Friday, 20 April 2018

اینٹی بائیو ٹیکس کا استعمال حد سے زیادہ بڑھ گیا

اینٹی بائیو ٹیکس کا استعمال حد سے زیادہ بڑھ گیا

تحریر عبدالجبار خان دریشک

جب تک سانئس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی تو ایک وقت تھا جب کوئی گھر کا کوئی فرد بیمار ہوتا تو گھر موجود دیسی چیزوں سے اس کے علاج میں ٹوٹکے آزمائے جاتے ، بعض اوقات وہ ٹوٹکے کامیاب بھی رہتے اور وہ برسوں تک اس بیماری کے لیے ایسے دیسی نسخے اپنائے جاتے رہے ۔ سائنس نے ترقی کی انسانی کھوج سے علاج کے نئے طریقے دریافت ہوئے ، لوگوں ٹوٹکوں کی بجائے بیماری کا علاج ڈاکٹروں کے پاس جا کر کروانے لگے ۔ نئی تحقیقات سے ادویات سازی کی صنعت نے بھی ترقی کی ، آبادی بڑھتے ہی  مسائل میں بھی آضافہ ہوتا رہا ، ان تمام تر صورت حال میں انسان کو بہتر ماحول کی بجائے آلودہ فضاء میں سانس لینا پڑا ، اور خالص کی بجائے ناقص و ملاوٹ شدہ خوراک کھانی پڑی، اسی طرح ترقی پذیر ممالک میں عام بیماریاں وباء بن کر انسانوں کو ہڑپ کرنے لگیں۔

پھر ایسا ہوا جہاں وسائل کم بیماریاں زیادہ اور خوراک ناقص تھی تو علاج کی سہولیات بھی نہ پائید ہو گئیں۔ ادھر دواء سازی کی صعنت بھی زیادہ منافع حاصل کرنے والی کاروباری سوچ پر چلانی پڑی جہاں انسانیت کا لفظ ان کی ڈکشنری میں نہ تھا۔ مریض بھی غربت کے باعث ناتجربہ کار لوگوں اور پیسے کے پجاریوں سے علاج کروانے پر مجبور تھے ، تو یہی معالج بجائے بیماری کی صیح تشخیصی کرنے کے بس کسی کمپنی کے ساتھ خفیہ معاہدے والی ادویات جن میں خاص کر اینٹی بائیو ٹیکس ادویات نسخہ میں تحریر کرنے لگے، ایک طرف سے مریض سے فیس اور دیگر اخراجات کی مد میں پیسہ بنانے لگے  تو دوسری طرف کمپنی سے کمیشن ، تحائف ، گاڑی ، اور باہر ممالک کے تفریحی دورے شامل لیے جانے لگے

اب آپ کسی پرائیویٹ ہسپتال و کلینک پر چلے جائیں آپ سب مریضوں کے ہاتھ میں تقریباً ایک دوائی نسخہ تقریباً دیکھیں گے اور وہ ہوں گی اینٹی بائیو ٹیکس ادویات جن میں انجکشن ، گولیاں اور کیپسول وغیرہ شامل ہوتے ہیں  ملک میں عطائیوں کے خلاف کاروائی کی گئی ہے تو وہ ایک الگ بحث ہے پر ان میں سے زیادہ تر اینٹی بائیو ٹیکس ادویات استعمال کرتے تھے، ساتھ ہی یہی ریشو ایم بی بی ایس میں بھی ہے۔ اکثر ڈاکٹر کم تجربے اور پریکٹس کی وجہ سے بھی ان ادویات کا استعمال کرواتے ہیں اور کچھ اس لیے نسخے میں تحریر کرتے ہیں کہ مریض جلد صحت یاب ہو جائے اور ان کی دوکانداری چمک اٹھے، اور ہر وقت ان کے کلینک کے باہر مریضوں کا رش رہے اور ایسے ہی ان کی آمدن دو ضرب دو ہوگی نہیں تو ایک جمع ایک میں ساری زندگی گزر جائے عالی شان کوٹھی ، بڑا ہسپتال تعمیر نہیں ہوسکتا۔

جب 1928ء میں  الیگزینڈر فلیمنگ نے پہلی اینٹی بائیوٹک دوا پنسیلین ایجاد کی تھی تو یہ واضح ہو گیا تھا کہ انسان جراثیموں پر قابو پا سکتا ہے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جراثیم ادویات پر بھاری ہوتے جا رہے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مختلف وجوہات کی بنا پر جراثیم مختلف اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف اپنی مزاحمت بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اس لیے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وقت کے ساتھ ساتھ نئی ادویات کی ایجاد جاری رہے تاکہ مہلک جراثیموں سے ایک قدم آگے ہی رہا جائے۔ لیکن ہمارے ملک میں ایک ہی نسخہ بار بار ایک ہی مریض پر آزما آزما کر اس کی قوت مدافعت ختم کر دی جاتی ہے، بجائے اس کے ٹیسٹ کروانے کے ادویات کی مقدار بڑھی جاتی ہے یا پھر کمپنی تبدیل کر دی جاتی ہے اور مریض مطمئن ہو جائے اب کی بار ڈاکٹر نے اور ادویات لکھ دی ہیں۔ حالات یہ آنا پہنچتی ہے کہ ایک بیماری ختم نہیں ہوتی اس کے ساتھ اور بیماریاں بھی لگ چکی ہوتی ہیں

پاکستان اور اس جیسے دیگر غریب ممالک میں ادویات ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر بھی مل جاتی ہیں اگر گھر میں کسی کو بخار یا کوئی اور بیماری ہو تو گھر کے فرد کسی بخار یا اسی بیماری والے کا نسخہ اس پر آزمائیں گے، جن میں اینٹی بائیو ٹیکس بھی شامل ہوتی ہیں اپنی مرضی سے ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے ان تجربات سے یا مریض کی حالت زیادہ بگڑ جاتی ہے یا پھر وہ ٹھیک بھی ہو جائے تو آئندہ وہ ادویات اس پر اثر نہیں کرتی ہیں۔ اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال کے حوالے عالمی ماہرین ادویات و صحت نے عالمی سطح پر ایک تحقیق کی ہے جس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سن 2000 سے لے 2015  کے درمیانی عرصے میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال میں پینسٹھ فیصد تک آضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ پیش رفت لوگوں کی صحت پر منفی اثرات کے حوالے سے انتہائی تشیوناک ہے۔ دنیا کے ستر سے زائد ممالک میں ہونے والی اس نئی تحقیق میں اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال میں اضافے کے حوالے سے پاکستان کو چین اور بھارت کے بعد تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ امریکا کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی اس نئی تحقیق میں محققین نے خبردار کیا ہے کہ ان ادویات کے غیر محتاط استعمال میں اضافے سے بیماریوں کے خلاف ان ادویات کا اثر کم ہو رہا ہے جبکہ پاکستان میں مختلف بیماریوں کے خلاف اینٹی بائیوٹک ادویات غیر مؤثر ہو رہی ہیں۔ یہ تحقیق حال ہی میں امریکا کی اکیڈمی آف سائنسز کے پروسیڈنگس نے شائع کی ہے۔

دنیا میں اس وقت پاکستان، بھارت، بنگلادیش، انڈونیشیا، تھائی لینڈ،مراکش، فلپائن، ویتنام، مصر اور تیونس سمیت دیگر کم آمدنی والے ممالک میں ان ادویات کے استعمال میں تیزی آضافہ ہو رہا ہے جبکہ غیر محتاط طریقے سے ہونے والا اضافے کی وجہ سے بیماریوں کے خلاف مزاحمتی اثرات کم ہو رہے۔ اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال کے تحقیقی ٹیم سربراہ پروفیسر ایلی وائی کلائین کا کہنا ہے کہ دنیا میں غیر پائیدار اور بے ہنگم اربنائیزیشن کو ماحول دوست بنا کر صحت کی مختلف وبائی و غیر وبائی بیماریوں سے لوگوں کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے ان بیماریوں کے خلاف لوگوں میں استعمال ہونے والی اینٹی بائیوٹک ادویات کے استعمال میں بڑی حد تک کمی کرنے میں مدد مل لی جاسکتی ہے۔ اگر ایک بار کسی اینٹی بائیوٹک کی مزاحمت پیدا ہو جائے تو اُس کا سد باب یا اُس کے خلاف نئی ادویات ایجاد کرنے کا عمل نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔ ہمیں ایسی مزاحمت سے بچنے کے لیے تمام کوششیں کرنی چاہییں۔ اور ان ادویات استعمال کو کم کرنا چاہیے۔

گزشتہ سال جینوا میں ہونے والی صحت کے متعلق
ڈبلیو ایچ او کی سالانہ کانفرنس موقع پر جرمن چانسلر مرکل نے گلوبل ہیلتھ سسٹم یا عالمی نظام صحت کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط بنانے پرغیر معمولی زور تھا۔ انہوں نے تمام اقوام سے مطالبہ کیا کہ وہ جراثیم مخالف ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے والے مسائل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مل کر کام کریں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام عالمی ادارے اور ماہرین صحت سر جوڑ کر بیٹھیں، اور ان ادویات کے استعمال میں کمی لانے کے لیے مشترکہ اصول تیار کریں جس پر تمام ممالک عمل پیرا ہوں۔ ساتھ ہی وہ ممالک جہاں اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال زیادہ کروایا جاتا ہے جن میں پاکستان، بھارت، فلپائن، تھائی لینڈ، ویتنام اور انڈونیشا سمیت مختلف نچلی اور درمیانی آمدنی والے ممالک شامل ہیں وہاں ڈاکٹری نسخوں اور تجویز کردہ ادویات کے متعلق  قانون سازی کر کے ان ادویات کا استعمال کم کروایا جا سکتا ہے جبکہ امراض پیدا کرنے کے اسباب، خاص کر صاف پانی اور صفائی کی بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے لازمی اقدامات کرنا ہوں گے۔ تاکہ وبائی اور موسمی وبائی بیماریوں کے پھیلاؤ میں کمی واقعہ ہو

Wednesday, 4 April 2018

فلسطین کے مسلمانوں کی پکار

تحریر عبدالجبار خان دریشک

امریکا کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد ، اور وہاں امریکہ سفارت خانے کے افتتاح کے منصوبے نے فلسطینیوں کے غم و غصے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ 15 مئی 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے خلاف فلسطینی مسلمان مسلسل احتجاج کرتے چلے آرہے ہیں۔ اسی سال 15 مئی کو اس ناجائز قبضہ کو 70 سال پورے ہو جائیں گے اس 70 سال کے ناجائز قبضہ میں اب تک لاکھوں مسلمان شہید اور 7 لاکھ فلسطینیوں کو اپنے گھر بار یا تو چھوڑنا پڑے یا پھر انہیں بے دخل کر دیا گیا ، اس تناظر میں حماس نے عوامی احتجاج کو چھ ہفتوں تک جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ اس عوامی احتجاج کے منتظمین نے احتجاج کا نام ’واپسی کا عظیم احتجاج، ٹرمپ کے لیے پیغام‘ رکھا ہے۔جب فلسطینی مسلمان احتجاج کرنے غزہ کے بارڈر پہنچے تو ان پر اسرائیلی افواج بے تحاشہ تشدد کیا جس کے نتیجے میں اب تک 20 فلسطینی مسلمان شہید جب کہ دوسو سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

اسرائیل نے اس احتجاج کو روکنے کے لیے پہلے سے بھر پور تیاری کر رکھی تھی ، اس احتجاج کو روکنے کے لیے جہاں ٹینک کے گولے برسائے گئے ، فائرنگ کی گئی ، تو اسرائیل نے آنسو گیس کی شیلنگ کے لیے پہلی مرتبہ ڈروان کا بھی استعمال کیا جسے کے بارے ایک بین الاقومی خبر رساں ادارے نے دو ہفتے قبل خبر دی تھی، فلسطینوں پر اسرائیل کی جانب سے بے جا تشدد پر اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں ہونے والی ان ہلاکتوں کی آزادانہ اور غیر جانب دار انکوائری کرائی جائے۔

لیکن اس تمام تر صورت حال میں آو آئی سی اور اسلامی ممالک کے سربراہان کی خاموشی کسی افسوس سے کم نہیں ، صہیونی طاقتیں جہاں مسلمان کے لیے زمین تنگ کرتی جا رہی ہیں ایک مسلمان پر ظلم ہوتا دیکھ دوسرے خاموش رہتے ہیں یہ سب کچھ مسلمان حکمرانوں کا اپنا اقتدار قائم رکھنے اور بچانے کے لیے خاموش ہیں۔ ایک طرف اسرائیل فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے تو۔ مسلمان حکمران اپنے مفاد کی خاطر اپنے مذہبی دشمنوں کو اپنی سر زمین پر بت خانے قائم کرنے کی اجازت دے رہیں تو کوئی ان اسرائیلوں کو سہولت دینے کے لیے اپنی فضائی حدود دے رہا ہے

تاریخ بتاتی ہے کہ فلسطین کے شہر یرشلم پر کئی مرتبہ قبضے ہو ئے اور تباہ ہوا ،یرشلم کی تاریخ تو پتھر کے زمانے سے شروع ہوتی ہے لیکن تیتیس صدیوں کی تاریخ میں اس شہر کو بارہ شدید زلزوں نے تباہ کیا ، کم و بیش بیس مرتبہ اس شہر کا محاصر کیا گیا ناکہ بندیاں لگائی گئیں ، دو مرتبہ اس کی اینٹ سے اینٹ ایسی بجائی گئی کہ مدت تک یہاں کے حالات کا کوئی سراغ نہ ملا ، اٹھارہ مرتبہ نئے سرے سے تعمیر ہوا ، اور چھ مرتبہ اس کے باشندوں نے مذہب تبدیل کیا۔

خیر یہ تو ایک پرانی تاریخ ہے اور اندازے ہیں فلسطین پر قبضہ 1948 میں ہوا لیکن اس کی شروعات اور تیاری بہت پہلے شروع ہو گئی تھی ، 26 اپریل 1916 کو برطانیہ ، فرانس ، اور روس میں معاہدہ ہوا کہ فلسطین میں بین الاقومی حکومت قائم کی جائے گی ، 1917 میں برطانیہ نے یہ بات ظاہر کی کہ وہ فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک ملک قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس دوران جب برطانوی فوج کا قبضہ یروشلیم اور مشرق اردن پر ہوتا ہے تو 1920 میں حکومتی کنٹرول حاصل کرنے کے بعد برطانیہ نے سر ہربرٹ سیموئیل کو وہاں کا ہائی کمشنر مقرر کردیا گیا۔ اس دوران عربوں نے شدید احتجاج جاری رکھا اور ہنگامے کیے کہ یہودیوں کی آباد کاری نہ کی جائے۔

آگے چل کر اس معاملات کو دیکھنے کے لیے والٹرشاکی کی سربراہی میں کمشن مقرر کیا گیا جس کی رپورٹ 1930 میں منظر عام پر لائی گئی جس میں کہا گیا عربوں کو یہودیوں کی آباد کاری سے تشویش ہے اور عرب آزادی نہ ملنے سے سخت غصے میں ہیں، رپورٹ میں اس امر پر زور دیا گیا کہ جن عربوں کے پاس زمینں نہیں ہیں ان کی مالی حالت دن بدن پستی کی جانب جارہی ہے رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی کہ جب تک عربوں کو زمینں نہیں مل جاتیں تب تک یہودیوں کی زمین خریداری کے عمل کو روکا جائے۔ اس کے کچھ عرصے بعد برطانیہ حکومت نے آرتھر واشوب کو ہائی کمشنر مقرر کردیا ، جنوں نے فلسطین میں یہودیوں کے ذاخلے میں نرمی کر دی ، جس کے جواب میں عربوں نے برطانیہ کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ان کے مال کی خرید و فروخت ترک کردی،

تاہم 1936 میں عربوں نے شدید مظاہرے کیے جو جنگ کی صورت حال اختیار کر گئے، اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے برطانیہ نے مزید فوج روانہ کر دی اور معاملے کی تحقیق کے لیے پیل کمشن بنا دیا جس کی رپورٹ 1937 میں پیش کی گئی جس کے مطابق عرب اور یہودی ایک ساتھ نہیں رہنا چاہتے اور سفارش کی گئی کہ فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا جائے

عربوں نے اپنے مطالبات کے حق میں شام کے شہر بلودان میں ایک اجلاس بلایا جس میں تقریباً چار سو شرکاء نے پیل کمشن کی مخالفت کی ، اور مطالبہ کیا گیا کہ فلسطین میں ایک آزاد حکومت قائم کی جائے اور برطانیہ سے تعلق ختم کیا جائے، اس صورت کو دیکھتے ہو برطانیہ اپنے ہائی کمشنر سرآرتھر واشوب کی جگہ سرہیرلڈمیک کو ہائی کمشنر لگا دیا، جبکہ حکومت برطانیہ 1938 کے اختتام تک پچاس ہزار فوجی فلسطین بھیج چکی تھی۔ 1939 میں برطانیہ نے لندن میں ایک کانفرنس بلائی جس میں عربوں اور یہودیوں کے نمائیدوں کو شرکت کی دعوت دی گئی پر یہ کانفرنس بھی بے نتیجہ ثابت ہوئی اس کانفرنس میں برطانیہ کی تجویز تھی کہ فلسطین کو دس سال میں آزاد کر دیا جائے ، عرب اور یہودی اس طریقہ پر حکومت میں شریک ہوں کہ دونوں کے حقوق کا تحفظ ہوتا رہے ۔

ابتدائی نوعیت کی حکومت میں عرب اور یہودی محکوں کی ذمہ داریاں سنھالیں گے اور برطانوی مشیر ان کی معاونت کریں گے اور پانچ سال تک یہودیوں کی آمد بند رکھی جائے گی اور پانچ سال میں صرف 75 ہزار یہودی فلسطین آ سکیں گے اور اسی طرح 1944 تک فلسطین میں ان کی آبادی کا تناسب ایک تہائی تک ہو جائے گا۔ اسی دوران دوسری عالمی جنگ شروع جاتی ہے۔ جس میں جرمنی نے برطانیہ کے مقابلے میں فلسطینیوں کی حمایت اور امداد کا اعلان کیا۔ اسی اثنا میں صہیونی قیادت نے عالمی قیادت کا مرکز امریکا منتقل ہوتا دیکھ کر اپنا قبلہ بھی ادھر پھیرلیا۔ ڈیموکریٹس اور ری پبلیکن دونوں پارٹیوں نے ان کی مکمل سرپرستی کی۔ ٹرومین صدر منتخب ہوا تو اس نے برطانیہ سے گٹھ جوڑ کرتے ہوئے مزید ایک لاکھ یہودی فلسطین منتقل کرنے کا اعلان کردیا۔ جبکہ برطانیہ کی حکومت فلسطین کا مسئلہ حل کرنے میں ناکام ہوئی تو اس نے اپنی فوج فلسطین سے واپس بلا لی اور اسی طرح برطانیہ کی فلسطین پر حکم دار ختم ہوئی اور یہودیوں نے اپنا مرکز حکومت تل ایب سے یروشلیم ناجائز منتقل کر دیا ۔

فلسطینی مسلمانوں کو اپنی آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے ایک صدی ہونے والی ہے کیونکہ اسرائیل کے ناجائز قابض ہونے سے پہلے برطانوی فوج قابض رہی ہے ۔ اسرائیل کی طرف سے گزشتہ سال فلسطینی مسلمانوں پر ظلم اور بربریت میں مزید آضافہ ہو گیا ہے ، جس کی وجہ امریکہ میں ٹرمپ کا صدر منتخب ہونا ہے جو کہ ایک نسلی تعصب رکھنے والا شخص ہے، اس کے آنے سے اسرائیل کے تعلقات امریکہ سے مزید مستحکم ہوئے ہیں ٹرمپ نے امریکہ کا سفارت خانہ یروشلیم منتقل کرنے کا آتے ہی اعلان کیا تھا اور یروشلیم کو کو اسرائیل کا درالحکومت بنانے کے اعلان کے بعد فلسطینی مسلمانوں میں مرید غم غصہ پایا جاتا ہے

ٹرمپ کی یہودیوں کے ساتھ محبت دراصل اس کے داماد جیرڈ کوشنر کی وجہ سے ہے جو ایک کٹر یہودی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور اسی نے فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی سہولت کاری کے لیے اقوام متحدہ میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف سلامتی کونسل میں ایک قرار داد کو ناکام بنانے کی کوشش کی تھی بہرحال تمام تر صورت حال میں عالمی اداروں اور خاص کر اقوام متحدہ و انسانی حقوق تنظیموں کی خاموشی سے واضع ہوتا ہے کہ تمام عالمی طاقتیں اور تنظمیں یہودی ایجنڈے کے پیچے کھڑی ہیں۔ جو کسی صورت میں فلسطینی مسلمانوں کو آزادی دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ مسلمان ممالک کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی و تجارتی مراثم ختم کریں اور سعودی عرب نے حالیہ فضائی حدود کی جو اجازت دی ہے اس فیصلے کو واپس لے کر فلسطینی مسلمانوں کا ساتھ دیں

Sunday, 1 April 2018

چیرمین نادرا عثمان مبین کے مثالی اقدامات

تحریر عبدالجبار خان دریشک

دنیا کے تمام ممالک اپنے ہر شہری کو اس کی شناخت دیتے ہیں یہ شناخت زبانی کلامی نہیں بلکہ کہ قانونی دستاویزات کی صورت میں ہوتی ہے ، جو اس ریاست کے شہری کی پہچان کے ساتھ اس کی قومیت مذہب علاقہ اور رہائش کے بارے میں آگاہ کرتی ہے ، تاکہ اس شہری کو اپنے زندگی کی کسی بھی ضرورت کے پیش نظر اپنی شناخت ظاہر کرنے میں کسی قسم کی کوئی دشواری پیش نہ آئے، اس شناختی عمل میں جب ریاست کے ہر باشندے کی معلومات جمع کر کے یکجا کی جاتی ہے تو ایک قومی نوعیت کی ڈیٹا بیس تیار ہو جاتی ہے ۔ جبکہ ریاست کے  فرد جہاں اس   قومی شناخت سے  اپنے اموار زندگی سرانجام دینے میں آسانی محسوس کرتا ہے ، وہیں ریاست بھی اس ڈیٹا بیس کی بنیاد پر اپنے  مختلف  ادارے  چلانے میں مدد حاصل کرتی  ہے اگر ملک میں جمہوریت کی گاڑی کو چلانا ہے تو اسی ڈیٹا کی ضرورت ہوگی جس کی مدد سے الیکشن کا انعقاد کیا جاتا ہے  ،  تعلیم ، صحت ، ترقیاتی کام یا پھر دیگر پروجیکٹ علاقے اور آبادی کی مناسبت سے لانے میں مدد ملتی ہے ، تب بھی ریاست کو اس ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے 

دنیا کے ہر ملک کا اپنا نظام اور قاعدہ قانون ہے جس کے تحت وہ اپنے شہریوں کو قومی شناخت مہیا کرتے ہیں ، اسی طرح پاکستان میں ریاست ہر پاکستانی شہری جس کی عمر 18 سال ہو اسے قومی شناختی کارڈ جاری کرتی ہے ، ملک میں سب سے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے شخصی نظام شناخت (PIS) کا افتتاح کیا جس کا کام پاکستان کے ہر شہری کے لیے ہر قسم کی شناختی کارڈ کے اجرا کرنا شامل تھا۔ یہ ادارہ مغربی پاکستان، مشرقی پاکستان  بشمول پاکستان سے باہر سے ہجرت کرکے آنے والوں کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا ۔ 1965ء میں اس ادارے میں بڑی تبدیلی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے لائی گئی تا کہ 1965ء کے صدارتی انتخابات کی تیاری کی جا سکے، اور 1970ء تک اس ادارے میں  کافی تبدیلیاں لائی جا چکی تھیں۔ مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے بعد ڈیٹا بیس کے اس نظام کی ضرورت پڑی جس میں پاکستانی شہریوں کے متعلق تمام معلومات محفوظ کی جائيں۔ جس کے لیے 1973ء میں دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے ایک سادہ ڈیٹا بیس پاکستانی شہریت کے لیے بنایا گیا۔

پاکستان نے 1996ء میں  امریکا سے آئی بی ایم سسٹم کے لیے بائیو میٹرک نظام  لینے کے لیے معاہدہ کیا ، جو پاکستانی شہریت کے نظام میں پہلی انقلابی تبدیلی تھا اس نظام کے تحت ہر شہری کے بارے معلومات کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے محفوظ بنا کر ایک ڈیٹا بیس تیار کرنا مقصود تھا ۔ جس کے بعد 1998ء میں  National Database &  Registration Authority  "NARA"  نادرا کا قیام عمل میں لایا گیا جس میں ہر پاکستانی شہری کے لیےکمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کا اجراء کیا جانا شامل تھا ،  جو  کہ  ہر پاکستانی شہری کی معلومات کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک ابتدائی قدم تھا، ملک میں ہونے والی حالیہ مردم شماری میں پاکستان کی کل آبادی 20 کروڑ 21 لاکھ نفوض پر مشتمل ہے، اور اس وقت کل آبادی میں سے تقریباً گیارہ کروڑ پاکستانیوں کے پاس قومی شناختی کارڈ موجود ہیں۔

ایک قومی شناختی کارڈ ایک پاکستانی شہری کے لیے کتنا اہم ہے آپ اس سے انداز لگائیں یہ کس کس جگہ ایک پاکستانی کے کام آتا ہے یہی شناختی کارڈ انتخابی عمل ،
بینک اکاؤنٹ ،پاسپورٹ بنوانے کے لیے،  زمین و گاڑی کی خرید و فروخت کے لیے،  ڈرائیونگ لائسنس کے لیے،ہوائی جہاز یا ریل کے ٹکٹ خریدنے کے لیے،موبائل سم خریدنے کے لیے، نکاح کے وقت ، اپنے یا بچوں کے تعلیمی داخلے کے لیے ، یوٹیلیٹی سہولیات جیسے بجلی ، گیس،  پانی وغیرہ کے کنکشن حاصل کرنے کے لیے ، مالیاتی لین دین کے لیے، جبکہ یہی کارڈ بچوں پیدائش پر ان کے اندارج اور نادرا سے جاری ہونے والے "ب" فارم کے لیے بھی ضروری ہے

قومی شناختی کارڈ کا حصول ہر شہری کے لیے ضروری ہونے کی وجہ سے نادرا نے ہر تحصیل و اضلاع میں قائم ہیں آبادی بڑھنے سے ان سنٹرز پر بے تحاشہ رش ریتا ہے، جہاں رش بڑھتا رہا  تو مسائل میں بھی دن بدن آضافہ ہوتا رہا ، عوامی شکایات ہر زور میڈیا میں رپورٹ ہو رہی تھیں ، اس تناظر میں نادرا کے پورے نظام میں تبدیلی کی شدت سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ ان عوامی شکایات اور قومی شناختی کارڈ کے حصول کی عام پاکستانی کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے موجودہ چیرمین نادرا محترم عثمان مبین نے عوام کی مشکلات کو دور کرنے کے لئے بہت سارے انقلابی اور موثر اقدامات اٹھائے جو کہ اب کار گر ثابت ہورہے ہیں چیرمین نادرا عثمان  مبین، نادرا میں پہلے چیف ٹیکنالوجی آفیسر رہے چکے ہیں 

چیئرمین نادرا عثمان مبین  جہاں ادارے میں انقلابی تبدیلیاں لا رہے ہیں وہیں عوامی مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے اچانک دورے بھی کر رہے وہ کراچی کے ایک سینٹر میں عام لوگوں کے ساتھ میں لائین میں کھڑے ہو گئے اس کے علاوہ انہوں نے کراچی کے مختلف نادرا سینٹرز کے  اچانک دورے کیے اور اس انہوں نے  ساری  صورت حال کو دیکھتے ہوئے  اعلیٰ افسران کو موقع پر طلب کیا اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سینٹر کے پورے عملے کو تبدیل کردیا۔  جبکہ 2 ڈائریکٹرز کو برطرف اور ڈی جی سندھ کا تبادلہ کردیا۔ چیئرمین نادرا نے عوام کی سہولت کے لیے کراچی میں نادرا سینٹرز  کو صبح 9 سے رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کے احکامات جاری کردیے۔ اس کے علاوہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے چیئرمین نادرا عثمان مبین نے اچھی شہرت اور  اعلیٰ کارکردگی رکھنے والے افسران کو کراچی طلب کر کے انہیں ذمہ داریاں سونپ دیں ۔ چیئرمین نادرا عثمان مبین کراچی میں دو ہفتوں میں کراچی کے نادرا سینٹرز پر دو ہنگامی دورے چکے ہیں۔

راقم الحروف نے چیرمین نادرا کے کراچی دورے کو دیکھتے ہو اپنے کالم میں لکھا کہ چیرمین نادرا سے جنوبی پنجاب اور راجن پور مسائل سے آگاہ کیا اور ان سے اپیل کی کہ وہ جنوبی پنجاب کا دورہ کر کے عوامی مشکلات کو دور فرمائیں ، چیرمین نادرا محترم عثمان مبین نے جب یہ تحریر پڑھی تو وہ راجن پور کا دورہ کرنے بھی پہنچ گئے جو واقعی بہت بڑی خبر تھی ،  کیونکہ راجن پور پنجاب کا پسماندہ ضلع ہے جس کے نام سے اکثر لوگ ناواقف ہوتے ہیں اور اسلام آباد سے 12 گھنٹے کی طویل مسافت پر موجود ہے ۔ جب چیرمین نادرا عثمان مبین راجن پور تشریف لائے تو اسی دوران میری ان سے ملاقات بھی ہوئی، راقم الحروف نے  راجن پور میں عوامی مسائل سے انہیں آگاہ کیا وہ راجن پور سینٹر میں آئے لوگوں سے فرداً فرداً مسائل پوچھتے رہے وہ وہاں لوگ میں گھل مل گئے ، جبکہ انہوں نے راجن پور سینٹر کے علاوہ ڈیرہ غازی خان، وہاڑی ، میلسی سنٹرز اور ریجنل ہیڈکواٹر ملتان کا بھی  اچانک دورہ کیا، چیئرمین نادرا نے ان سینٹرز پر سائلین کے مسائل دریافت کیے، اور ان کو  موقع پر حل کرنے کی ہدایات جاری کیں ، سائلین کو گرمی و لمبی قطاروں میں اور زمین پر بیٹھا دیکھ کر نادرا حکام پر برہم ہوئے اور نادرا کے عملے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو عوام کی رہنمائی اور مسائل حل کرنے کے لئے یہاں بھیجا گیا ہے نہ کہ مسائل پیدا کرنے کہ لئے، آپ کی اولین ترجیح عوام کی خدمت ہونی چاہئے

جنوبی پنجاب کے ہنگامی دورے میں چیرمین نادرا عثمان مبین نے  فوری ایکشن لیتے ہوئے ڈی جی نادرا ملتان کو  تبدیل کر ان کی جگہ برگیڈیئر (ر) خالد لطیف کو  ڈی جی ملتان لگانے کے احکامات جاری کر دیے جبکہ دو ڈائریکٹرز کرنل(ر) شمس بن نیاز اور کامران لطیف کو اسلام آباد سے  فوری ملتان طلب کیا جنوبی پنجاب کے اس دورے میں چیئرمین نادرا نے عوام کو ان کے مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی کرائی اور نئے ڈی جی برگیڈیئر (ر) خالد لطیف کو نادرا ملتان کے تمام سینٹرز کو ون ونڈو آپریشن کرنے کی ہدایات جاری کی اور نادرا سینٹر کچہری چوک  ملتان کو فوری میگا سینٹر میں تبدیل کردیا،  چیئرمین نادرا نے ڈیرہ غازی خان شہر اور ضلع راجن پور میں جلد اذ جلد  ون ونڈو سینٹرز قائم کرنے کے احکامات جاری کئے۔

موجودہ چیرمین نادرا عثمان مبین انتہائی قابل اور محنتی انسان ہیں ، وہ انسانیت کا درد رکھنے والے خدا ترس انسان ہیں وہ نادرا کے ادارے میں بڑی حد تک تبدیلیاں لا چکے ہیں پر ناردا کی الجھی ہوئی ڈوریوں کو سلجھانے میں وقت تو ضرور لگے گا جہاں وہ عوامی مشکلات دور کر رہے ہیں تو خود نادرا ملازمین کے مسائل بھی موجود ہیں ہم امید کرتے ہیں  کہ وہ ان کے مسائل کو حل کرنے کے ساتھ  نادرا کو پاکستان کا مثالی ادارہ بنا دیں گے

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...