Saturday, 21 October 2017

جمہوریت کا ایندھن تحریر. عبدالجبار خان دریشک

جمہوریت کا ایندھن
تحریر.  عبدالجبار خان دریشک
جمہوری نظام میں عوام کی رائے اور اس کا احترام ہی جمہوریت کا دروازہ ہے ، عوام اپنی رائے کا اظہار ووٹ کی طاقت سے کرتی ہے اور  ووٹ کی طاقت سے منتخب ہونے کے بعد عوامی نمائندے ایوانوں میں جا کر اپنی عوام کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں ، ان کی بہتری کے لئے نئے قوانین اور فلاحی منصوبے تشکیل دیتے ہیں۔ جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لئے بروقت الیکشن کا انعقاد کروانا انتہائی ضروری ہے جو جمہوری نظام کا ایندھن سمجھا جاتا ہے اور یہ ایندھن بروقت ملنا انتہائی اہم ہے ۔ پاکستان میں موجودہ حکومت مئی 2013 کے الیکشن میں عوامی ووٹ سے منتخب ہو کر آئی تھی جس کی مدت خدا خدا کرکے پوری ہونے کو ہے الیکشن کے بعد سے لے کر تاحال سیاسی کشمکش جارہی ہے کبھی چار حلقوں کا مسئلہ تو کبھی دھندلی ،دھرنہ، پانامہ ،اقامہ ، نیب ،نااہلی ، حاضری اور غیر حاضری جیسے معاملات کی گتھیوں میں الجھی حکومت ان کو سلجھاتے سلجھاتے اور ایک وزیراعظم کی تبدیلی کے بعد بالاآخر اپنے پانچ سال کی مدت پوری کرنے کو ہے
آئندہ الیکشن 2018 میں ہونے جارہے ہیں جمہوریت کی مضبوطی کے لئے بروقت الیکشن کا  ہونا نہایت ضروری ہے۔اسمبلی میں انتخابی اصلاحات پر تھوڑا بہت کام کیا گیا ہے پر مکمل اصلاحات پر کام 2018 کے الیکشن تک مکمل ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا ہے ، سینٹ میں مردم شماری کے عبوری نتائج کی روشنی میں نئی حلقہ بندیاں کی گئی ہیں جس پر سیاسی جماعتیں اعتراضات اٹھا رہی ہیں۔ دوسری طرف سندھ کی سیاسی جماعتیں مردم شماری کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے جس پر ان کا اعتراض ہے کہ مردم شماری میں کراچی کی آبادی کو کم کردیا گیا ہے ۔ کچھ جماعتیں پرانی مردم شماری پر حلقہ بندیاں کروانے پر زور دے رہی ہیں جبکہ کچھ سیاسی جماعتوں کا موقف ہے نئے نتائج کی روشنی میں حلقہ بندیاں کی جائیں، مردم شماری کی جاری ہونے والی رپورٹ کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہو ئے نئی حلقہ بندیاں تو کی گئی ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کا اس پر ڈیڈ لاک برقرار ہے ۔ کچھ لوگ قبل از وقت الیکشن کروانے کا کہے رہے ہیں۔
حلقہ بندیوں پر اٹھنے والے اعتراضات کو مدنظر رکھا جائے تو یہ کب تک چلتا ان کی وجہ سے الیکشن لیٹ بھی ہو سکتے ہیں اس لئے قبل از وقت کہنے والے پریشان ہیں کہ کہیں دور نہ ہوجائے۔ اس کے علاوہ مردم شماری کی حتمی رپورٹ جارہی ہونے کے امکانات اپریل 2018 تک ہیں۔اگر عبوری نتائج کو دیکھا جائے تو پاکستان کی کل آبادی بیس کروڑ سے زیادہ ہے یوں پاکستان کی آبادی میں 1998 سے لے کر 2017 تک 57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کچھ پہلے تک یہی کہا جاتا رہا ہے کہ نئی حلقہ بندیاں نہ ہوئیں تو الیکشن میں پھر سے شکوک و شبہات پائے جائیں گے، جن پر سیاسی جماعتیں اعتراضات اٹھاتے ہوئے 2013 کی طرح احتجاج شروع کر دیں گی۔ جبکہ مردم شماری کو ایسے ہی لیٹ کیا گیا جبکہ مردم شماری بھی سپریم کورٹ کے حکم سے ہو پائی ہے، ورنہ سیاست دان اس کے حق میں بھی نہیں تھے۔
      الیکشن 2018  میں 2013 کی نسبت سوا کروڑ نئے ووٹرز کا آضافہ ہو چکا ہے، جس کے بعد ملک میں ووٹرز کی کل تعداد دس کروڑ تک پہنچ چکی ہے ۔ موجود ووٹرز کی تعداد میں ہونے والے آضافے کا جائزہ لیا جائے تو یہ 18 سے 25 سال کے نوجوان ووٹرز ہیں۔ان نئے سوا کروڑ ووٹرز کی وجہ سے آئندہ الیکشن میں ٹران آوٹ زیادہ رہے گا۔ 2008 کے الیکشن میں ٹرن آوٹ 44 فیصد رہا اور 2013 کے الیکشن میں 55 فیصد رہا اس مرتبہ مزید اس میں دس فیصد تک آضافہ ہوسکتا ہے جس کے لئے تیاری ہنگامی بنیادوں پر کرنے کی اشد ضرورت ہے
    2018ء کے الیکشن کے لئے  2013 کے الیکشن کی نسبت بیلٹ پیپرز ، پولنگ عملہ ،دیگر سامان اور آخراجات زیادہ درکار ہوں گے۔ دس کروڑ ووٹرز کے لئے دوقسم کے بیلٹ پیپرز صوبائی اور قومی حلقوں کے لئے کل بیس کروڑ ضرورت ہوں گے۔ جن کی چھپائی کرنے والے سیکورٹی پرنٹنگ پریس کی تعداد کم ہے، اگر بیلٹ پیپر پرائیویٹ فرم سے پرنٹ کروائے گئے تو پھر کوئی اور سیاسی جماعت اس پر اعتراضات اٹھائیں گی۔اسی طرح آئندہ الیکشن کے لئے سات لاکھ عملہ درکار ہو گا۔ جس میں دیگر عملے کے ساتھ سیکورٹی سٹاف بھی شامل ہیں۔ الیکشن 2018 سے قبل سینٹ کا الیکشن ہونے جا رہا ہے جبکہ آئین کی روح سے اسمبلی الیکشن سے دو ماہ قبل تحلیل ہوجانی چاہیے،اور 60  دونوں کا عبوری سیٹ آپ بناکر الیکشن کا انقعاد کروایا جانا چاہیے۔  ،اسمبلیوں میں موجود عوامی نمائندے اس بات پر زیادہ سنجیدہ نظر نہیں آتے کہ انتخابی اصلاحات کے بل پر کام کر کے اس پر بروقت قانوں سازی کی جائے لیکن ان چار سالوں میں اسمبلی کے اجلاس میں کورم پورا نہیں ہوتا تھا اصلاحات بل کی کمیٹی کے ارکان بھی اسمبلی سے زیادہ تر وقت باہر رہے۔
جمہوریت کی گاڑی کو آگے چلانے کے لئے بروقت الیکشن کے انتظامات مکمل کروا کے ان انقعاد کروانا انتہائی ضروری ہے کیونکہ جمہوریت کا ایندھن بروقت اور شفاف الیکشن ہی ہیں۔


گالم نگار.. عبدالجبار خان دریشک ایم ایس سی ماس کمیونیکیشن ایل ایل بی  کوٹلہ نصیر راجن پور


No comments:

Post a Comment

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...