فہ ہو جاتا ہے اگر ان کے ٹائرز جلد ختم اور ناکارہ ہو بھی جائیں تو اس نقصان سے ان کو فر ق نہیں پڑتا ہے اکثر گاڑیوں میں الیکٹریکل وائرنگ میں فالٹ ہونے کی وجہ سے رات کو ہیڈ لا ئٹس کا روشن نہ ہو نا یا پھر ایک لا ئٹ پر گزارہ کرنے سے بھی حادثہ رونما ہو جاتے ہیں یہاں تک تو با ت ہو گئی حادثے میں ٹینکر الٹنے کی جبکہ حادثے کے فوری بعد اس ایر کو بند نہیں کیا گیا عوام نے بہتا تیل دیکھا تو جمع کر نا شروع کر دیا جس میں آگ لگ گئی جو بہت بڑے حادثے بن میں تبدیل ہو گیا اب مزید کچھ اور حقا ئق پر روشنی ڈالتے ہیں کسی بھی پٹر ول پمپ کی مظوری لینے کے لئے کم از کم بیس محکموں سے این او سی لینی پڑتی ہے اور ایک طویل دوڑ دھوپ کے بعد پٹر ول پمپ کا لائسنس ملتا جس پر اچھا خاصہ سرمایہ لگا نے کے بعدا یک پٹرول پمپ تیار ہو تا ہے جبکہ اس کے برعکس ہمارے ملک میں کتنی غیر قا نونی تیل کی ایجنسیاں شہروں اور دیہاتوں میں کھلی ہوئی ہیں جن کو نا تو بیس محکموں سے این او سی لینی پڑتی ہے اور نہ ہی بھاری سرمایہ کاری کر نی پڑتی ہے بس ایک اجا زت نامہ جو ضلعی انتظامیہ جا ری کر تی ہے اور یہ لوگ کسی دوکا ن میں یو نٹ لگا کر با قا عدہ منی پٹرول پمپ بنا دیتے ہیں حالانکہ یہ اجا زت نامہ ذاتی استعما ل کے لئے ڈیزل سٹور کرنے کا ہو تا ہے جو زیادہ تر زرعی فارمز کو جا ری ہو تا ہے لیکن با اثر افراد سیاسی پشت پناہی کی وجہ سے یہ سارا غیر قانونی کا رو با کر تے ہیں اور ضلعی سول ڈیفنس آفیسر ان کو چیک بھی کر تا ہے لیکن چیکنگ صرف نام کی ہو تی ہے دراصل دورے منتھلی وصولی اور ما ل پا نی بنا نے کی غرض سے ہو تے ہیں اصولی طور پر چیکنگ احتیاطی تدبر کے متعلق ہوتی ہے اس غیر قانونی کا روبار کے بارے میں ساری انتظا میہ کو پتہ ہو نے کے با وجو د خاموشی اختیار کی جا تی ہے کچھ با اثر اور سیاسی وابستگی رکھنے والے پمپ مالکان خود بھی ایسی ایجنسیا ں قا ئم کر وا تے ہیں جن کا مقصد زیادہ تیل فروخت کرنے کے علاوہ دو نمبر اور ایر انی پٹرول اور ڈیزل بھی فروخت کرنا ہوتا ہے اب یہ ساری کرپشن کرنے والے معززین ہو جاتے ہیں اور بہاتا تیل بھر نے والے چور جا ہل بن جا تے ہیں مزید آگے بڑھتے ہیں پاکستان میں تیل کی سپلا ئی ٹر انسپورٹ کے علا وہ پا ئپ لا ئین کے ذریعے بھی ہو تی ہے جو ایک محفوظ طر یقہ کار سمجھا جاتا ہے کراچی سے محمود کو ٹ مظفر گڑھ تک پارکو کی ایک پا ئپ لا ئین اس مقصد کے لئے بچھا ئی گئی ہے جس کی حفاظت کے لئے با قا عدہ سیکو رٹی اور پٹرولنگ کی جاتی ہے جبکہ کچھ کچھ فاصلے پر سیکو رٹی گاڑڈ بھی تعینات کیے جاتے ہیں لیکن اس کے با وجود چور اس پا ئپ لا ئین میں وال فٹ کر کے تیل چوری کرتے ہیں  ایسے چور کئی دفعہ رنگے ہا تھوں پکڑے بھی گئے ہیں جن پر مقدمہ درج بھی ہو تے ہیں چوری کے اس کھیل میں محکمہ کی کا لی بھیڑیں مقامی بااثر لوگ جن کو سیاسی لوگوں کی پشت پنا ئی حاصل ہوتی ہے ان افراد پر مقدمات کمزور اور کم سزا اور جر ما نے والی دفعات لگا کر بنائے جاتے ہیں جن کو کچھ لے دے کی بنیا د پر تمام مقدمات سے آزادی مل جاتی ہے بعد میں ایسے چور علاقے امیر افراد بھی شمار ہو تے ہیں اور معز ز بھی کہلا تے ہیں پر وہ جو بہاتا تیل جمع کر رہے تھے وہ چور ہیں اوجاہل ہیں اب ذرا حادثے کے بعد کی بات کر تے ہیں پورے جنوبی پنجا ب میں ایک برن یونٹ وہ بھی جائے حادثہ سے سوکلو میٹر سے زیادہ دور نشتر ہسپتال میں اس حادثے کے بعد جو افسوسناک پہلو دیکھنے میں آیا جنوبی پنجا ب کی ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان جنوبی پنجاب کو 70 سال نظر انداز کیا جا رہا ہے یہاں پر صحت کے علاوہ تعلیمی سہولیات بھی کم ہیں پورے جنو بی پنجا ب میں یو نیو رسٹیز کی تعداد لاہو ر شہر میں یو نیو رسٹیز کی آدھی تعداد سے بھی کم ہے جنوبی پنجا ب کے اتنے بڑے علا قوں میں سوائے ملتا ن کے انڈسٹر یل زون کسی اور جگہ ہے ہی نہیں جنوبی پنجاب میں روز گا ر کے ذریعے نہ ہو نے کے برابر ہیں اس وقت لا ہو ر کر اچی روالپنڈی کے علاوہ مڈل ایسٹ میں مزدوری کر نے والے پاکستانیوں میں سے زیادہ تر جنو بی پنجاب کے لوگ ہی ہیں جو غربت کے با عث اپنے بچوں تک کو اونٹ دوڑ کرانے والوں کے پاس فروخت دیتے ہیں ڈیرہ غازی خان راجن پور کے علا قوں میں جہاں انسان اور جانور ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر کمپنی نے عفلت کی ہے اور اس کو جرمانہ کیا ہے تو اوگرا غیر قانونی تیل ایجنسیوں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سخت سیکورٹی کے باوجود پائپ لائین سے تیل چوری ہونے پر سیکورٹی کمپنی کو اور اور ملازمین کو بھی بھاری جرمانے لگائے اگر غفلت اور لاپروہی پر جرمانے ہو رہے ہیں سرکاری اہلکاروں کو سزائیں ہو رہی ہیں پر غفلت اور لاپرواہی تو ان علاقے کے سیاست دانوں نے بھی کی ہے جو اتنا عرصہ سے حکومت کا حصہ رہے ہوں عوام سے ووٹ لے کر اسمبلوں میں جاتے ہوں لیکن اپنے علاقوں کی صحت تعلیم کی سہولیات نہ دے سکے ہوں اور نہ ہی غربت کے خاتمے کے لئے کو بڑا پروجیکٹ نہ لے آئے ہوں ان پر جرمانہ کون کرئے گا ان کو سزا کون دے گا اگر یہ لوگ بے قصور ہیں تو سب بے قصور ہیں اگر تیل جمع کرنے والے چور اور لالچی تھے تو یہ اور باقی سب بھی تو ہیں

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...