Thursday, 23 November 2017

ایسی آفر ہمیں قبول نہیں

تحریر عبدالجبار خان دریشک
    اللہ پاک نے دن رات ہمارے کام اور آرام کے واسطے بنائے ہیں تاکہ ہم اپنی زندگی کو باقاعدہ ایک ترتیب سے ڈھال کر زندگی بسر کرنے کے لیے روزی روٹی بھی کمائیں اور اس پاک ذات کا شکر بجا لاتے ہوئے اس کی عبادت بھی کریں۔ اور جب رات ہو جائے تو آرام کر کے اپنے آپ کو اگلے دن کے لیے تیار کر لیں۔ ایسے ہی ہر گزرتے دن کی ترتیب اور اس کے حساب کتاب کا نظام بھی اللہ تعالی نے ہمیں کو عطاءکیا ہے جیسے دن رات کی ترتیب سے کام اور آرام ہیں ایسے ہی دونوں کے حساب میں کام و آرام اور عبادت کے دن جن کا درجہ فضیلت ایک کا دوسرے سے بڑھ کر اور افضل ترین دن بھی اللہ پاک نے ہمیں عطاء کیے ہیں۔ ہر گزرنے والے دن کا ایک نام دیا ہے جس میں ہم ہر دن کی ترتیب سے زندگی کے اموار سرانجام دیتے ہیں سات دونوں بعد ہفتہ اور چار ہفتوں بعد مہینہ اور بارہ ماہ بعد سال اور سال کے ہر ماہ کی اپنی ترتیب اور زندگی کے اموار جو پورے سال کی ترتیب اور زندگی گزارنے کا سلیقہ انسان کو سیکھاتے ہیں
     پہلی ابتداء دن رات سے ہوتی ہے تو ہر روز طلوع ہونے والا سورج ایک نیا دن لے کر آتا ہے اللہ پاک نے ہمارے لیے ہفتے کے سات دونوں میں سے چھ دن کام کے اور ایک دن عبادت اور آرام کا بنا دیا ہے ہم دنیا کے ساتھ دوڑتے ہوئے یہ چھٹی اور آرام کا دن اتوار کو بنا چکے ہیں لیکن ہفتے کے دونوں میں افضل ترین دن تو جمعہ کا دن ہے جو ہم مسلمانوں کی چھٹی دن ہے اس دن سب مسلمان اپنی دوکان کاروبار اور مزدوری سےچھٹی کرتے تھے۔ اس دن کام سے آرام کا مقصد ہم اللہ پاک فضل تلاش کر سکیں اور اپنے بال بچوں کے ساتھ وقت گزار سکیں۔ جمعہ کی نماز پڑھیں جس کی فضیلت باقی نمازوں سے زیادہ ہے۔
     جمعہ ہمارے لیے بہت ہی فضلیت کا دن ہے جو عید کے بعد باقی دونوں کی نسبت زیادہ افضل ہے۔ جمعہ کی مزید فضیلت اور اہمیت بیان کرنے سے پہلے یہ بتانا چاہوں گا کہ کفار اس مقدس اور افضل دن کے ساتھ سازش پر اتر آئے ہیں ان کی شیطانی عقل نے اس دن کے ساتھ بلیک کا لفظ لگا کر اپنی کاروباریب مہیم چلا رہے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ تعداد میں عیسائی مذہب کے لوگ ہیں۔ عیسائی ہر سال اپنا مذہبی تہوار 25 دسمبر کو مناتے ہیں۔ امریکا یورپ اور دیگر ممالک کے لوگ تہوار کی خوشیاں منانے کے بازاروں میں مختلف اشیاءکی خریداری کرتے ہیں جن کی قیمتیں کم کر کے سیل لگائی جاتی ہے جو عموماً 50 فیصد سے لے کر 80 فیصد تک ہوتی ہے ان کا سیل لگانے کا ظاہری مقصد تو غریب لوگوں کو اس تہوار شامل کرنے کے لئے ہے تاکہ ان کو بھی نئی چیزیں خریدنے کا موقع مل جائے۔ وہ اس رعایتی سیکم کو جمعہ کے دن کے نام کے ساتھ لفظ بلیک لگا دیتے ہیں۔ کفارہ اس مقدس دن کا اور کچھ نہیں کر سکتے تھے لیکن وہ اس افضل دن کو غلط نام دے کر مسلمانوں کو تکلیف ضرور پہنچا رہے ہیں۔ اس پہلے وہ اس دن چھٹی ختم کرانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ان سازشی لوگوں نے اس کام میں کاروباری لوگوں اور بڑی کمپنوں کا سہارا لیا جن کے مالک خود عسیائی اور یہودی ہیں۔ اب ذرہ ان کی لوٹ سیل اور دسکاونٹ کی اصلیت بھی جان لیں یہ بات ٹھیک ہے یورپ اور امریکا کے لوگ اپنے لوگوں کو خاص تہور پر رعایت دیتے ہیں لیکن یہ سیل یا رعایت زیادہ تر ایسے سامان اور اشیاءپر دی جاتی ہے جن کی زیادہ فروخت نہیں ہوتی یا تو ان چیزوں کی مدت ختم ہونے کے قریب ہوتی ہے یا پھر اس چیز کا سیزن ختم ہونے والا ہوتا ہے۔ دوکاندار اپنا مال آفر دے کر چند دونوں میں نکال لیتے ہیں جس سے ان کے باو ¿نڈ آئٹم نکل جاتے ہیں اور پورے سال کی فروخت کے برابر چند دونوں میں سیل کر لیتے ہیں۔ کچھ عرصے سے یہ کام ہمارے ملک میں شروع ہو چکا ہے اور اس مقدس دن کو غلط نام دے کر ہفتہ دسکاونٹ منایا جاتا ہے۔ ہمارے دوکاندار تو سب سے بڑے کاروباری ہیں یہ تھکے ہوئے اور ڈیڈ آئٹم سیل میں رکھتے ہیں جبکہ اچھے اور نئے مال کو فل ریٹ پر سیل کرتے ہیں۔ ان کا آفر لگانے مقصد ہمارے ہاں یہ ہے پرانا مال نکل گیا تو ٹھیک نہیں تو نئے مال کو زیادہ گاہکوں کو دیکھانے کا موقع مل جائے گا۔ کیونکہ ڈسکاو ¿نٹ کے چکر میں زیادہ سے زیادہ دوکان پر آتے ہیں۔ اب گاہک ہمیشہ نئے ڈائزین کو ترجیع دیتا ہے اس کی چاہے جو بھی قیمت ہو گاہک ہمیشہ نئی چیز ہی خریدتا ہے۔ بس سیل اور آفر عوام کے ساتھ دھوکا ہے اور کچھ نہیں۔
     یہ لوگ جمعہ کے دن کو غلط نام اپنی لالچ میں اور اسلام کے خلاف سازش میں دے رہے ہیں اس دن کی فضیلت اور اہمیت کتنی ہے جمعہ کے دن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جمعہ کا دن ہفتے کے سارے دنوں کا سردار ہے، ایک حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر دن جس پر آفتاب طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے۔ اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی دن ان کو جنت میں داخل کیا گیا، اسی دن ان کو جنت سے باہر (یعنی زمین پر اتارا گیا) کیا گیا۔ اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ایک اور حدیث میں ہے کہ اسی دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، اور اسی دن ان کی وفات ہوئی۔ بہت سی احادیث میں یہ مضمون ہے کہ جمعہ کے دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس پر بندہ? مو?من جو د ±عا کرے وہ قبول ہوتی ہے، جمعہ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھنے چاہیں جن کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ یہ تمام احادیث مشکوٰة شریف میں ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث میں جمعہ کی فضیلت آئی ہے۔ جمعہ کے دن کی فضیلت یہ ہے کہ کسی اور دن کے نام سے قرآن پاک کی کوئی دوسری سورت نہیں ہے لیکن جمعہ کی نام سے قرآن پاک کی سورت جمعہ ہے اب ذرا قرآن پاک کی ان آیات کریمہ پر بھی غور فرمائیے ترجمہ. اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو ذکر الٰہی کی طرف لپکو اور خرید و فروخت چھوڑ دو، تمہارے لیے یہی بات بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ ( آیات 9 سورت الجمعہ)اسی سورت کی ایک اور آیات میں ہے ترجمہ. پس جب نماز ادا ہو چکے تو زمین میں چلو پھرو اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو بہت یاد کرو تاکہ تم فلاح پاو ¿۔( آیات 10 سورت الجمعہ ) ترجمہ.. اور جب وہ لوگ تجارت یا تماشہ دیکھتے ہیں تو اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہوا چھوڑ جاتے ہیں، کہہ دو جو اللہ کے پاس ہے وہ تماشا اور تجارت سے کہیں بہتر ہے، اور اللہ بہتر روزی دینے والا ہے۔ (آیات 11 سورت الجمعہ) اب ان آیات کریمہ کا بغور جائزہ لیں۔ ہم بھی تو سیل کی آفر پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ کفار کی سازش دیکھیں تو وہ اس دن کے نام سے سیل لگا کر ہمیں گمرہ کر رہے ہیں۔اب ذرہ یہاں بھی غور فرمائیں اس دن کا نام جمعہ کیوں رکھا گیاجس کے مختلف اسباب ہیں۔ 1۔ جمعہ ”جمع“ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں جمع ہونا کیونکہ مسلمان اِس دن بڑی تعداد میں مساجد میں جمع ہوتے ہیں اور جمعہ کے اجتماعات ہوتے ہیں ، اِس لیے اِس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے۔ 2۔ چھ دنوں میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور تمام مخلوق کو پیدا فرمایا۔ جمعہ کے دن مخلوقات کی تخلیق مکمل ہوئی یعنی ساری مخلوق اس دن جمع ہوگئی اس لیے اِس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے۔ 3۔اِس دن یعنی جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، یعنی ا ±ن کو اِس دن جمع کیا گیا۔ ہمیں دسکاونٹ آفر دے کر وہ اس مقدس دن کا نام استعمال کرتے ہوئے ہفتے کے سارے دن یہ آفر جاری رکھتے ہیں لیکن کسی اور دن کا نام کیوں بلیک نہیں رکھا گیا ؟ اس دن کے ساتھ بلیک کا لفظ استعمال کر کے انہوں نے میری طرح ہر مسلمان اس افضل دن کی بے حرمتی پر آفسردہ ہے اور ان کی ایسی دسکاونٹ آفر جو ہماری ہمارے افضل دن کو غلط نام دیں۔ اور ایسی آفر ہمیں قبول نہیں 

کالم نگار عبدالجبار خان دریشک ایم ایس ماس کمیونیکیشن ایل ایل بی تحصیل و ضلع راجن پور

انتباہ.. تحریر یا مواد چوری کرنا خلاف قانون ہے

Tuesday, 21 November 2017

حالات تیزی سے بدل رہے ہیں

تحریر... عبدالجبار خان دریشک
ملک کی تازہ ترین صورت حال اسمبلی میں حکومتی پارٹی نے  اپوزیشن کے بل کو مسترد کروانے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ جس سے ایوزیشن جماعتوں کو ناکامی ہوئی ہے حکمران جماعت  نے اس بل کو مسترد کروانے میں بھر پور زور لگایا۔ کامیابی حاصل کر کے حکمران جماعت نے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے وہ کسی کے مائنس کو نہیں مانتے جن کو کوئی مائنس کرنا چاہتے ہیں وہ ہمیشہ کے لیے پلس ہوگئے اس بل کی حد تک تو حکمران جماعت کی پریشانی دور ہوئی لیکن اسلام آباد کا دھرنہ حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہا دھرنے کو ختم کروانے کے لیے سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لے لیا ہے اب حکومتی پارٹی جان کر ایسا کررہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح حالات خراب ہوں اور الزام کچھ اداروں پر آئے ڈان لیکس کے معاملے پر مرغے اور بکرے ذبح کیے گئے تھے پر اب مرغا کیوں ذبح نہیں کیا جارہا حالانکہ اس مرغے کے گلے میں منکا پھنس گیا ہے۔ جان بوجھ کر معاملے کو طول دی جارہی ہے آنے والے کچھ دنوں میں   دھرنے کے  شرکاء کی تعداد مزید بڑھ جائے گی ربیع الاول کا مہینہ شروع ہوچکا ہے جس سے حکومت مشکلات مزید بڑھ جائیں گی
      نئے انتخابات سے قبل اسمبلی میں حلقہ بندیوں اور انتخابی اصلاحات کا بل بھی ایسے دھکے کھاتا رہے گا۔ اس بل کی تاخیر سے الیکشن دیر سے یا ملتوی ہو سکتے ہیں حکمران جماعت الیکشن ملتوی کروا کر اپنے گناہ دھونا چاہتی ہے حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں ایک طرف سندھ کی سیاست میں بھونچال ہے جبکہ وفاق میں پیشیاں ہی پیشیاں ہیں ملک ایک مرتبہ پھر سے دھشت گردی کی لپیٹ میں  ہے   حالیہ واقعات سے اشارہ ملتا ہے دھشت گردوں کا مکمل صفایا نہیں ہوا ۔ آپریشن ردالفساد میں مزید تیزی کی ضرورت ہے       
         آپریشن ضرب عضب کے بعد کافی بہتری آئی پھر کومبنگ آپریشن اور ردالفساد شروع کیا گیا پر اس کے باوجود بلوچستان  میں امن پیدا نہیں ہو رہا سیاست دان ہی نیشنل ایکشن پلان میں رکاوٹ ہیں جس کے اکثر نکات پر عمل درآمد کرانے ہی نہیں دیا گیا فوج اور سیکورٹی اداروں نے کئی قربانیوں کے بعد امن قائم کیا پر نیشنل ایکشن پلان پر صیح طریقے عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے حالات دوبارہ بگاڑ کی طرف جا رہے ہیں
        ملکی معیشت کی ابتر ہوتی صورت حال اور ملک میں مہنگائی کا طوفان بھی برقرار ہے سیاسی کشمکش کو پانچ سال ہونے کو ہیں اس کشمکش نے عوامی مسائل کو دفن کر دیا ہے میڈیا سارا دن عدالتوں کے فیصلوں اور پیشیوں کی کوریج کرتی ہے اور رات کو ان پر تبصرے الگ سے  ہوتے ہیں پیشی ختم ہوتی ہے تو جلسے شروع ہو جاتے ہیں وہ ختم ہوتے ہیں پریس کانفرنس شروع ہوجاتی ہے 20 منٹ کے بلٹن میں عوامی مفاد کی ایک خبر بھی شامل نہیں ہوتی لوگ بھوک اور غربت کی وجہ سے غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر جا رہے ہیں جو دھشت گردوں کا نشانہ بن جاتے ہیں حالیہ 20 افراد کا بلوچستان میں دھشت گردوں کے ہاتھوں قتل،  یہ لوگ بھی روزگار کی تلاش میں غیر قانونی طور پر ملک سے باہر جارہے تھے
        ملک کو چاروں طرف سے مسائل نے گھیرا ہوا ہے تو مشرقی اور مغربی سرحد پر کشیدگی میں آضافہ ہوتا جارہا ہے جو بھارت دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے بھارت کبھی خطے میں امن کا خواہ نہیں رہا ادھر ہمارے سیاست دانوں کی اقتدار   کے لیے جنگ جاری ہے  اگر یہ جنگ عوام کے لیے ہوتی تو عوامی مفاد کے بل پر اسمبلی میں کورام پورا ہوتا لیکن ذاتی مفاد کے بل کے حق میں ووٹ دینے کے لئے مریض بستر سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بیوہ کو عدت بھی بھول گئی ان خراب حالات میں کچھ بہتر ہوتا نظر نہیں آتا  لیکن اللہ پاک کا اپنا نظام اور قانون ہے ان خراب حالات میں رحمتوں اور خوشیوں کا مہینہ ربیع الاول شروع ہو چکا ہے یہ پاک مہینہ  میرے آقا پاک حضرت محمد ﷺ کے اس دنیا میں تشریف لانے کا مہینہ ہے  آپ ﷺ کے تشریف لاتے ہی دنیا کے اندھیر مٹ گئے تھے ایسے ہی آپ ﷺ کے ولادت کے مہنیے کے طفیل پاکستان کے سارے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ ہم اللہ کے محبوب میٹھے مدنی سرکار حضرت محمد ﷺ کے غلاموں کے بھی غلام بننے لائق بھی نہیں ہیں آپ ﷺ نظر کی کرم ہو جائے غلام کی بگڑی بن جائے گی۔ 


            نام"محمدﷺ"سے خوشبو وفا آتی ھے

            ان کے"روزے"سے امتی امتی کی صدا آتی ھے

           کاش بیٹھیں ھم بھی"مدینے"کی گلیوں میں

           سنا ھے کہ وھاں"جنت"سے ھوا آتی ھے.


کالم نگار عبدالجبار خان دریشک ایم ایس ماس کمیونیکیشن ایل ایل بی تحصیل و ضلع راجن پور

انتباہ... تحریر کاپی کرنا یا مواد چوری کر نا خلاف قانون ہے

Sunday, 19 November 2017

مسکراتے پھول  


مسکراتے پھول  

تحریر : عبدالجبار خان دریشک 
    بچے پھولوں کی طرح خوبصورت اور فرشتوں کا روپ میں ہو تے ہیں جو اپنے چہر ے کی طر ح دل کے خوبصورت اور من کے سچے ہو تے ہیں ان کی مصو میت ہی ہے کہ پتھر سے پتھر دل والا انسان بھی ان کے مصوم چہرہ کو دیکھ کر مو م بن جا تا ہے پر آج کے موجودہ دور میں ہمارے معاشرے ان مصوموں پھولوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں درند ے اپنی درندگی کا نشانہ ان پھولوں کو بنا رہے ہیں ۔جبکہ ان پھولوں جیسے بچوں کو اتنا تک احساس نہیں ہوتا کہ ان کا دشمن کون ہے اور ہمارا مخلص کون ہے ان کو ہر روپ کے انسان اپنے ہی پیارے لگتے ہیں جن کے ہاتھوں میں وہ محفوظ ہوتے ہیں معاشرے میں بچوں پر بڑھتے ظلم جبری مشقت ان کے حقوق کا پا مالی پر پوری دنیا میں درد دل رکھنے والوں نے بچوں کے حقوق کے لئے آواز بلند کی جس کی گو نج عالمی ادارے اقوام متحدہ تک گئی جس کے پیش نظر ہر سا ل 20 نومبر کو بچوں کا عا لمی دن منا کر دنیا کو یہ باور کر وایا جاتا ہے ان سے ایسے ہی پیارمحبت اور شفقت برتی جائے جس کا ان کو حق حاصل ہے بچوں کے حقوق کے با رے میں پہلی مرتبہ 1954ءمیں اقوا م متحد ہ کی جنرل اسمبلی کے اند ر سفارشات پیش کی گئی اور 1989ءمیں اقوام متحدہ کی اسمبلی میں بچوں کے متعلق شفارشات کو قانونی شکل دے دی۔ پہلی مرتبہ 20 نومبر 1990 میںکو اقوام متحدہ نے بچوں کے حقوق کی باضابطہ حمایت کر کے بچوں کا عا لمی دن قرار دیا اس وقت سے لے ابتک یہ دن ہر سال منایا جاتا ہے۔لیکن دن تو ہر سال منا یا تو جا تا ہے پر اس دن کو صرف ایک دن ہی منا کر ہم سب پو را سا ل بچوں کے حقوق سے آنکھیں بند رکھتے ہیں ۔پوری دنیا میں پھیلی بد امنی بعض عالمی طاقتوں کا جنگی جنوں اسلحہ کی دوڑ معا شرتی برائیاں بیما ری غربت بھو ک افلا س قدرتی آفات دہشت گردی ان سب کے نشا نے پر بچے ہی ہو تے ہیں یہ ہی نہیں گھروں میں والدین سکول میں استاتذہ معاشرے میں انسا نی روپ میں درندے ان کو نشانہ بناتے ہیں ۔
اقوام متحد ہ کا عا لمی ادارہ بر ائے اطفا ل یو نیسف ہر سا ل جون میں بچوں کے حوالے سے ایک رپورٹ جا ری کر تا ہے گزشتہ بر س میں جا رکردہ رپو رٹ اعددہ شمار سابقہ سا لوں کی نسبت بچوں کے حا لا ت مزید گھمبیر ہو تے جا رہے ہیں رپورٹ کے مطابق دنیامیں124ملین سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں دنیامیں ہرسال27 کڑوڑ بچے گھر یلوتشدد کا نشانہ بنتے ہیں پاکستان میں ہردس میں سے ایک بچہ تشدد اورجارحیت کا شکار ہوتا ہے ہیومن را ئٹس کمیشن آف پا کستا ن کی رپورٹ کے مطا بق پاکستان میں 30 فیصد بچے غذائی قلت کا شکا ر ہیں۔یونیسف کی رپورٹ کے مطا بق پا کستان کے 30فیصد بچے ایک سال کی عمر میں داخل ہو نے سے پہلے فوت ہو جا تے ہیں۔اور ہر گیارہوں بچہ پا نچ سا ل کی عمر سے پہلے ہی فوت ہو جا تا ہے پا کستا ن میں چائلڈلیبر وجبری مشقت کے شکار بچوں کی تعداد میں دن بدن آضا فہ ہو تا جارہا ہے۔ اب اگر پوری دنیا کا جا ئزہ لیا جا ئے توترقی پذیر مما لک کے ساتھ ترقی یافتہ مما لک میں بھی بچوں کو جنسی تشدد کا نشا نہ بنایا جا تا ہے جن علاقوں اور ملکوں میں جنگی صورت حا ل کا سامنا ہے ان میں مشرق وسطیٰ عراق شا م یمن افغانستا ن میں امر یکہ کی بم با ری سے صرف ایک ہی سال میں لا کھوں ٹن بم کے گولے برسا ئے گئے جن سے خا رج ہو نے والاانتہا ئی خطر نا ک مہلک ما د ”نیوروٹولسک “جو بچوں اور حا ملہ عورتوں پر زیادہ اثرانداز ہوتا ہے جس کے باعث ہزاروں بچے موت کی آغوش میں چلے گئے جبکہ کئی بچے معذور پیدا ہو ئے۔دوسری طر ف برما میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہو نے والے انسانیت سوز سلوک سے بچے بھی محفو ظ نہیں رہے جن کو والدین کے سامنے بے دردی سے قتل کردیا جاتا ہے جن کی تعداد ہز اروں میں ہے ۔ امر یکہ کی عراق شا م افغا نستان میں مسلسل بم باری سے ان مما لک میں 30 فیصد سے زائد بچے معذور پیدا ہو رہے ہیں یونیسف کے مطا بق مشر ق وسطیٰ بالخصوص عراق شام یمن افغانستان اور روہنگیا مسلمانوں میں ہر پا نچویں بچے کو موت اور تشدد کا خوف رہتا ہے وہ بچے ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ ان پر بم حملہ گولی کا نشانہ جنسی زیاتی یا پھر مسلح جہتوں کی کا روائیوں سے نشا نہ بنا ئے جانے کا خوف رہتا ہے۔ افر یقہ کی مسلح تحر یکوںاور دائش میں بچوں کو جبری بھرتی کیا جاتا رہا ہے ۔ان شدت پسند تنظیمیں سکولوں کے بچوں کو جبری طور پراپنی تحریکوں کے لئے بھرتی کیا۔
     جنگی صورت حا ل کے نتیجے میں ہر سال لا کھوں پنا ہ گزین بن ملک چھوڑکر دوسرے ملکوں میں پنا ہ لیتے ہیں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں 6 لاکھ مہاجر بچوں میں سے تین اعشاریہ سات ملین بچے سکول نہیں جا پاتے اور تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں یونیسف نے مو جودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہو ئے ایک اند از لگایا ہے کہ 2030 تک کڑوڑوں بچے ایسی بیما ریوں سے مر سکتے ہیں جن کا علا ج ممکن ہو گا پر سہولیات نہ ہو نے کی وجہ سے اتنی امو ات ہو سکتی ہیں جنگ میں مبتلا عراق شام افغا نستان روہنگیا مسلمان جو ان علاقوں میں 15لا کھ بچے بے گھر ہوئے اور 10 لاکھ بچے جبر ی مشقت پر مجبور ہیں پا کستان میں جبری مشقت کے حو الے سے صرف پنجاب نے ہی بھٹہ خشت پر کاروائیاں کی ہیں پر بس اڈاوں ہوٹلوں اور ورکشاپس وغیرہ کو نظر انداز کیا گیا ہے جبکہ دیگر صوبو ں میں بچوں سے جبری مشقت اور تشد د کے حوالے سے صورت حا ل ابتر ہے اب جبری مشقت کی جگہوں بس اڈاوں ورکشا پس وغیر ہ پر کا م کر نے والے بچے تعلیم سے تو محروم ہو تے ہیں پر وہا ں پر انتہا ئی غیر محفوظ ہوتے ہیں جن کو تشدد کے سا تھ جنسی حوس کا نشا نہ بنایا جاتا ہے اس کے علاوہ بے روزگا ری گھر یلوں جھگڑ وں کے با عث والدین خود تو زہر پی کر مرتے ہیں سا تھ ہی ان مصوم بچوں کی زندگی بھی نگل جاتے ہیںکہیں والد ین کے تشد د سے گھر سے بھا گے بچے مرے ہو ئے ملتے ہیں تو کچھ جنسی زیادتی کا شکار یا پھر گھر سے بھاگے بچے جر ا ئم پیشہ بن جاتے ہیں 
    پڑے لکھے باشعور دولت مند اپنے بچوں کو تو تعلیم اور سہولیات دلواتے ہیں پر کسی غریب کے بچے کو تعلیم سے محروم کر کے اپنے گھر وں میں نوکر رکھتے ہیں اور ان پر بہیما نہ تشدد کر کے ان کی جان ہی لے لیتے ہیں اب سوال یہ ہے کہ ہم اس معاشرے میں بچوں کو تحفظ دینے میں کیوں نا کا م ہوتے جا رہے ہیں ؟ ہم صرف اپنے بچوں کا سوچتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ دوسروں کے بچوں کو بھی ایسی سہولیا ت تعلیم تربیت کیوں میسر نہیں ہے جو ہما رے بچوں کو حا صل ہیں۔ کل کو ان بچوں نے بڑے ہوکر معاشرے کا فر د بننا ہے

کالم نگار عبدالجبار خان دریشک ایم ایس ماس کمیونیکیشن ایل ایل بی تحصیل و ضلع راجن پور


انتباہ... تحریر کاپی یا چوری کرنا خلاف قانون ہے 

Thursday, 16 November 2017

سب مل کر بولیں ......زندہ باد

تحریر..عبدالجبار خان دریشک 
    انسان دنیا میں اپنا نام اور مقام بنانے کے لئے کوئی نہ کوئی ایسا کام کرتا ہے جس سے اس نام بن جائے  یا شناخت۔ 
   ایسے بہت سارے لوگ ہیں جو منفرد کام یا منفرد سٹائل کی وجہ سے اپنا ایک مقام رکھتے ہیں اور اس کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ ایسے منفرد نظر آنے والوں میں زیادہ تر فنکار اور کھلاڑی ہوتے ہیں یا پھر کوئی چند ایک سیاست دان ہوتے ہیں 
      کھلاڑی حضرات  سٹائل میں زیادہ تر اپنے سر کے بالوں کو محتلف انداز اور سٹائل میں بنواتے ہیں تاکہ جب وہ میدان میں داخل ہوں تو لوگ ان کے منفرد بالوں کے سٹائل  کی وجہ سے پہچان لیں ایسے ہی ادکار وہ بالوں کے ساتھ موچ اور داڑھی کا سٹائل بنا کر منفرد نذر آنے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح سیاست دان جیسے نواب زادہ نصراللہ نے ساری زندگی ایک ہی رنگ کی مخصوص ٹوپی سر پر رکھ کر منفرد نظر آتے تھے شیریں مزاری جس نے بال بڑھائے نہیں بلکہ کہ ان کو مختلف کلر کرے منفرد بناتی رہتی ہیں عابدہ پروین نے ہمیشہ چھوٹے بال رکھے ہیں  
   ان کھلاڑیوں اور ادکاروں کے ساتھ کچھ ہمارے اور آپ جیسے لوگ بھی اپنا منفرد انداز اور سٹائل بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ لوگ ان کے سٹائل کو کاپی کریں یا پھر ان کی معاشرے میں منفرد پہچان ہو 
       بلاگ میں جس شخص کی تصویر ہے اس کا بھی ساری زندگی یہی سٹائل رہا ہے اس نے ساری زندگی اپنا سر سرخ اور مالٹے جیسا بنائے رکھا میں نے اس کو ساری زندگی ایسے ہی دیکھا ہے ۔ کہتے ہیں انسان غصے میں لال پیلا ہو جاتا ہے پر ایسی بات نہیں یہ غصے میں آکر اپنا سر لال کر لیتا ہے ان کا نام عبدالحمید ہے اور یہ ہمارے علاقے کوٹلہ نصیر ضلع راجن پور کی مشہور شخصیت ہیں ان کی چار خوبیاں ہیں جو میں نے ان  دیکھی ہیں لیکن وہ خوبیاں  بیان کر نے سے  پہلے یہ  بتانا چاہتا ہوں کہ جناب کو علاقہ کا بچہ بچہ جانتا ہے ۔  بچے ہی نہیں بڑے بڑے امیر کبیر اور بڑے بڑے سیاست دان ان کو  جانتے ہیں۔  سیاست اور بڑے لوگ اس کے بغیر کہیں جاتے ہی نہیں جب تک اسے ساتھ نہ لے جائیں۔ یہ بڑے لوگ اور سیاست دانوں کا ایک قسم کا پروٹوکول آفیسر ہے موقعہ محل اور ماحول کے کے مطابق کیسے پروٹوکول پیدا کرنا ہے دینا ہے یا کسی سے لے کر دینا ہے یہ باخوبی جانتا ہے بڑے لوگوں کے ساتھ آنے جانے کی وجہ سے اب پورا ضلع راجن پور ہی ان کو جانتا ہے 

اوپر میں نے اس کی چار خوبیوں کا ذکر کیا ہے 

1. پہلی خوبی ان کا منفرد ہیر سٹائل جو کئی برسوں سے ایسا ہے اور ایسا ہی رہے گا پہلے میں سمجھتا تھا ان  کے سر کے  بال بھی انور مصود جیسے ہیں جو پیدائشی طور سفید تھے ٹھیک اس کے بھی پیدائشی طور پر لال اور مالٹے جیسے ہیں لیکن یہ سر پر مہندی لگاتے ہیں اب تک کئی من مہندی سر پر لگا چکے ہیں 

2۔ ان کی دوسری خوبی یہ ہے کہ ان کے ہیر سٹائل کے ساتھے ان کا بولنے کا انداز منفرد ہے جیسے چوہدری شجاعت حسین ، بشیر بلور کا ہے ایسے ہی عبدالحمید کا اپنا بولنے کا قدرتی سٹائل ہے جب ماشاء اللہ بولتے ہیں تو کوئی مائی کا لال ان کی 5 فیصد سے زیادہ بات نہیں سمجھ سکتا اور بولنے کی سپیڈ اتنی زیادہ کہ سو تک گنتی چند سکینڈ میں سنا دیں۔ جب یہ خاص قسم کا مشروب نوش فرماتے ہیں تو بولتے کم اور ہنستے زیادہ ہیں۔

3۔ جیسے پہلے اوپر بیان کر چکا ہوں کہ سیاست دان ان کے بغیر سفر نہیں کرتے کسی جگہ آتے جاتے نہیں ہیں ٹھیک ان کے بغیر سیاسی جلسے بھی نہیں ہو پاتے جلسوں میں ہم سمجھتے ہیں لوڈ سپیکر اہم چییز ہے لیکن ساتھ ہی عبدالحمید سب سے اہم چیز ہے یی جلسوں میں نان سٹاپ نعرے لگانے میں ایسا مقام رکھتے ہیں آج تک ان جیسا کو پیدا ہی نہیں ہوا ۔جلسے میں بجلی چلی جائے جرنیڑر بند ہوجائے بیٹری ختم ہوجائے پر ان کے نعرے لگانے کو بریک نہیں لگ سکتی۔ ان کے بارے میں مشہور ہے ان کے سیل کبھی ختم نہیں ہوتے 

4۔ خوبی جو سب خوبیوں پر بھاری بھی ہے اور بڑی بھی  ہے ان کا درویش پن ایک ملنگ تبیت سادہ انسان کبھی کسی سے لڑائی جھگڑا نہ سنا ہے  اور نہ ہی دیکھا ہے۔ بااخلاق اور باادب انسان ہے ایسے ہی نہیں ان  کو بڑے لوگ اور سیاست دان  اپنے ساتھ ہر جگہ لے جاتے ہیں۔ اکثر بڑے لوگوں کو اور تقریباً ہر کسی کو ملتے وقت اس کے منہ سے یہ الفظ نکلتے ہیں گودا ، سردارصاحب ، خان سائیں ، سائیں۔ 

عبدالحمید ہمارے علاقے میں بااخلاق انسان ہے 

جیو عبدالمحید  آپ نے ساری زندگی لوگوں کے لئے نعرے لگائے ہیں تو آج ایک نعرہ عبدالمحید کے نام کا بھی ہو جائے 

پھر سب مل کر بولیں عبدالحمید.... زندہ باد 

شکریہ 

کالم نگار عبدالجبار خان دریشک ایم ایس ماس کمیونیکیشن ایل ایل بی تحصیل و ضلع راجن پور 

انتباہ.. تحریر کاپی کرنا خلاف قانون ہے 

Tuesday, 14 November 2017

انسانوں کو شناخت اور مرغی کو انصاف ملے گا

تحریر عبدالجبار خان دریشک
انصاف اور قانون کا مطلب ہے اس کی بالادستی قائم ہو اور ریاست کے ہر فرد پر اس کا اطلاق ہوتا ہو جبکہ اسی ریاست کے ہرفرد کی ذمہ داری ہے وہ قانون کا احترام کرے۔ ریاستوں کے قانون اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ لوگ ان قوانین کو دیکھتے ہوئے اپنی زندگی رہہن سہن اور روز گار سب کچھ ملکی قانون کو مدنظر رکھ حاصل کرے۔ کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے جو قوانین اس نے تشکیل دیے ہیں اگر ان کو کوئی توڑتا ہے تو اس کو قرار واقعی سزا دے کہ کوئی دوسرا ایسا جرم کرنے سے پہلے سو بار سوچے ۔ ریاست کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کرے اور ساتھی ہی ان کی فلاح بہبود کے لئے موثر اقدامات اٹھائے تاکہ ریاست کے کسی بھی فرد کو قانونی شکنی کرنے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے ۔
قانون سب کے لئے برابر ہو جو کسی شخصیت عہدے اور دولت کے آگے بھی روکاوٹ نہ بن سکے۔ لیکن ہمارے ہاں قانوں بھی طبقات میں تقسیم ہو چکا ہے غریب کو انصاف نہیں ملتا امیر کو مل جاتا ہے۔  اسی طرح طاقتور کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا پر غریب ناجائز پھانسی چڑھ جاتا ہے۔ 11 نومبر کو ضلع حافظ آباد میں ایک انوکھا واقع پیش آیا ۔تھانہ جلالپوربھٹیاں میں انوکھی ایف آئی آر درج ہوئی جس کا نمبر 657.17 ہے جس میں ایک شخص نے پولیس کو اطلاع کی ایک لڑکے نے اس کی مرغی کے ساتھ بدفعلی کی ہے ۔ پولیس نے حافظ آباد کے نواحی علاقہ ٹھٹھہ گاہرہ کے رہائشی انتصارحسین ولدعنائت محمد قوم مسلم شیخ نے مرغی کو پکڑا اور اپنے گھر لے گیاور اس گیا بعد میں جس کے  ساتھ بدفعلی کی یعنی زنا کیا ہے جس سے مرغی موقع پر مر گئی اس کے گواہان بھی ہیں۔ ایف آئی آر میں دو دفعات شامل کیے گئے ہیں 377 ت پ جو کہ جرائم خلاف وضع فطری پر لگائی جاتی ہے جبکہ دوسری 429 ت پ شامل کی گئی ہے جس کے مطابق کسی بھی نوعیت کے مویشی وغیرہ جس کی مالیت 50 روپے سے زیادہ ہو اس کو نقصان پہنچے پر لگائی جاتی ہے۔ پولیس نے ملزم کو بھی گرفتار کر لیا اور مرغی کی لاش کو اپنے تحویل میں لیتے ہوئے اسے ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے فرانزک لیباٹری بھجوا دیا۔ یہ پاکستان میں قانون کی عمل داری کا ایسا پہلا واقع تو ہو سکتا لیکن اس نوعیت کی ایف آئی آر کا انداج پہلے بھی ہو چکا ہے 2015 میں اسلام آباد کی ایک امیر زادی کے کتے کو غلط انجکشن لگانے پر اس کی موت ہو گئی امیر زادی نے ڈاکٹر کے خلاف ایف ائی آر درج کر دی جس میں 477 ت پ کی دفعہ شامل کی گئی تھی۔ اس نوعیت ایف آئی آر میں بہت کم حقیت ہوتی ہے اور ذاتی مخالفت یا سیاسی دشمنی نکالنے کے لئے درج کروائی جاتی ہیں۔ ایسے ہی ایک زمانے میں کسی مشہور چور نے جب چوری سے توبہ کی تو اس کے رسہ گیر نے اس کو بدنام کرنے کی خاطر گدھا چوری کا جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا
     یہاں قانون پر اور اداروں پر طاقتور لوگوں کی حکمرانی ہے غریب کی کوئی نہیں سنتا ہے
ایک پاکستانی کو اپنی پاکستانی ہونے کی شناخت ثابت کرنے کے لئے بھی در بدر کے دھکے کھانے پڑتے ہیں آپ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی ایف آئی آر تو دور کی بات آپ اپنا قومی شناختی کارڈ بغیر سفارش اور رشوت کے نہیں بنوا سکتے اس بلاگ میں ایک ایسے شخص کا بتانا چاہتا ہوں جس عمر 50 سال کی ہے لیکن یہ تاحال قومی شناختی کارڈ سے محروم ہے اس کی تصویر بھی ساتھ ہے جس آپ بھی دیکھ لیں۔ یہ راجن پور کے قریب کسی علاقے کا رہائشی تھا آج سے تقریباً 20 سال پہلے یہ بھٹہ خشت پر مزدوری کیا کرتا تھا گھروالوں اور بھائیوں سے کسی بات پر جھگڑا ہوا اس نے گھر جانا چھوڑ دیا۔ یہ جہاں مزدوری کرتا وہیں رہتا ایسے سلسلہ چلتا رہا گھر والوں اور بیوی بچوں کا خیال نہ رکھنے اور خرچ نہ دینے پر بیوی نے طلاق لے لی اور یہ کچھ عرصہ راجن پور میں مزدوری کرنے کے بعد کراچی چلا گیا۔ یہ عرصہ دس سال سے کراچی کی ایک فیکٹری میں کام کررہا ہے تین چار سال بعد یہ راجن پور آیا تو اس نے بتایا میرا شناختی کارڈ نہیں بن رہا۔ اس بتایا یہ کہ وہ شناختی کارڈ کے دفتر سات بجے پہنچ گیا تین گھنٹے لائین میں کھڑا ہونے کے بعد جب اس کی باری آئی تو کھڑی کی دوسری طرف بیٹھے غلام ذہن اور غلام سوچ کے مالک اور خوش لباس کپڑوں میں ملبوس بداخلاق انسان نے اسے اتنا کہا تمہارا شناختی نہیں بن سکتا اس نے وجہ پوچھی تو اس بددیانت شخص نے کہا جاؤ کہا نہیں بن سکتا جاتے ہو یا دراغے کو آواز دوں بچارا سارا دن دھکے کھانے کے بعد بالاآخر ناکام لوٹ آیا۔ اس نے بتایا اسے کراچی میں جگہ جگہ چیکنگ کی وجہ سے سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے
سوال یہ ہے کہ عام آدمی کے ساتھ جتنی بڑی زیادتی ہو جائے اس کی ساری زندگی انصاف کی خاطر دوڑتے ڈورتے ختم ہو جاتی ہے  لیکن اسے انصاف نہیں ملتا۔ یہاں قوم کی بیٹیاں انصاف نہ ملنے پر عدالتوں اور تھانوں کے باہر خودکشی کر لیتی ہیں۔اچھی بات ہے جانوروں سے بدفعلی کرنے والے کو سزا ہونی چاییے۔ اگر بات سچ ثابت نہ ہوئی تو اس جھوٹے شخص کو بھی قرار واقعی سزا ہونی چاہیے۔ لیکن کیا اس قوم کی بیٹی کو بھی انصاف ملے گا ؟ جیسے برہنہ کر کے گلیوں میں ڈوڑیا گیا۔ مرغی کا مقدمہ اندارج کر کے کہیں یہ تو ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی ملک کا قانون جانوروں کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ پھر اس بات کا کوئی جواب دے گا کہ یہی انصاف اس وقت کیوں نہیں ہوتا جب با اثر افراد پرندوں کا غیر قانونی شکار کرتے ہیں عربی شہزادے مہمان بن کر بے دردی سے مصوم پرندوں کا شکار کرتے ہیں تب ایف آئی آر درج کیوں نہیں ہوتی ہے
انصاف کا تو میں نے پہلے کہا ہے درکنار اب تو عام آدمی روہیگیا کا باشندہ بن گیا ہے جس کو اپنا ملک بھی شناخت نہیں دیتا۔ اب بھی لاکھوں پاکستانی ایسے ہیں جن کی کوئی شناخت نہیں ان کے پاس قومی شناختی کارڈ نہیں۔ یہاں عوام کی سہولیات کے نظام کو کرپٹ اہلکاروں نے پیچیدہ بنا دیا ہے ایک ان پڑھ سادہ عام دیہاتی بچارہ کس کس دفتر کے دھکے کھائے اور کس کس کو بتائے کہ میں پاکستانی ہوں۔ جب اس شخص کو اس اہلکار نے کہا تمہارا شناختی کارڈ نہیں بن سکتا تو کیا وجہ ہے کیوں نہیں بن سکتا اہلکار کو کسی قسم کا شک تھا تو وہ پولیس میں اطلاع کرتا۔ افسوس کا مقام ہے پاکستان میں پاکستانیوں کے شناختی کارڈ نہیں بن سکتے پر افغانیوں دہشت گردوں اور چینیوں کے بن سکتے ہیں
     جب تک ملک میں قانون کا بول بالا نہیں ہو گا قانون سب کے لئے برابر نہیں ہوگا تب تک ایسے افراتفری ہی رہے گی اس کے علاوہ قانون پر عمل درآمد کے ساتھ لوگوں کی فلاح بہبود بھی پہلی ترجیع ہے جو جرائم کے خاتمے کا پہلا اقدام ہے گڈ گورنس یہ نہیں کہ خوبصورت بسیں چلا کر عوام کو سہولت دے کر ان کے وقت کی بچت کی جائے دراصل وقت کی بچت بروقت فوری سستا انصاف ، بغیر رشوت کے دفتری کام کاج ہو جائیں
ہمیں غور کرنا اور سوچنا ہو گا جرائم کے محرکات کو سمجھتے ہوئے فلاحی منصوبوں اور عوام کو سہولیات دے کر ان کا سدباب کرنا ہوگا ورنہ نہ انسانوں کو شناخت ملے گی اور نہ ہی مرغی کو انصاف ملے گا۔

کالم نگار ...عبدالجبار خان دریشک ایم ایس ماس کمیونیکیشن ایل ایل بی تحصیل و ضلع راجن پور

انتباہ... تحریر کاپی کرنا سائبر کرائم اور کاپی رائٹ ایکٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے... شکریہ

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...