Saturday, 14 July 2018

دھشت گردی کی لہر

جمہوریت کی گاڑی کو روکنے کی کوشش

  تحریر عبدالجبار خان دریشک

دنیا میں جمہوری سفر کو کامیابی سے طے کرنے والے ممالک میں ہمیشہ ترقی رفتار تیز رہتی ہے ، ایسے ممالک میں تمام تر وسائل انسانی فلاح اور انسانی ترقی پر خرچ ہوتے ہیں ، وہاں ایسے نہیں جیسا ہمارے پاس ہے ملکی وسائل صرف ایک فرد یا خاندان پر خرچ کیے جاتے ہوں ، جہاں مکمل جمہوری نظام ہے تو ان کے ہاں وسائل کو شفاف انداز میں خرچ کیا جاتا ہے ، ان کے ہاں ادارے مضبوط اور عدالتوں غیر جانبداری میں فیصلے کرتی ہیں ، عوام فیصلے قبول کرتی ہے  اور حکومت ان پر عمل درآمد کراتی ہے ، یہ تمام تر جمہوری نظام ایسے چلتا رہتا ہے ، ایک سیاسی  جماعت کی حکومت چلی جاتی ہے تو دوسری اس کی جگہ حکومتی نظام چلانے آ جاتی ہے اور یہ جمہوری سفر یوں ہی طے ہوتا رہتا ہے 

ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں اپنے کم جمہوری دور کا رونا روتی ہیں لیکن جب ان جماعتوں کو موقع ملتا ہے تو یہ ڈلیور کرنے میں ناکام رہتی ہیں ، کہا یہی جاتا ہے ملک میں جمہوری سفر مختصر رہا ، لیکن اب تو ان سیاسی جماعتوں کے شکوے کا کوئی خاص جواز نہیں بنتا کیونکہ ملک میں مسلسل دو جمہوری دور گزر چکے ہیں اور تیسرے دور کآاغاز بس قریب ہی ہے جس میں بس چند دن رہتے ہیں ، پاکستان کے مسلسل جمہوری سفر کو طے کرنے سے ملک بہتری کی طرف جائے گا معیشت میں بہتری کے ساتھ غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں آئے گی۔

  ملک کے جمہوریت اور خوشحالی کی طرف بڑھتے قدم دشمنوں کو ناگوار گزر رہے ہیں ،  دشمن یہاں مستحکم جمہوریت ، مضبوط معاشی ڈھانچا ، اور ہر شہری کا بلند ہوتا معیار زندگی دیکھ کر برداشت نہیں کر رہا ہے ، یہی دشمن طاقتیں ملک میں ہونے والے انتخابات کو خونی بنانے کے لیے شرانگیزی کرنے کوشش کر رہی ہیں  ، ملک میں مصوم لوگوں کا قتل عام کر کے کسی نہ کسی طرح انتخابات کو ملتوی کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، عالمی میڈیا مسلسل پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے مصروف ہے ، خاص کر بھارتی میڈیا پاکستانی اداروں پر تنقید کر رہا کہ  ادارے الیکشن کے نتائج پر آثر انداز ہوں گے ، اور یہ لابنگ کرنے والے میڈیا چینل یہ تاثر پھیلا رہے ہیں کہ ملک میں ہونے والے الیکشن شفاف نہیں ہونگے الیکشن کو سلکشن بنا کر پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جو جمہوریت کے خلاف سراسر سازش ہے ، انٹرنیشنل میڈیا عدالت کی طرف سے نااہل ہونے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سزا کو بھی جانبداری کا شوشا پھیلا رہا ہے ، عالمی طاقتیں پاکستان کے جمہوری نظام کے خلاف ایک تو میڈیا وار لڑ رہی ہیں ،  دوسرا یہ طاقتیں الیکشن سے قبل دھشت گردی کے حملے کروا کر جمہوری پراسس میں روکاوٹ ڈالنا چاہتی ہیں

ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ کچھ عناصر انتخابات کو ملتوی کرانے کے درپے ہیں. میاں نواز شریف کو نیب عدالت کی طرف سے ملنے والی  سزا کے بعد ملک میں دہشت گردی کے واقعات شروع ہو گئے ہیں  ، میاں نواز شریف کی آمد پر 13جولائی کو  پہلا دھماکہ خیبرپختونخوا کے علاقے بنوں میں  ایم ایم اے کے امیدوار اکرم خان درانی کی انتخابی قافلے کے قریب ہوا جس میں 4 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں

جبکہ اسی روز  دوسرا دھماکہ بلوچستان مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار سراج رئیسانی کی انتخابی مہم کے دوران  ہوا یہ ایک خودکش حملہ تھا جس کے نتیجے میں سراج رئیسانی کے ساتھ 130  کے قریب افراد  شہید اور 150 زخمی  ہوئے، 

جبکہ اسی ہفتے پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار بیرسٹر ہارون بلور کی کارنر میٹنگ کے دوران خودکش حملہ ہوا جس وہ  میں شہید ہوگئے تھے جب کہ اس حملے میں 22 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ اسی ہفتے کے دوران 4 دہشت گردی کے واقعات ہو چکے ہیں جن میں 160 کے قریب افراد شہید ہو چکے ہیں

ضرب عضب اور ردالفساد میں پاک فوج نے بھر پور کامیابیاں حاصل کیں اور اسی وجہ سے ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا، لیکن الیکشن قریب آتے ہی دھشت گردی کی کاروائیاں اور ان میں خاص کر سیاست دانوں کو ٹارگٹ کرنا اس بات کا پیغام ہے تاکہ سیاست دان دھشت  گردی کے خوف سے الیکشن مہیم نہ چلا سکیں ، اور سیاسی جماتیں اس بات کو جواز بنا الیکشن کا بائیکاٹ کردیں، جس وجہ سے الیکشن ملتوی ہو جائیں، جس کا نہ تو کسی سیاسی جماعت کو فائدہ ہے اور نہ ہی یہ ملک کے مفاد میں بہتر ہے

اس خطے میں دھشت گردی کے واقعات کو افغانستان سے کنٹرول کیا جارہا ہے ، امریکہ مسلسل افغانستان میں دھشت گردی کے خاتمے کے ساتھ امن قائم کرنے میں ناکام رہا ہے ، امریکہ افغانستان میں طالبان کا کیا خاتمہ کرتا اب تو داعش بھی افغانستان میں پیر جما رہی ہے ، جس کا اظہار سابق افغان صدر حامد کرزئی بھی کرتے رہے ہیں وہ افغانستان میں داعش کے قوت پکڑنے کا ذمہ دار امریکہ کو قراردے چکے ہیں۔ترکی کے صدر اردوان نے بھی عالمی ذرائع ابلاغ پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس امریکہ کے داعش کی سرپرستی اور اسلحہ بارود فراہم کرنے کے شواہد موجود ہیں۔ جبکہ روس اور چین کی جانب سے بھی داعش کے حوالے سے امریکی کردار کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان کا چین اور روس کے ساتھ بنتا اتحاد دشمن طاقتوں اور مسلسل جمہوری سفر  ہضم نہیں ہورہا ہے ، خطے سے دھشت گردی کے خاتمے کے لیے گزشتہ دونوں اسلام آباد میں روس ، چین ، ایران ، پاکستان کے حکام کی ملاقات ہوئی ہے جس میں افغانستان سے داعش کے خاتمے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنائے کی بات کی گئی ، پاکستان روس، چین اور ایران کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں کی اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس میں خطہ میں دہشت گردی اور داعش کے خاتمہ کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا ہے جبکہ امریکہ دھشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کو جواز بنا کر ایک کے بعد ایک مسلم ملک کو کھنڈرات میں بدل رہا ہے۔

ملک میں سیاست دانوں کو دھشت گردی کی کاروائیوں میں ٹارگٹ کر کے ملک اندر انارکی پھیلا نے کا منصوبہ دشمن طاقتیں اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کرنا چاہتی ہے ، انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت کے لیے یقینی طور پر معاشی حالات ساز گار نہیں ہیں ، پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں بھی شامل کیا جا چکا ہے ،  خزانہ بھی خالی ہے ذرمبادلہ کے ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں ،  لیکن ان سب کے باوجود ماہرین کو بہت سارے ایسے مثبت پہلو نظر آ رہے ہیں جن سے پاکستان کے معاشی حالات میں بہتری آسکتی ہے اور بہت سارے معاملات بہتر ہو جائیں گے ، ایک تو جمہوریت کا مسلسل سفر ، امن امان کی صورت حال ،سی پیک ، اور پاکستان کا چین روس کے ساتھ بنتا نیا اتحاد ، جس سے ملکی حالات میں بہتری کی امید ہے

Saturday, 9 June 2018

فیفا ورلڈ کپ کا فیور

فٹ بال فیور ورلڈ کپ 2018

تحریر عبدالجبار خان دریشک

فٹ بال ورلڈ کپ کا فائنل کھیلا جانے والا تھا ایک آدمی اپنی سیٹ پر آکر بیٹھا اور دیکھا کہ اس کے ساتھ والی سیٹ خالی ہے ، اس نے خالی سیٹ کے ساتھ بیٹھے ایک اور تماشائی سے پوچھا، اس سیٹ پر کوئی بیٹھا ہے تماشائی ،  نہیں، یہ سیٹ خالی ہے ، آدمی کوئی بے وقوف ہی ہوگا جو ورلڈ کپ کی ٹکٹ لے کر بھی اتنا بڑا میچ دیکھنے نہیں آیا ، 
تماشائی،  اصل میں یہ سیٹ میری ہے میں نے اپنی بیوی کے لیے لی تھی مگر بدقسمتی سے اس کا ایک حادثہ میں انتقال ہوگیا ،  اس لیے سیٹ خالی ہے ، آدمی،  سوری ،  مگر آپ یہ سیٹ اپنے کسی دوست ، پڑوسی یا رشتہ دار کو دے دیتے تاکہ وہ یہ زبردست میچ دیکھ سکتے ، تماشائی نے اپنا سر نفی میں ہلایا پھر جواب دیا وہ سب میری بیوی کے جنازے پر گئے ہیں ، خیر یہ تو لطیفہ تھا لیکن فٹ بال فیور ایسے ہی سر چڑھ کر بولتا ہے ۔

فیفا ورلڈ کپ فٹ بال 2018 میں دن نہیں اب گھنٹے شمار کیے جارہے ہیں کہ کتنے وقت بعد ورلڈ کپ کے میچز شروع ہوں گے ، تو دیوانوں کا بخار آہستہ آہستہ اترتا جائے گا ، دنیا میں سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا کھیل فٹ بال ہے دنیا کے زیادہ تر ممالک میں باقاعدہ فٹ بال کھیلا جاتا ہے ، برازیل دنیا کا واحد ملک ہے جو ابتک پانچ مرتبہ عالمی چمپئن ہونے کا اعزاز حاصل کر چکا ہے ، فٹ بال برازیل کا قومی کھیل ہے جس کے پرچم میں بھی فٹ بال چھاپ دیا گیا ہے

اس وقت فیفا ورلڈ کپ 2018  کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں ، جس کا آغاز 14 جون سے روس کے شہر ماسکو میں ہوگا جبکہ اختتام 15 جولائی کو ہوگا 14 جون کو ہونے والے افتتاحی میچ میں گروپ اے میں شامل میزبان ٹیم روس اور سعودی عرب کے درمیان ماسکو کے لوژنکی اسٹڈیم ہو گا جس میں 80 ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائس ہے جبکہ یہ میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہوگا۔

فٹبال ورلڈ کپ 2018 کے ڈراز کا  اعلان گزشتہ سال کردیا گیا تھا،  ورلڈ کپ میں کل 64 میچ ہوں گے ، ورلڈ کپ میں کل  32  ممالک کی ٹیمیں شامل  ہیں ، جن  8 مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں 4 ٹیمیں شامل ، ہر گروپ میں شامل ٹیم مجموعی طور پر تین میچ کھیلے گی ،  گروپ اے میں میزبان ٹیم روس کے علاوہ ، یوروگوئے، مصر اور سعودی عرب شامل ہیں، گروپ بی میں پرتگال، اسپین، ایران اور مراکش کی ٹیمیں شامل ہیں۔ اسی طرح گروپ سی میں فرانس، پیرو، ڈینمارک اور آسٹریلیا کو شامل کیا گیا ہے جب کہ گروپ ای میں برازیل، سوئٹزرلینڈ، کوسٹاریکا اور سربیہ شامل ہیں۔ گروپ ایف میں جرمنی، میکسیکو، سویڈن اورجنوبی کوریا شامل ہیں، گروپ جی میں بیلجیم، انگلینڈ ،تیونس اور پاناما کی ٹیمیں شامل ہیں اور گروپ ایچ میں پولینڈ، کولمبیا، سینیگال اور جاپان کی ٹیمیں شامل ہیں۔ پاناما اورآئس لینڈ کی ٹیمیں پہلی بار ورلڈ کپ ایونٹ میں شامل ہوئی ہیں ۔ آئس لینڈ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے والا دنیا کا سب سے چھوٹا ترین ملک ہے۔ برازیل واحد ملک ہے جس نے اب تک کے تمام فٹ بال ورلڈ کپ مقابلوں میں شرکت کی ہے۔ سب سے زیادہ ورلڈ کپ ٹائٹل بھی برازیل کے پاس ہی ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ 2018 اس مرتبہ روس میں منقعد کیا جا رہا ہے ، جو روس میں ہونے والے اب تک کھیلوں کے میگا ایونٹ میں دوسرا بڑا ایونٹ ہے ، روس میں اس سے پہلے  1980  میں ماسکو اولمپکس انعقاد کروا چکا ہے ، روس میں ورلڈ کپ کے میچز  درالحکومت ماسکو سمیت دیگر شہر جس  یلنن گراڈ، قازان، کراسنوڈار،  سینٹ پیٹرزبرگ، سمارا، سارانسک شامل ہیں،  کل 11شہروں کے 12 سیڈیم میں میچز ہوں گے جن کو خصوصی طور پر ورلڈ کپ کے لیے تیار کیا گیا ہے ، روس کے شہر ماسکو کا سیڈیم لوژنکی جو  اولمپک کمپلیکس ہے اور روس کا سب سے بڑا اور قدیم اسٹیڈیم ہے۔ روس کے دارالحکومت میں واقع لوژنکی اسٹڈیم 1955 سے 1956 کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔ اسٹڈیم میں 81 ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

روس اس وقت عالمی برادری میں تنہائی کا شکار ہے اب یہ ایونٹ اسے کے لیے بہت بڑا موقع ہے اور وہ اس کے ذریعے دنیا کو اپنے قریب لا سکتا ہے ،روس اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے، فیفا کے مطابق ورلڈ کپ کے میچز کی 24 لاکھ ٹکٹس فروخت ہو چکی ہیں اور سب سے زیادہ ٹکٹس خود میزبان روس کے باشندوں نے خریدی ہیں جن کی کل تعداد 8  بنتی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر روس کے بڑے حریف ملک امریکہ کے باشندوں نے خریدی ہیں جن کی تعداد  82 ہزار سے زیادہ بنتی ہے اسی طرح تیسرے نمبر پر بزازیلن نے خریدی ہیں جن کی تعداد 72 ہزار سے زیادہ بنتی ہے جبکہ خود فیفا نے ایک لاکھ ٹکٹس اپنے مندوبین کے لیے خریدی تھیں لیکن انہیں بھی بعد میں فروخت کر دیا گیا ہے
فٹبال ورلڈ کپ کی ٹکٹسں قرعہ اندازی کے ذریعے فروخت کی جا رہی ہیں اور ان کی قیمت 105 ڈالر سے لے کر 1450 ڈالر تک ہے۔ روسی حکومت شائقین فٹبال کے لیے  ورلڈ کپ 2018 میں  نئی عارضی پالیسی کے اعلان کیا ہے  جس کے مطابق فٹ بال شائقین کو عالمی میلے کے دوران بغیر ویزا میزبان ملک روس میں داخل ہونے کی اجازت دیدی گئی ہے ، جس کا اطلاق پاکستانی شائقین پر بھی ہوگا۔

ورلڈ کپ فٹ بال جہاں کھلاڑی ، مختلف ٹیمیں شائقین کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں وہیں ورلڈ کپ کی ٹرافی بھی توجہ کا مرکز بنی ہوتی ہے کھلاڑیوں کے ساتھ ایونٹ میں شامل مختلف ممالک کی عوام اور ان فینز کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی ٹیم فاتح بن کر ورلڈ کپ ٹرافی لے آئے ،  فیفا ورلڈ کپ کی ٹرافی 18 قیراط سونے سے بنائی گئی ہے جس کا وزن 6 کلو گرام سے زائد ہے ۔ عالمی کپ شروع ہونے سے قبل ورلڈ کپ کی ٹرافی کو دنیا بھر میں چکر لگاویا گیا ، ورلڈ کپ فٹ بال 2018 کی ٹرافی کا عالمی دورہ رواں سال 22 جنوری سے شروع ہوا تھا، یہ ٹرافی چھ براعظموں کے 51 ممالک کے 91 شہروں سے ہوتی ہوئی 30 اپریل کو جاپان پہنچی جہاں سے اس کا دنیا کا چکر مکمل ہوا ، جبکہ 3 جون کو  ٹرافی روس  لائی گئی جہاں  صحافی، نوجوان کھلاڑیوں، مہمانوں اور ماسکو کے رہائشیوں کو دکھایا گیا۔ فیفا ورلڈ کپ کی ٹرافی پہلی مرتبہ پاکستان لائی گئی فروری میں اس ٹرافی کی رونمائی اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں کی گئی ، جس کے بعد ٹرافی 4 فروری کو قازقستان کے لیے روانہ کر دی گئی تھی ۔

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا کی رینکنگ کی فہرست میں کل 206 ممالک ہیں جس میں پاکستان کا نمبر 200 پر ہے جبکہ  پاکستان کی ٹیم عالمی کپ کے مقابلوں میں شرکت تو نہ کر سکی لیکن پاکستان کا تیار کردہ فٹ بال عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ہے 2018 کے عالمی کپ میں بھی پاکستان کے شہر سالکوٹ میں تیار کردہ فٹ بال استعمال ہوگا ، بلکہ اس فٹ سے کھلاڑی جہاں زمین پر گرونڈ پر کھیلیں گے وہیں یہ فٹبال خلاء میں بھی لے جایا گیا ، روسی خلائی کمپنی روس کاسموس نے کچھ دن قبل  فوٹیج جاری کی جس میں خلاء میں  موجود  اولیگ آرٹمیویوف اور اینٹن شکاپلورف نے میگا ایونٹ کی ٹی شرٹس پہن کر فٹبال کو ککس لگائیں۔ فٹبال کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کا تیار کردہ فٹبال 1982 سے 2002 تک استعمال ہوتا رہا ، 2006 میں پہلی بار فٹبال کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کی بجائے تھائی لینڈ میں نئی ٹیکنالوجی ’ تھرمو مولڈڈ‘ سے تیار کردہ فٹبال استعمال کیا گیا اور 2010 میں بھی اسی ٹیکنالوجی سے چین میں تیار کردہ فٹبال استعمال کیا گیا  تھا۔ جبکہ 2014 اور موجودہ 2018  ورلڈ کپ میں پاکستان کا بنا فٹ بال  استعمال ہوگا

موجودہ ورلڈ کا معرکہ بہت زیادہ دلچسپ ہوگا جہاں ہر ٹیم کی کوشش ہو گی کہ وہ اگلے مرحلے تک پہنچ جائے ، اب کون سی ٹیم ورلڈ کپ کی ٹرافی لے اڑے گی ، یہ تو آنے والا وقت بتائے گا پر فیفا نے عالمی رینکنگ جاری کی ہے جس سے اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ زیادہ مراحلے کون سی ٹیم طے کر سکتی ہے ، فیفا کی رینکنگ کے مطابق پہلے درجے  پر دفاعی  چمپئن جرمنی، 2 درجے پر برازیل ،3 پر بلیجئیم ،4 پر درجے میں پرتگال ، 5 پر ارجنٹائن ، 6 پر سوئٹرزلینڈ ،7 پر فرانس ، 8 پر پولینڈ ، 11پر  انگلینڈ  جبکہ میزبان روس کا نمبر رینکنگ میں 70 ہے عالمی سطح پر جرمنی اور برازیل کو زیادہ فیورٹ سمجھا جا رہا ہے، برازیل پانچ مرتبہ چمپئن بھی رہے چکا ہے لیکن برازیل کے عظیم فٹبالر پیلے جو کہ تین مرتبہ عالمی کپ بھی کھیل چکے ہیں کا کہنا ہے کہ برازیل کی ٹیم اس مرتبہ کمزور پوزیشن میں ہے اب تمام صورت حال کا پہلے سے صرف اندازہ لگایا جاسکتا ہے مزید حالات کا جائزہ لینے کے لیے ورلڈ کپ کے میچز پر نظر رکھنی ہو گی ۔

Sunday, 20 May 2018

بھلائی ہمیشہ زندہ رہنے والا عمل ہے

بھلائی ہمیشہ زندہ رہنے والا عمل ہے

تحریر  عبدالجبار خان دریشک

انسان کو اس دنیا میں بھیجنے کا مقصد صرف اس کا اپنی ذات کے لیے زندہ رہنا نہیں بلکہ خلق خدا کے ساتھ بھلائی اور باہمی تعلقات کو استور کرنے علاوہ  پرامن طور پر زندگی گزارنا بھی شامل ہے۔  دنیا میں انسان کو ملنے والی بیش بہا نعمتوں پر اس دینے والی پاک ذات کا شکر بجا لانا بھی انسان پر لازم ہے جس پاک ذات نے ہمیں اپنے بے بہا خزانوں سے نوازا ہے ، ہمیں عقل اور شعور دے کر علم حاصل کرنے اور کچھ سیکھنے کے قابل بنا کر اس کائنات پر غور فکر کرنے کے لیے علم عطاء کیا ہے ، انسان اسی علم کی بنیاد پر کانئات میں کھوج لگاتا گیا اور نئی نئی چیزیں دریافت کر کے دنیا میں انسانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا گیا ، ایک انسان کا دوسرے انسان کے لیے آسانی پیدا کرنا جو سب سے بڑی بھلائی اور نیک عمل ہے۔ 

آسانی صرف یہ نہیں کہ آپ نے کوئی چیز یا آوزار  بنا کر دوسروں کے لیے آسانی پیدا کر رہے ہیں ،  بلکہ کسی کے ساتھ آسانی پیدا کرنا یہ بھی ہے آپ کسی کی مدد کر دیں، آپ کسی کام میں مخلوق خدا کی رہنمائی کردیں جس کے بارے میں آپ  علم رکھتے ہوں ، طاقت اور عہدہ رکھتے ہوں۔

کسی  قوم کے زندہ کہلانے کی سب سے بڑی دلیل یہ سمجھی جاتی ہے کہ اس کے باشندوں کے دل میں انسان سے دوستی اور بھلائی کے بلند ترین جذبات موجود ہوں ۔ جب ہمارا دین اسلام ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کی بار بار تاکید کرتا ہے ، آپ جب ایک دوسرے سے ملتے وقت "اسلام علیکم " اور " وعلیکم سلام" کہتے ہیں تو اس ایک ہی مثال کو لے لیں جس میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے سلامتی کی دعا کرتا ہے ، اسی طرح دین اسلام قدرت رکھنے والے ہر شخص کو خیر کی طرف آنے کی دعوت عام دیتا ہے اور یہ دعوت عام  کسی بھی مالدار ، عہدہ رکھنے والے ، علم والے ، غریب ،مزدور،تاجر،زمیندار، شاگرد، استاد، عورت، مرد، بوڑھا،اندھا،کمزور یہ سبھی نیکی کا کام کر سکتے ہیں۔  مال دولت معاشرے میں نیکی اور بھلائی کے کام کرنے میں اسکے لیے رکاوٹ نہیں بنتے کہ اسلام میں ایسا کوئی انسان نہیں پایا جاتا جو کسی نہ کسی طریقے سے بھلائی کا کام نہ کر سکتا ہو۔

حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نیکی کیا ہے ’’نیکی صرف مال ہی خرچ کرنے کا نام نہیں بلکہ ہر وہ کام بھلائی کا کام اور صدقہ ہے جس سے انسانوں کو فائدہ پہنچے‘‘۔نبی کریم  ﷺکی یہ حدیث کہ ’’ تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو‘‘۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم جو ایک دفعہ اللہ کی تسبیح کرتے ہو یہ بھی صدقہ ہے کسی بھلائی کا حکم دینا بھی صدقہ ہے ،برائی سے روکنا بھی صدقہ ہے،راستے سے کانٹے وغیرہ تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔دو آدمیوں میں صلح کرا دینا بھی صدقہ ہے اور اگر تم کسی شخص کو اسکی سواری پہ چڑھنے میں مدد دو تاکہ و ہ سہولت سے چڑھ جائے تو یہ بھی صدقہ ہے (بخاری و مسلم)

جب ہم معاشرے میں ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں تو اللہ پاک ہمارے لیے خیر کے دروازے کھول دیتا ہے اور  اللہ پاک ہمیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھتا ہے ، اور انہیں رحمتوں کا نتیجہ ہوتا ہے کہ اللہ پاک ہمیں معاشرے میں اعلی منصب اور عہدے بھی عطاء فرماتا کہ ہم زیادہ سے خلقت خدا کے بھلائی کر سکیں ، جو ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی ہے

دنیا میں بہت سارے لوگ آئے اور چلے گئے ، جن کے پاس بیش بہا دولت کے حزانے بھی تھے تو کسی کے پاس علم کی دولت تھی ، پر دنیا میں نام ان کا زندہ رہا جو مخلوق خدا کی خدمت کر کے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ، اگر ماضی کو چھوڑ کر موجودہ دور کی بات کی جائے تو اس دنیا میں بہت سارے لوگ اب بھی موجود ہیں جو کسی نہ کسی صورت میں انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں ، آج کے دور میں ہم نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ بڑا عہدہ ، دولت ، شہرت ، اور علم آ جانے پر لوگ میں تکبر آ جاتا ہے ، لیکن اب بھی ایسے انسان موجودہ ہیں جو سب کچھ پا لینے باوجود اپنے اندر انسانیت کی بھلائی کا جذبہ رکھتے ہیں ، راجن پور پنجاب کا آخر ڈسٹرکٹ ہے جہاں پر دور دراز سے آفیسرز یہاں پر تعینات کیے جاتے ہیں ، جن میں سے اکثر صرف اپنی تعیناتی کا وقت گزارتے ہیں جبکہ کچھ درد دل رکھنے والے بیوکریٹس اس پسماندہ علاقے کی بہتری کے لیے بھر محنت کے علاوہ مقامی افراد کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرتے ہوئے ان کے دل میں گھر کر جاتے ہیں۔

راجن پور کے موجودہ ڈپٹی کمشنر اشفاق احمد چوہدری ان میں سے ایک ہیں جو عوامی خدمت اور انسانیت کے ساتھ بھلائی کی وجہ سے راجن پور کی عوام کے دلوں میں گھر کر گئے ہیں۔ اشفاق احمد چوہدری جو کہ گزشتہ سال  میں بطور ڈپٹی کمشنر راجن پور تعینات ہوئے تھے ، سائلین کے لیے ان کے آفس کے دروازے ہر وقت کھلے رہتے ہیں جبکہ کسی بھی عوامی شکایت کی صورت میں فوری ایکشن لے کر شکایت کا ازلہ کرتے ہیں۔ میں نے تین چار ایسے معاملات میں ان کو بروقت ایکشن لیتے دیکھا جن پر فوری ایکشن لینا از حد ضرور تھا ، ایک تو کچھ ماہ قبل راجن پور کے کچھ علاقوں میں پانی کا شدید بحران پیدا ہو گیا انسانوں کے ساتھ جانوروں کے لیے پینے کا پانی ناپائید ہو گیا  جب کسی نے اس مسئلے کی نشاندہی کروائی  تو اس پر ڈپٹی کمشنر اشفاق احمد چوری نے فوری طور پر پانی کا بندوبست ٹینکر کے ذریعہ کروایا جو وہاں کی مقامی آبادی کو بروقت اور مفت فراہم کیا گیا ، انہوں محکمہ انہار کو فوری طور پر نہر میں پانی چھوڑنے کے احکامات کے ساتھ واٹرسپلائی کی مرمت کے لئے گرانٹ بھی جاری کر دی جس پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا گیا۔

اشفاق احمد چورہدی راجن پور میں کسی بھی ہنگامی صورت حال یا حادثے کے سبب بروقت موقع پر پہنچ کر امدادی کاموں جائزہ لیتے ہیں اور ہسپتال میں زخمیوں اور مریضوں کی عیادت بھی کرتے ہیں۔ اکثر میں سوشل میڈیا کے ذریعہ میں نے دیکھا کسی بھی روڈ ایکسڈنٹ کے کی صورت میں رات کو دو بجے بھی ہسپتال میں مریضوں کی خریت دریافت کر رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ موجودہ ماہ رمضان میں حکومت کی طرف سے سستے رمضان بازار راجن پور میں بھی لگائے گئے ہیں جن کے انتظامات ڈپٹی کمشنر راجن پور اشفاق احمد چوہدری نے بروقت مکمل کروائے ہیں  جبکہ ان سستے رمضان بازاروں میں عوام کو تمام تر سہولیات  دی جاری ہیں جن سے یہاں کی عوام مستفید ہو رہی ہے

اشفاق احمد چوہدری جہاں انسانیت سے بھلائی اور خدمت خلق کا جذبہ رکھتے ہیں وہیں اہل قلم اور قلم سے محبت اور دلی لگاؤ بھی رکھتے ہیں وہ خود بھی بہت اچھے مفکر اور اہل علم ہیں وہ وسیع علم رکھنے کے کتابوں سے محبت کرنے والے انسان ہیں۔ اس دنیا میں انسان کا نام اس کے عہدے اور دولت کی وجہ سے زندہ نہیں رہتا بلکہ اس کا نام دوسروں کے ساتھ اچھائی اور بھلائی کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہتا ہے ایسے لوگ جہاں بھی جاتے ہیں اپنی بھلائی اور مخلوق خدا سے محبت کی خوبصورت یادیں چھوڑ جاتے ہیں اللہ پاک ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کرنے اور آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطاء فرمائے امین

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...