Saturday, 11 November 2017

بد تو بد قسمت نہیں تھا

بد تو بد قسمت نہیں تھا 
تحر یر : عبدالجبا رخان دریشک  
انسانی فطرت ہے کہ وہ ساری زندگی پیٹ کی حوص رہتا ہے حالانکہ اس کا پیٹ تو بھر ہو تا ہے اس کی روح بھوکی ہو تی ہے وہ ساری زندگی مال جمع کر تاہے اور وہ کہتا کہ میں اپنے سکون راحت اور آرام کی خاطر جمع کر رہا ہوں میرے پا س جتنا پیسہ ہو گا مجھے اتنا ہی آرام نصیب ہو گا جوں جوں اس کے پاس پیسے کی فروانی شروع ہو تی ہے تواس کی نیند اور سکون جس کی خاطر وہ دن رات ایک کر کے پیسے کمارہا تھا اس پیسے کی وجہ سے  حرام کر ہو تی ہے انسان کے  پیسے کی بھوک کبھی کم نہیں ہو تی بلکہ اور زیادہ بڑھتی رہتی ہے وہ جتنا اپنی پیسے کی بھو ک مٹا تا جائے گا  اس کی بھو ک کی شدت بڑھتی جائے گی . وہ اس  شدت کو مٹا نے کے لئے  پیسہ کما نے میں حلال اور حرام کی تمیز کھو بیٹھتا ہے اوروہ اپنے لیے  ڈھیر سارہ خزانہ جمع کر لیتا ہے پر ایک وقت اس پر  ایسا آتا ہے کہ اس آرام کی زندگی میں سے سکون ختم ہو جاتا اور بے آرامی میں آضافہ ہو جا تا ہے سکون تو اس کی زندگی سے پہلے چلا گیا تھا پر اب اس کی صحت بھی جا تی رہتی ہے ایک وقت تھا وہ کہتا تھا میں یہ سب کچھ اپنے پیٹ کی خاطر کر رہا ہو ں لیکن یہ کیا آج تو اس کا وہی پیٹ جس کی خاطر اس نے جھوٹ بولا تھا  حرام مال کمایا اور اسی دولت سے خریدی گئی خوراک اس کا پیٹ  قبول ہی نہیں کر تا ہے وہ آرام کی غر ض سے لوگوں کی حق تلفی کر تا رہا اور پیسہ جمع کر تا رہا پر اب تو اسے را ت کو نیند نہیں آتی ہے وہ تو قدم پر قدم اٹھاتا رہا اور ایک دن اس نے دوڑنا شروع کر دیا اس کو یہ فکر بھی  ہوتی تھی کہ میں تو اپنی اولاد کیلئے جمع کر رہا ہوں ِاگر ایسا نہ کیا تو میرے بچوں کا کیا ہو گا پر اللہ پاک کی ذات سب چیز پر قادر ہے ہم اپنی روز ی کی فکر میں نماز کو چھوڑ دیتے ہیں ایما نداری چھوڑ دیتے ہیں ایسا نہ ہو یہ کام میرے ہا تھ سے نکل جا ئے پر ہم نے کبھی اس پاک ذات کی رحمت پر غور کر نے کی زحمت ہی نہیں کی ہے کہ اس دنیا میں کتنی ایسی مخلوق ہیں  جن کو اللہ پاک ہر طرح سے نوازتا ہے ہمیں اپنے بچوں کی فکر کھا جا تی ہے کبھی سوچا ہے جب کسی گھر میں کوئی  معذور بچہ پیدا ہو تا ہے وہ بھی تو پل کر جو ان جاتا ہو تا ہے اور وہ بھی نومولودہ سے جوان اور پھر  پڑھا پے کی طرف جا تا ہے اور ایک وقت مقرر پر اس دنیا سے رخصت ہو تا ہے وہ معذور ایک نارمل انسان کی طر ح پل کر بڑا ہو جاتا ہے ہمیں اپنے اردگر بازاروں میں چوک چوراہوں مزارعات پر ایسے درجنوں افرا د ملتے ہیں جن کا کو ئی اسرا نہیں ہو تا ہے ان میں سے اکثر معذور یا ذہنی طور اب  نارمل ہو تے ہیں وہ لو گ بھی ہماری طرح کھانا کھا لیتے ہیں وہ زمین پر بغیر بستر کے ہم سے اچھی نیند سو لیتے ہیں کچھ عرصہ پہلے ہمارے علاقے میں ایک ملنگ جو کہ دماغی کیفیت سے دیوانہ تھا جس کا ذہنی توازنا پیدائشی طور پر ٹھیک نہیں تھا وہ اس قدر دیوانہ پاگل تھا کہ اس کو کسی چیز کا ہو ش اور خبر تک نہ ہو تی تھی وہ بے خبری میں سٹرک پر چلتے چلتے مستی میں سٹر ک کے درمیان میں چلنا شروع کر دیتا تھا اسے احساس تک نہ ہو تا کہ کو ئی گا ڑی اس کو ٹکر مار دے گی اسے کھا نے پینے اور سو نے تک کی فکر نہیں ہو تی تھی اسے سردی گرمی کا بھی احساس نہیں ہو تا تھا مقامی افراد اس کے با رے میں نہیں جانتے تھے یہ کو ن ہے اس کا نام کیا ہے اور یہ کدھر سے آیا ہے بس سب اس کو بد کے نا م سے جا نتے تھے بد بھی اس لئے کہتے تھے کہ اس کو کسی چیز کا ہو ش نہ ہو تا تھا دیکھنے میں وہ میلا کچلا بد بو والا ہو نے کی وجہ سے لو گوں نے اس کا نام بد رکھ دیا تھااب میرے اللہ کی شان دیکھیں اللہ پاک نے اس مد ہو ش دیوانے اور پاگل شخص کی خدمت اور خیال رکھنے کے لئے ایک اچھے خاصے نارمل انسان کو اس کے ساتھ لگا دیا وہ خدمت گزار کسی تنخواہ کسی معاوضے کے بغیر اس کی مفت میں نوکری کرتا تھا وہ دیوانا جس کو لوگ بد کہتے تھے وہ جدھر جا تاتو وہ نارمل انسان اس کا خدمت گزار اس کے ساتھ اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہتا وہ اس دیوانے کو روکتا نہ کہ ادھر اُدھر نہ جاؤ  بس وہ اس کے پیچھے خاموشی سے چلتا رہتا وہ دونوں سارا سارا دن چلتے رہتے اور چلتے چلتے کئی کئی کلومیٹر کا سفر طے کر جاتے شام ہو تی تو جہاں دل کیا سوگئے کسی ہوٹل میں  سٹر ک کے کنارے دوکان کے آگے مارکیٹ وغیرہ میں

     ان کو کھانا اور چا ئے بغیر مانگے مل جا تا تھا اب اس بد کا خدمت گزار شخص بھی بد کے روپ میں رنگ گیا وہ بھی اس کی طر ح بد بن گیا ان دونوں کے پاؤں میں جوتا تک نہیں ہوتا تھا وہ صبح کو کدھر ہو تے اور شام کو کدھر یہ لوگ زیادہ تر راجن پور شہر سے انڈس ہائی وے کے گرد علاقے کوٹلہ نصیر کوٹ بہادر کو ٹلہ عیسن دھیگن کوٹ مٹھن کا چکر لگاتے رہتے تھے۔ چلتے چلتے بد جب تھک جا تا تو اس کا خدمت گزار اس کو بچوں کی طرح پیٹ(کمرکے پیچھے ) پر اٹھا لیتا تھا بد تھک جا تا تووہ اس کی ٹا نگیں دباتا تھا وہ بد کی حفاظت ایسے کر تا جیسے ایک ماں تین سال تک کے بچے کی حفاظت کر تی ہے ماں بھی بچے کے بڑے ہو نے پر اس کا ویسا دھیان چھو ڑ دیتی ہے کہ بچہ اب بڑا ہو گیا ہے پر وہ خدمت گزار ایک ماں کی طر ح ہر وقت اس کے ساتھ رہتا وہ اس کو نہلاتا اس کا ہر طرح سے خیال کرتا اب ایک اچھا خاصہ انسان کسی امیر شخص کے پاس ملازم ہو اور اس کا مالک اس کو منہ مانگی تنخواہ دے پر وہ ملازم اپنے امیرمالک کی اتنی خدمت نہیں کرے گا جو بد کا خدمت گزار کسی معاوضے کے بغیر اتنے سارے کام سرانجام دے رہا تھا میرے خیال میں ایسا ملازم تو بادشاہوں کو بھی نصیب نہیں ہو تے ہوں گے یہ بد کی اپنی قسمت تھی اس کا نصیب تھااس پاک ذات نے اس کے لئے لکھ دیاتھا اب جس نے پیدا کیا ہے تو پالنے کا ذمہ ہے بد تو کبھی سوچتا تک نہ ہو گاکہ اب کھانا کھا رہا ہوں  ںشام کو ملتا ہے کہ نہیں بلکہ وہ تو کھاتے کھاتے چھوڑکر چلاجاتا تھا اس نے کبھی ایک روٹی تک اپنے پاس محفوظ تک نہ رکھی تھی اس کا دھیان کبھی اس طرف گیا ہی نہ ہو گا کہ میری معذری کی وجہ سے میرا کو ئی خدمت گزار بھی ہو نا چاہے بس یہ میرے اللہ پاک  کی شان ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے ایسے ہی اللہ پاک نے ایک پاگل دیوانے اور مدہو ش اپنے بند ے کے ساتھ ایک سمجھدار ہو ش والا نارمل انسان اس کی خدمت کے لئے تعینا ت کر دیا اب جس نے پیدا کیا ہے اس نے رزق بھی دینا ہے اس نے پالنا بھی ہے اس نے منزل تک بھی لے جا نا ہے بد تو اس دنیا میں نہیں رہا پر اللہ پاک نے اس کو دنیا میں بھیج کر ہم سب کو اپنی شان اور قدرت کا نظارہ کروایا ہے کہ میرے اختیار میں سب کچھ ہے اور میں ہی وہ ذات ہوں جس کی طرف تم سب نے لوٹ کر آنا ہے چاہے کوئی خوبصورت ہو یا بد امیر ہو یا غریب سب نے لوٹ اس پاس  جانا ہے 

گالم نگار.. عبدالجبار خان دریشک ایم ایس سی ماس کمیونیکیشن ایل ایل بی  کوٹلہ نصیر راجن پور

No comments:

Post a Comment

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...