Friday, 23 March 2018

عزم عالی شان پیارا پاکستان

تحریر : عبدالجبار خا ن دریشک 

انسان کسی چیز کے حصول کے لیے سب پہلے اس خیال دل و دماغ میں لاتا ہے اس چیز کا تصور کرتا ہے اسے اپنے خوبوں اور خیالوں میں بنا ہوا دیکھتا ہے‘وہ ایک آئیڈیا اور اس چیز کا مکمل عکس ذہین میں رکھتے ہوئے آگے کی سوچتا ہے کہ اسے حاصل کیسے کر نا ہے اور اس کے لیے کیا کچھ کرنا ہے۔ وہ اپنی خالص محنت لگن اور عزم کی بنا پر اس خواب کو اس تصور کو حقیقت میں بدل دیتا ہے۔ اور اس کا خواب جب حقیقت کا روپ دہار لیتا تو اس کے ثمرات آنے والی نسلوں کے لیے راحت اور سکون کا باعث بنتے ہیں، آج کے جدید دور میں جہاں ہمیں ساری سہولیات میسر ہوں ٹیکنالوجی انسان کے لیے آسانیاں پیدا کر رہی ہو ، میڈیا اور سوشل میڈیا انٹرنیٹ کے ذریعہ آپ کا پیغام ایک کلک سے ہزاروں لاکھوں لوگوں تک چند سکینڈ میں پہنچ جاتا ہو تو آپ کو اپنی بات منوانے اور پورا کرنے کے لیے کسی قسم لمبی چوڑی پلائنگ کی ضرورت نہیں ہوتی ، لیکن آپ تصور کریں آج سے لگ بھگ 90 سال قبل کسی نے تصور کیا ہو کہ اس کی قوم کو ایک آزاد اور خود مختیار ریاست مل جائے جس میںقوم کے لوگ آزادی سے زندگی بسر کر سکیں ، ہر طرح سے انہیں مذہبی آزادی حاصل ہو ، لیکن دوسری طرف ایسا علاقہ جو غلامی کی زنجیروں جکڑا ہوا ہو جہاں آزادی کے بارے بولنا تو درکنا سوچنا بھی جرم ہو ، تو تصور کریں کہ 70 سال پہلے آزاد ہونے والا ہمارا پیارا پاکستان جس کے حصول کے لیے ہمارے ان بزرگوں نے کتنی قربانیاں دی ہوں گی کتنے ظلم اور جبر کو سہا ہو گا جہاںاس دور میں عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے ان کے پاس کسی قسم کا میڈیا نہ تھا سوائے چند اخبارات کے جنہیں اکثر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا مالکان کو کوڑے مار جاتے پرنٹنگ پریس کو آگ لگا دی جاتی تھی لیکن اس کے باوجود آزادی کے متوالوں کے حوصلے بلند تھے اور آزادی کا پیغام بچے بچے تک پہنچ رہا تھا 

 پاکستان کی نظریاتی اساس ریاست مدینہ کے اعلیٰ تصورات پر رکھی گئی جن میں حاکمیت اعلیٰ کا مالک رب ذوالجلال ہے اور اس کے بندے اس کے خلیفہ کی حیثیت سے اس کی طے شدہ حدود میں اقتدار کرنے کے مجاز ہیں۔ ہندوستان میں ہندوو ¿ں کی غالب اکثریت جب مسلمانوں کا دینی اور تہذیبی تشخص مٹانے اور ان کے سیاسی اور معاشی وجود ختم کرنے کے درپے ہوگئی، اس دور میں مسلمانوں کے حالات بڑے ناخوشگوار تھے اور حد درجہ تشویش ناک تھے، ہندوستان میں وہ نظام جاری تھا جس میں مختلف قوموں کے لیے اپنے نظریات کے مطابق آزادنہ زندگی گزارنے کی گنجائش نہ تھی برصغیر میں میں مسلمان ہر لحاظ سے جدگانہ قوم تھی ۔ ان حالات کے پیش نظر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے آزاد مملکت کا تصور پیش کیا‘ 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس جو الہ آباد میں ہوا، اسی موقعہ پر حطبہ صدارت میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے پہلی مرتبہ آزاد اسلامی ریاست کی صدا بلند کی اور مسلمانوں کے سامنے ایک نصب العین پیش کیا جسے پورا کرلینے پر ان کے مستقبل کی کامیابی موقوف تھی یقیناً اسی خطبے کو پاکستان کی بنیاد کی وہ پہلی اینٹ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا جس پر آج بلند پاکستان کھڑا ہے، خطبہ آلہ آباد میں پیش ہونے والے تصور کے لیے مسلم رہنماو ¿ں نے اپنی جستجو جاری رکھی جس کے لیے ان رہنماو ¿ں نے قوم کی آزادی کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر بالاآخر دس سال بعد وہ دن آ گیا جب قرار داد پاکستان پیش کی گئی۔ جب قائد اعظم محمد علی جناح فرنٹیئر میل کے ذریعے لاہور ریلوے سٹیشن پر پہنچے جہاں لوگوں کا جم غفیر آپ کے شاندار استقبال کیلئے موجود تھا اور تاریخ بتاتی ہے کہ لاہور کے ریلوے سٹیشن پر تل دھرنے کو جگہ نہ تھی، مسلمانوں کا جوش و خروش قابل دید تھا اور لاہور فضاءفلک شگاف نعروں سے گونج رہے تھی۔ اور تصور کریں کہ جب آج کے دور کا میڈیا اس وقت نہ تھا آج تو جلسہ گاہ بھرنے کے لیے ہر طرح کے وسائل خرچ کیے جاتے ہیں دہاڑی پر بندے کرسیوں پر سجائے جاتے ہیں اور دیگیں چڑہائی جاتی ہیں تب جلسوں میں نہ بریانی ملتی تھی نہ کسی ڈی جے کے میوزک پر جسم تھلکتے تھے۔ بس اس وقت لوگ بھی خالص تھے جذبے بھی خالص تھے اور نیت بھی صاف تھی 

23 مارچ 1940 ءکو قائد اعظم کی زیر صدارت منظور کی گئی قرارداد پاکستان نے تحریک پاکستان میں نئی روح پھونک دی تھی‘ جس سے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا ہوا، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد کو اس وقت ”قرار داد لاہور” کا نام دیا گیا تھا جس کو دشمنان اسلام و پاکستان نے طنزیہ طور پر ”قرار داد پاکستان” کے نام سے پکارنا شروع کر دیا تھا اسی دن سے قرار داد لاہور ، قرار داد پاکستان کے نام سے مشہور ہو گئی،اور مسلمانوں نے اس نئے نام یعنی ”قرار داد پاکستان“ کو بخوشی قبول کر لیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے ہندوﺅں اور مسلمانوں کے جداگانہ قومیتی وجود کو حقیقی فطرت قرار دیتے ہوئے اس موقعہ پر اپنی تقریر میں فرمایا ”ہندوو ¿ں کی سمجھ میں کیوں نہیں آتا کہ اسلام اور ہندوازم مذہب کے عام مفہوم ہی نہیں بلکہ واقعی دو جداگانہ اور مختلف اجتماعی نظام ہیں اور یہ محض خواب ہے کہ ہندو اور مسلمان کبھی ایک مشترکہ قوم بن سکیں گے“

قرار داد پاکستان پیش ہونے کے ٹھیک سات بعد دنیا کے نقشے پر وہ ریاست قائم ہوئی جس کا خواب دیکھا گیا تھا آج ملک کو آزاد ہوئے ستر سال سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے آج ہم دنیا کی پہلی اٹیمی اسلامی ریاست ہیں ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے اور ہماری قوم پوری دنیا میں خوش رہنے والی قوموں میں شمار ہوتی ہے حالات کی سنگینوں کے باوجود ہم وہ قوم ہیں جس نے دوسروں کی جنگ میں 70 ہزار شہری اپنے شہید کروائے 80 ارب ڈالر کا نقصان اپنا کروایا جس کی بیس کروڑ آبادی سے زیادہ آبادی میں 2 کروڑ بچے سکول نہیں جاتے دن بدن خطے عربت سے قوم کے لوگ نیچے جارہے ہیں کرپٹ تین سو ارب ڈالر کا سرمایہ کرپشن کی بوتل میں بند کر کے باہر لے گئے ہیں یہ کرپٹ لوگ ملک میں نہ تو اپنی جائیدایں رکھتے ہیں اور نہ ہی اولاد لیکن حکومت کرنے کے لیے انہیں ملک کی یاد آجاتی ہے انہیں لوگوں کی نااہلی اور اقتدار کے لالچ نے مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا دیا۔ 

آج ہم جن مشکلات اور مسائل کا شکار ہیں صرف اور صرف نااہل قیادت کی وجہ سے ہیں ہمارے بعد آزادی حاصل کرنے والے ملک زیادہ ترقی کر گئے‘ قوم کے جذبے بلند ہیں اس لیے تو ہم خوش رہنے والی قوموں میں شمار ہوتے ہیں جبکہ قائدے اعظم محمد علی جناح کی وفات کے بعد لیڈر شپ کا جو خلا پیدا ہوا وہ تاحال پر نہ سکا، اگر آج کی سیاسی قیادت صرف اپنی ذات سے بارے میں اور اپنے مفاد کے بارے سوچنا چھوڑ دیں تو پاکستان دنیا میں تیزی سے ترقی کرتا ملک بن سکتا ہے ہمیں قائداغظم کے بنائے ہوئے پاکستان کو آگے لے کر چلنا ہے نہ کہ نیا پاکستان بنانا ہے

Sunday, 18 March 2018

عشق جوتا کی حسرت

تحریر عبدالجبار خان دریشک

انسان کا بچہ جوتے کے بغیر چل ہی نہیں سکتا کیونکہ اس کے پیر خراب یا زخمی ہو سکتے ہیں اس لیے اسے جوتے کی ضرورت ہوتی ہے اور ضرورت پوری ہوجانے کے بعد تب جا کر وہ چلتا ہے یوں کہیے کہ اسے چلنے کے لیے بھی جوتے کی ضرورت ہوتی ہے اور اسے چلانے کے لیے بھی جوتے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ انسان کا بچہ جب بہت چھوٹا ہو تا ہے  تب وہ اٹھنے کی کوشش کرتا ہے ایک قدم اٹھاتا پھر گر جاتا کبھی تو وہ ایسے تیز تیز قدم اٹھاتا ہے کہ گر جاتا چوٹ کھا لیتا ہے پر اپنی عادت نہیں چھوڑتا کیونکہ وہ اپنی فطرت کے خلاف کیسے جا سکتا ہے تب اس کے بڑے سوچتے ہیں اب اسے جوتے کی ضرورت ہے اور اسے جوتا ملنا چاہیے واقعی جب انسان کے بچے کو جوتا ملتا ہے تو اس کی چال ٹھیک ہو جاتی ہے جوتے کی وجہ سے وہ محتاط ہو جاتا ہے اور اسے تسلی مل جاتی ہے کہ جو اسے چاہیے تھا وہ اسے مل گیا ہے

انسان اور جانور میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ انسان جوتا پہنتا ہے جبکہ جانور جوتا نہیں پہنتا لیکن باوقت ضرورت جوتا دونوں پر استعمال ہوتا ہے ہر بار جوتے کا استعمال صرف انسان کرتا ہے کچھ لوگوں کو جوتے بہت اچھے لگتے ہیں جی جی ,,اچھے لگتے,, ہیں لیکن  ان کو ملتا ایک پاؤں کا جوتا ہے تبی تو وہ ان کا خاص خیال بھی رکھتے ہیں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لیے اعلی جوتے اور مسجد جاتے وقت پھٹے پرانے جوتے ایسا کیوں ، کچھ لوگوں کو اپنے جوتے کی بجائے دوسروں کے زیادہ پسند ہوتے ہیں تب ان کے دل کی خواہش مسجد کے باہر رکھے جوتوں سے پوری ہوتی ہے

کچھ لوگ اپنے جوتے خود اٹھاتے ہیں اور کچھ  دوسروں کے جوتے اٹھانے میں خوش ہوتے ہیں ان میں کئی عقدت میں اٹھاتے ہیں تو کئی خوشماند میں اگر خوشماندی جوتے نہ اٹھائیں تو جوتے کے مالک جوتا اتارتے ہی نہیں جیسے یہ جوتے کے ساتھ اس دنیا میں تشریف لائے ہوں دیکھتے نہیں کچھ خاص لوگ محافل میں جوتے کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں ہاں جی جوتے کے ساتھ ہی تو بیٹھے ہوتے ہیں خیر یہ لوگ مرتے وقت جوتے ساتھ تو نہیں جائیں گے لیکن ان کو اپنے کرتوتوں کی بنیاد پر آخرت ملنے کے چانس ہیں اور ان کی دنیا میں جو حسرت رہے گئی تھی وہاں ضرور پوری ہو جائے گی یہ معززین فرشتوں سے جوتے کھائیں گے 

مرمت کا لفظ جوتے کے ساتھ بہت ہی زیادہ فٹ آتا ہے جیسے جوتے مرمت فرمانا اور جوتے سے مرمت فرمانا وغیرہ وغیرہ جوتے مرمت تو موچی کرتا ہے لیکن جوتے سے مرمت موچی سے دو لفظ ہٹا کر ف اور ج لگا دیں تو وہ کرتا ہے  لیکن اس کے علاوہ جوتے سے   کوئی اور بھی مرمت کر سکتا ہے پہلے بیان کردہ مرمت کرنے والا آ کر مرمت کرتا ہے جب کہ دوسرا بلا کر مرمت کرتا ہے لیکن اس کے مرمت کا طریقہ ہیومیوپیتھیک کی طرح آہستہ آہستہ ہوتا ہے اور اس مرمت سے کچھ لوگوں کو ری ایکشن ہو جاتا ہے جس سے وہ بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں اور جب ان سے پوچھا جائے تو کہتے ہیں ہم تو ایکٹنگ کر رہے تھے

صدیوں پہلے نمردو کو ری ایکشن ہوا تھا جب اسے کہیں سکون  نہیں ملتا تھا  جب اسے کسی نے سر میں ایک مرتبہ جوتا کس کے مارا تو اسے کچھ پل کے لیے راحت ملی اس نے سوچا میرا اصل علاج ہی یہی ہے اور اسے ایک کے بعد ددوسرے جوتےکی ضرورت پڑی اسے جوتے کا نشہ ایسا پڑا کہ جوتے مارنے والے کم ہو گئے لیکن اس کا نشہ کم نہ ہوا  اسے جوتے سے عشق ہو گیا کبھی کبھی تو اپنی حسرت خود ہی پوری کر لیتا اس کا جوتا پاؤں کی بجائے سر پر رہتا اسے  ایک کے بعد دوسرے جوتے کی حسرت رہتی ہے بعض اوقات ایک ہی وقت میں بہت سارے جوتوں کی رہتی ہے

کچھ لوگ دوسرے کے جوتے کو پسند کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کا جوتا ان کے پاؤں کی بحائے سر پر برستا رہے جوتا برسانے والے بھی دیوانے ثابت ہوتے ہیں وہ نہ آو دیکھتے ہیں نہ تاؤ بس جہاں موقع دستاب ہوتا ہے برسا دیتے ہیں جوتا کھانے والا سوچتا ہے یہ دیوانہ کہاں سے آ گیا حالانکہ کے اس کے جوتے کی ضرورت کسی اور دیوانے نے پوری کرنی تھی خیر ان کی اپنی کامیابی ہے کہ ایسے دیوانوں کی تعداد میں آضافہ ہو رہا ہے جتنے زیادہ دیوانے ہوں گئے عشق جوتا بڑھتا جائے گا تب حالت نمرود والی ہوگی دیوانے تھک جائیں کے لیکن عشق جوتا کی حسرت پوری نہ ہو پائے گی پھر ایک دن ایسا آئے گا
جوتا بھی اپنا اور سر بھی اپنا ہوگا

Monday, 5 March 2018

دیہاتوں میں رہنے والی باہمت خواتین

تحریر : عبدالجبار خان دریشک

پوری دنیا میں 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے ، اس دن کی مناسبت سے خواتین کے حقوق کے حوالے مختلف تقاریب پروگرام اور سیمنار منقعد کیے جاتے ہیں۔ تاکہ معاشرے میں عورت کے حقوق اور ان متعلق آگاہی دی جائے، اس دن کو جہاں تقاریب ہورہی ہوتی ہیں ان میں جوشلی تقرریں کی جارہی ہوتی ہیں تالیاں بجائی جارہی ہوتی ہیں وہیں اتنی دیر میں سینکڑوں خواتین تشدد کا شکار ہورہی ہوتی ہیں ، کئی قتل ہو چکی ہوتی ہیں اور کچھ اس دن سے بے خبر اپنی  اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف عمل ہوتی ہیں۔ ہمارے ملک کی کل آبادی کا تقریباً نصف خواتین کی آبادی پر مشتمل ہے جبکہ پاکستان کی شہری آبادی تیس فیصد سے زیادہ اور دیہی آبادی کل پاکستان کی آبادی کا 68 فیصد ہے اسی طرح پاکستان کی خواتین کی کل آبادی کا 68 فیصد دیہی علاقوں پر مشتمل ہے۔

دیہی خواتین کو ایک تو تعلیم سے دور رکھ جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ وہاں کے فرسودہ رسم رواج ، ذات پات ، برداری ، اور سب سے بڑی وجہ دیہات میں خواتین کی تعلیم و تربیت کے اداروں کی کمی کا ہونا شامل ہے ۔ لیکن اس کے باوجود دیہی خواتین بہت باہمت ، حوصلے مند و محنتی اور جفاکش ہوتی ہیں یہ خواتین اپنی گھریلو ذمہ پوری کرنے ساتھ مردوں کے  شانہ بشانہ کھیتوں میں کام کرتی ہیں اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا دیہی خواتین مردوں سے زیادہ کام کرتی ہیں۔

پاکستان کے دیہاتوں اور علاقوں میں مختلف رسم رواج رائج ہیں، اور ان علاقوں کی خواتین اپنے علاقے کی ثقافت اور رسم رواج کے مطابق زندگی بسر کرتی ہیں۔ یہ خواتین گھر کے کام کاج اور کھیتوں میں کام کرنے کے باوجود مزید وقت نکال کر اپنے علاقے کی ثقافت کے مطابق کچھ نہ کچھ اشیاء تیار کرتی رہتی ہیں۔ یہ اشیاء اکثر اپنے گھر کی سجاوٹ ، بچیوں کے جہیز میں دینے کے لیے ، یا پھر کسی کو تحفے کے طور پر دینے کے لیے تیار کرتی ہیں۔ کچھ خواتین ان اشیاء کو فروخت کر کے اپنی ضرورت و گھریلو اخراجات پورا کرتی ہیں۔

پاکستان میں مختلف ثقافتوں کے پائے جانے کی وجہ سے یہاں کی خواتین کے ہاتھ سے بنی گھریلو ضروریات کی اشیاء جو کہ انتہائی خوبصورت اور دیدزیب ہو تی ہیں جو گھر وں میں روزمرہ کے استعمال میں لائی جاتی ہیں جو کہ خواتین گھر میں تیار کرتی ہیں  جن کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اشیاء انتہائی محنت اور نفاست وسلیقے تیار کی گئی ہیں۔  یہ خواتین مختلف قسم کی سلائی کڑائی،  کشیدہ کاری سے مختلف چادریں بیڈ شیٹ ،میز پوش ، صندق پر ڈالنے کے کپڑے اس کے علاوہ پرانے کپڑوں کے ٹکڑوں سے بیڈ شیٹ جسے مقامی زبان میں گیندی کہا جاتا ہے وہ بناتی ہیں موتیوں سے بنے پراندے و نالے اور خاص کر کھجور کی چھڑیوں اور پتیوں کو کارآمد بنا کر ان سے برتن، ہاتھ والے پنکھے اوردیگر استعمال کی اشیاء تیار کرتی ہیں۔ کھجور کے پتوں کو مقامی زبان بھو ترے کہا جاتا ہے جس سے روٹی رکھنے والی چھابی جسے مقامی زبان میں چھبی کہا جاتا ہے اور بڑے چھبے مو ڑے مخباجے (روٹی رکھنے والا ہاٹ پاٹ )سندھڑے (اس میں کپڑے چادریں رکھے جاتے ہیں)پنکھے چٹائیاں چار پا ئی کا بان وغیرہ گھر پر تیار کرتی ہیں

خواتیں ایسی چیزیں کو بہت کم فر وخت کرتی  ہیں، دیہی خواتین یہ اشیاء اور برتن وغیرہ اپنے گھروں میں استعمال لاتی یاپھر اپنی بچیوں کو جہیز یا کسی رشتہ دار کو با طور تحفہ دیے دیتی ہیں
اگر یہ اشیاء فروخت کرنی ہوں تو جب یہ خواتین شہر جاتی ہیں تو ہاتھ بنی اشیاء فروخت کرنے کے لیے اپنے ساتھ لے جاتی ہیں پہلے ان کی کو شش ہو تی ہے کسی گھر میں فروخت ہو جائیں اور با حالات مجبوری کسی دوکاندار کے پاس فروخت کر تی ہیں، جہاں ان کو پورا معاوضہ نہیں ملتا۔ حکومتی سطح پر دیہی خواتین کے لیے ووکشنل سنٹرز قائم کیے جائیں ان کو بہتر تربیت دے کر ان کو روزگار کمانے کے قابل بنایا جائے جبکہ کہ دستکاری کے لیے مشینیں مفت یا پھر آسان اقساط پر فراہم کی جائیں، تیار شدہ اشیاء کو خرید کرنے اور نمائش میں شامل کرنے کا بندوبست کیا جائے تو دیہی خواتین کو بہتر روزگار کے ساتھ یہ اشیاء باہر ممالک بھجوا کر ملک کے لیے بھی زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے

Sunday, 4 March 2018

پوری دنیا میں بچے غیر محفوظ ہو رہے ہیں

تحریر عبدالجبار خان دریشک

زینب کے قاتل درندہ سفت عمران کو سزا سنائی جا چکی ہے اس نے اپنے اوپر لگائے گئے الزمات ماننے سے انکار کرتے ہوئے سنائی جانے والی سزا کے خلاف اپیل بھی کر دی ہے، زنیب کا کیس سوشل میڈیا اور پھر میڈیا پر اٹھائے جانے کے بعد یہ کیس ہائی پروفائل  بن گیا، چیف جسٹس آف پاکستان نے سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے کیس کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے و ملزم کو پکڑنے اور جلد کیس کا فیصلہ سنانے کے  حکامات دیے تھے۔ جس کے بعد یہ کیس پاکستان کی تاریخ میں فاسٹ ٹرائل کیس بن گیا جسے ہنگامی بنیادوں پر حل کیا گیا روزانہ کی بنیادوں کیس کی سماعت کی گئی اور بالاآخر مجرم عمران کو سزا سنائی

عوامی سطح پر اس بات کی ڈیمانڈ کی گئی کہ ملزم کو سرعام بیچ چوک چوہارے پر پھانسی دے کر عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ کوئی بھی درندہ دوبارہ ایسی درندگی کی جرات نہ کرے،  لیکن ابھی زینب کے قتل کو چند دن ہی گزرے تھے، کہ ملک بھر درجن بھر کے قریب اور بچوں کو مختلف شہروں میں درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔  ایک عاصمہ کے پی کے میں درندگی کا نشانہ بنی تو ایک عاصمہ پنجاب کے ضلع لودھراں میں اپنے کزن کے ہاتھ درندگی کا نشانہ بننے کے بعد قتل کر دی جاتی ہے۔ ملک میں ایسے جرم پہلی مرتبہ نہیں ہورہے یہ تو کئی سالوں سے ہورہے ہیں۔  بچے جو ماں کی آنکھوں کے تار ، بابا لاڈلے ، گھرکی پیاری گڑیا کو  درندوں نے  اپنی حواص کا نشانہ بنا کر مار ڈالا۔ دن بدن بچوں سے زیادتی کے بڑھتے واقعات نے والدین کو مزید مشکل اور پریشانی میں مبتلا کردیا ہے آئے روز بچے اغوا ہورہے ہیں قتل ہورہے ہیں حواص کا نشانہ بن ریے ہیں والدین کہاں کہاں بچوں کے ساتھ رہیں اور جائیں۔ ان حالات کے پش نظر والدین نے بچوں کوگھروں میں قید کر کے رکھ دیا ہے ان کے کھیل کود اور دیگر مثبت  سرگرمیوں پر پابندی ہے باہر کا ماحول غیرمحفوظ ہے بچے کہیں بھی محفوظ نہیں رہے۔

بچوں سے درندگی کے واقعات پاکستان میں پہلے کم ہوتے تھے لیکن وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ درندوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ بچوں سے زیادتی کے واقعات پاکستان کے علاوہ پوری دنیا میں بڑھ چکے ہیں۔ امن سکون کی دنیا اب نسل انسانی کے لیے خطرے سبب بن رہی ہے، بھارت میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں بھی دیکھنے میں  آ رہا ہے، جہاں آٹھ ماہ کی مصوم بچی کو بھی درندے نے حواص کا نشانہ بنا ڈالا ایسے ہی سات سال کی پناہ گزین خانہ بدوش بچی آصفہ کو ایک پولیس والے نے زیادتی کے بعد قتل کر دیا۔

ہم یہ سمجھتے ہیں جہاں پر سخت سزائیں ہیں وہاں کوئی ایسی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہوگا،  کیونکہ جہاں سرعام پھانسی دی جاتی ہے وہاں کے لوگ اسے عبرت کے طور پر دیکھتے ہیں ، اور ایسے جرم کے مرتکب نہیں ہوتے ، پر ایسا نہیں ہے درندے درندے ہوتے ہیں۔  وہ دنیا کے ہرکون میں موجودہ ہیں وہ درندے اپنے اپنے مذہب کا لبادہ اڑھے ہوئے ہیں،  وہ درندے کسی مذہب دین قوم رنگ نسل کو نہیں مانتے کیونکہ وہ شیطان کے بچاری ہیں۔ اور بس وہ درندے ہیں

کچھ دن قبل ایک اور دلخراش واقعہ نے زینب کی طرح پوری دنیا کو رولا دیا مصر کے شمال کے علاقے میں مصوم سی پیاری سی چار سالہ گڑیا رودنیا کو درندے نے قتل کر ڈالا رودنیا گھر سے لاپتہ ہوئی تو اس کی تلاش شروع کی گئی پولیس نے سب سے پہلے بچی کے پڑوس میں تلاش کرنا شروع کیا مشکوک افراد سے پوچھ گچھ کی گئی تو رودنیا کے پڑوس میں رہنے والے سولہ لڑکے حسان صابر  پر شک گزرا ، پولیس نے اس کے گھر کی تلاشی لینا چاہی تو اس کے والد نے پہلے مزاہمت کی اور بعد میں تلاشی دینے پر رضامند ہو گیا۔ پولیس نے  جب حسان کے بیڈ روم میں بستر پر لگے خون کے دھبے دیکھے تو حسان سے پوچھا یہ کس کا خون ہے لڑکے نے کہا یہ بلی کا خون ہے ، پولیس کا شک مزید بڑھ گیا انہوں نے کمرے کی تلاشی لی اور بچی کی لاش ایک صندوق کے اندر پائی گئی۔ اس کے بعد لڑکے نے اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ بچی کو موبائل پر گیم کھلنے کے بہانے ورغلا گیا تھا، جب وہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے لگا اور اسے ناکامی ہوئی تو اس نے بچی کے سر میں پتھر مار کر اسے مار ڈالا ۔ بچی  کی  لاش صندوق میں رکھ لی جسے وہ اپنے قصبے سے باہر ویرانے میں پھیکنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

ہم بچوں سے جنسی زیادتی کے حوالے سے پوری دنیا کے ممالک کا جائزہ لیں تو ایک شرمناک صورت حال دیکھائی دیتی ہے ایک طرف ترقی یافتہ ممالک جہاں بچوں کو  ایجوکیشن دی جاتی ہے آپ نے اپنے آپ کو کیسے محفوظ بنانا ہے بیڈ ٹچ اور گڈ ٹچ کیا ہے اور دوسری طرف ایسے ممالک بھی ہیں جہاں سخت سزائیں اور سرعام پھانسی جیسی سزا بھی موجود ہے لیکن بچے پھر بھی دونوں طرف غیر محفوظ ہیں

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک دیکھا جائے تو ایک رہورٹ جو دی نیشنل سوسائٹی فار دی یوینن آف کریولٹی ٹو چلڈرن  نے جاری کے مطابق 2010ء میں انگلینڈ اور ویلز میں12172 افراد بچوں کے ساتھ ظلم یا غفلت کے مخصوص جرم پر مجرم پائے گئے ۔  بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کی سب سے بڑی مثال معروف انگلش ڈی جے اور ریڈیو پرسنالٹی آنجہانی جمی سوائل تھا۔ جو اپنے خیراتی کام کے لئے مشہور تھا ۔ پولیس کے مطابق اس کے متاثرین کی تعداد 589 تھی، جس میں ساڑھے چار سو کے ساتھ مبینہ طور پر سوائل نے جنسی زیادتی کی اور متاثرین کی زیادہ تعداد 8 تا 75 سال کی تھی۔ گذشتہ چار برس کے درمیان برطانیہ بھر میں پولیس فورسز نے بچوں سے زیادتی کے 60 ہزار مقدمات درج کئے۔ مجموعی طور پر ریکارڈ کردہ جرائم کی تعداد اس سے زیادہ ہوگی کیونکہ برطانیہ کی چھ پولیس فورسز نےچار سال کے دوران پورے اعداد شمار فراہم نہیں کئے۔

بچوں کے جرائم کے خلاف ایک تحقیقاتی سنٹر کے ڈائیریکٹر ”ڈیوڈ فینکلور“کے مطالعاتی نتائج نے ہوش ربا تفصیلات بتلاتی ہے کہ یورپ میں ہر پانچ بچیوں اور ہر بیس بچوں میں ایک جنسی ہوس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ”child abuse statistics“ کی آٹھ ستمبر 2017ء کی رپورٹ بتلاتی ہے کہ امریکہ میں چودہ سال سے سترہ سال تک کے بچے مستقل خطرے کا شکار رہتے ہیں۔  یونیورسٹی آف پینسلونیا کے ”رچرڈ ایسٹس“ اپنی تحقیق میں انکشاف کرتے ہیں کہ امریکہ،کنیڈا،سویڈن،جرمنی اور برطانیہ میں سات سال سے پندرہ سال تک کے بچوں سے ذیادتی کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوتے ہیں جو ایک خوفناک شرح ہونے کے ساتھ ساتھ یورپی ماحول کا بھیانک چہرہ بھی ہیں

اب حال ہی میں ناروے کی پولیس نے ملک میں ایک ایسے نیٹ ورک کو پکڑ ہے جو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں ملوث ہے اور یہ گرہوں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی لائیو ویڈیوز کو "ڈارک نیٹ" پر دیکھاتے تھے۔ ناروے پولیس کے نائب سربراہ گونر فلوئے شٹاڈ نے میڈیا کو بتایا کہ اس نیٹ ورک سے وابستہ 20 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن سے 150 ٹیرا بائٹس کا ڈیٹا قبضے میں لیا گیا ہے، جو بچوں کی تصاویر اور ویڈیوز پر مشتمل ہے۔ اس ڈیٹا سے ایسی ویڈیوز بھی ملی ہیں، جن میں بچوں کو دوسرے بچوں یا پھر جانوروں سے جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس نیٹ ورک میں ملوث زیادہ تر افراد پڑھے لکھے ہیں، ان میں وکلاء اور سیاستدان بھی شامل ہیں۔ گرفتار ہونے والے چند ملزمان نے شیرخوار بچوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا جبکہ ایک ملزم نے اپنے ہی بچے کے ساتھ بدسلوکی کا اعتراف کیا ہے۔ ناروے میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے اس کیس کو اب تک کا سب سے بڑا کیس قرار دیا جا رہا ہے۔

دنیا میں ہونے والے ان شرمناک واقعات سے انداز لگایا جا سکتا ہے،  کہ انسانوں سے انسانیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ ظلم کی انتہاہ یہ ہے کہ ایک تو یہ بچوں کو حواص کا نشانہ بناتے ہیں، تو دوسری طرف ان بچوں کی ویڈیوز بنا کر اور درندوں کو فروخت کرتے ہیں۔ اب اگر ان ظالموں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے تو انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو اس پر اعتراض ہوتا ہے۔ لیکن ان اداروں کو بچوں کی چیخ پکاور محسوس نہیں ہوتی، انڈونیشیا میں ایسے درندوں کو پھانسی پر تو نہیں لٹکا جاتا لیکن ان کو ایک عبرت ناک سزا دی جاتی ہے جس سے باقی درندوں کو بھی سبق مل جاتا ہے

انڈونیشیا 2002 ء میں ایک نیا قانون بنا کر لاگو کیا گیا تھا جس کے مطابق ایسے مجرم کے جسم میں انجکشن کے ذریعے ایسے ہامونز داخل کیے جاتے ہیں جو خواتین میں پائے جاتے ہیں۔ مجرم کے جسم میں ہارمونز داخل ہونے کے بعد وہ جنسی طور ختم ہو جاتا ہے۔ انڈونیشیا میں بچوں کے تحفظ کے قانون کے مطابق بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا مرتکب پائے جانے والے کسی بھی شخص کو پندرہ سال تک جیل اور اکیس ہزار ڈالر تک کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی جنسی صلاحت کو ختم کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ترکی نے بھی ایسی سزا دینے کے لیے  پارلیمنٹ میں جلد ہی ایک ایسا قانون پیش کیا جائے گا۔  جس کے مطابق بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں میں دوا کی مدد سے جنسی عمل کی خواہش محدود یا ختم کر دی جائے گی۔

ترک وزیر انصاف عبدالمجید کے مطابق ملک میں کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والے افراد کے خلاف سخت ترین اقدامات کا یہ قانونی مسودہ جلد ہی ملکی پارلیمان میں منظوری کے لیے پیش کر دیا جائے گا۔ اس قانون کے مطابق حکام بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں ملوث افراد میں دوا کی مدد سے جنسی عمل کی خواہش محدود یا بالکل ختم کر پائیں گے۔ ترکی میں گزشتہ چند سالوں میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں بڑی تیزی سے آضافہ ہوا ہے اعداد شمار کے مطابق 2016 میں ترک عدالتوں کے سامنے ایسے اکیس ہزار سے زائد مقدمات پیش کیے گئے،  جب کہ ایک دہائی قبل سن 2006 میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے قریب اڑتیس سو مقدموں کی سماعت کی گئی تھی۔ ترکی میں نئے قانون کے مسودے کے خلاف انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کی جانب سے شدید ردِ عمل بھی سامنے آیا ہے جنہوں نے ’کیمیائی آختہ کاری‘ یا ’خصی بنانے‘ کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا ہے۔

پاکستان میں اگر سخت سزاؤں کی بات کی جاتی ہے تو انسانی حقوق کی تنظمیں اس میں روکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایسا ہی جاوید اقبال کے کیس میں ہوا تھا، پوری دنیا کے عالمی ادارے اور بچوں کے حقوق کی تنظیموں کو بچوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کرنے چاہیے۔ بچوں کی پورنوں گرافی کی ڈراک ویب پر پابندی بھی عالمی سطح پر  لگائی جائے۔ پاکستان میں بھی انڈنیشیا اور ترکی کی طرز پر قانون بنائے جائیں جہاں ملزم کی جنسی صلاحت کو ناکارہ کیا جائے۔

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...