Friday, 15 December 2017

16 دسمبر کا اداس دن

تحریر.عبدالجبار خان دریشک
آج کی صبح اتنی اداس کیوں سورج تو نکلا ہے پر اس کی چمک میں وہ بات نہیں جو ہر روز ہوتی ہے اس کی سفید  روشنی میں یہ لالی کیوں ہے دل اداس اور بوجھل سا ہے ہر دن کی صبح میں تازگی ہوتی ہے پر یہ تو کسی شام کی اداسی کا احساس دلا رہی ہے کہ اب کچھ دیر بعد اندھیرا چھا جائے گا

اس اداس دن کا احساس ان پھولوں کو نہیں تھا اس دن سورج کی روشنی مدھم ہی سہی اس میں لالی ہی سہی لیکن وہ پھول تو کھلے کھلے تھے۔ ہر روز کی طرح دل کش اور پیارے پیارے آنکھوں کو ٹھنڈک پہچانے والے آج بھی ویسے تھے صبح کے ٹھنڈے ہوا کے جھونکوں سے اٹکیلاں کھاتے ایک دوسرے سے ٹکرتے شرارتیں کرتے خوشبو بکھرتے پھول رنگ برنگی پتیوں والے چھوٹے بڑے سب طرح کے پھول بہت خوش تھے کیونکہ پھولوں کو تو قدرت نے ہی کھلنا سیکھایا ہے  اس ساری صورت حال سے باغ کا مالی خوش تو تھا لیکن اس کا دل بوجھل تھا اسے ڈر تھا یہ پھول شام سے پہلے مرجھا جائیں گے اسے سورج کی لالی دیکھ کر انداز ہو گیا تھا

مالی کا خوف ایسے نہ تھا اسے دل کی اداسی سے حالات کی سنگینی کا اندازہ تھا بس پھر ایسا ہوا باغ کے پھولوں کو ان بے درد سفاک درندوں نے روند ڈالا شاخ سے ٹوٹے پھول بکھری پتیاں روندے اور مسلے خوبصورت پھول ہر طرف پھیلاے ہوئے تھے سورج کی لالی اور تیز ہو گئی ان پھولوں کا ایک سوال تھا ہم تو آنکھوں بھانے خوشبو دینے والے تھے  اداس چہربے بھی ہمیں دیکھ کر مسکرا دیتے تھے یہ حیوانیت ہمارے ساتھ کیوں ؟؟؟

سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہدا کے نام
16 دسمبر کا اداس دن

کالم نگار عبدالجبار خان دریشک

No comments:

Post a Comment

شیطان گرفتار شیاطین آزاد تحریر عبدالجبار دریشک ماہ رمضان کا چاند نظر آتے ہی شیطان قید کر دیا جاتا لیکن اس کے باوجود شیاطین آزاد رہتے ہی...